Global Editions

چینی شاہراہوں پر امریکہ سے قبل ہی بغیر ڈرائیور کے چلنے والے ٹرک دوڑنا شروع کر دینگے

بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیوں کے لئے دنیا بھر کے معروف کارساز ادارے اپنی کاوشیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بغیر ڈرائیور کے چلنے والے ٹرکوں کی تیاری کا سلسلہ بھی جاری ہے اور اس ضمن میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ؓبغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیوں کے مقابلے میں ٹرک زیادہ جلد شاہراہوں پر دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔ چین میں بھی بغیر ڈرائیور کے چلنے والے ٹرکوں کی تیاری کا سلسلہ جاری ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ چین اس میدان میں امریکہ سے آگے نکل جائیگا۔ یعنی چینی شاہراہوں پر امریکہ سے قبل ہی بغیر ڈرائیور کے چلنے والے ٹرک دوڑنا شروع کر دینگے۔ دنیا بھر میں اس وقت کئی ادارے خودکار گاڑیوں کے لئے ٹیکنالوجی، الگورتھم اور سافٹ وئیر وغیرہ کی تیاری کے لئے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تحقیق کار اس طرح کی ٹیکنالوجی وضع کرنا چاہتے ہیں جس سے نہ صرف بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیاں تیار ہو سکیں بلکہ شاہراہوں پر ٹریفک حادثات سے محفوظ رہا جا سکے اور سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ اسی طرح ٹرک انڈسٹری کے لئے خودکار ٹرک تیار کرنے کا مقصد ایک جانب تو نئی ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنا ہے تو دوسری جانب ڈرائیورز کو طویل سفر کےدوران آرام کے مواقع فراہم کرنا ہے اس سے ایک جانب تو سفر جاری رہ سکےگا اور ڈرائیور تھکان کا شکار بھی نہیں ہونگے۔ اس وقت یورپ اور امریکہ میں کئی ادارے جن میں والوو، اوبر اور Daimler شامل ہیں ماہرین کے زیر نگرانی خودکار ٹرکوں کے لئے تجربات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ چین میں بھی بغیر ڈرائیور کے چلنے والے ٹرکوں کی تیاری کی کوششیں جاری ہیں اور اس ضمن میں چین کی حکومت کی جانب سے نرم قوانین تحقیق کاروں کی حوصلہ افزائی کا سبب بھی ہیں۔ اس حوالے خودکار ٹرکوں کے لئے ٹیکنالوجی کی تیاری میں مصروف ادارے TuSimple کے سی ٹی او ژیاوڈی ہو (Xiaodi Hou) کا کہنا ہے کہ چین میں انٹرسٹی سامان کی ترسیل کی انڈسٹری کا حجم بہت ہی بڑا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چین میں بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیوں کے لئے نظام تشکیل دینے کے لئے تجربات پر کوئی موثر قانون موجود نہیں ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کے مطابق چینی حکومت بھی اس حوالے سے نرم رویہ رکھتی ہے۔ TuSimple سان ڈیاگو اور بیجنگ میں کام کرتی ہے اور یہ کمپنی ایک چینی ٹرک ساز ادارے کے لئے بغیر ڈرائیور کے چلنے والے ٹرکوں کے لئے ٹیکنالوجی تیار کر رہی ہے تاہم Hou نے اس ٹرک ساز ادارے کا نام افشا کرنے سے گریز کیا۔ اس وقت TuSimple روایتی طریقہ ڈرائیونگ کے تحت چلنے والے ٹرکوں کا ڈیٹا جمع کر رہی ہے اور کمپنی اپنی تیار کردہ ٹیکنالوجی کا آئندہ برس کی پہلی سہ ماہی میں تجربہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جبکہ اس ٹیکنالوجی کا پہلا کمرشل تجربہ 2018 ءمیں کیا جائیگا۔ TuSipmle بغیر ڈرائیور کے چلنے والے ٹرکوں کے حوالے سے جس ٹیکنالوجی کی تیاری میں مصروف ہے وہ نہایت کم خرچ لیکن افادیت میں زیادہ ہے۔ کمپنی اس مقصد کے لئے زیادہ تر انحصار کمپیوٹر ویژن اور الگورتھم پر کر رہی ہے تاکہ کمپیوٹر اور الگورتھم کی مدد سے ہر منظر کی تفصیلی منظر کشی ہو سکے جس کی مدد سے گاڑی یہ اندازہ لگا سکے گی کہ کس صورتحال میں کس طرح کے اقدامات اٹھانا چاہییں۔ Hou کا کہنا تھا کہ تمام اقدامات کمپیوٹر کی مدد سے ہی ہونگے اور اس ضمن میں گہری آموزش کی تکنیک کی مدد لی جائیگی اور اس کے لئے حاصل ہونے والے ڈیٹا کی مدد سے ایک عظیم الشان نیورل نیٹ ورک تشکیل دیا جائیگا۔ اس وقت چین میں 72 لاکھ ٹرک موجود ہیں جبکہ 16 ملین ڈرائیور خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور اس صنعت کا مجموعی حجم تین سو بلین ڈالر سے زائد کا ہے۔ دوسری جانب امریکہ کی ٹرک انڈسٹری کا حجم سات سو بلین ڈالر سے زائد کا ہے۔ اس حوالے سے نگ یی پن Ng Yi Pin جو Yunqi Partners کے سرمایہ کار بھی ہیں کا کہنا ہے کہ بغیر ڈرائیور کے چلنے والے ٹرکوں کے لئے کمرشل مواقع بہت زیادہ اور غیر معمولی ہیں۔ انہوں نے اس بات کی بھی حمایت کی کہ چین کی مرکزی حکومت بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گٓاڑیوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے تاہم مقامی حکومتوں کو اس ٹیکنالوجی کے تیار ہونے کے بعد ڈرائیورز کے بیروزگاری کے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کے باوجود یہ ٹیکنالوجی نہ صرف فیول کی بچت کا سبب بنے گی بلکہ بہت موثر بھی ثابت ہوگی اور مارکیٹ فورسز اس ٹیکنالوجی کی تیاری میں مددگار ثابت ہونگی۔

تحریر: ول نائیٹ (Will Knight)

Read in English

Authors
Top