Global Editions

پیٹرول کا بے تحاشہ استعمال کرنے والی گاڑیوں کو مکمل طور پر بند کرنے کی راہ میں کونسی رکاوٹیں حائل ہیں؟

امریکی ریاست کیلیفورنیا کے گورنر لے بجلی پر چلنے والی گاڑیوں کے متعلق نئی ہدایات تو جاری کردی ہیں لیکن اس سے گاڑیوں کی تخلیق کاری کی صنعت پر کیا اثرات ہوں گے؟

کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم (Gavin Newsom) نے اپنی ریاست میں 2045ء تک کاربن کے اخراجات میں اضافے کو ختم کرنے کے لیے پیٹرول کا بے تحاشہ استعمال کرنے والی نئی گاڑیوں اور ٹرکوں کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کرنے کے لیے ایک نیا قدم اٹھا لیا ہے۔ تاہم ممکن ہے کہ ان کی راہ میں کئی قانونی رکاوٹیں حائل ہوں، خاص طور پر اگر ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ صدر منتخب ہوجائيں۔

نیوسم کے نئے ایگزیکٹو آرڈر کے مطابق کیلیفورنیا ایئر ریسورسز بورڈ (California Air Resources Board) سمیت ریاستی ایجنسیوں کو ایسے نئے ضوابط تیار کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہيں جن کے نتیجے میں 2035ء تک ریاست بھر میں فروخت ہونے والی نئی گاڑیاں اور ٹرکس ماحولیاتی آلودگی کی وجہ نہيں بنیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مستقبل میں بیٹریوں اور ہائيڈروجن ایندھن سے چلنی والی برقی گاڑیاں ہی فروخت ہوسکیں گی۔

یہ اہداف انٹرنل کمبشن انجنز استعمال کرنے والی گاڑیوں پر پابندیاں عائد کرکے یا وقت کے ساتھ ساتھ مزيد سخت یا لچک دار ہونے والی مالی امداد کے ذریعے حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ اگر ریاست کیلیفورنیا اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائے تو یہ دنیا کی سخت ترین ماحولیاتی پالیسیاں رکھنے والی ریاست ہوگی، جس سے گاڑیوں کی صنعت براہ راست متاثر ہوگی۔

کیلیفورنیا میں ہر سال 20 لاکھ کے قریب نئی گاڑياں خریدی جاتی ہیں، اور ان پالیسیوں کے عملدرآمد ہونے کی صورت میں صرف برقی گاڑیاں ہی فروخت ہوگی، جس سے اس ابھرتی ہوئی صنعت کو بہت فائدہ پہنچے گا۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، ڈیوس میں سول اور ماحولیاتی انجنیئرنگ کی پروفیسر ایلیسا کینڈال (Alissa Kendall) کہتی ہيں کہ ”کیلیفورنیا کی مارکیٹ اتنی بڑی ہے کہ یہاں کی پالیسیاں، خاص طور پر گاڑیوں کے حوالے سے تشکیل کردہ پالیسیاں، پورے امریکہ کو ہی نہيں بلکہ پوری دنیا کو متاثر کرتی ہيں۔ “

اس ایگزیکٹو آرڈر کے نتیجے میں زيادہ برقی گاڑیاں تخلیق کی جائيں گی، جس کے باعث ان کی قیمتوں میں کمی ممکن ہوگی اور ان کی مانگ میں اضافہ ہوگا۔ اس بڑھتی ہوئی مارکیٹ سے ان گاڑیوں کو چارج کرنے کے طریقہ کاروں میں بھی بہتری آئے گی، جس سے برقی گاڑیوں کی مانگ مزید بڑھے گی۔

اس کے علاوہ، نقل و حمل کی صنعت کے باعث پیدا ہونے والے اخراجات میں بھی کمی ممکن ہوگی۔ اس وقت گاڑیاں اور ٹرکس کیلیفورنیا کی 35 فیصد ماحولیاتی آلودگی کی وجہ ہیں، اور یہاں لوگ گاڑیوں کے اتنے شوقین ہیں کہ یہ شرح کسی طرح کم نہیں ہورہی تھی (بلکہ کیلیفورنیا میں گاڑیوں کے باعث پیدا ہونے والے اخراجات کم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھ رہے ہیں

تاہم نیوسم کے اس ایگزیکٹو آرڈر میں کئی خامیاں بھی ہيں۔ سب سے پہلے تو اس کا اطلاق ہوائی جہازوں، ریل گاڑیوں اور بحری جہازوں پر نہیں ہوتا، جو ماحولیاتی اخراجات کی بہت بڑی وجہ ہیں۔ اس کے علاوہ، پہلے سے خریدی جانے والی پیٹرول استعمال کرنے والی گاڑیوں کا استعمال مکمل طور پر ترک کرنے میں کئی دہائیاں لگیں گی۔

سٹینفورڈ لاء سکول کے لیکچرار ڈینی کلنوارڈ (Danny Cullenward)، جو ماحولیاتی پالیسی میں خصوصی مہارت رکھتے ہيں، کہتے ہيں کہ ان قواعد کی عملدرآمد اور دائرہ کار کا انحصار کئی مختلف عناصر پر ہوگا۔ اس کے علاوہ، یہ بات بھی اہم ہے کہ ایئر ریسورسز بورڈ ان پالیسیوں کے لیے کیا قانونی جواز پیش کرتا ہے۔

ایک طریقہ تو یہ ہوسکتا ہے کہ یہ بورڈ نئی قواعد کی تشکیل کے لیے پہلے سے قائم کردہ ٹیل پائپ کے اخراجات کے معیارات کا سہارا لے۔ ماضی میں کیلیفورنیا میں ان معیارات کی مدد سے تخلیق کاروں کو ایندھن کا بہتر استعمال کرنے والی گاڑیاں بنانے پر مجبور کیا گيا تھا، اور توقع کی جارہی ہے کہ پہلے کی طرح ابھی بھی قومی معیارات میں تبدیلی لائی جاسکے گی۔ تاہم اس کے لیے ایجنسی برائے ماحولیاتی تحفظ کی طرف سے ایک نئے استثنیٰ کی ضرورت ہوگی، جس کے ذریعے کلین ایئر ایکٹ (Clean Air Act) کے تحت ریاست کیلیفورنیا کو گاڑیوں کے باعث پیدا ہونے والے اخراجات کے حوالے سے وفاقی حکومت کے قواعد و ضوابط سے تجاوز کرنے کی اجازت حاصل ہوگی۔

صدر ٹرمپ کی انتظامیہ اور کیلیفورنیا کے درمیان پہلے سے ہی کلین ایئر ایکٹ کے حوالے سے کافی عدم اتفاق موجود ہے۔ ماضی میں کیلیفورنیا کو ایک استثنیٰ حاصل تھی، جس کے تحت اس ریاست کو وفاق سے زيادہ سخت معیارات قائم کرنے کی اجازت ملی تھی۔ تاہم پچھلے سال صدر ٹرمپ نے اس استثنیٰ کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا، جس کے نتیجے میں کیلیفورنیا اور نیو یارک کی ریاستی حکومتوں نے قانونی چارہ جوئی شروع کردی۔ کیلیفورنیا کی استثنیٰ حاصل کرنے کی کوششوں کی کامیابی کا انحصار امریکہ میں آنے والے انتخابات کے نتیجے میں منتخب ہونے والے صدر اور عدالتوں کے نظریے پر ہوگا۔

ریاست کیلیفورنیا قواعد و ضوابط کی تشکیل کے لیے جو بھی طریقہ اپنائے، اس بات کا امکان بہت زیادہ ہے کہ گاڑی بنانے والی کمپنیاں ان نئے قوانین کے خلاف مقدمہ دائر کریں گی۔ اور ان مقدموں کے فیصلوں کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ سپریم کورٹ میں کون بیٹھا ہے۔

سیکرامینٹو میں واقع نیکسٹ جین پالیسی (NextGen Policy) کے سینیئر پالیسی مشیر ڈیو وائس کوپف (Dave Weiskopf) کا خیال ہے کہ قانونی مسائل کے قطع نظر کیلیفورنیا اور ماحولیاتی تبدیلی کم کرنے کی خواہش مند دوسری ریاستوں کے پاس گاڑیوں کے اخراجات سے نمٹنے کے لیے اقدام کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہيں ہے۔ وہ کہتے ہيں کہ ”یہ سائنس کا تقاضہ ہے، اور ریاستی پالیسی کے لیے اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہيں ہے۔ “

تحریر: جیمز ٹیمپل (James Temple)

Read in English

Authors

*

Top