Global Editions

امریکہ اور چین کلاؤڈ میں مصنوعی ذہانت میں جنگ کے لئے تیار ہیں

علی بابا، ایمیزون اور دیگر کمپنیاں کلاؤڈ پلیٹ فارمز میں پہلے سے کہیں زیادہ مصنوعی ذہانت کی خدمات شامل کررہی ہیں۔

چینی اور امریکی ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیاں ایک بڑی جنگ کی تیاری کررہی ہیں جس سے مصنوعی ذہانت کےمستقبل کا تعین ہو گا۔چین کی کلاؤڈ فراہم کرنے والے کمپنیاں علی بابا، ٹینسنٹ اور بیڈو، امریکہ کی بڑی کمپنیاںایمیزون، گوگل اور مائیکروسافٹ کے ساتھ جنگ ​​کرنے کے لئے تیار ہو رہی ہیں۔جیسے جیسے چینی کمپنیاں کلاؤڈ میں اپنی رسائی بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں، ان کی نظر کلاؤڈ مہیا کرنے والے امریکی کمپنیوں اور ڈویلپرز پر ہے اور ان کی بھی یہی کوشش ہے۔

بیجنگ میں ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویوکی طرف سے منعقدہ ایک تقریب ایم ٹیک چائنہ میں میں گفتگو کرتے ہوئے علی بابا کی ٹیکنالوجی کمیٹی کے صدر اور کمپنی کی سینئر شخصیت جین وانگ نے پیش گوئی کی ہے کہ مصنوعی ذہانت ایک اہم رجحان بن جائے گی۔ وانگ نے ایک مترجم کے ذریعے کہا ، "مجھے یقین ہے کہ مصنوعی ذہانت یا مشین لرننگ ایپلی کیشنز (کلاؤڈ) کے بڑے صارفین ہوں گے. "یہ بہت سے منظر نامے پیش کرے گا۔"

اسی ہی تقریب میں ایمیزون ویب سروسز کی پرنسپل سائنسدان آنمشری انندکمار (Animashree Anandkumar ) نے اپنی کمپنی کی کی صلاحیتیوں کو اجاگر کیا ،جو کہ امریکہ میں کلاؤڈ فراہم کرنے والی سب سے بڑے کمپنی ہے اور پہلے ہی کلاؤڈ کے ذریعے مصنوعی صلاحیت کی خدمات دے رہی ہے۔ مشین لرننگ کے پریکٹیشنرز کے درمیان شعور کو فروغ دینے کے لئے ایمیزون نے ڈیپ لرننگ کا فریم ورک تیار کیا ہے جسےایم ایکس نیٹ( MXNet) کہتے ہیں۔ ڈیپ لرننگ سب سے زیادہ طاقتور مشین لرننگ ہےجو کہ مختلف مشکل کاموں جیسے تصویر کی درجہ بندی، صوتی شناخت، اور ترجمہ جیسے کاموں میں کام آتی ہے۔

آنمشری انندکمار کا کہنا تھاـ "اس وقت مصنوعی ذہانت پر تجربات کے لئےکمپیٹوٹر ز کےبہت زیادہ وسائل کی ضرورت ہے۔ کلاؤڈ مصنوعی ذہانت کو استعمال میں لانے کے لئے سب سے بہتر طریقہ ہے"۔

انندکمار نے ایمیزون کے بین الاقوامی سطح پر مصنوعی ذہانت کے متعارف کرانے کا بھی اشارہ دیا۔ انہوں نے کہا ، " مصنوعی ذہانت میں جہوریت سازی کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اسے پوری دنیا میں پھیلایا جائے۔ہم ہر ایک کو مقامی طور پر ایجاد ات کرنے کے لئے کس طرح فعال کرسکتے ہیں، اور تمام زبانوں اور ثقافتوں میں برابر مدد کر سکتے ہیں ؟"تمام کلاؤڈ کمپیوٹنگ کمپنیاںمشین لرننگ اورمصنوعی ذہانت کی خدمات میں تیزی سے جدت لانے کے لئے دوڑ میں ہیں۔ ان کاہدف کمپیوٹنگ میں بڑا کھلاڑی بننے کا ہے۔گوگل نے، مثال کے طور پر، حال ہی میں سب سے زیادہ طاقتور مشین لرننگ الگورتھم کے استعمال کو آسان بنانے کے لئےایک جدت طرازی کا مظاہرہ کیا ہے ۔اس دوران چین کی حکومت اپنی صنعت میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہی ہے۔

جو بھی غالب کھلاڑیوں کے طور پر ابھرتا ہے وہ مصنوعی ذہانت کی ایسی شکل لے کر آئے گا جسے بڑے پیمانے پر اپنایا جا سکے۔ مثال کے طور پر چین کی ٹیک کمپنیاں چہرے کی شناخت پر توجہ مرکوز کر رہی ہیں۔

کلاؤڈ میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو آگے بڑھانے کے لیے اور بھی اثرات ہوسکتے ہيں۔ مثال کے طور پر، علی بابا کے وانگ نے پیشگوئی کی ہے کہ کلاؤڈ میں استعمال ہونے والی مصنوعی ذہانت کی سہولیات فراہم کرنے کی دوڑ میں وافر مقدار میں توانائی بھی استعمال ہوگی۔ انہوں نے بتایا "اس میں وسیع پیمانے پر کمپیوٹنگ کے وسائل استعمال ہوں گے، اور ممکن ہے کہ ماضی میں اتنے وسائل کسی نے بھی استعمال نہ کیے ہوں۔"

تحریر: ول نائٹ (Will Knight)

Read in English

Authors
Top