Global Editions

کیلیفورنیا کو آگ سے بچاؤ کے لئے نئی پالیسیوں کی ضرورت ہے

آگ سے بڑھتی ہوئی تباہی کو کم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ترقیاتی پیٹرن، جنگلاتی انتظام، ابتدائی انتباہ کے نظام اور بہت کچھ کرنا ہو گا۔

پیرا ڈائز، کیلی فورنیا میں آگ لگنے کےایک ہفتہ بعد جس نے سیرا نیواڈا کے پہاڑوں میں مقامی آبادی کو تباہ کر دیا تھا، ہزاروں فائر فائٹرز اب بھی ریاست کی تاریخ میں سب سے زیادہ جان لیوا اور تباہ کن آگ کو بجھانے کے لئے لڑ رہے ہیں۔

کیمپ فائر نے 56 افراد ہلاک کردیئے ہیں اور جاری ہے۔ یہ آگ دو سال کے عرصے میں لگی تباہ کن ایک درجن سے زائد لگی آگ میں سے ایک ہے جس سے ریاست اب بھی جل رہی ہے۔ جنگلات کی حدود میں دہائیوں سے جاری ترقی ، جنگلات کےانتظام کو چلانے کا پرانا انتظام اور بدلتی ہوئی آب و ہوا بشمول موسم گرما کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، کم نمی اور پھیلی ہوئی ہواؤں نے کیلیفورنیا کے وسیع علاقوں کو خشک ٹنڈرباکس میں تبدیل کر دیا ہے جو آگ لگنے پر جلدی اور تیز رفتاری سے جلتے ہیں۔
کوئی ایسی واحد یا سادہ حکمت عملی نہیں ہے جو ان مصیبتوں کی زیادہ روک تھام کرے گی۔ لیکن نئے طریقوں اور پالیسیوں میں بہت ساری تبدیلی خطرات کو کم کرسکتی ہے۔

زمین کا استعمال اور زوننگ

ریاستیں، شہر، ڈویلپرز اور رہائشیوں کو اس بات کو یقینی بنانےکی ضرورت ہے کہ آیا کیلیفورنیا کےجنگلات اور گرم جلانے والی زمین کے کنارے پر کمیونٹی کی تعمیر یا توسیع ہونی چاہیے۔ اور قصبوں میں آگ کے زون کے لئے بلڈنگ کوڈ کی ضرورت ہے۔

ایک ہیور انسٹی ٹیوشن(Hoover Instituition) کے ریسرچ فیلو ایلس ہل کہتے ہیں ، "ہم جنگلات کی زمین پرغیر معمولی شرح سے اربن انٹرفیس بنا رہے ہیں۔"ہل نے صدر باراک اوبامہ کےدور میں نیشنل سیکیورٹی کونسل میں بطور سینئر ڈائریکٹر کے خدمت سرانجام دیں۔ "اور ہم نے ابھی تک بلڈنگ کوڈز نہیں بنائے جو ہمیں اس قسم کی آگوں سے بچائیں ہیں جو ہم دیکھ رہے ہیں ۔"

یو ایس فاریسٹ سروس کے پیسیفک سائوتھ ویسٹ ریسرچ سٹیشن کے ایک تحقیقی سائنسدان، مالکلوم نارتھ کہتے ہیں کہ لکڑی سے چھتیں ہل جاتی ہیں اورگھروں کے لئے جنگلات میں مقبول سیٹنگ خراب ہو جاتی ہے"۔ ان سب گھروں اور پڑوس والے گھروں کو جلانے کے لئے ایک چنگاری کی ضرورت ہوتی ہے جو سب کو گرا سکتی ہے۔

خطرات کو کم کرنے کے لئے، ریاست یا مقامی حکومتوں کو آگ کے لئےمزاحمت رکھنے والے تعمیراتی مواد جیسا کہ پتھر، اینٹوں اور سیمنٹ کی ضرورت ہوتی ہے؛ ان علاقوں میں ترقی یا مزید توسیع کو روکنا؛ ان جگہوں میں دوبارہ تعمیر کی حوصلہ شکنی جہاں باربارآگ لگتی ہے؛ رہائشیوں کو اپنی پراپرٹی پر درخت اور دیگر پودوں کو برقرار رکھنے کے لئے مجبور کرنا؛ اور اس بات کو یقینی بنانا کہ لگنے والی تیز آگ سےنکلنے کے لئے مناسب راستے اور پوائنٹس موجود ہیں۔

بہت ساری انشورنس کمپنیاں پہلے سے ہی پالیسیاں منسوخ کر رہی ہیں یا کچھ کیلیفورنیا کے زیادہ خطرے والے علاقوں میں جائیداد کی قیمتوں میں اضافہ کر رہی ہیں۔یہ چیز رہائشیوں کو ان جگہوں میں تعمیر کرنے یا مالکوں کے لئے ان علاقوں میں گھر بنانا بہت مہنگا بنا دےگی۔

فارسٹ مینجمنٹ

جنگلوں میں گہری آگ کی بڑھتی ہوئی شدت ایک مکمل طور پر علیحدہ مسئلہ ہے جس کوحل کرنے کےلئے مکمل طور پر مختلف رسپانس کی ضرورت ہوتی ہے۔

طویل عرصے سے امریکی پالیسی آگ کو بجھانے پر مرکوز رہی ہے ۔ دوسری صورت وفاقی اور ریاستی پالیسی جنگلات کے رقبے کو کم سے کم منظم کرنے کی کوشش رہی ہے۔ اس چیز نے ایندھن کا ایک خطرناک ذخیرہ بنایا ہے جس نے مزیدآگ لگنے کو دعوت دی ہے۔

امریکی فارسٹ سروس اور کیلیفورنیا ریاست دونوں آہستہ آہستہ ان اپروچز کو تبدیل کر رہی ہیں۔ کچھ درخت ہٹائے جا رہے ہیں اور محدود پیمانے پر کچھ کو آگ لگا دی جاتی ہے۔ مئی میں صوبائی گورنر جیری برائون نے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے جس نے کم درختوں والے علاقوں میں جنگلات کے رقبے کو ڈبل کا حکم دیا کیونکہ وہاں کنٹرول آگ اور دیگر اقدامات سے جنگلات کم ہو سکتے تھے۔

کنٹرول طریقے سے لگائی گئی آگ متنازع ہے، اور وہ حقیقی مسائل میں اضافہ کرتی ہے۔ لیکن عوام، سیاستدان اور ایجنسیوں کو ان کو استعمال کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ کام کرتے ہیں۔

نارتھ کا کہنا ہے، " آگ پر قابو پانے کاواحد راستہ یہ ہے کہ آپ خطرہ لیں اورکنٹرول طریقے سے آگ لگائیں اور جنگل کو آگ سے بچائیں۔"

سپارک کی روک تھام

نیشنل پارک سروس کے مطابق جنگلوں میں لگنے والی آگ میں 90 فیصد انسانوں کی وجہ سے ہوتی ہے کیونکہ وہ کچرے کو جلاتے ہیں، ، سگریٹ سلگاتے ہیں اور اس طرح کی دوسری سرگرمیوں سے سپارک پیدا کرتے ہیں۔ لیکن سموکی بئیر(Smokey Bear) کے نصف صدی کے انتباہ کے باوجود،یہ واضح ہے کہ پبلک سروس کے اعلانات کافی نہیں ہیں۔

ماحولیات کے اسٹینفورڈ ووڈ انسٹی ٹیوٹ برائے ماحولیات میں کلائمیٹ اور توانائی کی پالیسی کے پروگرام کے ڈائریکٹر مائیکل وارا کہتے ہیں کہ ایک علاقہ جہاں توجہ مرکوز کرکےبڑا فرق ڈل سکتا ہے وہ ہے کام سے جلائی گئی آگ ۔

جبکہ ٹرانسمیشن لائنیں اوراوور لوڈڈ ٹرانسفارمرز مجموعی طور پر بہت تھوڑی آگ لگاتے ہیں۔ ان کو کیلیفورنیا کی بڑی آگ میں پھنسایا گیا ہے بشمول گزشتہ سال کی وائن کنٹری فائر اور 2015 ویلی فائر۔ اس کے علاوہ، پی جی اینڈ ای جو کہ ریاست کی سب سے بڑی سہولت سروس ہے، نے کیلیفورنیا کے ریگولیٹروں کو مطلع کیا ہے کہ ایک نزدیکی لائن میں مسئلہ تھا جب کیمپ فائر شروع ہوئی۔

پی جی اینڈ ای جیسے محکمے ٹرانسمیشن لائنوں کو ٹھیک کر سکتے ہیں کیونکہ وہ زیادہ جارحانہ طریقے سے جنگلات میں پودوں کی کانٹ چھانٹ کر سکتے ہیں ، زیادہ مانیٹرنگ کر سکتے ہیں، پائیدار سامان لگا سکتے ہیں، یا "ٹوٹ ہوئی لائنوں کے کنٹرول اور پتہ لگانے کے نظام " کو بہتر کر سکتے ہیں۔ لیکن مختلف عوامل ان اقدامات کے حتمی عمل کو محدود کرتے ہیں جیسا کہ سادہ حقیقت یہ ہے کہ بہت سارے گرے ہوئےدرخت یوٹیلیٹی کی حدود سے باہر ہوتے ہیں۔

ان واقعات سے جڑے خطرات اور بڑھتی ہوئی ذمہ داریوں کو دیکھتے ہوئے، یوٹیلٹیز تیزی سے زیادہ خطرے والی لائنوں کو بند کر رہی ہیں اورپورے شہر میں گھنے جنگل کےگرد تیزہوا چلنے پر بجلی بند کر دیتی ہیں۔ اس اقدام سے ہزاروں رہائشیوں اور کاروباروں کو دھچکا لگتا ہے جس سے یوٹیلٹی ایسے اقدامات کرنے سے گریز کرتی ہے۔

وارا کا کہنا ہے کہ "لوگوں کو محفوظ رکھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ لائنوں کو بند رکھا جائے اورآپ کا ہاتھ بلیک آئوٹ سوئچ پر ہو۔لیکن ایسا کرنے کے لئے آپ کو اثرات کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔"

ان کا کہنا ہے کہ جنگلات کی آگ کے زیادہ خطرے پر تقسیم شدہ نسل کے لئے سٹوریج اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہے ۔ اس کے علاوہ بجلی کی پیداوار کے چھوٹے منصوبوں اور بیٹری سے چلنے والے سسٹمز کی ضرورت ہے جو ہسپتالوں، سکولوں، کاروباری اداروں اور یہاں تک کہ گھروں کو عارضی بجلی کی بندش کے دوران چلا سکیں۔

یقینی بات ہے کہ اس طرح کے نظام کو انسٹال کرنے کی بہت قیمت ہوگی اوراس جزوی قیمت کی شرح عوام کو ادا کرنے پڑے گی جوپہلے ہی ملک میں بہت زیادہ ماہانہ بل ادا کر رہے ہیں۔

وارننگ ٹیکنالوجی

کیمپ فائر میں بہت ساری اموات اس وقت واقع ہوئیں جب رہائشی اپنے گھروں سے فرار ہونے کی کوشش کررہے تھے اور بعض صورتوں میں ان کی گاڑیاں بند سڑکوں پر پھنس گئیں۔ ہل کا کہنا ہے کہ مختلف ٹیکنالوجیز موجود ہیں جو پہلے ہی آگ کاپتہ لگانے اور شہروں کوانتباہ جاری کرنےمیں مدد دے سکتی ہیں جیسا کہ ریموٹ سینسر، فون پر مبنی ہنگامی نوٹیفکیشن سسٹم اور سیٹلائٹ اور مصنوعی انٹیلی جنس کے اوزار ۔ ڈرونوں جیسے دوسرے آلات کوآگ کی صورت میں گرم ترین مقامات کا اندازہ لگانے، دھواں کے پیئرکرنے اور سپلائی فراہم کرنے جیسے کاموں میں استعمال کیا جاتا ہے۔

لیکن نارتھ کا کہنا ہے کہ زیادہ سے زیادہ کام کو فرنٹ پر کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جس میں ایندھن کو اکٹھا کرنے اور پہلی جگہ پر آگ لگنے سے بچانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک بار جب آگ شروع ہوجائے تو ٹیکنالوجی صرف بہت تھوڑی مدد کر سکتی ہے۔

تحریر: جیمز ٹیمپل

Read in English

Authors
Top