Global Editions

چین میں مصنوعی ذہانت سے چلنے والا نظام تعلیم

کچھ عرصہ پہلے چین میں ”انٹیلی جینٹ ایجوکیشن“ کو ممکن بنانے کی دوڑ شروع ہوئی اور اب اربوں ڈالر کی مالیت رکھنے والی تعلیمی ٹیکنالوجی کی کمپنیاں قائم ہوچکی ہیں جو دوسرے ممالک میں بھی اپنی سہولیات فراہم کرنے کا ارادہ رکھتی ہيں۔

ایک وقت ایسا تھا جب چین کے شہر ہانگژو کے ایک مڈل سکول میں تعلیم حاصل کرنے والے 13 سالہ ژہو یی (Zhou Yi) کے ریاضی میں اتنے برے نمبر آتے تھے کہ اس کے والدین کو ڈر تھا کہ اسے کبھی کالج میں داخلہ نہيں ملے گا۔ لیکن پھر اس نے سکوئرل اے آئ (Squirrel AI) نامی کمپنی کے بارے میں سنا، جو انسانوں کے بجائے مصنوعی ذہانت کی مدد سے سکول کے مضامین میں پرسنلائزڈ ٹیوٹرنگ کا دعویٰ کررہی تھی۔ یی نے ماضی میں کئی ٹیوٹرز کی خدمات حاصل کی تھیں، لیکن اب اس نے سکوئرل اے آئی کو موقع دینے کا ارادہ کیا۔ اس کا یہ فیصلہ صحیح ثابت ہوا اور سیمسٹر ختم ہونے تک اس کی پرسنٹیج 50 سے 62.5 تک پہنچ گئی اور دو سال بعد یی مڈل سکول کے فائنل امتحان میں 85 فیصد نمبر حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔

یی نے بتایا کہ، ”مجھے ریاضی سے بہت ڈر لگتا تھا۔ لیکن ٹیوٹرنگ کے بعد مجھے احساس ہوا کہ یہ اتنا بھی مشکل نہيں ہے۔ سکوئرل اے آئی نے مجھے ایک نیا راستہ دکھایا ہے۔“

ماہرین متفق ہیں کہ اکیسویں صدی میں مصنوعی ذہانت تعلیمی شعبے میں بہت اہم کردار ادا کرے گی، لیکن وہ اس بات پر اتفاق رائے نہيں قائم کرسکے ہيں کہ یہ کس طرح ممکن ہوگا؟ چینی کمپنیاں اس بحث کے حتمی نتیجے کا انتظار کرنے کو تیار نہيں ہیں۔ پچھلے چند سالوں میں یہاں مصنوعی ذہانت استعمال کرنے والے تعلیمی پروگرامز کی بھرمار نظر آئی ہے اور ٹیک کی بڑی کمپنیوں سے لے کر سٹارٹ اپس اور تعلیمی سہولیات فراہم کرنے والی کمپنیاں سب ہی میدان میں اتر گئی ہيں۔ چین میں کئی کروڑ طلباء اپنے کلاس رومز میں سکوئرل جیسے ٹیوٹرنگ پروگرامز یا 17ZuoYe جیسے ڈیجٹیل لرننگ پلیٹ فارمز کے ذریعے کسی نہ کسی شکل میں مصنوعی ذہانت کا استعمال کررہے ہيں۔ یہ شعبہ تعلیم میں مصنوعی ذہانت کی افادیت کا دنیا کا سب سے بڑا تجربہ ہے، لیکن اس وقت یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ یہ تجربہ کس حد تک کامیاب ثابت ہوگا۔

سیلیکون ویلی بھی اس تجربے میں دلچسپی لے رہی ہے۔ مارچ 2019ء میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ چین زکربرگ انیشیٹو (Chan-Zuckerberg Initiative)اور بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن (Bill and Melinda Gates Foundation)کے مطابق تعلیمی شعبے میں مصنوعی ذہانت کا استعمال نہایت منافع بخش ثابت ہوگا۔ ایپل کے نائب صدر برائے تعلیم، جان کاؤچ (John Couch) نے اپنی 2018ء میں شائع ہونے والی کتاب Rewiring Education میں سکوئرل اے آئی کی تعریفوں کے پل باندھے اور سکوئرل کے بانی ڈیرک لی (Derek Li) اس کتاب کے چینی زبان میں ترجمے کے شریک بانی بھی ہیں۔ اس کے علاوہ 2019ء میں سکوئرل نے بڑے پیمانے پر پرسنلائزڈ لرننگ کا مطالعے کرکے اسے پوری دنیا میں برآمد کرنے کے لیے کارنیگی میلن یونیورسٹی کے ساتھ ایک مشترکہ ریسرچ لیب بھی قائم کی ہے۔

تعلیمی شعبے میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے متعلق ماہرین کے تاثرات کچھ ملے جلے ہیں۔ ایک طرف تو کہا جارہا کہ مصنوعی ذہانت اساتذہ کو طلباء کی دلچسپیوں اور صلاحیتوں کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہوگی، لیکن دیگر ماہرین کا خیال ہے کہ اس سے دنیا بھر میں معیاری تربیت اور ٹیسٹنگ کا رجحان جنم لے گا جس کے سبب آنی والی نسلیں تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا کے لیے تیار نہيں ہوں گی۔

سکوئرل اے آئی کی مثال، جس کا شمار چین کی سب سے بڑی تعلیمی مصنوعی ذہانت کی کمپنیاں میں ہوتا ہے، اس بحث کے دونوں پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہے۔ اور چونکہ یہ کمپنی بیرون ملک سہولیات فراہم کرنے کے لیے بھی تیار کھڑی ہے، ان کی کامیابی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ چین کے تجربات پوری دنیا کو کس طرح متاثر کرسکتے ہيں۔

ژہو جس تربیتی مرکز سے تعلیم حاصل کررہا ہے، اس کا شمار سکوئرل کے ابتدائی مراکز میں ہوتا ہے اور یہ چین کے صوبہ ژجیانگ کے شہر ہانگژو کی ایک مصروف شاہراہ پر ایک معمولی سی عمارت میں واقع ہے۔ سیڑھیوں کے دونوں طرف دیواروں پر سکوئرل اے آئی کو ملنے والے تمام ایوارڈز لگائے گئے ہیں۔ آگے چل کر دیواروں پر قریب ایک درجن افراد کی بڑی بڑی تصویریں نظر آتی ہيں، جن میں سے چند افراد سکوئرل اے آئی کے ملازمین اور کچھ چین کے بہترین اساتذہ ہیں جنہوں نے کمپنی کے نصاب تیار کرنے میں معاونت فراہم کی ہے۔

اندر سے یہ سکول نہایت سیدھا سادہ ہے۔ رنگ برنگی دیواروں والا ایک چھوٹا سا دالان پار کرنے کے بعد ایک راہداری میں داخل ہوتے ہی دیواروں پر مسکراتے ہوئے طلباء کی ڈھیروں تصویریں لگی ہوئی ہیں۔ اس مرکز میں چھ کے قریب کلاس رومز موجود ہيں، جن کی دیواروں پر ایک عام سکول کے کلاس روم کی طرح اقوال زریں اور درختوں کے ڈیزائنز بنے ہوئے ہیں۔ لیکن دوسرے سکولوں کے برعکس یہاں نہ تو وائٹ بورڈز ہیں اور نہ ہی پراجیکٹرز یا دوسرے آلات۔ ہر کمرے میں صرف ایک ہی میز رکھی گئی ہے جس پر بیک وقت چھ سے آٹھ بچے بیٹھ سکتے ہيں۔

بچوں کو سبق پڑھانے کے لیے روایتی طریقوں کے بجائے لیپ ٹاپ استعمال کیے جاتے ہيں۔ ہر کلاس روم میں طلباء اور اساتذہ لیپ ٹاپ کی سکرین کو غور سے دیکھتے رہتے ہيں۔ ایک کمرے میں دو طلباء ہیڈسیٹس لگائے انگریزی پڑھ رہے ہيں اور دوسرے میں ژہو اور ان کے دو ساتھی تین علیحدہ ریاضی کی کلاسز لے رہے ہيں۔ تینوں بچے کاغذ پر ریاضی کے سوالات حل کرنے کے بعد اپنے جوابات آن لائن سسٹم میں ڈالتے ہيں۔ ہر کمرے میں ایک استاد موجود ہے جو ایک ریئل ٹائم ڈیش بورڈ کی مدد سے بچوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔

وقتاً فوقتاً  کمرے میں کھڑے اساتذہ کو اپنی سکرین پر کچھ نظر آتا ہے اور وہ پچے کے پاس اٹھ کر چلے جاتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ وہ انہيں ایسے سوالات میں معاونت فراہم کرنے کی کوشش کررہے ہیں جو ٹیوٹرنگ کے سسٹم کے بس کی بات نہ ہوں، لیکن وہ اس قدر آہستہ بات کرتے ہيں کہ ان سے محض چند فٹ کے فاصلے پر کھڑے ہونے کے باوجود مجھے ان کی آواز نہيں آپاتی۔

میرے دورے کے اعزاز میں سکول اور کمپنی کا عملہ تیار کھڑا تھا، اور جب میں نے ان سے سرگوشی میں کلاس روم میں چھائے سناٹے کے بارے میں پوچھا تو ہینگژو کے علاقائی ڈائریکٹر نے مسکراتے ہوئے بڑے فخر سے مجھے بتایا کہ ”یہاں اساتذہ کے پڑھانے کی آواز بالکل بھی نہيں آئے گی۔“

چین میں شعبہ تعلیم میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے پیچھے تین عناصر کا ہاتھ ہے۔ سب سے پہلے تو حکومت کی طرف سے طلباء کی تعلیم سے لے کر اساتذہ کی تربیت اور سکولوں کے بہتر انتظام تک، تمام کاموں میں معاونت کے لیے تخلیق کردہ مصنوعی ذہانت کے اقدام کے لیے ٹیکس کی چھوٹ ہے۔ اس سے دوسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وینچر کیپیٹلسٹس کو بھی یہ شعبہ بہت منافع بخش نظر آتا ہے۔ ایک تخمینے کے مطابق، پچھلے سال چین نے دنیا بھر میں تعلیمی مصنوعی ذہانت میں ایک ارب ڈالر سے زيادہ سرمایہ کاری کر کے دوسرے ممالک کو بہت پیچھے چھوڑ دیا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ چینی سکولوں میں بہت سخت مقابلہ نظر آتا ہے۔ ہر سال ایک کروڑ کے قریب بچے گاؤکاؤ (gaokao) نامی کالج کے داخلے کا امتحان دیتے ہيں، جس پر ان کا پورا مستقبل منحصر ہے۔ اس ٹیسٹ کی بنیاد پر فیصلہ کیا جاتا ہے کہ طلباء کو کالج میں داخلہ دیا جانا چاہیے یا نہيں، اور اگر دیا جائے تو کس کالج میں۔ اس امتحان کو اس قدر اہم سمجھا جاتا ہے کہ والدین اپنے بچوں کی تیاری کے لیے منہ مانگی رقم دینے کو تیار ہوتے ہيں۔

آخری وجہ یہ ہے کہ چینی انٹراپرنیورز کے پاس اپنے الگارتھمز کی تربیت اور بہتری کے لیے وافر مقدار میں ڈیٹا موجود ہے۔ چین دنیا کی سب سے زيادہ آبادی رکھنے والا ملک ہے، یہاں مغربی ممالک کے مقابلے میں ڈیٹا کی پرائیوسی کو اس قدر اہم نہيں سمجھا جاتا، اور پچھلی چند دہائیوں کے ٹیکنالوجیکل انقلاب کے نتائج دیکھنے کے بعد والدین کو اس کے فوائد پر بھرپور اعتماد ہے۔

سکوئرل طلباء کو گاؤکاؤ سمیت سالانہ معیاری امتحانات میں زيادہ نمبر حاصل کرنے میں معاونت فراہم کرتا ہے اور کمپنی کا کہنا ہے کہ 80 فیصد سے زائد طلباء ان کے پاس دوبارہ آتے ہيں۔ اس سسٹم کو اس طرح تخلیق کیا گیا ہے کہ وہ شروع ہی سے زيادہ سے زيادہ ڈیٹا حاصل کرنے کی کوشش کرے تاکہ کئی مختلف اقسام کی پرسنلائزیشن اور پیشگوئی ممکن ہوسکے۔ سکوئرل اپنے سسٹم کی مشہوری کے لیے تعلیمی جرنلز اور بین الاقوامی شراکت داری سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہيں۔ اس کے علاوہ، انہوں نے کئی ایوارڈز بھی حاصل کیے ہيں جس کی وجہ سے شنگھائیکی حکومت نے بھی انہيں بہت سراہا ہے۔

اس حکمت عملی کی وجہ سے اس کمپنی نے بہت تیزی سے ترقی کی ہے۔ سکوئرل اے آئی کی بنیاد محض پانچ سال پہلے رکھی گئی تھی، لیکن اس مختصر عرصے میں 200 شہروں میں دو ہزار تربیتی مراکز قائم کیے جاچکے ہیں جہاں دس لاکھ سے زائد طلباء تعلیم حاصل کررہے ہيں، جو نیو یارک شہر کے پبلک سکولوں میں پڑھنے والے طلباء کی تعداد کے برابر ہے۔ اس کے علاوہ، یہ کمپنی ایک سال کے اندر چین بھر میں مزيد دو ہزار مراکز قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اب تک انہيں 18 کروڑ سے زيادہ ڈالر کی فنڈنگ بھی مل چکی ہے، اور 2018ء کے اختتام پر ایک ارب ڈالر کی مالیت سے تجاوز کرنے کے باعث اسے ‘یونی کارن کمپنی’ کا شرف بھی حاصل ہے۔

لیکن سکوئرل مصنوعی ذہانت کی مدد سے تعلیم فراہم کرنے والی پہلی کمپنی نہيں ہے۔ انسانی اساتذہ کی ”نقل“ کی کوششیں 1970ء کی دہائی میں اس وقت شروع ہوگئيں تھی جب پہلی دفعہ کمپیوٹرز کو تعلیمی شعبے میں متعارف کیا گیا۔ اس کے بعد 1982ء اور 1984ء کے درمیان امریکہ میں منعقد ہونے والے کئی مطالعہ جات سے یہ بات سامنے آئی کہ انفرادی توجہ حاصل کرنے والے طلباء بہتر تعلیمی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں، جس کے بعد مشینوں میں اس قسم کی توجہ متعارف کرنے کی دوڑ شروع ہوگئی۔ ان کوششوں کے نتیجے میں ایڈاپٹو لرننگ سسٹمز (adaptive learning systems) کی

تخلیق ممکن ہوئی جو آج کنڈرگارٹنز سے لے کر کارپوریٹ دفاتر میں، ہر جگہ نظر آتے ہيں۔

سکوئرل اپنے ڈیٹا میں موجود تفصیل اور وسیع پیمانے کے باعث دوسرے سسٹمز سے مختلف ہے۔ اس میں شامل ہر مضمون کے اسباق تیار کرنے کے لیے انجنئیرنگ کی ٹیم چین کے بہترین اساتذہ کے ساتھ کام کرتے ہوئے موضوع کو چھوٹے سے چھوٹے نقاط میں تقسیم کرتی ہے۔ مثال کے طور پر، مڈل سکول کے ریاضی کے نصاب کو نطاق اعداد (rational numbers)، مثلث کی خصوصیات، اور فیثا غورثی کلیے(Pythagorean theorem) جیسے 10,000 بنیادی عناصر میں تقسیم کیا جاتا ہے، جنہيں ”معلوماتی نقاط“ کا نام دیا گیا ہے تاکہ طلباء کی کمزوریوں کی زیادہ سے زيادہ درستی کے ساتھ نشاندہی ممکن ہوسکے۔ اس کے برعکس ایک ٹیکسٹ بک میں عام طور پر اس مضمون کو 3,000 معلوماتی نقاط میں اور امریکہ میں واقع میک گرا ہل (McGraw Hill) نامی کمپنی کے تیار کردہ اڈاپٹو لرننگ سسٹم ایلکس (ALEKS) میں صرف 1,000 معلوماتی نقاط میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ معلوماتی نقاط کے تعین کے بعد، انہيں ویڈیو پر مشتمل لیکچرز، نوٹس، حل کردہ سوالات، اور مشق کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، ان معلوماتی نقاط کے آپس میں تعلقات کو اساتذہ کے تجربے کے مطابق ”معلومات کے گراف“ کی شکل میں اینکوڈ کیا جاتا ہے۔

ہر طالب علم کو تربیت فراہم کرنے سے پہلے ایک مختصر امتحان کے ذریعے اس کی سمجھ بوجھ کی پیمائش کی جاتی ہے۔ سوال کا درست جواب دینے کی صورت میں، سسٹم تصور کرے گا کہ طالب علم متعلقہ تصورات سے واقف ہے اور آگے بڑھ جائے گا۔ دسویں سوال تک پہنچنے تک سسٹم طالب علم کی کمزوریوں کے متعلق اندازہ لگانے میں کامیاب ہوجاتا ہے، جس کی بنیاد پر نصاب تیار کیا جاتا ہے۔ جیسے جیسے بچے کورس میں آگے بڑھتے ہيں، سسٹم اپنے ماڈل کو تبدیل کرکے نصاب میں ردوبدل کرتا رہتا ہے۔ جب طلباء کی تعداد میں اضافہ ہوگا تو سسٹم تصورات کے درمیان مزید تعلقات کی نشاندہی کرے گا جس کے بعد مشین لرننگ کے الگارتھمز معلوماتی گراف میں ترمیم کریں گے۔ ایلکس بھی اسی طرح سے کام کرتا ہے، لیکن سکوئرل کی ٹیم کا دعویٰ ہے کہ الیکس کی مشین کی تربیتی صلاحیتیں زيادہ محدود ہيں جس کے باعث وہ اس قدر موثر ثابت نہيں ہوپاتا۔

میں نے تربیتی مرکز میں جتنے بھی بچوں سے بات کی، سب ہی سکوئرل آے آئی سے مطمئن نظر آئے۔ یہ تمام طلباء مڈل سکول کے آخری سال میں ہیں اور ایک سال سے زيادہ عرصے سے یہاں آرہے ہيں۔ فو وییی (Fu Weiyi) نامی ایک لڑکی نے مجھے بتایا کہ اسے انسانی استاد سے پرسنلائزڈ ٹیوٹرنگ کے مقابلے میں سکوئرل اے آئی سے کہیں زیادہ فائدہ ہوا ہے۔ وہ کہتی ہے کہ ”میرے پاس یہاں آن لائن اور آف لائن، دونوں شکل میں اساتذہ موجود ہيں۔ اس کے علاوہ، مجھے اپنی صلاحیتوں کے عین مطابق پڑھایا جاتا ہے۔سسٹم خودبخود میری کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے۔“ ایک دوسرے بچے کے بھی کچھ اسی قسم کے خیالات تھے۔ اس نے مجھے بتایا کہ ”سسٹم زیادہ مشق نہيں کرواتا، جس سے نہ صرف زيادہ بہتر نتائج حاصل ہوتے ہيں، بلکہ وقت کی بھی بہت بچت ہوتی ہے۔“

مجھے یہ بات اچھے سے معلوم تھی کہ سکوئرل اے آئی نے مجھ سے بات کرنے والے بچوں کا پہلے سے انتخاب کر رکھا تھا اور ان پر کڑی نظر رکھی جارہی تھی، لیکن اس کے باوجود بھی ان کی باتوں سے سچائی جھلک رہی تھی۔ ان کےلہجے سے یہ بات واضح تھی کہ کم از کم اپنی پڑھائی کے حوالے سے ان کی زندگی پرسکون ہوچکی ہے۔ یہ شاید محض اتفاق نہ ہو، لیکن ہمیں ژہو اور اس جیسے دوسرے بچوں یی کی شکل میں پڑھائی میں مشکلات کا سامنا کرنے والے طلباء کے لیے سکوئرل کی افادیت کی بہت اچھی مثال ملتی ہے۔

سکوئرل کے بانی لی کا خواب نجی ٹیوٹرنگ تک ہی محدود نہيں ہے۔ وہ آگے چل کر کلاس رومز میں اپنا سسٹم متعارف کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں اور ان کی کمپنی اس سلسلے میں چین کے کئی سکولوں سے مذاکرات کررہی ہے۔

میں سوچ میں پڑ گئی کہ اگر لی کا خواب پورا ہوجائے تو دنیا کتنی مختلف ہوگی اور اس سے ہمیں کس طرح سے فائدہ ہوگا۔ میں نے سکوئرل کے دفتر سے نکلتے ہوئے بچوں سے اس سسٹم میں بہتری کی گنجائش کے متعلق پوچھا۔ فو کچھ دیر کے لیے ہچکچائی اور پھر اس نے دبی آواز میں کہا ”اگر انسانی اساتذہ کے ساتھ زيادہ انٹریکشن ہوتا تو مجھے زيادہ بہتر لگتا۔“

میں نے یہ تحریر لکھنے کے لیے جن تعلیمی ماہرین سے بات کی، ان سب نے اسی بات پر زور دیا کہ اگر شعبہ تعلیم میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے بہتری لانی ہے تو ٹیکنالوجی کے باعث کام کی نوعیت کی تبدیلی پر غور کرنا ضروری ہے۔ مشینوں کی رٹے ہوئے کام کرنے کی صلاحیت بہتر ہوتی جارہی ہے، اور اس کا مطلب ہے کہ انسانوں کو ان چیزوں پر توجہ دینے کی زیادہ ضرورت ہے جو اب تک ان سے بہتر کوئی نہيں کرسکتا، یعنی ان کی جدت پسندی، دوسرے کے ساتھ کام کرنے کا طریقہ، مواصلت، اور مسائل حل کرنے والی سوچ۔  زيادہ سے زیادہ صلاحیتیں آٹومیشن کی نذر ہورہی ہیں، اور ہمیں خود کو اس تبدیلی کے مطابق ڈھالنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اکیسویں صدی میں سکولوں کے نصاب کا مقصد پرانے زمانے کی فرسودہ تعلیم دینے کے بجائے، جس میں ہر کسی کو ایک جیسی ہی چیزیں سکھائی جاتی تھیں، طلباء کی صلاحیتوں اور دلچسپیوں کو ابھارنا ہے۔

مصنوعی ذہانت سے اس مقصد کا حصول بہت آسان ہوجائے گا۔ اگر کمپیوٹرز کو معمول کے کاموں کی ذمہ داری سونپی جائے تو اساتذہ کے لیے بچوں کو انفرادی توجہ دینا زيادہ آسان ہوجائے گا۔

سکوئرل کے سسٹم سے روایتی تعلیم میں کارکردگی تو بہتر ہوسکتی ہے، لیکن میں نے جن ماہرین سے بات کی، ان کی متفقہ رائے یہی تھی کہ مصنوعی ذہانت سے طلباء میں تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت پیدا نہيں ہوتی۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے ٹیکنالوجی، انوویشن، اور ایجوکیشن پروگرام کے پروفیسر کرس ڈیڈے (Chris Dede) کے مطابق اڈاپٹو لرننگ اور پرسنلائزڈ لرننگ میں بہت فرق ہے۔ سکوئرل اے آئی اڈاپٹو لرننگ کی تکنیک استعمال کرتا ہے، جس میں طلباء کی موجودہ معلومات اور خامیوں کا تخمینہ کیا جاتا ہے، لیکن ان کی دلچسپیوں اور ان کے سیکھنے کے طریقے کو خاطر میں نہيں لایا جاتا۔ اس کے برعکس، پرسنلائزڈ لرننگ میں نصاب کی تیاری کے لیے بچوں کی ضروریات اور شوق دونوں ہی کا خیال رکھا جاتا ہے۔

انٹاریو کالج آف آرٹ اینڈ ڈیزائن یونیورسٹی کی پروفیسر جٹا ٹریویرانس (Jutta Treviranus) مزید بتاتی ہيں کہ ”پرسنلائزڈ لرننگ کے تین مراحل ہيں، جنہيں میں نے رفتار، طریقہ، اور منزل کا نام دیا ہے۔“

تعلیم کی رفتار کو پرسنلائز کرنے کا مطلب ہے کہ مختلف صلاحیتیں رکھنے والے طلباء کو ایک ہی نصاب پڑھانے کے لیے انہيں انفرادی طور پر درکار وقت دیا جائے۔ طریقہ پرسنلائز کرنے کا مطلب ہے کہ ایک جیسے اہداف کے حصول کے لیے ہر بچے کو مختلف طریقوں سے راغب کیا جائے۔ مثال کے طور پر، بیس بال میں دلچسپی رکھنے والے بچوں کو ان کے من پسند کھیل کی مثالیں دے کر شماریات پڑھائی جاسکتی ہے۔ اسی طرح منزل پرسنلائز کرنے کا مطلب ہے کہ بچوں کو ان کے ذاتی اہداف کے مطابق پڑھایا جائے۔ مثال کے طور پر، یونیورسٹی میں داخلے کے خواہش مند طلباء کو ان بچوں سے مختلف اسباق پڑھائے جائيں جو پیشہ ورانہ کالج میں داخلہ لینا چاہتے ہوں۔

ٹریویرانس کہتی ہیں کہ “یہ ضروری ہے کہ بچے اپنی تعلیمی ضروریات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ انہیں خود متعین کرنا چاہیے کہ وہ کیا سیکھنا چاہتے ہيں اور کس طرح ۔سکوئرل میں ان عناصر کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گيا ہے۔ اس سے صرف اور صرف زيادہ موثر طریقے سے تمام بچوں کو ایک ہی معیاری امتحان کے لیے ایک ہی نصاب پڑھایا جاتا ہے۔”

سکوئرل کے بانی لی دیکھنے میں تو نہایت کمزور لگتے ہیں لیکن ان کا عزم نہایت پختہ ہے۔ وہ روانی سے انگریزی نہیں بول پاتے، لیکن ان کی چینی زبان میں بات کرنے کی رفتار کو دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ ان کا دماغ کتنا تیز ہے۔

ہینگژو میں واقع مرکز کے دورے کے ایک ہفتے بعد لی نے مجھے شنگھائی میں واقع سکوئرل کے صدر دفتر کا دورہ کروایا۔ تربیتی مرکز جتنا معمولی لگتا ہے، یہ دفتر اتنا ہی زيادہ بھڑکیلا ہے۔ ہر دیوار پر کمپنی اور اس کے مختلف سنگ میلوں کے متعلق معلومات نظر آتی ہیں۔ ایک طرف تمام میڈیا کوریج تو دوسری طرف تمام ایوارڈز۔ ایک اور دیوار پر ایسے کچھ بچوں کی تصاویر موجود ہیں جن کے والدین اور اساتذہ نے ”امید چھوڑ دی تھی“ لیکن سکوئرل نے انہیں ”بچالیا“۔ مجھے اس سسٹم میں عوام کی دلچسپی کا احساس اس وقت ہوا جب میرے دورے کے بیچ میں ہی اگلا دورہ شروع ہوگیا۔

دروازے کے کچھ قدم آگے ہی بائيں طرف دیوار پر لگی سکرین پر ایک ٹی وی کلپ چل رہی ہے۔ اس میں ایک گیم شو دکھایا جارہا ہے جس میں سکوئرل کے ٹیوٹرنگ سسٹم کے نتائج کا موازنہ ایک انسانی استاد کی کارکردگی کے ساتھ کیا جارہا ہے، جن کا لی کے مطابق چین کے بہترین اساتذہ میں شمار ہوتا ہے۔ اس استاد کے تین طلباء، جنہیں وہ تین سال سے پڑھا رہے ہيں، سٹیج پر کھڑے ہوم ورک کے سوالات حل کررہے ہيں۔ سکوئرل کا سسٹم اور استاد دونوں ہی پیشگوئی کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ طلباء کن سوالات کا درست جواب دینے میں کامیاب رہيں گے۔

لی اتنے بے صبر ہیں کہ وہ کلپ ختم ہونے کا انتظار نہيں کرتے۔ انہوں نے بڑے فخر سے مجھے بتایا کہ ”چین کے بہترین اساتذہ کو اپنے طلباء کو سمجھنے میں تین سال لگے، لیکن ہم نے یہ کام محض تین گھنٹوں میں کرلیا۔“ وہ یہ دیکھ کر پھولے نہيں سما رہے تھے کہ کلپ میں دکھائے جانے والے استاد اپنی کارکردگی پر نہایت شرمندہ نظر آرہے تھے۔

سکوئرل کی تخلیق میں لی کے بچپن کے تجربات کا بہت اہم کردار رہا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ جب وہ چھوٹے تھے، ان کی جذباتی ذہانت کافی کمزور تھی اور انہيں کتابیں پڑھنے سے زیادہ فائدہ نہیں ہوا۔ لہٰذا انہوں نے اس صلاحیت کو 27 مختلف حصوں میں تقسیم کیا اور چھ مہینے لگا کر ایک ایک حصے کا بڑی تفصیل سے مطالعہ کیا۔ اس طرح ان کی مشاہدہ کرنے اور گفتگو کرنے کی صلاحیتوں میں بہتری ممکن ہوئی۔ وہ کہتے ہيں کہ ”میں نے 100 موضوعات تلاش کرنے میں بہت وقت لگایا اور اب میرے پاس ہر کسی سے بات کرنے کے لیے کافی مواد موجود ہے۔“ اس کے علاوہ، انہوں نے خود کو دوسروں کی تنقید کے باوجود بھی مسکراتے رہنا سکھایا۔ ان کے مطابق اس کے بعد اب پوری دنیا میں ان کا کوئی بھی دشمن باقی نہيں ہے۔ اس مشق سے نہ صرف انہیں اپنے مطلوبہ نتائج حاصل ہوئے بلکہ یہ اہم سبق بھی ملا کہ اس طریقے سے کسی کو کچھ بھی سکھایا جاسکتا ہے۔

لی سکوئرل کی وضاحت کرنے کے لیے ہوابازی کی مثال کا سہارا لیتے ہوئے کہتے ہيں کہ ”جب مصنوعی ذہانت سے چلنے والی تعلیم عام ہوجائے گی تو انسانی اساتذہ محض پائلٹ کی طرح کام کریں گے۔“ الگارتھم جہاز اڑائے گا اور انسان کمپیوٹرز کی سکرین پر دکھائی جانے والی معلومات پر نظر رکھیں گے اور پس پردہ ہی رہیں گے۔ وہ صرف اسی وقت سامنے آئیں گے اگر انہيں صورتحال بگڑتی ہوئی نظر آئے، مثال کے طور پر اگر کسی بچے کو ہراساں کیا جارہا ہو۔ وہ کہتے ہيں کہ ”اس طرح انسانی اساتذہ جذباتی مواصلت پر زیادہ توجہ دے سکیں گے۔“

سکوئرل نے اپنی ٹیکنالوجی کو دوسرے ممالک کو درآمد کرنا شروع کردیا ہے۔ انہوں نے اس سسٹم کی مشہوری کے لیے دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کی نمایاں ترین مصنوعی ذہانت کی کانفرنسز میں شرکت کی ہے اور ایم آئی ٹی، ہارورڈ اور دیگر ریسرچ اداروں سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ کام کیا ہے۔ اس کے علاوہ، لی نے اگلے دو سالوں کے دوران سکوئرل کو امریکہ اور یورپ تک پہنچانے کے ارادے سے اپنی ایگزیکٹو ٹیم میں کئی امریکیوں کی خدمات حاصل کیں۔ ان میں کارنیگی میلن یونیورسٹی کے کمپیوٹر سائنس کے پروفیسر ٹام مچل (Tom Mitchell) اورایلیکس کی صارف کے تجربے اور ایڈیٹوریل ٹیمز کی سربراہی کرنے والے ڈین بنڈمین (Dan Bindman) شامل ہيں۔

ٹریورانس کا خیال ہے کہ سکوئرل کے فلسفے کی سب سے بڑی خامی وہی ہے جو چین کے تعلیمی نظام کی ہے، یعنی طلباء کی انفرادی صلاحیتوں کے بجائے معیاری تعلیم اور ٹیسٹنگ پر توجہ۔ وہ کہتی ہیں کہ ”چین میں منعقد ہونے والے تجربات کا المیہ یہ ہے کہ پورے ملک کو ایک ایسی سمت میں لے جایا جارہا ہے جس سے ترقی پسند تعلیمی نظام پیچھے ہٹ رہا ہے۔“

تاہم وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ چین کے پاس کلاس رومز میں استاد دوست اور طلباء پر مرکوز ماحول پیدا کرنے کا سب سے اچھا موقع موجود ہے۔ یہاں فرسودہ تعلیمی ماڈلز سے پیچھا چھڑانے اور نئے آئیڈیاز آزمانے کی جستجو مغربی ممالک سے کہیں زیادہ ہے۔ ان کا خیال ہے کہ چین کو مصنوعی ذہانت کی مختلف شکل پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ مختلف شکل کیا ہوسکتی ہے؟

ممکن ہے کہ اس سوال کا جواب تعلیم اطفال کے ماہر پین پینگ کائی (Pan Pengkai) کے پاس موجود ہو، جو سکوئرل کے صدر دفتر سے درجن کے قریب میل دور شنگھائی کے دریائے ہوانگ پو کے پار مختلف نوعیت کے تجربے کررہے ہيں۔

پین پچھلی دو دہائیوں سے شعبہ تعلیم میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر غور کررہے ہيں۔ انہوں نے 15 سال قبل ایم آئی ٹی میڈیا لیب سے پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد چین کی پہلی تعلیمی ٹیکنالوجی کی کمپنی قائم کی۔ انہوں نے اپنے یونیورسٹی کے تجربے کی بنیاد پر انگریزی پڑھانے کے ٹولز کی تیاری شروع کردی۔ ان کا خیال ہے کہ انوویشن کی سب سے بڑی وجہ لوگوں کے درمیان فرق ہے۔ وہ کہتے ہيں کہ ”چین میں اسی چیز کی کمی ہے۔ مختلف لوگوں سے بات کرکے ہی آئيڈیاز کی شیئرنگ ممکن ہے، اور یہ صرف اسی صورت ہوسکتا ہے اگر آپ متعدد زبانیں سیکھیں اور دوسروں سے ان ميں بات کریں۔“

پین اسی مقصد کے تحت کنڈرگارٹن سے بارہویں جماعت کے طلباء کو انگریزی سکھانے کے لیے قائم کردہ تعلیمی ٹیکنالوجی کی کمپنی Alo7 کی سربراہی کررہے ہيں۔ دوسری کمپنیوں کے برعکس Alo7 امتحانات پاس کروانے کے بجائے بچوں میں جدت پسندی، لیڈرشپ اور دوسری غیرتکنیکی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کی کوشش کررہی ہے۔ یہاں حقیقی اور ڈيجیٹل دونوں اقسام کے کلاس رومز کے لیے مصنوعات اور سہولیات فراہم کرنے کے لیے ٹیکسٹ بکس اور آن لائن پلیٹ فارم کا مشترکہ استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، Alo7 تین بچوں پر مشتمل گروپس کا بیرون ملک مقیم انگریزی زبان کے اساتذہ کے ساتھ بذریعہ ویڈیو کال بھی رابطہ قائم کرتی ہے۔ اب تک یہ کمپنی 1.5 کروڑ سے زائد طلباء اور اساتذہ کو سہولیات فراہم کرنے اور ملک پھر میں واقع 1,500 اداروں کے ساتھ پارٹنرشپس قائم کرنے میں کامیاب ہوچکی ہے۔

پین چاہتے ہیں کہ شعبہ تعلیم میں مصنوعی ذہانت متعارف کرنے سے معیاری ٹیسٹس کا مکمل طور پر خاتمہ ہوجائے۔ وہ کہتے ہیں کہ ”لوگوں کا دو یا تین گھنٹے تک امتحان لینے سے کیا فائدہ ہوگا؟“ پین کا خیال ہے کہ مصنوعی ذہانت کی بدولت ایک دن لچک دار تربیتی ماحول ممکن ہوں گے جن سے حساس اور جدت پسند طلباء کو اتنا ہی فائدہ ہوگا جتنا تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والوں کو ہوتا ہے۔

2018ء میں Alo7 نے نئے تجربے شروع کیے۔ سب سے پہلے ہر سبق کے خلاصے تیار کرنے کے لیے ویڈیو ٹیوٹرنگ کے سیشنز میں چہرے اور آواز کے تجزیے کا اضافہ کیا گيا، جس کے ذریعے طلباء کے تلفظ کی درستی، انگریزی میں بات کرنے کے دورانیے، اور بات کرنے یا ہنسنے جیسے عناصر کے ذریعے ان کی دلچسپی کی پیمائش کی گئی۔ پچھلے سال اس قسم کے مزید تجزیے کرنے کے مقصد سے کئی کلاس رومز میں کیمرے اور مائیکروفونز نصب کیے گئے۔ اس کے علاوہ، اساتذہ کو بھی ان کی کارکردگی کے متعلق رپورٹ فراہم کی جاتی ہے۔

Alo7 کے ذہین کلاس رومز دیکھنے میں تو بہت چھوٹے ہيں لیکن اندر سے نہایت رنگ برنگے ہیں۔ دیواروں پر کمپنی کے پانچوں کارٹون ماسکوٹس بنائے گئے ہیں جو Alo7 کے تمام اشتہاری مواد میں بھی موجود ہیں۔ یہاں میز اور کرسیوں کے بجائے پچھلی دیوار کے ساتھ ایک لمبا سا بینچ ہے جس کے سامنے ایک وائٹ بورڈ اور دو ٹی وی رکھے گئے ہیں جن کی مدد سے بچوں کو انگریزی سکھائی جائے گی۔

میں نے اپنے دورے کے لیے جس وقت کا انتخاب کیا تھا، اس وقت کوئی کلاس نہيں چل رہی تھی۔ تاہم کمپنی کے ملازمین نے میرے لیے چند کلاسز کی مختصر ویڈیو ریکارڈنگز چلادیں۔ ایک کلپ میں مجھے پینچ پر چھ بچے بیٹھے نظر آئے جنہيں جانوروں کے نام سکھائے جارہے تھے۔ سکرین پر جانوروں کی تصویریں دکھائی گئيں اور بچوں نے ان کے نام کئی بار دہرائے۔ ان تمام سیشنز کے دوران اساتذہ کے ساتھ بچوں کی انٹریکشنز واضح طور پر نظر آرہی تھیں اور مصنوعی ذہانت کا سسٹم پس پردہ ہی رہا۔

ڈیڈے کا خیال ہے کہ ذہین کلاس روم میں تخلیق کیا جانے والا ڈیٹا فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے لیکن وہ ساتھ یہ بھی کہتے ہيں کہ کیمروں اور سینسرز سے طلباء کے جذبات یا دماغی کیفیت کے متعلق غلط فہمی پیدا ہونے کے امکانات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ، حد سے زيادہ نگرانی اور ایسی ایپلی کیشنز کے امکانات بھی موجود ہیں جن کا سائنس سے کوئی تعلق نہ ہو۔ پین اعتراف کرتے ہيں کہ احتیاط سے کام لینا بہت ضروری ہے۔ وہ کہتے ہيں کہ ”یہی وجہ ہے کہ ہم طلباء کے بجائے اساتذہ کو ڈیٹا فراہم کرتے ہيں۔ ہم نے اس وقت سائنسی ٹیسٹس مکمل نہيں کیے ہیں۔“ انہيں لوگوں کے تاثرات میں تبدیلی بھی نظر آرہی ہے۔ حکومت انوویشن کو پروان چڑھانے کے لیے نئے طریقے تلاش کررہی ہے اور جدت پسندی کو فروغ دینے والا ”معیار پر مرکوز“ تعلیمی نظام زور پکڑ رہا ہے۔

2018ء میں چین کی وزارت تعلیم نے امتحانات کا جنون کم کرنے کے لیے کئی اصلاحات متعارف کیے جن میں اساتذہ کی لائسنسنگ میں سختی شامل ہے۔  اس کے علاوہ، حکومت نے نئے رہنما اصول بھی جاری کیے جن میں امتحانات پر کم اور جسمانی، اخلاقی اور فنی تعلیم پر زيادہ زور دیا گيا ہے۔ گاؤکاؤ اپنی جگہ ہی قائم ہے لیکن پین سمجھتے ہيں کہ یہ تبدیلی خوش آئین ہے۔

وہ کہتے ہيں کہ ”ہم ٹیکنالوجی کی مدد سے چینی تعلیمی نظام کا مستقبل تبدیل کرنا چاہتے ہيں۔“ لیکن ممکن ہے کہ یہاں مصنوعی ذہانت کے ان تجربوں سے دنیا بھر میں نظام تعلیم کی کایا پلٹ جائے۔

تحریر: کیرن ہاؤ

مترجم: صوفیہ ضمیر

Read in English

Authors

*

Top