Global Editions

یہ پمپ سستی اور موثر گرڈ سٹوریج فراہم کرنے والا ہے

یہ 1400 سنٹی گریڈ کے ریکارڈ درجہ حرارت پر کام کرسکتا ہے، جس کی وجہ سے تھرمل سٹوریج کے لیے لیکوئيڈ دھاتوں کا استعمال ممکن ہوسکے گا۔

سائنسدانوں نے 1400 سنٹی گریڈ کے درجہ حرارت پر، یعنی موجودہ گرمائش کے ٹرانسفر کے سسٹمز سے سینکڑوں ڈگری زیادہ درجہ حرارت پر، کام کرنے والا ایک سیرامک پمپ تیار کیا ہے، جس سے توانائی کی سٹوریج کے مزید راستے کھل سکتے ہیں۔

نیچر نامی جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مصنف کو یقین ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک موثر گرڈ سٹوریج کا سسٹم تیار کیا جاسکتا ہے جو آگے چل کر ہوائی اور شمسی توانائی جیسے توانائی کے قابل تجدید ذرائع کو قدرتی گیس جتنا کم قیمت بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔

تھرمل سٹوریج کے اس سسٹم میں پگھلے ہوئے سیلیکون جیسی دھاتوں کا استعمال کیا جائے گا، جس سے ماضی میں استعمال ہونے والے پگھلے ہوئے نمکیات کے مقابلے میں زیادہ تیز درجہ جرارت پر گرمی کی توانائی کا سٹوریج اور ٹرانفسر ممکن ہوگا۔ زیادہ تیز درجہ حرارت کے استعمال کا مطلب ہے کہ زیادہ توانائی کو میکانیکی یا برقیاتی توانائی میں تبدیل کیا جاسکتا ہے، جو مجموعی اثراندازی میں اضافے کی وجہ بنے گی۔

جیورجیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے اسسٹنٹ پروفیسر اسیگن ہینری (Asegun Henry) کہتے ہیں"اب ہم تیز درجہ حرارت پر گرمی کی حرکت کو ممکن بنا سکتے ہیں، جس سے بہت ساری چیزیں تبدیل ہوسکتی ہیں۔"

لیکویئڈ دھاتوں کا گرمی کے سٹوریج کے طور پر استعمال میں اضافہ ہورہا ہے، لیکن اصل چیلنج ایسے پمپس اور پائپس کی تخلیق ہوگی جو اس قسم کے درجہ حرارت میں خراب نہیں ہوں گے۔ سیرامکس بہت تیز درجہ حرارت برداشت کرسکتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ہی وہ بہت جلدی ٹوٹ بھی جاتے ہیں، جس کی وجہ سے انھیں مشین کے پرزوں میں استعمال کرنا بہت مشکل ثابت ہوتا ہے۔

جیورجیا ٹیک کے ریسرچرز نے سٹان فورڈ اور پرڈیو یونیورسٹی کے ریسرچرز کے ساتھ مل کر اس مسئلے سے نبٹنے کے لیے ہیروں کی ٹولنگ اور پریسیشن مشیننگ (precision machining) کے ساتھ نئے مرکب مواد استعمال کرنے کی کوشش کی۔ اس کے علاوہ انھوں نے گریفائٹ کا بھی استعمال کیا، جو بہت تیز درجہ حرارت برداشت کرسکتا ہے۔

اس پمپ کا پروٹوٹائپ پگھلا ہوئے ٹین استعمال کرتے ہوئے مسلسل 72 گھنٹوں تک چلتا رہا۔ اس کی اوسط درجہ حرارت 1200 ڈگری سنٹی گریڈ جبکہ چوٹی کی درجہ حرارت 1400 ڈگری سنٹی گریڈ رہی۔ ٹیسٹ کے اختتام پر پمپ میں گھساؤ نظر آیا۔ تاہم اگلے مرحلے میں سائنسدان سیلیکون کاربائڈ نامی زیادہ سخت سیرامک مواد سے پمپ بنانے کی کوشش کررہے ہیں، جو زیادہ لمبے عرصے تک قائم رہ سکتا ہے۔

اس ریسرچ کو امریکی ڈپارٹمنٹ آف انرجی کے توانائی کے ریسرچ کے ڈویژن ARPA-E سے 36 لاکھ امریکی ڈالر کی فنڈنگ حاصل ہوچکی ہے۔

یہ تجویز کردہ گرڈ سسٹم شمسی، ہوائی یا جوہری توانائی سے حاصل کردہ بجلی استعمال کرکے لیکوئيڈ سیلیکون کو بہت تیز درجہ حرارت پر گرم کرکے تھرمل توانائی پیدا کرے گا۔ جب بجلی کی مانگ میں اضافہ ہو اور توانائی کی پیداوار میں کمی ہو، اس وقت یہ سسٹم تھرموفوٹووولٹائکس، یعنی گرمائش کو انفراریڈ روشنی کی شکل سے بجلی کی شکل میں تبدیل کرنے والے سیل کی مدد سے اس توانائی کو گرڈ میں لوٹا دے گا۔

تھرمل توانائی کا گرڈ کے سٹوریج کا نظام کوئلے یا قدرتی گیس کے ساتھ بھی اتنا ہی فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔ لیکن اس ٹیکنالوجی کا اصل فائدہ اس وقت ہوگا جب وہ قابل تجدید توانائی کے لیے کم قیمت بنیادی سٹوریج فراہم کرنے میں اور جس وقت دھوپ نکلی ہوئی ہو یا ہوا چل رہی ہو، اس وقت توانائی سٹور کرکے بعد میں بجلی پیدا کرنے میں کامیاب ثابت ہوگا۔

اب تک صاف توانائی بیٹری کے سسٹمز کی مہنگائی اور سٹوریج سسٹمز جیسے کہ پمپ شدہ ہائيڈروالیکٹرک سسٹمز کے محدود رقبے کی وجہ سے مکمل کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرپائے ہیں۔

جو لیکویئڈ دھاتیں تیز درجہ حرارت کے پمپ کے ذریعے دستیاب ہیں، انھیں دوسری چیزوں میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر انھیں کنسنٹریٹڈ شمسی پاور کے نظام میں پگھلے ہوئے نمکیات کی جگہ استعمال کیا جاسکتا ہے اور نئی قسم کے دھات سے ٹھنڈے ہونے والے جوہری ری ایکٹر کو بھی ممکن بنایا جاسکتا ہے۔

تحریر: جیمز ٹیمپل (James Temple)

Read in English

Authors
Top