Global Editions

کینیڈا اور فرانس مصنوعی ذہانت کے خطرات کے تخمینے کے لیے بین الاقوامی پینل قائم کررہے ہيں

ممکن ہے کہ دوسرے ممالک بھی جلد ہی مصنوعی ذہانت کے اثرات پر مباحثہ کرنے کے لیے ایک کونسل میں شامل ہو جائيں گے۔

چین اور امریکہ مصنوعی ذہانت میں بازی لے جانے کے لیے مقابلہ کررہے ہیں، لیکن کینیڈا اور فرانس اس ٹیکنالوجی پر اخلاقی مباحثے میں سبقت لے جارہے ہیں۔

کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو اور فرانس کے سیکریٹری آف سٹیٹ برائے ڈیجیٹل امور مونیر ماہجوبی نے مونٹریال میں منعقد ہونے والی G7 ممالک کی میٹنگ میں مصنوعی ذہانت کے اثرات پر مباحثے کے لیے مصنوعی ذہانت کے بین الاقوامی پینل کا اعلان کیا ہے۔

وزیراعظم کے دفتر سے جاری کردہ مینڈیٹ کے مطابق اس الحاق کے نتیجے میں مصنوعی ذہانت کے انجنیئرز اور دوسرے سائنسدانوں کو اس ٹیکنالوجی کے خطرات کا تخمینہ کرنے اور شرکت کرنے والے ممالک کے لیے مناسب پالیسیاں تیار کرنے کا موقع میسر ہوگا۔

اس کانفرنس کے اختتام پر ٹروڈو نے ایک خطاب کے دوران کہا “اگر کینیڈا کو مصنوعی ذہانت میں آگے بڑھنا ہے، تو ہمیں اس شعبے کے اخلاقی مسائل کو حل کرنے کے لیے بھی نمایاں کردار ادا کرنا ہوگا۔”

ماضی میں ٹروڈو اور فرانسیسی صدر ایمینول میکروں نے ایک اشتراک کا ذکر کیا تھا، لیکن اس وقت انہوں نے زیادہ تفصیلات نہيں فراہم کی تھیں۔

ٹروڈو کے خطاب کے بعد، ماہجوبی نے ایک انٹرویو کے دوران بتایا کہ فرانس اور کینیڈا دوسرے ممالک کو آمادہ کرنے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔

انہوں نے کہا “کئی ممالک اس پینل میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ میں ان کا نام نہیں لے سکتا، لیکن آپ کو اتنا بتاسکتا ہوں کہ ان میں G7 اور یورپی اتحاد دونوں کے ممبران شامل ہیں۔”

ماہجوبی نے یہ بھی بتایا کہ اس پینل میں مصنوعی ذہانت کے اخلاقیات اور خودکار اسلحے پر بات کی جائے گی، لیکن ساتھ ہی انہوں نے اعتراف کیا کہ اسلحے پر بین الاقوامی مباحثہ ہورہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ الحاق تمام ممالک، بشمول چین، کو ٹیکنالوجی کے معیارات پر کام کرنے کی دعوت دے گا۔ اس وقت چین کو نگرانی اور پولیس کے شعبہ جات میں مصنوعی ذہانت کی عملدرآمدگی کی وجہ سے خصوصی طور پر تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

ماہجوبی نے کہا “کیا ہمیں چین سے اس شعبے کے متعلق بات کرنی چاہیے۔ بالکل۔ مشترکہ اقدار تخلیق کرنا، انہیں واضح طور پر بیان کرنا، اور ہمارے اقدار کے زیادہ زوردار ہونے کی وجہ بیان کرنا، ہماری ذمہ داری ہے۔”

کینیڈا اور فرانس کے پاس امریکہ یا چین جتنے وسائل تو نہيں ہیں لیکن ان دونوں ممالک نے بھی مصنوعی ذہانت کی ترقی میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے سب سے کامیاب رجحان، ڈیپ لرننگ، میں فرانسیسی اور کینیڈین ریسرچ اداروں کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔

اس کے علاوہ، ان دونوں ممالک نے قومی مصنوعی ذہانت کے منصوبہ جات بھی جاری کیے ہيں۔

فرانس نے اس سال 1.85 ارب ڈالر کی مالیت کے منصوبے کا اعلان کیا، جبکہ کینیڈا نے پین کینیڈین آرٹیفیشل انٹیلی جینس سٹریٹیجی (Pan-Canadian Artificial Intelligence Strategy – CIFAR) میں 125 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے، جو ایڈمندٹن، مونٹریال اور ٹورنٹو میں نئے تحقیقی اداروں پر مرکوز ہے۔ اس کوشش کے نتیجے میں تحقیق کی نئی اسامیاں اور پراجیکٹس قائم ہوئے ہیں اور بڑی ٹیک کی کمپنیوں نے کینیڈا کے مصنوعی ذہانت کے مراکز کے اطراف ریسرچ کے مراکز قائم کرنا شروع کردیے ہیں۔

اسی تقریب کے دوران، ٹروڈو نے سکیل اے آئی (Scale AI) نامی پراجیکٹ کے لیے 23 کروڑ ڈالر کی رقم مختص کرنے کا بھی اعلان کیا ہے، جس کے ذریعے سپلائی چین لاجسٹکس میں مصنوعی ذہانت کو استعمال کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، فروری میں کینیڈين حکومت نے 2023ء تک ملک بھر میں مختلف ٹیکنالوجی استعمال کرنے والے سوپر کلسٹرز میں بھی 95 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کا بھی اعلان کیا تھا۔

اس وقت G7، یعنی دنیا کے سب سے مالی طور پر مضبوط ممالک کے گروپ، کی صدارت کینیڈا کے پاس ہے۔ اس تقریب میں کینیڈا کے وزیر انوویشن نودیپ بینز (Navdeep Bains) نے بتایا کہ ان میٹنگز میں مصنوعی ذہانت کی ملازمتوں پر اثرات کے بارے میں بھی بات کی گئی۔ انہوں نے کہا “ہم مصنوعی ذہانت کے بارے میں بہت پرامید ہیں، لیکن میرے خیال میں اس کے چیلنجز اور خدشات کا بھی اعتراف کرنے کی ضرورت ہے۔”

تحریر: ول نائٹ (Will Knight)

Read in English

Authors

*

Top