Global Editions

کیا آپ واقعی کسی ایپ سے گانا سیکھ سکتے ہیں؟

آج کل آپ ایپس سے سب ہی کچھ سیکھ سکتے ہیں، لیکن ہر کسی کو ان سے فائدہ نہیں ہوتا ہے۔

انیس سالہ مانسی سیڈانا (Mansi Sidana) نے چار سال کے بعد دوبارہ گانا سیکھنے کی کوشش کی۔ تاہم دوبارہ کلاسز شروع کرنے کے بجائے انھوں نے گانے کی پرسنلائزڈ ٹریننگ فراہم کرنے والی ایپ، ونیڈو (Vanido)، انھیں یہ ایپ استعمال کرتے ہوئے پانچ ماہ ہو گئے ہیں۔

یہ ایپ صارفین کی آوازوں کو بہتر بنانے اور موسیقی کے نوٹس پہچاننے میں مدد فراہم کرنے کے لیے ان کی پچ (pitch) بھانپ کر انھیں ریئل ٹائم میں فیڈبیک دیتی ہے۔ یہ ایپ جنوری میں لانچ ہوئی تھیاور اس کے شریک تخلیق کار ہمانشو سنگھ (Himanshu Singh) کے مطابق اب تک 40 ہزار سے زیادہ صارفین نے مجموعی طور پر بیس لاکھ سے زیادہ مشقیں مکمل کرلی ہیں۔ اس ایپ کے استعمال کے بعد سیڈانا کی آواز میں واضح طور پر بہتری نظر آئی ہے۔

ونیڈو کے علاوہ ایسی کئی ایپس موجود ہیں جن کے ذریعے سمارٹ فون کے صارفین نئی چیزيں سیکھ سکتے ہیں۔ ان میں سے کچھ ایپس، جیسے کہ زبان سکھانے والی ایپ ڈوولنگو (Duolingo)، کئی سالوں سے موجود ہیں، جبکہ ونیڈو اور گٹار سکھانے والی ایپ فینڈر پلے (Fender Play) کو مارکیٹ میں لانچ ہوئے زیادہ عرصہ نہیں ہوا ہے۔

ان ایپس کو استعمال کرنے میں مزہ تو آتا ہے، لیکن کیا واقعی ان سے کوئی نئی زبان بولنا، گانا گانا یا گٹار بجانا سیکھا جاسکتا ہے؟ یوٹاہ سٹیٹ یونیورسٹی (Utah State University) میں تعلیمی ٹیکنالوجی اور لرننگ سائنسز کے پروفیسر وکٹر لی (Victor Lee) کے مطابق آپ کی پیش رفت کا انحصار ان ایپس کے مشمولات کی پریزینٹیشن اور صارفین کے انٹریکشن پر ہے۔

تعلیمی ماہرین کے مطابق ان ایپس کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ خاص طور پر ان صارفین کے لیے بنائی گئی ہے جو خود سے سیکھنے کا شوق رکھتے ہیں۔

38 سالہ برینڈن ایلام (Brandon Elam) اسی طرح کے ایک شخص ہیں، اور انھیں ان ایپس سے بہت فائدہ ہوا ہے۔ وہ ریڈیو پر گانے سن کر انھیں گٹار پر بجانے کی کوشش کرنا چاہتے تھے۔ انھوں نے پہلے ایک کتاب سے سیکھنے کی کوشش کی، لیکن انھیں کچھ خاص فائدہ نہیں ہوا۔ وہ جولائی سے روزانہ جسٹن گٹار (Justin Guitar) اور الٹی میٹ گٹار ٹیب پرو (Ultimate Guitar’s Tab Pro) نامی ایپس استعمال کررہے ہیں، اور ان کے مطابق ان کی گٹار بجانے کی صلاحیتوں میں واضح طور پر بہتری آئی ہے۔

لی کہتے ہیں کہ شوقین لوگوں کو سب سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر لوگوں کی دلچسپی برقرار نہیں رہ پاتی ہے، جو ان ایپس کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

تاہم تربیتی ایپس زیادہ فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہیں۔ ڈوولنگو اور ونیڈو جیسی ایپس اپنے صارفین کی دلچسپی برقرار رکھنے کے لیے گیمنگ میں استعمال ہونے والی تدابیر، جیسے کہ لاگ انز کو ٹریک کرنے کے لیے "سٹریکز" نامی تکنیک، کا استعمال کرتی ہیں۔

ایپس کا ایک دوسرا مسئلہ دوسرے لوگوں کے ساتھ انٹریکشن کی کمی ہے۔ ونیڈو صارفین کو گانا سکھانے کے لیے بنائی گئی ہے، لیکن کسی استاد یا کوچ کے فیڈبیک اور حوصلہ افزائی کے بغیر یہ کس حد تک ممکن ہوگا؟

نیو یارک یونیورسٹی سٹائن ہارٹ (NYU Steinhardt) کے پروفیسر جین پلاس (Jan Plass)، جو لرننگ کے لیے سیمولیشنز اور گیمز بنانے پر کام کررہے ہیں، کہتے ہیں کہ ان ایپس کی صارفین کے جوابات پراسیس کرنے کی کارکردگی اچھی نہیں ہے، خاص طور پر اس وقت جب صارفین توقعات سے ہٹ کر جواب دیتے ہیں۔ تاہم، ونیڈو سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے اسباق کو پرسنلائز کیا جاسکتا ہے۔

موبائل لرننگ میں بہتری کی بہت گنجائش ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ان ایپس کی وجہ سے لرننگ کے روایتی انداز کو بدلا جارہا ہے، اور ان کے مطابق اس سے بہت فائدہ ہوگا۔

پلاس کہتے ہیں"اس سے طلباء کو جہاں مرضی معلومات فراہم کی جاسکتی ہے۔"

تحریر: مشیل چینگ (Michelle Cheng)

Read in English

Authors
Top