Global Editions

سرمایہ دارانہ نظام کے مضر اثرات

کارپوریٹ شعبہ کی اچھی خاصی آمدن کے باوجود ، 2000ء معاشی بحران کے بعد ملازمتوں کی شرح گررہی ہے۔ اس دور میں سلیکون ویلی میں ہائی ٹیک ملازمتوں میں کمی کے بعد بہت سے لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ اس معاشی بحران کے پیچھے کچھ تو غلط ہے۔ پالیسی میکرز اور معیشت دان اس بحران کی توجیہات اور مسائل کے حل پیش کرنے میں الجھے ہوئے ہیں۔ یہی سرمایہ دارانہ نظام پر ازسرنو غور کرنے کا نقطہ آغاز ہے۔ بہت سے معیشت دانوں نے نئے معاشی نظام پر مضامین لکھے ہیں جن کا لُب لباب یہ ہے کہ ہمیں معاشی مسائل کے حل خصوصاً آلودہ گیسوں کے اخراج کیلئے مشترکہ اور قابل عمل حکمت عملیوں کی ضرورت ہے ۔ کم از کم تین دہائیوں سے یہ نظریہ جڑ پکڑتا رہا آزاد مارکیٹ معیشت میں لامحالہ مطلوبہ نتائج فراہم کرتی ہے اور یہ کہ آزاد مارکیٹ ہمیشہ بہتر ہوتی ہے۔ سیسکس یونیورسٹی (Sussex University)میں معاشیات کی پروفیسر ماریانا مازوکاٹو (Mariana Mazucato)اس نظریئے کی مخالفت میں دلائل دیتی ہیں وہ کہتی ہیں کہ ہمیں اس حقیقت کا اعتراف کرنا ہو گا کہ مارکیٹیں حکومت کی پالیسیوں کے سبب وجود میں آتی اور فروغ پاتی ہیں لہٰذا مارکیٹوں کے اختراعی یا تبدیلی کے عمل کو حکومتی سپورٹ حاصل ہونی چاہئے۔ یہاں تک تو ان کی رائے سے اختلاف نہیں ہے لیکن اس کی جو وضاحت انہوں نے آگے کی ہے وہ متنازعہ ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ نہ صرف اختراعی عمل میں حکومت کی حوصلہ افزائی معیشت کے فروغ اور ترقی کیلئے اہم عنصر ہےاس کے ساتھ اگر تو معیشت کا مقصد پیداوار میں اضافہ کرنا اور شفاف توانائی کے حصول کی طرف لے کر جانا ہے اس کے علاوہ ریاست کو اختراعی عمل کے دوران مسائل کے حل کیلئے رہنمائی بھی فراہم کرنی چاہئے۔ اختراعی عمل میں تحقیق کے دوران اچھے خاصے سرمائے، اداروں کے فروغ اور مضبوط صنعتی پالیسی کی ضرورت ہوتی ہے جس کیلئے حکومتی سرپرستی اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ معیشت دان کہتے ہیں کہ صنعتی پالیسی کا مطلب یہ ہے کہ مطلوبہ مقاصدحاصل کرنے کیلئے حکومت ارادتاًمعیشت کی رہنمائی کرے۔ فری مارکیٹ کے برعکس صنعتی پالیسی پر مبنی مارکیٹوں کے قیام کا مطالبہ کیا جارہا ہے ۔ صنعتی پالیسی کی بحالی کا مطالبہ سیاستدانوں میں کئی دہائیوں سے گردش کرتے ہوئے تصورکی نفی کرتا ہے۔ مازوکاٹو کا کہنا ہے کہ اس کیلئے انہیں سارے سسٹم کو تبدیل کرنا پڑے گا۔ یہ تصور کہ" حکومت کو صرف اسی وقت مداخلت کرنی چاہئے جب مارکیٹ شدید مالی بحران کا شکار ہو" کا مطلب یہ ہے کہ ہم مسائل کا مستقل علاج کرنے کی بجائے عارضی طور پر مرہم پٹی کردیتے ہیں۔ اس وقت یورپ اور امریکہ کی حکومتیں اپنی ذمہ داریوں سے بھاگ رہی ہیں۔

مازوکاٹو کا ایک اور متنازعہ دعویٰ یہ بھی ہے کہ نجی شعبہ بہت زیادہ مقبول عام ٹیکنالوجیز کاضرورت سے زیادہ کریڈٹ لیتا ہےجبکہ آئی فون میں ہونے والی اختراعات مثلاً ٹچ سکرین، سری، جی پی ایس ، انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کیلئے حکومت کی سرپرستی حاصل تھی۔ امکانی طور پر ان کی رائے بعید از قیاس ہے۔ مثلاً وہ نینو ٹیکنالوجی پر سرمایہ کاری کا کریڈٹ حکومت کو دیتی ہیں جبکہ کہ نینو ٹیکنالوجی پر سب سے پہلے آئی بی ایم نے اپنی زیورچ لیبارٹری میں تجربات شروع کئے ۔ تاہم پالیسی میکرز مازوکاٹو کی رائے کو اہمیت دے رہے ہیں۔ اسی لئے برطانوی وزیراعظم تھریسامے نے انہیں بلا کر معیشت پر گفتگو کی۔ چند ہفتوں قبل تھریسا مے نے بزنس، انرجی اینڈ انڈسٹریل سٹریٹجی پر نیا سرکاری شعبہ قائم کیا۔ یہ مارگریٹ تھیچر کے دور کے 30سال صنعتی پالیسی کی بحالی کااشارہ ہے۔ تاہم اس کے نتائج کا اندازہ لگانا قبل از وقت ہے۔

سفید ہاتھیوں کو پالنا

امریکہ اور برطانیہ میں صنعتی پالیسیوں پر بحث کا آغاز 1980ء میں ہوا۔ ریگن اور تھیچر نے حکومتی مداخلت کے بغیر فری مارکیٹ کی حمایت کی۔ اور کم از کم اگلی دو دہائیوں تک فری مارکیٹ کا تصور چھایا رہا۔ اس وقت صنعتی پالیسی کے حامی جانتے تھے کہ ان کی معاشی تاریخ اتارچڑھائو کا شکار رہی ہے۔ ہارورڈ میں جان ایف کنیڈی سکول کے معیشت دان دان راڈرک اپنی کتاب گرین انڈسٹریل پالیسیز میں رائے دیتے ہیں کہ صنعتی پالیسی کی بحالی کیلئے ایسی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے جس سے واضح تبدیلی محسوس ہو۔ تاہم حکومتوں کیلئے صنعتی پالیسیوں کو اپنانا ایک چیلنج سے کم نہیں ۔ راڈرک لکھتے ہیں کہ چین، جنوبی کوریا، جاپان اور دیگر ممالک نے صنعتی پالیسی کو اپنا رکھا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ مختلف مشکلات کے باوجود گرین ماحول کی حوصلہ افزائی کیلئے صنعتی پالیسیوں کا کردار ناگزیر ہے۔ کیونکہ آزاد مارکیٹ ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہوا اور فری مارکیٹ فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی شرح کو کم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ راڈرک کہتے ہیں کہ صنعتی پالیسیوں کے حوالے سے ہمارے ذہن میں پرانا تصور آجاتا ہے لیکن آج کا ماحول ماضی سے بہت مختلف ہے۔ حکومت اگر چند ایک منتخب شعبوں پر سرمایہ کاری کی بجائے زیادہ تر صنعتی شعبوں کیلئے کام کرے تو ماحولیاتی آلودگی کو کم کیا جاسکتا ہے۔ اس سے مارکیٹوں سے مطلوبہ اہداف حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ آئیڈیا یہ ہے کہ حکومت مختلف کاروباروں اور صنعتوں میں اشتراک عمل سے ترقی کیلئے قدم بڑھائے۔

مقامی صنعتوں پر سرمایہ کاری

سابق صدر اوباما کے دور کا اندازہ ان کے مقامی صنعتوں کو فروغ دینے اور معیشت میں بہتری لانے کیلئے 2009ء میں ریکوری اینڈ ری انویسٹمنٹ پیکج سے لگایا جاسکتا ہے جسے سٹیمولس بل بھی کہا جاتا ہے۔ جس کے تحت انہوں نےمقامی صنعتوں میں سرمایہ کاری کیلئے 787ارب ڈالر مختص کئے گئے اس میں 60ارب ڈالر توانائی کے منصوبوں اور تحقیق کیلئے تھے۔ اوباما کے دور کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس بل کے بُرے بھلے نتائج جو بھی تھے لیکن اس سے ہمیں کچھ معاشی سبق ملتے ہیں۔ اوباما نے سٹیمولس بل مخصوص سماجی اہداف کا حصول، گرین انرجی کی حوصلہ افزائی کرنے کیلئے متعارف کروایا تھا۔ اس وقت توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی اشد ضرورت تھی لیکن شروع میں توانائی پر کی گئی سرمایہ کاری نے مشکلات پیدا کیں کیونکہ اس سے مختلف مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی تھی جن میں مالیاتی خوشحالی کا حصول، ملازمتوں کی فراہمی اور گرین انرجی کا بنیادی ڈھانچہ قائم کرنا شامل ہے۔ ایک معروف معیشت دان نے اس پر رائے دی کہ یہ مقامی صنعت کو فروغ دینے کی پالیسی تھی۔ مسئلہ یہ تھا کہ ان تمام مقاصد کو بیک وقت حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ معیشت کو فروغ دینے کا مطلب یہ ہے کہ جتنی زیادہ اور جلد سرمایہ کاری کی جائے اتنی بہتر ہے۔ ہارورڈ بزنس سکول کے پروفیسر جوش لرنر کا کہنا ہے کہ توانائی کے شعبے میں متحرک سرمایہ کاری ایک قسم کی تباہی ہے۔ حکومت نہ صرف چند ایک صنعتوں میں سرمایہ کاری کرتی ہے ، ان لوگوں کو منتخب کرتی ہے جو پہلے ہی کامیاب ہوتی ہیں بلکہ ایسا وہ کسی قاعدے قانون کے بغیر کرتی ہے۔ تاہم لرنر شفاف انرجی کے حصول کیلئے حکومتی مداخلت سے مایوس نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ امکانی طور پر ایک بہت اچھا تیار کیا گیا کمپیوٹر پروگرام آپ کے بہت سے مسائل حل کردیتا ہے۔ لیکن یہ پروگرام اس لئے ناکام ہو جاتا ہے کہ اسے بنانے والے اکثر جدید ٹیکنالوجی اور کاروباری ماحول سے بےخبر ہوتے ہیں۔ اس پروگرام کے تحت لئے گئے فیصلے عموماً خوشگوار لگتے ہیں لیکن جلد ہی بے نتیجہ ثابت ہوتے ہیں۔

تحریر: ڈیوڈ روٹمین (David Rotman)

Read in English

Authors
Top