Global Editions

ان ٹیسٹس سے کینسر کے شکار افراد کی جان بچانے کے امکان میں اضافہ ہوگیا ہے

ہانگ کانگ سے تعلق رکھنے والے چند ڈاکٹروں نے ثابت کیا ہے کہ لیکوئیڈ بائیوپسی ٹیسٹس کے ذریعے کینسرکی زیادہ جلدی تشخیص ممکن ہے۔

ہانگ کانگ میں کینسر کی تشخیص کے لیے ایک نئے قسم کے ٹیسٹ کی پہلی فیلڈ سٹڈی سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس تکنیک سے لوگوں کی جان بچانا ممکن ہوسکتا ہے۔

اس تحقیق کے ذریعے، جس میں 20 ہزار مردوں کی ٹیسٹنگ کے بعد ان پر اگلے تین سال تک نظر رکھی گئی، یہ ثابت ہوا کہ نیزوفیرنگیل (nasopharyngeal) کینسر کی جلد تشخیص اور علاج ممکن ہیں۔ حلق میں پروان چڑھنے والا یہ کینسر جنونی چین میں بہت عام ہے۔

ان ٹیسٹس کو "لیکوئیڈ بائیوپسی" کا نام دیا گيا ہے، اور ان کی مدد سے کینسر کی علامات ظاہر ہونے سے پہلے ہی خون میں ٹیومر کی موجودگی کی نشاندہی ممکن ہے۔

نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن (New England Journal of Medicine) میں شائع ہونے والی یہ تحقیق چائنیز یونیورسٹی آف ہانگ کانگ (Chinese University of Hong Kong) میں ڈی این اے کے خون کے ٹیسٹس کو، جن میں حاملہ خواتن کے ٹیسٹس بھی شامل ہیں، آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کرنے والے ریسرچر ڈينس لو (Dennis Lo) کی سربراہی میں کی گئی۔

ان سکریننگ ٹیسٹس میں دلچسپی میں اضافہ ہونے لگا ہے، اور گریل (Grail) نامی ایک امریکی کمپنی اس کے لیے ایک ارب ڈالر سے زیادہ رقم جمع کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ اس سال، گریل کو لو کی سٹارٹ اپ کمپنی سیرینا (Cirina) کے ساتھ ضم کردیا گیا، جس کی وجہ سے اس کے لیے کئی اہم پیٹنٹس حاصل کرنا ممکن ہوگيا، اور یہ ٹیکنالوجی فروخت کرنا زیادہ آسان ہوگیا۔

لو کہتے ہیں کا ان ٹیسٹ اس وقت ہانگ کانگ میں فروخت نہیں کیا جارہا ہے۔ گریل نے اپنی فروخت کی ٹائم لائنز کے متعلق معلومات فراہم کرنے سے انکار کردیا۔

گریل کی شارلٹ آرنلڈ (Charlotte Arnold) کہتی ہیں "ہم ہانگ کانگ سے شروع کرتے ہوئے ان جگہوں میں جہاں یہ کینسر عام ہے، ایک سکریننگ ٹیسٹ تیار کرنا چاہتے ہیں۔ ہم اس وقت صرف منصوبہ بندی کے مرحلے میں ہیں، اور مزید تفصیلات بعد میں فراہم کی جائیں گی۔"

گریل کا ٹیسٹنگ کے میدان میں اس وقت بہت چرچا ہوا جب یہ بات سامنے آئی کہ گوگل کے نامور سافٹ ویئر ایگزیکٹو جیف ہیوبر (Jeff Huber) کو اس کمپنی کا سی ای او مقرر کیا گيا ہے۔ اس خبر کے بعد توقع کی گئی کہ گریل کی ٹیسٹنگ میں کمپیوٹرز اور بگ ڈيٹا نمایاں کردار ادا کرنے والے ہیں۔

تاہم، ایک سال بعد ہیوبر سی ای او کے عہدے سے دستبردار ہوگئے، لیکن وہ ابھی بھی بورڈ کے رکن ہیں۔

ہانگ سے جاری ہونے والی ایک نئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ نئی لیکوئیڈ بائیوپسی ٹیکنالوجی سمارٹ میڈیکل تحقیق کے لیے کس قدر اہم ثابت ہوگی۔

یہ تحقیق نیزوفیرنگیل کینسر پر مرکوز تھی، جس کا ایپسٹین بار (Epstein-Barr) وائرس کے انفیکشن کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے۔ اس قسم کے کینسر میں ہر ٹیومر سیل میں وائرس کے جینوم کی 50 نقول موجود ہیں، اور جب یہ سیلز مر جاتے ہیں تو وائرس اپنا جینیائی مواد خون میں خارج کردیتا ہے۔ اس کے بعد 30 ڈالر کے چھوٹے اور کم قیمت ٹیسٹ کی مدد سے اس کی نشاندہی ممکن ہوجاتی ہے۔

2013ء میں لو اور ہانگ کانگ سے تعلق رکھنے والے چند ڈاکٹروں نے ادھیڑ عمر کے چینی مردوں کی ٹیسٹنگ کرنا شروع کی جن میں کینسر کی کوئی علامات واضع نہیں تھيں۔

20 ہزار افراد پر ٹیسٹنگ کی گئی، جن میں سے 309، یعنی کہ . فیصد، کے نتائج مثبت رہے۔ اس کے بعد ان افراد کی اینڈوسکوپ اور ایم آر آئی کے ذریعے ٹیسٹنگ کی گئی، اور 34 افراد میں نیزوفیرنگیل کارسینوما سامنے آیا۔

اس کا مطلب ہے کہ جن افراد کے ٹیسٹس مثبت تھے، ان میں سے 10 فیصد کینسر کا شکار تھے، لیکن انھیں اس بات کا علم نہیں تھا۔

اس کے علاوہ، جن افراد کے ٹیسٹ کے نتائج منفی تھے، ان میں سے صرف ایک شخص آگے چل کر کینسر کا شکار ہوا، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کینسر پکڑے نہ جانے کا امکان بہت کم ہے۔

لو ایک ای میل میں بتاتے ہیں کہ انھیں یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ ایسے کینسرز کی، جن کی علامات عام طور پر جلدی سامنے نہیں آتی ہیں، نشاندہی کرنا اور کامیاب طور پر علاج کرنا ممکن ہورہا ہے۔ عام طور پر اس قسم کے کینسر کی تشخیص بہت دیر سے ہوتی ہے، اور پانچ سال بعد بچنے کا امکان صرف 60 فیصد رہ جاتا ہے۔

لو نے بظاہر تو یہ ثابت کیا ہے کہ یہ لیکوئیڈ بائیوپسی سکریننگ کا ٹیسٹ کارآمد ثابت ہوسکتا ہے، لیکن نیزوفیرنگیل کینسر کی نوعیت دوسرے کینسرز سے مختلف ہے۔ اس مرض میں ٹیومر کے سیلز میں وائرس کی موجودگی کی وجہ سے اس کی ٹیسٹنگ زیادہ کم قیمت اور زیادہ آسان ہوجاتی ہے۔

لو کے اندازے کے مطابق، ہر کینسر کے کیس کی تشخیص کے اخراجات 28،600 ڈالرز ہیں، جس کی سب سے بڑی وجہ ان افراد کی ٹیسٹنگ ہے جو آگے چل کر اس بیماری کا شکار نہیں ہوئے۔

گریل کو زیادہ مشکل چیلنج درپیش ہے۔ وہ اس وقت تیزرفتار سیکوینسرز استعمال کرنے والے ٹیسٹس پر کام کررہے ہیں جن کی مدد سے لوگوں کے خون میں ٹیوموز کی وجہ سے خارج ہونے والے جینیاتی مواد تلاش زیادہ آسان ہوسکتا ہے۔ ان میں سے بیشتر قسم کے کینسرز، جیسے کہ پھیپھڑوں اور چھاتی کے کینسرز، وائرس کی وجہ سے نہیں، بلکہ جینومز کی تبدیلیوں کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی تشخیص زیادہ مشکل اور مہنگی ثابت ہوتی ہے۔

گریل کے لیب میں ایک شخص کے خون کے معائنے کے اخراجات 1000 ڈالر تک ہوسکتے ہیں، جس کی وجہ سے اس وقت ان ٹیسٹس کو حکومتی پروگرامز میں شامل کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس کے برعکس ہانگ کانگ میں منعقد ہونے والے ٹیسٹس کی قیمت بہت کم ہے۔

لو کی تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ان افراد کی ٹیسٹنگ بہت ضروری ہے جن میں پہلے سے کینسر کا خطرہ زیادہ ہے۔

جس وقت گریل قائم کی گئی تھی، اس وقت ان کا مقصد ایک ہی ٹیسٹ کے ذریعے کئی کینسرز کی تشخیص بتایا گیا تھا۔ اس وقت یہ کمپنی چھاتی کے کینسر کے لیے خون کی سکریننگ کا ٹیسٹ تیار کرنے کے لئے 120،000 خواتین سے سیمپلز حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

تحریر: انٹونیو ریگالاڈو (Antonio Regalado)

Read in English

Authors
Top