Global Editions

ٹیکنالوجی سٹارٹ اپس کا بدلتا منظر نامہ

مقامی بزنسز کے لیے کئی مشکلات درپیش ہونے کے باوجود 2019ء میں سات ٹیک سٹارٹ اپس میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی خبریں خوش آئين ہيں۔

 نومبر 2019ء میں The Nest I/O کیطرف سے کراچی میں منعقد ہونے والی 021Disrupt کانفرنس ہر لحاظ سے بے مثال تھی۔ اس تقریب کا موٹو ‘nothing innovative ever stood still’ تھا، اوراس نے اسے پورا کرکے دکھایا۔ انوویشن کو سراہنے اور انٹراپرنیورز اور سرمایہ کاروں کے درمیان تعلقات قائم کرنے کے لیے منقعد کیا جانے والا 021Disrupt پاکستان میں انٹرپرنیورشپ کے منظرنامے کے لیے ایک تاریخی سنگ میل ثابت ہوا۔

021Disrupt میں سرمایہ کاری کے متعلق سات اہم اعلانات کیے گئے، جس میں کسی بھی پاکستانی سٹارٹ اپ میں اب تک کی سب سے بڑی سرمایہ کاری شامل تھی۔ یہ اعزاز پاکستان کی غیرمرکزی اجتماعی نقل و حمل کی کمپنی ایئرلفٹ (Airlift) کو ملا، جو سیلیکون ویلی میں واقع کمپنی فرسٹ راؤنڈ کیپیٹل (First Round Capital) سے 1.2 کروڑ ڈالر کی سیریز A فنانسنگ حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ اسی کے علاوہ، ایئرلفٹ کی حریف کمپنی، مصر میں واقع سویول (Swvl)، نے بھی پاکستان میں اپنے عملیات کی ابتداء کے لیے 2.5 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کیا۔

پاکستانی میسینجر ایپ ٹیلو ٹاک (TelloTalk) بارہ لاکھ ڈالر، قیمتوں کا موازنہ فراہم کرنے والی سائٹ پرائس اوئے (PriceOye) ساڑھے چار لاکھ ڈالر اور تعلیمی ایپ کوئینو (Quenu) ایک لاکھ ڈالر کی سیڈ فنڈنگ حاصل کرنے میں کامیاب رہيں۔ پاکستان کے سب سے بڑے سیاحت کے پورٹل فائنڈ مائی ایڈوینچر (Find My Adventure) نے بجٹ ہوٹل چین کے ٹاؤن رومز (K-Town Rooms) کی خریداری اور حبیب بینک لمیٹڈ نے آئیندہ سال فن ٹیک سٹارٹ اپس کے لیے سرمایہ کاری کا فنڈ متعارف کرنے کے متعلق اعلانات بھی کیے۔

اس تقریب میں موجود سٹارٹ اپ کمپنیوں، مقامی انٹرپرنیورز کی حاصل کردہ فنڈنگ، اور دنیا بھر کے نمایاں ترین کاروباروں کی دلچسپی سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ تیسری 021Disrupt کانفرنس اب تک کی سب سے اہم ہے۔ 2019ء کے اختتام پر منعقد ہونے والی اس کانفرنس کی کامیابوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ آنے والی دہائی بھی سٹارٹ اپس کے لیے بہت خوش آئین ثابت ہوگی۔

مقامی سٹارٹ اپس کے لیے سرمایہ کاری کے علاوہ، 021Disrupt میں ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی۔

اس تقریب میں (Invest2Innovate (i2i نے عالمی بینک کی شراکت داری کے ساتھ اس دہائی کا آخری انٹرپرنیورشپ کے ماحول کا مطالعہ، پاکستان سٹارٹ اپ ایکو سسٹم رپورٹ 2019ء (Pakistan Startup Ecosystem Report 2019) بھی جاری کیا۔

اس رپورٹ میں پاکستان میں انٹرپرنیورشپ کے ماحول کا جائزہ فراہم کیا گيا ہے اور خصوصی طور پر اگلی دہائی میں متوقع چیلنجز اور انہیں حل کرنے کے لیے اہم تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ 105 سرویز، 51 انٹرویوز اور 5 کیس سٹڈیز پر مشتمل اس رپورٹ سے پچھلی دہائی میں، خصوصی طور پر 2012ء کے بعد سے، سٹارٹ اپ کے ایکو سسٹم کی ارتقاء واضح ہوتی ہے۔

2012ء میں پاکستان میں صرف دو بزنس انکیوبیٹرز اور ایکسیلیٹرز موجود تھے لیکن 2019ء کے اختتام پذیر ہونے تک ان کی تعداد 24 تک جاپہنچی ہے۔ اس کے علاوہ، اس وقت ملک بھر میں سٹارٹ اپس کے لیے 20 رسمی سرمایہ کار اور اپنا کاروبار قائم کرنے کے خواہش مند افراد کے لیے 80 کوورکنگ سپیسز بھی موجود ہيں۔

اس مطالعے سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ سٹارٹ اپس کی تعداد میں اضافے کے باوجود پاکسان میں انوویشن کو فروغ دینے کے لیے مزيد ٹیک ہبز اور انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے۔ مقامی سٹارٹ اپس کے لیے ابتدائی مرحلے میں سرمایہ کاری کی کمی بھی ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔

عالمی بینک کے وومن انٹرپرنیورز فنانس انیشیٹیو (Women Entrepreneurs Finance Initiative – We-Fi) کی شراکت کی بدولت اس رپورٹ میں پاکستان میں سٹارٹ اپس کے موجودہ ماحول میں صنفی فرق کا تفصیلی تجزیہ بھی فراہم کیا گيا ہے۔

پاکستان سٹارٹ اپ ایکوسسٹم رپورٹ کی بنیاد رکھنے والی کمپنی Invest2Innovate اپنے سالانہ چار ماہ لمبے پروگرام  i2i Accelerator کے لیے، جس کا مقصد سٹارٹ اپس کو سرمایہ کاروں کے سامنے پیش کرنا ہے، اثرانگیز انٹرپرنیورز کی نشاندہی کرتی ہے۔ پچھلے سات سالوں کے دوران i2i کی بدولت 41 سٹارٹ اپس کے لیے 60 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کا حصول ممکن ہوا ہے۔

اس سال i2i نے اپنا وینچر کیپیٹل فنڈ متعارف کیا جس کی پہلی سرمایہ کاری تصدیق شدہ اور قابل اعتماد گھریلو ملازمین تلاش کرنے میں معاونت فراہم کرنے والے پورٹل موقع آن لائن (Mauqa Online) کی شکل میں سامنے آئی۔

ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو پاکستان سے گفتگو کے دوران i2i کی انسائٹس لیڈ، ڈیٹا سائنٹسٹ عنبرین بیگ کہتی ہیں کہ ”i2i کی زیادہ تر کاوشوں سے، چاہے وہ ایکسلریٹر پروگرام، تجزیات کا شعبہ یا وینچر فنڈ ہو، کسی نہ کسی طریقے سے انٹرپرنیورز کو معاونت فراہم کی جاتی ہے، جس سے ایکوسسٹم کو بھی تقویت ملتی ہے۔ ہم نے اپنے کام اور i2i کے تینوں شعبوں کے ذریعے انٹرپرنیورز کے ساتھ اپنے کام کے دوران اجاگر کردہ خامیوں کو پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔“

بیگ، جو پاکستان سٹارٹ اپ ایکو سسٹم رپورٹ 2019ء کی شریک مصنفہ بھی ہيں، کہتی ہيں کہ پچھلی دہائی میں پاکستان کے مالی منظرنامے میں ایک انقلاب آیا ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ ”اس تبدیلی کی رفتار بہت سست تھی، اسی لیے کچھ لوگوں نے اسے ارتقاء کا بھی نام دیا ہے۔ لیکن اب بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی نظر میں پاکستان ایک منافع بخش مارکیٹ بن چکی ہے۔ حکومت یونیورسٹیوں میں قائم کردہ انکیوبیشن کے مراکز کے ذریعے بنیادی سطح پر انٹرپرنیورشپ کو فروغ دے رہی ہے۔ اس دوران، بلکہ اب تک، انٹرپرنیورز کو کئی مشکلات کا سامنا رہا ہے۔“

ان میں سے ایک مسئلہ اس رپورٹ میں اجاگر کردہ صنفی فرق ہے۔ پچھلے پانچ سالوں کے دوران سٹارٹ اپس کو 16.5 کروڑ ڈالر کی فنڈنگ مل چکی ہے، لیکن اس میں خواتین انٹرپرنیورز کا حصہ محض 60 لاکھ ڈالر (یعنی 3.26 فیصد فنڈنگ) تھا۔ نیز،2015ء اور 2019ء کے درمیان خواتین کی قائم کردہ کمپنیوں کے ساتھ 101 معاہدوں میں سے صرف 24 طے ہوسکے۔ یعنی ان پانچ سالوں میں طے کیے جانے والے 23.76 فیصد معاہدوں کو کل سرمایہ کاری کا صرف 3.26 فیصد حصہ مل سکا۔ ان اعداد و شمار سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ فی معاہدہ ادا کی جانے والی اوسط رقم میں خواتین کو ملنے والا حصہ بہت کم ہے۔

بیگ بتاتی ہیں کہ ”خواتین کے ساتھ بہت ناانصافی کی جاتی ہے۔ مجھے کئی خواتین نے بتایا ہے کہ ان سے ججز نے پوچھا کہ ان کی شادی کے بعد ان کے کاروبار کا کیا ہوگا؟ کئی بار بتائے جانے کے باوجود بھی کہ ایک خاتون نے کسی ایپ کی کوڈنگ کی ہے، ججز مردوں سے ہی تکنیکی سوالات پوچھتے رہے۔“

کاروباروں کو درپیش دوسرے اہم چیلنج کا تعلق حکومت کی پالیسیوں سے ہے۔ 2018ء میں جب سے پاکستان تحریک انصاف نے اقتدار سنبھالا ہے، ان سے توقع کی جارہی ہے کہ وہ کاروباروں کی ترقی کے لیے راہ ہموار کریں۔ سب کو پوری امید تھی کہ ٹیکنالوجی کی سمجھ بوجھ رکھنے والے نوجوانوں کے ووٹوں سے انتخابات جیتنے کے بعد تحریک انصاف اپنا کاروبار شروع کرنے والے نوجوانوں کے لیے ترقی پسند پالیسیاں متعارف کرے گی۔

وزیراعظم عمران خان نے متعدد انٹرویوز اور خطابوں میں پاکستان کے نوجوانوں کو اپنے خود کے کاروبار شروع کرنے کی ترغیب دی۔ حکومت نے اکتوبر 2019ء میں سٹارٹ اپس کی معاونت کے لیے قرضوں کی فراہمی کے مقصد سے ”کامیاب جوان پروگرام“ متعارف کیا اور دسمبر میں اسلام آباد میں نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (National University of Science and Technology – NUST) میں پاکستان کے پہلے نیشنل سائنس اور ٹیکنالوجی پارک کا انعقاد کیا۔ اس کے علاوہ، حکومت نے عوامی فلاح و بہبود کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجیز کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے ”دیجیٹل پاکستان“ مہم بھی شروع کی۔

مدثر شیخا: کریم کے سی ای او اور شریک بانی

ان تمام کوششوں کے باوجود پچھلے 15 مہینوں کے دوران پاکستان کے مالی بحران کے باعث حکومت کو بہت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ دسمبر 2017ء اور جون 2019ء کے درمیان پاکستانی روپیے کی قیمت 50 فیصد کمی کے بعد 105 روپے فی ڈالر سے 155 روپے فی ڈالر تک جاپہنچی۔ اس کے علاوہ، 2019ء میں مہنگائی میں سالانہ بنیاد پر 12.7 فیصد اضافہ ہوا، جو نو سالہ ریکارڈ ہے۔

مالی تجزیہ کار فرخ سلیم، جو ماضی میں کچھ عرصے کے لیے معیشت کے سلسلے میں پی ٹی آئی حکومت کے نمائندے کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہيں، ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو پاکستان کو بتاتے ہيں کہ ”کاروبار چلانے کے اخراجات میں اضافہ ہورہا ہے۔ اس وقت پاکستان میں سود کی مرکزی شرح 13.25 فیصد ہے۔ اس کے برعکس امریکہ میں یہ شرح 1.75 کے قریب ہے۔ اسی لیے امریکہ کی کئی بڑی بڑی کمپنیاں شرح سود کے فرق سے فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستان میں سرمایہ کاری کررہی ہیں۔ اسے ”ہاٹ منی“ (hot money) بھی کہا جاتا ہے۔ جب شرح سود میں کمی آئے گی تو یہ پیسہ اتنی ہی جلدی ملک سے غائب بھی ہوجائے گا۔“

سلیم کا خیال ہے کہ حکومت کی حالیہ مالی پالیسیوں کے باعث پاکستان میں کاروبار چلانا بہت مشکل ہوچکا ہے۔ وہ کہتے ہيں کہ ”ایسی کوئی بھی کمپنی جو کام شروع کرکے منافع کمانا چاہتی ہے، اسے سب سے پہلے تو بجلی اور گیس کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے ساتھ چڑھتا ہوا سود ادا کرنا ہوگا۔ ان سب عناصر کے باعث پاکستان میں کاروبار کرنا منافع بخش ثابت نہيں ہوتا۔ یہاں کارپوریٹ ٹیکس کی شرح کا شمار دنیا کے اعلیٰ ترین ریٹس میں ہوتا ہے۔ اس کے برعکس بھارت میں معیشت کی ترقی کے لیے ٹیکس ریٹس میں کمی کی گئی ہے۔ پاکستانی حکومت کو اندرون ملک سرمایہ کاروں پر توجہ دینی چاہیے۔ اگر غیر ملکی سرمایہ کاروں کو فائدہ پہنچانے کے بجائے پاکستانوں کو موقع دیا جائے تو بیرون ملک سرمایہ کاروں کی تعداد میں خودبخود اضافہ ہوگا۔“

تاہم اس قدر چیلنجز کے باوجود، جن میں بدترین عدم استحکام شامل ہے، پچھلی دہائی میں پاکستان میں کئی کاروباروں کو کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

ان کمپنیوں کی فہرست میں، جن کا پاکستان سٹارٹ اپ ایکوسسٹم رپورٹ 2019ء میں بھی بطور کیس سٹڈی تذکرہ کیا گيا ہے، ٹیکنالوجی سہولیات فراہم کرنے والی کمپنی آربی سافٹ (Arbisoft)، موٹرسائیکل ہیلنگ ایپ بائیکیا (Bykea)، پاکستان کا سب سے بڑا ریئل ایسٹیٹ پورٹل zameen.com، قدرتی خوبصورتی کی کمپنی کو نیچرل (CoNatural) اور ٹیلی ہیلتھ فراہم کرنے والی کمپنی صحت کہانی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ای کامرس کی کمپنی دراز اور آن لائن ڈیلیوری فراہم کرنے والی کمپنی چیتے کو بھی نمایاں مقام حاصل ہے۔

چیتے کے شریک بانی اور دراز کے سابق سی ای او احمد خان اس بات سے متفق ہيں کہ پچھلی دہائی میں پاکستان کے انٹرپرنیورشپ ایکوسسٹم میں بہت بڑا انقلاب آیا ہے۔ وہ ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو پاکستان کو بتاتے ہيں کہ ”ڈسکاؤنٹ کی مارکیٹ نے سب کچھ تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔ اس کا سہرا کریم کے سر جاتا ہے، جس نے 2016ء میں صارفین کو رعایات پیش کرکے، قیمتوں میں کمی کرکے اور پے بیک سکیمز کے ذریعے ڈرائیورز کو مالی فوائد فراہم کرکے منظرنامہ تبدیل کرڈالا۔“

خان بتاتے ہيں کہ جب انہوں نے 2015ء میں دراز چھوڑ کر چیتے کی بنیاد رکھی، اس وقت سٹارٹ اپس میں سرمایہ کاری کی صورتحال بہت مختلف تھی۔ وہ کہتے ہيں کہ ”اس وقت راکٹ انٹرنیٹ (Rocket Internet) کے علاوہ کوئی بھی ادارہ سرمایہ کاری نہيں کررہا تھا۔ اگر کسی کو پچاس ہزار یا ایک لاکھ ڈالر مل جاتے تو وہ خود کو بہت خوش نصیب سمجھتا تھا۔ لیکن اس کے بعد ’سرمایہ کار‘ اور i2i جیسی کمپنیاں میدان میں اتریں اور سٹارٹ اپ کمپنیوں کو فنڈنگ حاصل کرنے میں مدد فراہم کرنے لگیں۔“

ایک طرف تو احمد خان سٹارٹ اپس کے لیے بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کو سراہتے ہیں، لیکن دوسری طرف وہ اعتراف کرتے ہيں کہ حکومت انٹراپرنیورز کو صحیح معاونت نہيں فراہم کر پارہی۔ وہ کہتے ہيں کہ ”وہ باتیں تو بڑی اچھی کرتے ہيں اور بین الاقوامی براداری کے پاکستان کے متعلق تاثرات میں بھی بہتری آئی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ حکومت نے کچھ خاص کام نہيں کیا ہے۔ سچ پوچھیں تو پاکستان کے معاشی حالات کاروباروں کے لیے موزوں نہيں ہيں۔“

خان کے مطابق پاکستان میں سٹارٹ اپس کا مستقبل کافی امیدافزا نظر آتا ہے۔ لیکن ان کا خیال ہے کہ اپنا کاروبار شروع کرنے کے خواہش مند افراد کو ایسے آئيڈیاز متعارف کرنے کی ضرورت ہے جو واقعی منفرد ہوں۔ وہ کہتے ہيں کہ ”کاروبار کرنے کے کئی طریقے ہیں جو بہت منافع بخش ثابت ہوسکتے ہيں۔ وہ زمانہ گیا جب کوئی سٹارٹ اپ کمپنی بہت تیزی سے ترقی کرنے کے بعد مارکیٹ سے نکلنے کی کوشش کرتی، پھر اس کی قسمت پلٹ جاتی، اور اسے ڈھیر ساری سرمایہ کاری مل جاتی تھی۔ اب اگر کسی بزنس آئيڈیا میں دم نہ ہو تو وہ مارکیٹ میں کامیاب نہيں ہوپاتا۔ کاروباری دنیا کے بنیادی اصولوں کو نظرانداز کرنا اپنے پیر پر کلہاڑی مارنے کی مانند ہے۔ کسی بھی کاروبار کے لیے مارکیٹ کو ذہن میں رکھنے اور بنیادی اصولوں کو فراموش کرنے کی غلطی سے گریز کرنے کی اشد ضرورت ہے۔“

تحریر: کنور خلدون شاہد

مترجم: صوفیہ ضمیر


مصنف لاہور میں رہائش پذیر صحافی ہيں۔

Authors

*

Top