Global Editions

کیا موبائل پیسہ نئی مارکیٹوں میں اپنے قدم جماسکتا ہے؟

مشرقی افریقہ میں کامیابی کے بعد موبائل فون والٹ ایم پیسہ (M-Pesa) کو جنوبی افریقہ میں کچھ مشکلات کا سامنا ہوا۔

2007ء میں موبائل فون کمپنی ووڈافون (Vodafone) اور مقامی پارٹنرز کی شراکت کے ساتھ قائم ہونے والی یہ کمپنی مشرقی افریقہ پر تو چھا گئی۔ آج 1.8 کروڑ سے زیادہ صارفین، جن کی اکثریت کینیا اور تنزانیہ میں ہے، اس موبائل فون والٹ کے ذریعے ہر ماہ کئی ارب ڈالر ٹرانسفر کرتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی ایسے علاقوں میں جہاں بینک اور کریڈٹ کارڈ کم ہیں، اور جہاں طویل عرصے سے کیش کا ہی رواج چلتا آرہا ہے، رقم کی ادائيگی اور ٹرانسفر کا تیز تر، سستا اور زیادہ محفوظ طریقہ کار فراہم کرتی ہے۔

اس سہولت کے ذریعے موبائل فون کے مالکان اپنے موبائل ڈیوائس کوایک بینک کے کارڈ کی طرح استعمال کرسکتے ہیں۔ ایم پیسہ کے ایجنٹ کی مدد سے خود کو رجسٹر کرنے کے بعد، صارفین اپنے فون میں رقم اپ لوڈ کرسکتے ہیں۔ اس رقم کو سودا سلف خریدنے سے لے کر بجلی کا بل ادا کرنے تک، کئی ٹرانزیکشنز کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

کینیا کے مرکزی بینک کے مطابق کینیا میں ایم پیسہ کے ٹرانزیکشنز کی تعداد 2014ء کی پہلی ششماہی میں12 ارب ڈالر تھی، جو 2013ء کی مذکورہ مدت سے 30 فیصد زیادہ تھی۔ تنزانیہ میں، جو کینیا سے نصف آبادی کا ملک ہے، ایم پیسہ سے ماہانہ820 ارب ڈالر کی ٹرانزیکشنز ہوتی ہیں۔

اس کامیابی کے باوجود، ایم پیسہ کو اس ٹیکنالوجی کو دوسری مارکیٹس میں لے جانے میں کافی مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ یہ سہولت 10 ممالک میں دستیاب ہے لیکن ایم پیسہ کے دنیا بھر میں 186,000 آتھرائزڈ ایجنٹس میں سے ایک لاکھ سے زائد ایجنٹس کینیا ہی میں ہیں۔

ایم پیسہ دوسرے ملکوں میں کس طرح اپنے قدم جماسکتا ہے، اس کی بہترین مثال 2014ء میں اس کی جنوبی افریقہ میں ری لانچ سے ملتی ہے۔ جب ایم پیسہ کو 2010ء میں جنوبی افریقہ میں متعارف کروایا گیا تھا، اس وقت وہ زیادہ کامیاب نہ ہوسکا، اور متوقع ایک کروڑکے بجائے صرف ایک لاکھ صارفین ہی سائن اپ ہوئے۔

جنوبی افریقہ میں ری لانچ کے ذمہ دار ووڈاکام (Vodacom) کے موبائل کامرس کے مینیجننگ ایگزیکٹو ہرمن سنگھ (Herman Singh) کے مطابق 2010ءمیں متعارف کیا جانے والا ورژن کینیا میں زیراستعمال ورژن کی ایک ہوبہو نقل تھا، جو جنوبی افریقی صارفین کے لیے قابل قبول ثابت نہیں ہوسکا۔ (ووڈافون ووڈاکام کے 65 فیصد مالک ہیں)۔ اس ناکامی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ صارفین کو اپ لوڈ اور ڈاؤن لوڈ کرنے میں مدد فراہم کرنے کے لیے ایجنٹس بھی کافی نہیں تھے۔

اب ایم پیسہ نے ایجنٹ کی رجسٹریشن کا طریقہ زیادہ آسان بنادیا ہے اور اب جنوبی افریقہ میں ایجنٹس کی تعداد 800 سے بڑھ کر 8,000 ہوگئی ہے۔ صارفین اب اپنے موبائل والٹ تمام دکانوں پر استعمال کرسکتے ہیں۔ موبائل فون کے بیلینس کے لیے استعمال ہونے والے پری پیڈ کریڈٹ کے سسٹم کی طرح کا واؤچر سسٹم بھی متعارف کروادیا گیا ہے۔

ووڈاکام کو یقین ہے کہ ایم پیسہ اپنی کم قیمتوں کی وجہ سے صارفین کا دل جیتنے میں کامیاب ہوجائے گا۔ اسے استعمال کرنے کی کوئی ماہانہ اکاؤنٹ فیس نہیں ہے اور نہ ہی کیش ڈپازٹ اور بینک اکاؤنٹس سے الیکٹرانک ٹرانسفر جیسی کئی سہولیات پر کسی بھی قسم کے کوئی چارجز ہیں۔

سنگھ کہتے ہیں کہ ری لانچ کے بعد ابتدائی چار ماہ میں صارفین کی تعداد ایک لاکھ سے بڑھ کر ساڑھے چھ لاکھ ہوگئی ہے، اوران چار ماہ میں پراسیس ہونے والی ٹرانزیکشنز کی تعداد ابتدائی چار سالوں کی تعداد سے بھی زیادہ ہے۔

تحریر: مریم مناک (Miriam Mannak)

Read in English

Authors
Top