Global Editions

کیا سی آر آئی ایس پی آر سے ہر بیماری کا علاج ممکن ہے؟

سی آر آئی ایس پی آر ٹیکنالوجی اب بہت سی بیماریوں کے علاج کیلئے استعمال ہو رہی ہے۔ ماہرین کے سامنے ایک بڑا سوال یہ بھی ہے کہ کیا یہ ٹیکنالوجی مسکولر ڈسٹروفی کی بیماری کے علاج میں مدد کرے گی۔ مسکولر ڈسٹروفی ایک ایسی بیماری ہے جس میں آپ کے پٹھے کمزور ہو جاتے ہیں اور جسم بہت جلد موٹاپے کا شکار ہو جاتا ہے۔ مسکولر ڈسٹروفی کے مرض میں پہلےجسم موٹاپے کا شکار ہوتا ہے۔ پھر انسان وینٹی لیٹر پر چلا جاتا ہے اور آہستہ آہستہ اس کا دل بند ہو جاتا ہے۔ ڈسٹروفین کا مرض ایک جین کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے جس سے نہ صرف انسانی جینوم میں بہت زیادہ کام ہے بلکہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے بہت بڑا ہے۔ اس کے 79 اجزاء ہوتے ہیں جنہیں ایگزیون(Exon)کہا جاتا ہے۔ ہر جزو میں پروٹین کیلئے ایک ہدایت موجود ہوتی ہے۔ امریکہ میں بہت سے افراد اور بچے اس مرض کا شکار ہیں۔ 24 سالہ بین ڈیوپری (Ben Dupree)ان میں سے ایک ہے ۔ اسے یہ مرض 15سال پہلے لاحق ہوا تھا جب اسے سیڑھیاں چڑھنے میں مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔ڈاکٹرز آس کو یہ تو بتا دیتے ہیں کہ بیماری آخری مرحلے میں ہے لیکن اس کے بارے میں زیادہ نہیں بتاتے۔

دراصل ڈیوپری کا مسئلہ مصنوعی ایگزیون ہے ۔ اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے آپ کوئی چیز پکا رہے ہوں تو غلطی سے یہ ہدایت آجائے کہ "پکانے سے رک جاؤ" ۔ اس سائز کے جینز کے غلط کام کرنے کی ہزاروں وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ڈیوپری کے جین کی بغاوت ڈی این اے کے حرف ٹی(T)سے متعلق ہے۔ ڈی این اے اسے جی(G)پڑھتا ہے۔

یونیورسٹی آف ٹیکساس ساؤتھ ویسٹرن میڈیکل سینٹر کے سائنسدان ایرک اوسلون (Eric Oslon)نے ڈیوپری سے رابطہ کرکے اسے سی آر آئی ایس پی آر ٹیکنالوجی سے متعلق بتایا اور علاج کیلئے اس کے خون کا سیمپل لینے کی اجازت طلب کی۔ چند ماہ بعد اوسلون نے ڈیوپری کو اس کے نتائج دکھائے۔ سی آر آئی ایس پی آر منتخب مقام سے ڈی این اے کو کاٹ کر اس کے متاثرہ حصے کی مرمت کرتی ہے۔ ہسپتال میں ڈاکٹرز کی ٹیم نے ڈیوپری کے سیل میں تبدیلی کی۔ اس میں اضافی ایگزیون کو نکال دیا۔ یہ عمل غیرضروری جینیاتی ہدایات کا باعث بنتا ہے۔

سی آر آئی ایس پی آر کا اصل ہدف ڈیوپری کی طرح کے لوگوں میں درد اور مرض کی وجہ سے درپیش مشکلات کو دور کرنا ہے۔ سائنسدانوں نے سی آر آئی ایس پی آر ٹیکنالوجی سے کینسر، ایڈز، ہیپا ٹائٹس کے علاوہ اندھے پن سے بصارت واپس لانے کے ابتدائی تجربات بھی کئے ہیں۔ ان بیماریوں کا علاج اب زیادہ دور کی بات نہیں ہے۔ بوسٹن میں تین نئی کمپنیوں نے چند بڑی ادویات کی کمپنیوں مثلاً بائر اور نوارٹس سے مل کر ان بیماریوں پر سی آر آئی ایس پی آر کے مزید تجربات کیلئے ایک ارب ڈالر جمع کئے ہیں۔ اوسلون کہتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی بھی یہ اندازہ نہیں کرسکتا کہ سی آر آئی ایس پی آر ٹیکنالوجی کا اختتام کہاں پر ہو گا۔ ڈسٹروفی کا مرض ایک دوسری انتہا پر ہے، قریباً 4000 لڑکوں میں سے ایک اس مرض سے متاثر ہوتا ہے جبکہ لڑکیاں کم ہی اس مرض میں مبتلا ہوتی ہیں۔ صرف ایک بار متاثرہ شخص کے ڈی این اے میں تبدیلی کرکے بیماریوں کو ہمیشہ کیلئے ختم کیا جاسکتا ہے۔ اب 30سال پہلے کی روائتی جین تھراپی بعض بیماریوں کیلئے کارآمد نہیں ہے۔ مثلاً ڈسٹروفین بیماری کا جین وائرس کیلئے بہت بڑا ہےجبکہ سی آر آئی ایس پی آر ٹیکنالوجی کی مدد سے ڈی این اے سے خارج ہونے والی اضافی پروٹین کو روکا جاسکتا ہے۔ 30 سال پہلے کی تحقیق کے بعد سائنسدان ابھی یہ سیکھ رہے ہیں کہ وائرس کو جینیاتی ہدایات تبدیل کرنے کیلئے کیسے کسی شخص کے سیل میں داخل کرنا ہے۔ اوسلون کہتے ہیں کہ ڈسٹروفی کے مرض میں سی آر آئی ایس پی آر ٹیکنالوجی ہی بہترین ہے۔ قبل ازیں سی آر آئی ایس پی آر ٹیکنالوجی کا استعمال تجربے کے طور پر مسکولر ڈسٹروفی کے مرض میں مبتلا چوہے کیا جاچکا ہے۔ اس سال اسے بندروں پر آزمایا جائے گا۔ اوسلون کہتے ہیں کہ سی آر آئی ایس پی آر سے مسکولر ڈسٹروفی والے انسانوں کا علاج دوسال میں شروع ہو جائے گا۔

بیماری کو ختم کرنا

بوسٹن میں قائم کمپنی انٹیلیا (Intellia)، ایڈیٹاس اور سی آر آئی ایس پی آر تھراپیوٹکس نے ہر جینیاتی بیماری کے علاج میں سی آر آئی ایس پی آر ٹیکنالوجی استعمال کرنے کیلئے 300ملین ڈالر اکٹھے کئے ہیں۔ اس کے ساتھ یہ خوف بھی ہے کہ اگرچہ سی آر آئی ایس پی آر ٹیکنالوجی سادہ سی ہے لیکن انسانوں پر اس کی آزمائش کے نتائج کچھ بھی نکل سکتے ہیں۔ سائنسدان ڈی این اے کو کاٹنے میں مہارت حاصل کرچکے ہیں اس لئے ان کے ہاتھ جین کو ڈیلیٹ کرنے کی چابی ہاتھ آچکی ہے۔ اس کے علاوہ روائتی جین تھراپی کی سہولت بھی موجود ہے لیکن سائنسدان جین کے حروف میں آسانی سے ترمیم نہیں کرسکتے ۔ ٹیکنالوجی کا یہ پہلو ابھی تشنہ ہے۔ اس وقت سی آر آئی ایس پی آر ٹیکنالوجی سے مسکولر ڈسٹروفی سمیت مختلف بیماریوں میں متاثرہ جین کو مکمل طور پر یا اس کے ایک حصے کو ختم کیا جارہاہے۔ امریکہ میں دوسری سب سے زیادہ مرض سِکل سیل (Sickle Cell)کا ہے جس میں امریکی افریقن زیادہ مبتلا ہیں۔ طبی تحقیق کاروں نے اس بیماری پر ماضی میں بہت کم توجہ دی۔ اب ڈی این اے کٹنگ سے اس بیماری کا علاج ممکن ہے۔ چلڈرن ریسرچ ہسپتال ممفس کے ہماٹولوجسٹ مچل ویس سکل سیل کے مریضوں کا علاج کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہر جین ایڈیٹنگ کمپنی ان سے رابطہ کررہی ہے۔ جین ایڈیٹنگ کمپنیوں کی اس میں دلچسپی غیرمعمولی ہے۔ انٹیلیا سی آر آئی ایس پی آر کے ذریعے جگر کی بیماریوں کا علاج کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ اوسلون کہتے ہیں کہ تھیوری کے لحاظ سے 80فیصد ڈسٹروفی کے مریض صحتیاب ہو سکتے ہیں۔ سائنسدان اب اس پر تحقیق کررہے ہیں کہ کیا تمام جسم کے مسل سیلز کو ایڈٹ کرنا ممکن ہے۔ اوسلون کہتے ہیں کہ تمام جسم کے مسلز سیلز کو ایڈٹ کرنے کی سوچ ایک اچھی اور خوش کن ہے۔ جسم کے 40فیصد مسلز دل، پٹھوں اور کولہے پر ہوتے ہیں جن میں اربوں کھربوں سیلز ہوتے ہیں۔ اوسلون کا خیال ہے کہ اگر وہ 15فیصد بھی مسلز کو ایڈٹ کرلیتے ہیں تو وہ بیماری کی رفتار کو کم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ مسلز ڈسٹروفی کے علاج کیلئے سی آر آئی ایس پی آر کے استعمال پر اوسلون کی ایڈیٹاس کمپنی سے سی آر آئی ایس پی آر کے سلسلے میں بات چل رہی ہے۔ جبکہ گوگل اور بل گیٹس اس میں سرمایہ کاری کررہے ہیں۔ ایڈیٹاس ایسی کمپنی ہے جس کی سی آر آئی ایس پی آر تکنیک مختلف بیماریوں کے علاج میں کام آ سکتی ہے۔

انفرادی علاج

اوسلون کو یقین ہے کہ ڈیوپری کی بیماری کا علاج سی آر آئی ایس پی آر سے کیا جاسکتا ہے۔ اب ان کی سی آر ایس پی آر کی تکنیک جینوم کے کسی بھی حصے کو ہدف بنا سکتی ہے۔ میں ٹورانٹو ہسپتال میں ڈیوپری کے ڈاکٹر پیڈیاٹریشن رونالڈ کوہن سے ملا۔ انہیں بھی یقین ہے کہ سی آر آئی ایس پی آر سے ڈیوپری کا علاج ممکن ہے۔ کوہن نے سی آر آئی ایس پی آر کےایک چوہے پر تجربات کئے اور اب وہ 14سال کے گبریل (Gavriel)کا علاج اس ٹیکنالوجی سے کرنے جارہے ہیں۔ اس کیلئے انہوں نے ایک چوہے کو ماڈل قرار دیا ہے اور پہلے چوہے پر تجربات کرکے گبریل کا علاج کریں گے۔ سی آر ایس پی آر کی ایک ڈوز تیار کرنے کی قیمت علاج کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ یورپ میں دو جین تھراپی کے طریقے مستعمل ہیں جن میں سے ایک پر ایک ملین اور دوسرے پر 665000ڈالر خرچ آتے ہیں۔ ایک بار کا علاج عمر بھر کی دواؤں اور وہیل چیئر سے بچا سکتا ہے۔ سی آر آئی ایس پی آر ایک علاج ہے جس کا انحصار جین ایڈیٹنگ کی مہارت پر ہے۔ سی آر آئی ایس پی آر کے حوالے سے ایک فکر کی بات اس کے مضر اثرات ہیں۔ سی آر ایس پی آر میں یہ خطرہ ممکن ہے کہ حادثاتی طور پر غیر ضروری جین کی ایڈیٹنگ ہوجائے اور جسے ختم بھی نہ کیا جاسکے۔اس وقت تحقیق کار سی آر آئی ایس پی آر کے مضر اثرات کا جائزہ لینے کیلئے کمپیوٹر پروگرام پر انحصار کررہے ہیں۔ لیکن یہ پروگرام ہر چیز کے بارے میں نہیں بتا سکتا۔ 2000ء میں جب جین تھراپی کیلئے لئے گئے ابتدائی ٹیسٹ کی وجہ سے بہت سے بچے لیوکیمیا میں مبتلا ہو گئے تھے۔ لہٰذا جینوم میں تبدیلی کے نتائج کے بارے میں قبل از وقت اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔

تحریر: انٹونیو ریگالڈو (Antonio Regaldo)

Read in English

Authors
Top