Global Editions

کاروں کا وائرلیس مواصلاتی نظام شہری انتظام میں معاون ہو گا

امریکی ریاست مشی گن کے شہر وارن میں جنرل موٹر ایسی ٹیکنالوجی کو پرکھ رہے ہیں جس کی مدد سے کاروں میں کئی سو میٹر دور ہی سے وائر لیس مفید معلومات ملی یا بھیجی جاسکیں۔ مکمل خود کار ڈرائیونگ گاڑیاں سڑک پر لانے سے پہلے ان میں کسی امکانی تصادم یا سڑک کی خراب صورتحال سے خبردار کرنے والا نظام ہونا چاہئے۔  بہترین خودکار گاڑی کیلئے ٹیکنالوجی معاون ثابت ہوتی ہے، اسے اردگرد کے ماحول کی مکمل تصویر پیش کرنی چاہئے اور خودکار گاڑیوں کے سڑک پر باہمی معاونت کا بھی انتظام ہونا چاہئے۔ اس طرح رابطے میں رہنے والی گاڑیوں سے شہر کو بتدریج فائدہ ہو گا۔ ان میں سفرکے دوران سینسر کی مدد سے حادثات میں کمی ہوگی، ٹریفک کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی اور توانائی کی بچت ہوگی۔

وقت گزرنے کے ساتھ باہم رابطے میں رہنے والی گاڑیوں سے حاصل کردہ معلومات سے شہر کی منصوبہ بندی کرنے والوں اور پالیسی سازوں کو پیٹرن مل جائے گا۔  شہروں کے منصوبہ ساز بہت زیادہ ڈیٹا اور معلومات سے مسلح ہو کر ٹریفک کے اژدھا سے باآسانی نپٹ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر وہ شہر میں نئے بس سٹاپ کی نشاندہی کرسکتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ شہروں کی باہم منسلک گاڑیوں کے فوائد کا علم ہو، اس قسم کی گاڑیوں کیلئے ضروری ٹیکنالوجی پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ جنرل موٹرزکے ٹیکنکل معاون ہری ہرن کرشنن (Hariharan Krishnan)اس کام کی جھلک دکھانے کیلئے مجھے بظاہر نارمل دکھائی دینے والی مگر لگژری کیڈلک (Cadillac)کار میں بٹھا کر کارخانے کا چکر لگانے کیلئے نکل پڑے۔ جب ہم ایک موڑ کے قریب پہنچے تو کرشنن کا ایک ساتھی دوسری کار پر بائیں طرف سے ہماری طرف بڑھا۔ دوسری کار ایک آڑ کی وجہ سے ہمیں نظر نہیں آرہی تھی، اس سے پہلے کہ کوئی حادثہ ہوتا کیڈلک کار کے ڈیش بورڈ پر سرخ بتیاں جل اٹھیں، فرنٹ سیٹ سے ایک وارننگ الارم کی آواز آئی جسے سن کر کرشنن نے بریکس لگا دیں۔ کچھ کاروں میں خودکار بریکوں کا نظام موجود ہے جو کیمروں، سینسرزاور ریڈارز پر انحصار کرتا ہے لیکن جنرل موٹرز کا بنایا گیا وائر لیس سسٹم وسیع رینج پر مشتمل ہے۔ اس سے اسے موڑکے پیچھے یا رکاوٹوں کے پار موجود خطرات کا بھی پتہ چل جاتا ہے۔ جب دوسری کار نکل گئی تو کرشنن نے مجھے کہا کہ آپ نے دیکھا کہ میں دوسری گاڑی کو بالکل نہیں دیکھ سکتا تھا۔ یہ ٹیکنالوجی غیر واضح اور اندھی جگہوں پر تصادم کو روکنے کیلئے تیار کی گئی ہے۔

دونوں گاڑیوں کو وائرلیس ٹرانسمیٹر اور ریسیور سے لیس کیا گیا ہے جو قریبی گاڑیوں کو فی سیکنڈ دس بار پوزیشن، رفتار، سفر کی سمت، اور دیگر معلومات فراہم کرتی ہیں۔ کار میں لگے آلات کار سے کار تک مواصلات کیلئے وفاقی مواصلات کمیشن کی طرف مختص ایک فریکوئنسی استعمال کرتےہیں اور تمام ڈیٹا کو تحفظ دیا گیا ہے۔ ہماری گاڑی میں موجود کمپیوٹر نے متوقع تصادم کو نوٹ کیا اور خود کار طریقے سے خطرے کی گھنٹی بجنے لگی۔ گاڑی کا سیٹ اپ دوسری گاڑیوں سے معلومات لے کر اس خطرے سے بھی آگاہ کرسکتا ہے کہ اگلی کار والے نے بریک لگائی ہے یا سڑک پر آگے برف پڑی ہوئی ہے۔

قبل ازیں اس سال مشی گن یونیورسٹی کے نقل و حمل کے تحقیقی ادارے نے سرکاری فنڈ سے ایک منصوبے پر کام کیا جسے سیفٹی پائلٹ سٹڈی کا نام دیا گیا۔ اس کے تحت 3000وائرلیس گاڑیوں سے اعداد و شمار لئےگئے جن کے نتائج سے معلوم ہوا کہ گاڑیوں کے وائر لیس مواصلاتی نظام سے امریکہ کی سڑکوں پر سالانہ 500,000سے زائد حادثات اور 1000اموات کی روک تھام کی جاسکتی ہے۔ امریکہ کی نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ کاروں میں وائرلیس مواصلاتی نظام کی تنصیب کیلئے قوانین وضع کرے گی۔ تاہم جنرل موٹرز کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2017ء میں وائرلیس مواصلاتی نظام والی پہلی گاڑی فروخت کیلئے مارکیٹ میں لے آئے گی۔

مشی گن کے محققین ڈیٹرائٹ (Detroit) کے مغرب میں آباد شہر این آربر(Ann Arbor)میں ایک دوسرے نظام کی آزمائش کررہے ہیں۔ وہ سڑک کے کنارے ٹریفک لائیٹس میں ٹرانسمیٹرز کی تنصیب کر رہے ہیں۔ ایک ڈیمو کے دوران سڑک کے کنارے نصب شدہ وائرلیس مواصلاتی نظام نے ڈرائیور کو خبردار کیا کہ آگے ایک خطرناک موڑ آرہا ہے۔ ان نظاموں کا حقیقی فائدہ اس وقت ہو گا کہ جب اس ڈیٹا کو ٹریفک مینجمنٹ اور طویل المدت منصوبہ بندی کیلئے استعمال کیا جائے اور اس سےمواصلاتی نظام والی گاڑیاں اور بنیادی ڈھانچے سے ٹریفک کا ایک مربوط نظام پیدا ہو گا۔

تحریر: وِل نائیٹ (Will Knight)

Read in English

Authors
Top