Global Editions

گرمائش سے فائدہ اٹھانے والے شمسی سیلز

یہ نیا شمسی توانائی کا آلہ حرارت کو روشنی کی کرنوں میں تبدیل کرکے مسلسل اور کم قیمت توانائی پیدا کرسکتا ہے۔

آج کل بڑھتی ہوئی تعداد میں گھروں کی چھتوں پر شمسی توانائی کے پینلز نظر آرہے ہیں، لیکن ابھی بھی یہ ڈیوائسز بے ہنگم، مہنگے اور غیرموثر ثابت ہورہی ہیں۔ فوٹو وولٹیک سیلز کی محدود صلاحیتوں کی وجہ سے سورج کی توانائی کا صرف کچھ ہی حصہ استعمال ہو پاتا ہے۔

لیکن اب ایم آئی ٹی کے سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے ایک مختلف قسم کی شمسی توانائی کی ڈیوائس بنانے کی کوشش کی ہے، جو اموادی علوم کی جدید ترین تحقیق سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سورج کی زیادہ روشنی جذب کرنے میں کامیاب ثابت ہورہی ہے۔ یہ ڈیوائس سورج کی روشنی کو پہلے گرمائش میں اور پھر دوبارہ روشنی میں تبدیل کرتی ہے، جس کے بعد اس روشنی کو اس سپیکٹرم میں فوکس کیا جاتا ہے جو شمسی سیلز کے لیے قابل استعمال ہے۔ ریسرچرز کئی سالوں سے شمسی تھرموفوٹووولٹائکس (thermophotovoltaics) پر کام کررہے ہیں، لیکن ایم آئی ٹی کی ٹیم سے پہلے اب تک کوئی بھی ایسی ڈیوائس بنانے میں کامیاب نہیں رہا ہے جو محض فوٹووولٹائک سیل سے زیادہ توانائی جذب کرسکے، جس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ آگے چل کر اس ڈیوائس کی اثراندازی میں قابل قدر اضافہ ممکن ہے۔

عام سیلیکون کے شمسی سیلز بنفشی (violet) اور سرخ سپیکٹرم کے درمیان روشنی کو کیپچر کرتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ سورج کی روشنی کی 32 فیصد سے زیادہ توانائی کو بجلی میں تبدیل کرنے سے قاصر ہیں۔ ایم آئی ٹی کا آلہ اس وقت صرف ابتدائی مراحل میں ہے، اور اس کی اثر اندازی محض 6.8 فیصد ہے، لیکن اگر اس میں بہتری لائی جائے تو یہ عام فوٹو وولٹائکس سے دو گنا زیادہ موثر ثابت ہوسکتا ہے۔

اس آلے کا سب سے اہم پرزہ اس کا ابزاربر ایمٹر (absorber-emitter) نامی سسٹم ہے، جو شمسی سیلز کے اوپر روشنی کو مرکوز کرنے کا کام کرتا ہے۔ جذب کرنے والی تہہ ٹھوس کالے کاربن نانوٹیوبز پر مشتمل ہے جو سورج کی روشنی میں موجود تمام توانائی کو کیپچر کرکے اسے حرارت کی شکل میں تبدیل کرتے ہیں۔ جب درجہ حرارت 1،000 ڈگری سنٹی گریڈ کے قریب پہنچ جاتا ہے تو خارج کرنے والی تہہ اس توانائی کو روشنی کی شکل میں خارج کرتی ہے، جسے اب صرف ان بینڈز تک محدود کردیا جاتا ہے جو فوٹووولٹائکس سیلز جذب کرسکتے ہیں۔ یہ ایمٹر فوٹونک کرسٹل (photonic crystal) سے بنایا گیا ہے، جسے نانو سطح پر اس طرح سے ڈیزائن کیا جاسکتا ہے کہ اس میں سے گزرنے والی طول الموج (wavelengths) کو کنٹرول کیا جاسکے۔ اس کے علاوہ اس سسٹم میں ایک خصوصی آپٹیکل فلٹر بھی نصب کیا گیا ہے جو ناقابل استعمال فوٹونز کو واپس بھیج کر تبدیل شدہ روشنی کو ٹرانسمٹ کرتا ہے۔ فونٹز کی اس ری سائیکلنگ سے مزید حرارت پیدا ہوتی ہے، جس کی وجہ سے روشنی کی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے، اور اس سسٹم کی اثر اندازی بڑھ جاتی ہے۔

ایم آئی ٹی کے اس سسٹم کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اس کے پرزے بہت مہنگے ثابت ہورہے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ اس وقت یہ صرف ایک ویکوم (vacuum) میں کام کرسکتا ہے۔ لیکن جیسے جیسے اس سسٹم کی اثراندازی میں اضافہ ہوتا جائے گا، اس کی قیمت میں بھی کمی ہوگی، اور ریسرچرز کو یقین ہے کہ یہ جلد ہی ممکن ہوجائے گا۔ اس سسٹم پر کام کرنے والی ایم آئی ٹی کی اسوسیٹ پروفیسر ایولن وانگ (Evelyn Wang) کہتی ہیں کہ اب جبکہ ان عناصر کی نشاندہی ہوگئی ہے جو اس سسٹم کی اثراندازی میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں، ان میں ردوبدل کی جاسکتی ہے۔

اس سسٹم پر ابھی بہت کام باقی ہے اور ایم آئی ٹی کی ریسرچرز شمسی تھرموفوٹووولٹائکس کی خصوصیات پر مزید تحقیق کررہے ہیں۔ حرارت کو بجلی کے مقابلے میں زیادہ آسانی سے سٹور کیا جاسکتا ہے، جس کی وجہ سے ممکن ہے کہ آگے چل کر اس آلے سے پیدا ہونے والی اضافی بجلی کو ایک تھرمل سٹوریج کے سسٹم کی جانب فارورڈ کیا جاسکے گا تاکہ اس وقت بھی بجلی پیدا کی جاسکے جب دھوپ نہ نکلی ہو۔ اگر ریسرچرز اس سسٹم میں سٹوریج کا آلہ شامل کرکے اس کی اثراندازی میں اضافہ کرسکیں تو ہوسکتا ہے کہ ایک وقت ایسا آئے جب صارفین کو صاف، کم قیمت اور مسلسل شمسی توانائی مہیا ہوسکے۔

تحریر: جیمز ٹیمپل (James Temple)

Read in English

Authors
Top