Global Editions

اردو فیچرز

کم وزنی گاڑیوں کی تیاری کےلئے بھی تھری ڈی پر نٹرز کا استعمال

کم وزنی گاڑیوں کی تیاری کےلئے بھی تھری ڈی پر نٹرز کا استعمال

ایک دن آئیگا جب کاربن کے ریشوں سے بنے پرزے عام دستیاب ہونگے اور یہ نہ صرف کم خرچ ہونگے بلکہ ان کی مدد سے ہماری گاڑیاں اور فضائی سفر کے لئے جہاز نہ صرف وزن میں ہلکے ہونگے بلکہ مزید موثر بھی ثابت ہونگے۔ آجکل اس طرح کے پرزے نہ صرف بہت مہنگے ہیں بلکہ بے …مزید پڑ ھیں

ریڈار کے پرزوں کی تیاری کے لئے بھی تھری ڈی پرنٹرز کا استعمال

اب آپ ریڈار ٹیکنالوجی کو بھی اس فہرست میں شامل کر لیں جو مستقبل میں تھری ڈی پرنٹرز سے استفادہ حاصل کریں گی۔ ریڈار کے پیچیدہ اور حساس پروزوں کو اب تھری ڈی پرنٹرز کی مدد سے ایک پلاسٹک شیٹ پر پرنٹ کیا جا سکتا ہے جس سے نہ صرف ریڈار ٹیکنالوجی میں وسعت آئیگی بلکہ اس کے …مزید پڑ ھیں

پی آئی ٹی بی نے سرکاری محکموں میں خریداری کا آن لائن نظام متعارف کرا دیا

پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے سرکاری محکموں میں خریداری کے لئے نیا آن لائن نظام متعارف کر دیا ہے۔ ابتدائی طور پر یہ سہولت پانچ سرکاری محکوں کو فراہم کی جا رہی ہے۔ اس نظام کو پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے خود تیار کیا ہے اور اس کا مقصد سرکاری محکموں میں خریداری کے نظام …مزید پڑ ھیں

انفیکشن بتانے والی سمارٹ بینڈیج

زخموں کے علاج میں سب سے بڑی رکاوٹ بیکٹریا کے باعث ہونے والی انفیکشن ہے، اس انفیکشن کے باعث کئی طرح کی پیچیدگیاں پیدا ہو تی ہیں جو علاج میں رکاوٹ کا سبب بنتی ہیں لیکن اب اس ضمن میں تحقیق کاروں نے ایسا راستہ ڈھونڈ لیا ہے جس کی مدد سےاس انفکیشن کا پتا چلایا جا …مزید پڑ ھیں

درد کے خاتمے کےلئے ایل ای ڈی کا استعمال

دیرینہ درد کا علاج نہایت مشکل ہے کیونکہ اس کی تکلیف کی وجہ کو سمجھنا اور پھر درد کو کم کرنے کےلئے اقدامات تجویز کرنا نہایت اہم ہے اب ایک نئی تحقیق سامنے آئی ہے جس کے ذریعے دیرینہ درد کے علاج کے لئے ایل ای ڈی ٹیکنالوجی اور ریڈیو والو کو دو الیکٹروڈ سے …مزید پڑ ھیں

تھری ڈی پرنٹرز سے اب بالوں کا حصول بھی ممکن

ٹیکنالوجی کی دنیا ویسے ہی عجائبات کی دنیا ہے۔ جہاں نت نئی ایجادات اقوام عالم میں بسنے والوں کو حیران کرتی رہتی ہیں۔ اسی تناظر میں ایک اہم ایجاد تھری ڈی پرنٹر سے بالوں کا حصول ہے۔ گنجے پن کا خاتمہ چاہنے والے ابھی زیادہ خوش نہ ہوں کیونکہ اس تکنیک سے ابھی صرف کھلونے …مزید پڑ ھیں

اداریہ

2008 میں امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹیگیشن (Federal Bureau of Investigation) نے اپنے انٹیگریٹڈ آٹو میٹڈ فنگرپرنٹ آئیڈنٹیفیکیشن سسٹم (Integrated Automated Fingerprint Identification System - IAFIS) کی مدد سے 30 سال پرانے قتل کے کیس کا معمہ حل کرلیا۔ اس وقت اس ڈیٹابیس میں تقریباً 73 ملین مجرموں کے ریکارڈ موجود تھے۔ مقتولہ 61 سالہ …مزید پڑ ھیں

Top