Global Editions

ذیلی صحارائی افریقی کسانوں کے سب سے پیچیدہ مسئلے کے لیے سستا اور آسان حل

نام: آئزیک سیسی (Isaac Sesi)
عمر: 26 سال
ادارہ: سیسی ٹیکنولوجیز (Sesi Technologies)
جائے پیدائش: گھانا

آئزیک سیسی نے ایک ایسا گیجٹ تیار کیا ہے جو ان کے مطابق افریقی کسانوں کو درپیش ایک بڑے خطرے، یعنی فصل کٹائی کے بعد اناج کی آلودگی، سے نمٹنے میں مدد کر سکتا ہے۔

سیسی کی پروڈکٹ، گرین میٹ (GreenMate)، کسانوں اور اناج خریدنے والوں کو سستے طریقے سے مکئی، چاول، گندم، باجرے، سورغم، اور دوسرے اناجوں میں نمی کی مقدار کا تعین کرنے میں مدد کرتی ہے۔ یہ ایک آسان مگر مستقل مسئلے کے لئے بنائی گئی ہے۔ یو این فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (UN Food and Agriculture Organization) کے مطابق ذیلی صحارائی افریقہ کی بیس فیصد سے زائد اناج کی پیداوار اس وجہ سے خراب یا ضائع ہو جاتی ہے کیونکہ اسے ذخیرہ کرنے سے پہلے اچھی طرح سے سکھایا نہیں جاتا۔ ایسے نم اناج کے اندر آلودگی پھیلانے والے ایفلا ٹاکسنز  (aflatoxins) پیدا ہو جاتے ہیں جو جوفنگی کی پیداوار ہیں اور انسانوں اور جانوروں کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں۔

سیسی کے آبائی ملک گھانا میں کسان اکثر اپنی پیداوار ذخیرہ کرنے والوں یا چارہ بنانے والوں کو بیچ دیتے ہیں۔ کسی ایک فصل کے نم ہونے سے تمام اناج کے خراب ہونے کا خطرہ ہے۔ اگرچہ نمی کا سراغ لگانے والے درآمد کردہ آلے موجود ہیں، لیکن گھانا میں چند ہی ایسے کسان ہیں جو چار سو ڈالر دینے کی سکت رکھتے ہوں۔ سیسی کے بقول، “یہ شاید ایک کسان کی پوری فصل کی کاشت کی کمائی کا نصف حصہ ہےـ”

 سیسی نے، جن کے گھر میں نہ تو بجلی تھی اور نہ ہی پانی اور جو اکثر اسکول بھوکے جاتے تھے، اپنا زیادہ تر بچپن الیکٹرونک ڈیوائسز کو ٹٹولتے گزارا۔ انہوں نے ٹوٹے ہوئے ریڈیوز اور ناکارہ اشیاء کو اسکول کی لائبریری کی کتابوں سے مدد لے کر صحیح کرنا سیکھا۔ وہ کافی عرصہ اپنے اس جوش کو کسی ایسی جگہ لگانے کے بارے میں سوچتے رہے جس کے کوئی سماجی اثرات ہوں اور 2017ء میں ایک الیکٹریکل انجینئرنگ گریجویٹ کے طور پر ان کو ایک موقع ملا۔ یونائٹڈ سٹیٹس ایجنسی فور انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ (United States Agency for International Development)، جو ایک پروجیکٹ پر ان کے اسکول قوامی نکروما یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (Kwame Nkrumah University of Science and Technology) کے ساتھ کام کر رہی تھی، نے مقامی مارکیٹ کے لیے اناج کی نمی کو چیک کرنے والا ایک میٹر تیار کیا۔ لیکن وہ اس کی قیمت کو کم کرنے اور گھانا میں اس کو کو بنانےکاطریقہ ڈھونڈنا چاہتے تھے۔

سیسی اس سلسلے میں ان کے لیے مدد گار ثابت ہوا۔ ایک چھوٹی سی ٹیم کے ساتھ مل کر انہوں نے اصلی ڈیوائس کو بہتر کیا، اس کے سرکٹ بورڈ کو نئے سرے سے ڈیزائن کیا، اس کے ساتھ ایک موبائل ایپ بنایا اور ذیلی ٹھیکیداروں کے ذریعے وہ اجزاء تیار کیے جو پہلے چین سے منگوائے جاتے تھے۔ سیسی کی ڈیوائس 80 ڈالر میں بکتی ہے جو کہ متادل آلات کی قیمت کا ایک چوتھائی ہے۔ سیسی اور ان کی ٹیم اب مزید بہتر ورژن اور دوسری پراڈکٹ بنا رہے ہیں جو کسانوں کو سویل انپٹ بتائیں گی۔ وہ کینیا اور نائجیریا کی بڑی مارکیٹ میں پھیلانے کیلئے فنڈز بھی اکھٹے کر رہے ہیں۔ بالآخر، سیسی کا ماننا ہے کہ وہ براعظم میں پھیلے ہوئے دوسرے کسانوں کو ضیاع ختم کرنے، معاشی نقصان کم کرنے، اور پراڈکٹ کو مزید محفوظ بنانے میں مدد کر سکتے ہیں۔

تحریر: جوناتھن ڈبلیو روزن  (Jonathan W. Rosen)

مترجم: ماہم مقصود (Maham Maqsood)

Read in English

Authors

*

Top