Global Editions

پاکستان میں بٹ کوائن کے بطور کرنسی استعمال کےمضمرات

اب جبکہ دنیا انٹرنیٹ ٹیکنالوجی، فور جی ٹیکنالوجی میں ترقی اور بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیوں کی تیاری کی سمت میں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے تو ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہونے والی ترقی سے مالیاتی شعبہ بھی ثمرات وصول کر رہا ہے۔ فن ٹیک مالیاتی شعبے میں ہونے والی ترقی کےلئے اہم حیثیت کا حامل ہے جس سے اس وقت دنیا میں تقریباً ہر مالیاتی ادارہ فائدہ اٹھانے میں کوشاں ہے۔ مالیاتی شعبے میں پائے جانیوالے ایک عالمگیر رحجان بٹ کوائن (BitCoins) کے بارے میں آپ کو یقیناً آگاہی ہو گی تاہم ہم میں سے اکثر ایسے ہونگے جنہوں نے بٹ کوائن کا نام تو ضرور سنا ہو گا تاہم وہ اس سے لاعلم ہو نگے کہ بٹ کوائن ہے کیا؟ بٹ کوائن کو کس طرح استعمال کیا جاتا ہے؟ کیا پاکستان میں بٹ کوائن کو استعمال کیا جا سکتا ہے؟ اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں بٹ کوائنز کو مستقبل کی کرنسی قرار دیا جا سکتا ہے؟

بٹ کوائن کو ایک ڈیجیٹل اثاثہ کہا جا سکتا ہے اور اس کو ایک یا ایک سے زائد کمپیوٹر پروگرامرز نے 2009 ءمیں تیار کیا تھا اس پروگرام کے خالقین کو ستوشی ناکاموٹو (Satoshi Nakamoto) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ بٹ کوائن مالیاتی نظام کو چلانے کے لئے پی ٹو پی (P2P) یعنی لئیرڈ کمیونیکیشنز نیٹ ورک میں کوئی ایک ڈیوائس جو ایک ہی پروٹوکول لیول پر آپریٹ کرتی ہے کے ذریعے آپریٹ کیا جاتا ہے اور ڈیجیٹل لین دین کا باقاعدہ ڈیجیٹل لیجر مرتب کیا جاتا ہے۔ اس طرح کی ٹرانزیکشنز کے ذریعے مڈل مین کے کردار کو ختم کیا گیا ہے۔ اسی طرح ایک بٹ کوائن کی ایک مالیت مقرر کی جاتی ہے اور تمام بٹ کوائنز کی ٹرانزیکشنز کا لیجر مرتب کیا جاتا ہے جسے بلاک چین کا نام دیا گیا ہے جس کی وجہ سے ان تمام ٹرانزیکشنز کو قانونی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔
پاکستان میں بٹ کوائنز کے ایک ٹریڈر حسن صدیقی کا کہنا ہے کہ بٹ کوائنز کے حوالے سے پہلی غلط فہمی یہ ہے کہ یہ کوئی کرنسی یا ورچوئل کرنسی ہے جو بالکل درست نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہم نے بٹ کوائنز کو گولڈ یعنی سونے کے ساتھ درجہ بندی کی ہے لہذا یہ کہنا کہ بٹ کوائنز کوئی ورچوئل کرنسی ہے درست نہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے اور اس کے ذریعے خریدوفروخت ممکن ہے۔ بٹ؁ کوائن ایک نیا نظریہ ہے اور یہ صرف کرنسی، جنس یا ٹیکنالوجی نہیں بلکہ یہ ان تنیوں کا مجموعہ ہے۔

حسن صدیقی کا کہنا تھا کہ اگر آپ غور کریں تو بٹ کوائن سونے کی طرح ایک جنس ہے۔ یہ ایک ایسی کرنسی ہے جو مرکزی بنک یا فیڈرل ریزرو کے بغیر کام کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سونا اشیاء اور خدمات کے حصول کے لئے ایک ذریعے کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہےتاہم یہ ضروری نہیں ہے کہ آپ سونے کے سکوں کے ذریعے اب ہفتے بھر کا راشن خریدنے نکل پڑیں۔

بٹ کوائنز کو اگرچہ سونے کے سکوں کی مانند تصور کیا جا سکتا ہے تاہم بٹ کوائنز کو طاقتور کمپیوٹرز کے ذریعے ایک پیچیدہ الگورتھم کے ذریعے تیار کیا جاتا ہے۔ ان بٹ کوائنز کو ایک مستقل رفتار سے تیار کیا جاتا ہے اور اس تمام عمل کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ یہ بٹ کوائنز افراط زر کے اثرات سے محفوظ رہتے ہیں۔ اس حوالے سے ستوشی ناکاموٹو کی جانب سے وضع کردہ مانیٹری پالیسی کے تحت مجموعی طور پر بٹ کوائنز کی تعداد اکیس ملین تک محدود رکھی جا ئے گی۔ اس وقت ایک اندازے کے مطابق 12.5 ملین بٹ کوائنز فی بلاک سال 2020 تک ہر دس منٹ تک تیار کئے جا سکتے ہیں۔ تاہم یہ تعداد بتدریج سال 2110 سے 2140 تک بڑھتی جائے گی اور اس وقت تک یہ اکیس ملین کی حد تک پہنچ جائے گی۔

حسن صدیقی کے مطابق بٹ کوانز کو انٹرنیٹ کے ذریعے رمز نویسی کے شاہکار فن کے ذریعے بروئے کار لایا جاتا ہے اور اس کے ذریعے ہونے والی لین دین نہ صرف محفوظ بلکہ ہر لحاظ سے قانونی ہوتی ہیں۔ اگرچہ بٹ کوائنز ایک ایسی کرنسی ہے جو سرحدوں کی محتاج نہیں اور اس کے ساتھ ساتھ چھوٹی بڑی ادائیگیوں کے لئے ایک آسان حل بھی ہے۔

حسن صدیقی کے مطابق پاکستان کے فری لانسرز کے لئے بٹ کوائنز ایک بہترین انتخاب ہے اور ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت دنیا میں فری لانسرز ڈاٹ کام کو استعمال کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے۔ یہ دنیا کی بڑی ویب سائٹ ہے جس کے استعمال کنندگان کی تعداد بیس ملین کے لگ بھگ ہے۔ یہ ویب سائٹ دنیا بھر میں ایک ارب ڈالر سے زائد کے اکاؤنٹس سے ڈیل کرتی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان میں فری لانسنگ کا مستقبل کتنا روشن ہے۔

اس ویب سائٹ کے ذریعے کاروباری لین دین کرنے والوں کو فیس ادا کرنا پڑتی ہے اور یہ فیس رقم بھیجنے والوں کے ساتھ ساتھ رقم وصول کرنے والوں سے بھی وصول کی جاتی ہے۔ اگر اس کا پاکستان میں موجود روایتی طریقوں کے ساتھ تقابل کیا جائے تو مختلف مدات میں ادا کی جانیوالی فیس اس سے کہیں زیادہ ہے۔

حسن صدیقی کا دعوی ہے کہ بٹ کوائنز کے استعمال سے اس ذریعے کو استعمال کرنے سے ایک جانب تو کم رقم ادا کر کے زیادہ رقم وصول کی جا سکتی ہے اور اس طرح صارف کی آمدنی میں دو سے پانچ فیصد اضافہ بھی ممکن ہے۔

سال 2013ء میں بڑی ویب سائٹس اور ادارے جن میں ورلڈ پریس، ٹائیگر ڈائریکٹ، اوور سٹٓاک ڈاٹ کام، ایکسپیڈیا، نیوایگ، ڈیل اور مائیکروسافٹ نے بھی بٹ کوائنز کے ذریعے بھیجی جانیوالی رقوم کو قبول کرنا شروع کر دیا ہے۔ برطانیہ کا بارکلے بنک وہ پہلا بنک تھا جس نے بٹ کوائنز کو قبول کرنا شروع کیا اس کے ساتھ ساتھ بارکلے بنک نے صارفین کو بٹ کوائنز کے ذریعے چندے اور عطیات بھجوانے کی بھی اجازت دی۔

تاہم یہ سوال ابھی تک اپنی جگہ برقرار ہے کہ کیا پاکستان میں لوگ اپنی کمائی کو بٹ کوائنز کے ذریعے خرچ کر سکتے ہیں؟
اس وقت دنیا بھر کے تمام مرچنٹس ریٹئیل لین دین کے لئے بٹ کوائنز کے استعمال کو قبول نہیں کرتے پاکستان میں صورتحال اس سے مختلف نہیں۔ چین نے سال 2009ء میں ای منی کے ذریعے خریدوفروخت پر پابندی عائد کر دی تھی۔ اس کے علاوہ دنیا کے کئی ممالک جن میں بنگلہ دیش، ایکواڈور اور بولیویا شامل ہیں وہاں بٹ کوائنز کو ابھی تک قانونی حیثیت حاصل نہیں ہے۔

اس وقت ایک بٹ کوائن کی مالیت 639 ڈالرز ہے۔ ایک ہفتے بعد اس کی مالیت چارسو ڈالر بھی ہو سکتی ہے اور ایک ہزار ڈالر تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ اسی وجہ سے بٹ کوائنز کی قوت خرید تیزی سے بڑھتی یا کم ہوتی رہتی ہے اور یہ امید کی جا سکتی ہے کہ جیسے جیسے اس کرنسی کو عالمی قبولیت حاصل ہوتی جائے گی اس کرنسی کی قدر میں بھی استحکام آتا جائیگا۔ تاہم مستقبل قریب میں ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔

بٹ کوائنز کے استعمال میں ایک اور قباحت جو اس کی عالمگیر قبولیت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بھی ہے وہ اس کرنسی کی غلط مقاصد کے لئے استعمال بھی ہے۔ اس کرنسی کو منی لانڈرنگ، اسلحہ اور منشیات کی خریدوفروخت کے لئے بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ بٹ کوائنز کے استعمال میں یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ اب چونکہ بٹ کوائنز ایک ایسی کرنسی ہے جو کسی ملک کی سرحدوں کی محتاج نہیں لہذا کسی ملک کا اس پر کنٹرول نہیں ہے اس کے غلط استعمال کو روکنے کے لئے کوئی سیف گارڈ میسر نہیں اور اس کے ذریعے ہونے والے مالیاتی لین دین کو مکمل طور پر شفاف قرار نہیں دیا جا سکتا۔
بٹ کوائنز کو آن لائن سٹور کرنے کے ساتھ ساتھ آن لائن والٹ میں بھی محفوظ رکھا جا سکتا ہے تاہم اس طریقہ کو محفوظ قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ اگر کسی تیسرے فرد کی آپکی اکاؤنٹ تک رسائی ہو گئی تو وہ بٹ کوائنز تک بھی رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ اگرچہ بٹ کوائن مشنیوں کے ذریعے بھی دستیاب ہیں تاہم یہ عام اے ٹی ایم مشین کی مانند نہیں ہیں اور ان مخصوص مشینوں کے ذریعے بٹ کوائن حاصل کرنے کے لئے بھاری فیس ادا کرنا پڑتی ہے۔

سٹیٹ بنک آف پاکستان پنجاب کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد اشرف کا کہنا ہے کہ مستقبل قریب میں پاکستان کے اندر بٹ کوائنز سمیت دیگر کرپٹو کرنسیز کے ذریعے لین دین کو قانونی قرار دینا زیر غور نہیں ہے۔ سابق گورنر سٹیٹ بنک آف پاکستان شاہد حفیظ کاردار کا کہنا تھا کہ پاکستان اس ضمن میں پہلے ان ممالک کے تجربات سے استفادہ کریگا جہاں اس طرح کی کرنسیز کے ذریعے لین دین ہو رہا ہے اور پھر کوئی بھی فیصلہ کیا جائیگا۔

اس وقت دنیا نئی ٹیکنالوجیز کو اپنا رہی ہے اور نئی ٹیکنالوجیز سے مالیاتی شعبہ بھی مستفید ہو رہا ہے۔ فنجا جیسی کمپنیاں فن ٹیک کی مثال ہیں۔ فنجا اس وقت پاکستان میں کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس وقت موبائل بینکنگ اور ڈیجیٹل والٹ دنیا بھر میں مقبول ہیں اور اب گوگل اور ایپل نے بھی ایسی ایپس تیار کر لی ہیں جو مالیاتی مقاصد لئے استعمال ہوتی ہیں۔ مالیاتی نظام میں ہونے والی ترقی کی روشنی میں پاکستان میں بٹ کوائن کا مستقبل دیکھا جا سکتا ہے۔

تحریر: ماہ رخ سرور (Mahrukh Sarwar)

Read in English

Authors

*

Top