Global Editions

کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں عالمی مالی عدم مساوات کو نظرانداز نہيں کیا جاسکتا

کیا ہم واقعی اس جنگ میں ایک ساتھ کھڑے ہیں؟ یا کیا اس کا سارا ملبہ غرباء پر ہی گر رہا ہے؟

میں کینیڈا میں اپنے گھر میں بڑے آرام سے بیٹھ کر اکثر ٹوئٹر پر بے مقصد سکرال کرتی رہتی ہوں۔ مجھے دن بھر #stayhomeandsavelives اور #flattenthecurve جیسے ہیش ٹیگز نظر آتے ہیں جن کے ذریعے لوگوں کو دوسروں سے علیحدگی اختیار کرنے کے مشورے دیے جارہے ہيں۔ اس سب کا مقصد خود کو دوسروں سے دور رکھ کر COVID-19 کے باعث اموات اور دنیا بھر کے ہیلتھ کیئر سسٹمز پر بوجھ کم کرنا ہے۔

بحیثیت ایک بائیولاجسٹ اور ہیلتھ ٹیک پروفیشنل، میں کسی بھی وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے دوسروں سے علیحدگی اختیار کرنے کی حکمت عملی سے مکمل طور پر متفق ہوں۔ میرا اعتراض غیرمستحکم معشیت رکھنے والے غربت کے شکار ممالک میں لاک ڈاؤن کی پالیسیوں کے نفاذ سے ہے۔ ان ممالک میں کم آمدنی رکھنے والے افراد اگر کرونا وائرس سے بچنے میں کامیاب ہوجائيں تو بھوک اور افلاس کا شکار ضرور ہوجائيں گے۔

میری ایک دوست پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خواہ میں، جہاں لاک ڈاؤن ڈاؤن نافذ ہونے کے بعد لوگ بھوک سے مررہے ہیں، راشن کے عطیوں کا انتظام کررہی ہے۔ میں نے ایسے کچھ لوگوں کے بارے میں بھی سنا ہے جو اپنے گھر کا تھوڑا بہت بچا کچا سامان بیچ کر گزارہ کررہے ہيں۔ اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ سوال کھڑا ہوتا ہے کہ کیا چین (جہاں خام ملکی پیداوار فی کس 9,770.8 ڈالر ہے)، برطانیہ (خام ملکی پیداوار فی کس: 42,943.9 ڈالر)، اور امریکہ (خام ملکی پیداوار فی کس: 62,794.6 ڈالر) جیسے ممالک کی علیحدگی اور لاک ڈاؤن کی پالیسیاں بھوک اور غربت کی روک تھام کے لیے تحفظات فراہم کیےبغیر پاکستان (خام ملکی پیداوار فی کس: 1,482.4 ڈالر) جیسے کم آمدنی رکھنے والے ممالک میں نافذ کیے جاسکتی ہيں؟ کیا ہم واقعی اس جنگ میں ایک ساتھ کھڑے ہیں؟ یا کیا اس کا سارا ملبہ غرباء پر ہی گر رہا ہے؟

عام طور پر دوسروں سے علیحدگی اور لاک ڈاؤن کی پالیسیاں وبائی امراض سے وابستہ ماڈلز کی بنیاد پر تیار کی جاتی ہيں جن کا مقصد کرونا وائرس کے باعث اموات اور ہیلتھ کیئر سہولیات کی مانگ میں کمی لانا ہے۔ ان مطالعوں میں واضح طور پر لکھا ہوتا ہے کہ ان میں ”علیحدگی کے سماجی اور مالی نقصانات کو نظرانداز کیا گيا ہے، جو بہت زیادہ ہوں گے اور جن کا کم آمدنی رکھنے والے افراد پر سب سے زیادہ اثر ہوگا۔“ لیکن اس کے باوجود ان مشوروں کو بغیر سوچے سمجھے کم آمدنی رکھنے والے ممالک میں عملدرآمد کردیا جاتا ہے۔

ہم صرف انہيں عناصر کو تبدیل کرسکتے ہيں جن کی ہم پیمائش یا ماڈلنگ کرسکتے ہیں۔ اسی لیے پاکستان جیسے کم آمدنی رکھنے والے ممالک کے وبائی امراض کے نمایاں ماہرین کو ایسے ماڈلز تیار کرنے کی ضرورت ہے جن کے ذریعے مالی مشکلات کے باعث جانی نقصان جیسے اثرات واضح ہوسکیں تاکہ غریب ممالک کے لیے مناسب پالیسیاں تیار کی جاسکیں۔

پاکستان میں ایسے کئی گھرانے ہیں جہاں ایک ہی کمرے میں پانچ یا پانچ سے زيادہ افراد رہتے ہيں، جن میں اکثر بچے، بوڑھے، جوان سب ہی شامل ہوتے ہيں۔ اس صورت میں خود کو دوسروں سے الگ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مقامی معاشرتی اور مالی صورتحال کو نظر رکھتے ہوئے وبا کے پھیلاؤ کے دوسرے طریقے، جیسے کہ ماسکس اور دستانے کے استعمال، ڈھونڈنے کی ضرورت ہے۔ حال ہی میں نیچر میڈیسن (Nature Medicine) میں شائع ہونے والی ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کرونا وائرس کی علامات ظاہر کرنے والے افراد اپنے چہرے پر ماسکس پہن کر اس وبا کو پھیلنے سے روک سکتے ہيں۔

دوسری کڑوی سچائی یہ ہے کہ یہاں بیشتر افراد آمدنی کم ہونے کے باعث پیسے کی بچت نہيں کرپاتے۔ اسی لیے لاک ڈاؤن سے غربت میں اضافہ ہوگا اور شرح اموات COVID-19 کی وجہ سے نہيں بلکہ مالی مشکلات اور بھوک کے باعث بڑھے گی۔ یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ کرونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے کوئی بھی پالیسی تیار کرنے سے پہلے مقامی صورتحال کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ تمام ممالک کے لیے ایک جیسی پالیسیوں کو بلا سوچے سمجھے نہیں اپنایا جاسکتا۔

پاکستان کی چار فیصد آبادی کی یومیہ آمدنی دو ڈالر سے کم ہے اور  7.5 کروڑ افراد غربت کا شکار ہیں۔ یہ برطانیہ میں ماہانہ 15 پونڈ کی آمدنی رکھنے والی افراد کی کل تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ، پاکستان کی 22 کروڑ افراد کا 70 فیصد سے زیادہ حصہ غیررسمی شعبے میں کام کرتا ہے۔ امریکہ جیسے ممالک کی معیشت مصنوعات سے زیادہ سہولیات پر منحصر ہے اور اسی لیے بڑی بڑی کمپنیوں سے تعلق رکھنے والے ملازمین گھر بیٹھ کر بذریعہ انٹرنیٹ اپنا کام جاری رکھ سکتے ہيں۔ لیکن پاکستانی تنظیموں کے لیے ایسا ممکن نہيں ہے۔

پاکستان میں ایسے لاکھوں افراد ہیں جن کے پاس پورے مہینے کا کھانے پینے کا سامان جمع کرنے کے لیے رقم موجود نہيں ہے، اور سخت لاک ڈاؤن نافذ کرنے سے ان لوگوں کا بھوک اور غربت کے باعث موت کے گھاٹ اترنے کا بہت زیادہ خطرہ ہے۔ دوسرے ممالک میں جہاں آبادی کا بیشتر حصہ ضعیف العمر افراد پر مشتمل ہے، COVID-19 کے سبب شرح اموات ایک سے تین فیصد کے درمیان ہے۔ اگر ہم فرض کریں کہ پاکستان میں بھی یہی شرح رہے گی تو اس کا مطلب ہے کہ 40 لاکھ کے قریب افراد کی موت واقع ہوگی۔ اس کے برعکس اگر 7.5 کروڑ میں سے دس فیصد لوگ ذرائع معاش کی عدم دستیابی کے باعث دم توڑتے ہيں تو اس کا مطلب ہوگا 75 لاکھ افراد مارے جائيں گے۔ پاکستان کے لیے کیا بہتر رہے گا؟ میں اعتراف کرتی ہوں کہ پالیسی میکرز ایک ایسی صورتحال سے دوچار ہیں جہاں ایک طرف کھائی اور دوسری طرف کنواں ہے، لیکن میں انہيں کچھ دیر کے لیے مستحکم معیشتوں اور امیر ممالک کے لیے تیار کردہ ماڈلز کی بنیاد پر نکالی گئی شرح اموات کو بھول کر پاکستان کے غرباء کو لاحق پریشانیوں کے بارے میں سوچنے کی درخواست کرتی ہوں۔ ہمیں ایسی سمارٹ پالیسیوں کی ضرورت ہے جو وبا کے پھیلاؤ کی وجوہات کی مقامی معلومات اور زمینی حقائق کی بنیاد پر تیار کی جائيں تاکہ پاکستان کو غیرمطلوبہ نتائج سے بچایا جاسکے۔ اس کا ایک طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر ترقی پزیرممالک کے لیے مالی امداد حاصل کی جائے، ان کے بھاری بھرکم قرض معاف کروائے جائيں، اور ہیلتھ کیئر کے کارکنان کے تحفظ کے لیے ذاتی حفاظتی سامان اور ٹیسٹنگ کٹس کا انتظام کیا جائے۔

کرونا وائرس کی وبا کے مالی نقصانات صرف کم آمدنی رکھنے والے ممالک تک محدود نہيں ہيں۔ امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک اپنی معیشت بچانے کے لیے بڑی مقدار میں رقم خرچ کررہے ہيں۔ امریکہ نے حال ہی میں لاک ڈاؤن کے اثرات سے نمٹنے کے لیے 1.5 کھرب امریکی ڈالر کے پیکیج کا اعلان کیا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان کو صرف 1.4 ارب امریکی ڈالر کی ضرورت ہے، لیکن ہمارے سر پر پہلے سے چھ ارب ڈالر کا قرضہ بھی موجود ہے۔ یہ معیشت جو پہلے سے ہی غیرمستحکم ہے، قرض اور سود کے بوجھ تلے دب رہی ہے۔ موجودہ تخمینوں کے مطابق دنیا بھر کے 50 فیصد غرباء کے لیے 160 ارب امریکی ڈالر درکار ہوں گے، جو امریکہ کی معیشت کو بچانے کے لیے مختص کردہ رقم کا محض 10 فیصد حصہ ہے۔

کرونا وائرس کے باعث ایک طرف تو زیادہ آمدنی رکھنے والے ممالک کے لوگ متحد ہوگئے ہیں اور اٹلی، چین، امریکہ، برطانیہ اور فرانس میں اموات کی جدید ترین پیشگوئیوں کے علاوہ دوسروں کی حوصلہ افزائی اور معاونت کے لیے سوشل میڈیا پوسٹس کی بھرمار سامنے آرہی ہے۔ لیکن دوسری طرف پاکستان، بھارت اور بنگلادیش جیسے ممالک کے غریب ترین افراد پر اس وبا کے اثرات کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔ ترقی پذیر ممالک کے لیڈران کو ایسی پالیسیاں اپنانے پر مجبور کیا جارہا ہے جو ان کے ممالک کو کہیں زیادہ نقصان پہنچائيں گی۔ یعنی اس عالمی بحران کے دوران انسانیت کو مکمل طور پر نظرانداز کیا جارہا ہے۔

میرا خیال ہے کہ آنے والی نسلیں ہم سے یہ سوال نہيں کریں گی کہ ہم نے ”ملک“ کو بچانے کے لیے کیا کیا، بلکہ یہ پوچھیں گی کہ ہم نے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے افراد کی کس طرح مدد کی؟ عالمی سطح پر ہماری کامیابی کا پیمانہ COVID-19 کے سبب اموات نہيں بلکہ کل اموات ہونا چاہیے اور ہمیں ان افراد پر زیادہ توجہ دینی چاہیے جو گھر بیٹھ کر کام نہيں کرسکتے۔ ہمیں ترقی پذیر ممالک کو ان کے چیلنجز کے مطابق پالیسیاں اپنانے میں معاونت فراہم کرنی ہوگی اور اس کے لیے سنگاپور جیسے ممالک کی ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز اور پسماندہ ترین افراد کے تحفظ کے لیے اجتماعی ٹیسٹنگ سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔

اب عالمی برادری کا ایک ساتھ کھڑے ہو کر انسانیت کا مظاہرہ کرنے کا وقت آگیا ہے۔ شاید اب ہم ان مشکل وقتوں میں تمام انسانوں کے ساتھ یکساں سلوک کرنے میں کامیاب ہوجائيں گے۔


رابعہ ٹی خان نے ایم بی اے ممکل کرنے کے بعد میک گل یونیورسٹی سے امیونو جینیٹکس میں اپنی پی ایچ ڈی مکمل کیا ہے اور اب وہ کلینیکل مصنوعی ذہانت کی کمپنی سینسائن ہیلتھ (Sensyne Health) کے ڈسکوری سائنسز ڈیویژن کی مینیجنگ ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز ہیں۔ ماضی میں رابعہ BenevolentAI اور میٹا (جسے بعد میں چین زکربرگ بائیوہب نے خرید لیا تھا) میں بھی سینیئر عہدوں پر فائز تھیں۔ انہیں لائف سائنسز کی صنعت میں لیڈر تصور کیا جاتا ہے اور انہيں 2019ء میں بائیوبزنس کے 50 Movers and Shakers کی فہرست میں شامل کیا جاچکا ہے۔

تحریر: رابعہ ٹی خان (Rabia T. Khan)

مترجم: صوفیہ ضمیر

Read in English

Authors

*

Top