Global Editions

ہوسکتا ہے کہ اگلے بیس سالوں میں آدھی گاڑیاں بجلی پر چل رہی ہوں

بیٹریوں کی گرتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے الیکٹرک گاڑیاں سستی ہوجائیں گی اور ان کی مقبولیت میں اضافہ بھی ہوگا۔

ٹیسلا اور والوو سمیت پوری آٹوموبائل صنعت اس بات سے واقف ہے کہ الیکٹرک گاڑیاں آ کر ہی رہیں گی۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ الیکٹرک گاڑیاں کتنی جلدی پٹرول پر چلنے والی گاڑیوں کی جگہ لینے والی ہیں؟

بلوم برگ نیو انرجی فنانس (Bloomberg New Energy Finance) نے ایک تجزیے میں مستقبل میں الیکٹرک گاڑیاں خریدنے اور چلانے کے اخراجات کے علاوہ، ان کے استعمال میں اضافے کے لیے حکومتی اقدام، اور گاڑی بنانے والوں کے لانچز اور فروخت کے اہداف کے متعلق پر بھی تبصرہ کیا ہے۔

اس تجزیے کا خلاصہ یہ ہے کہ 2040ء تک 54 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی۔ ایک سال پہلے، اسی ادارے نے پیشگوئی کی تھی کہ یہ شرح 35 فیصد ہوگی۔ یہ اعداد غور کرنے لا‏ئق ہیں۔ اگر یہ پیشگوئی درست ثابت ہوگئی تو اس کا مطلب ہوگا کہ نئی گاڑیوں میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا ایندھن بجلی ہوگا۔

اس میں ابھی کافی وقت لگنے والا ہے، اور اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی مارکیٹ ابھی بہت چھوٹی ہے۔ 2016ء میں صرف ایک فیصد الیکٹرک گاڑیاں فروخت ہوئی تھیں۔ تاہم اس رجحان میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ 2017ء میں جنوری سے اپریل کے درمیان دنیا بھر میں 191،700 الیکٹرک گاڑیاں فروخت ہوئی تھیں، جو پچھلے سال کے ابتدائی چار ماہ سے 40 فیصد زیادہ ہے۔

اس پرامیدی کی سب سے بڑی وجہ بیٹریوں کی قیمتیں ہیں۔ 2010ء اور 2015ء کے درمیان لیتھیم آئن بیٹریوں کی فی کلوواٹ گھنٹوں کی قیمت میں 65 فیصد کی کمی ہوئی ہے، اور BNEF کے مطابق 2029ء تک اس میں مزید 70 فیصد کی کمی ہونے والی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے برقی گاڑیوں کو خریدنے اور استعمال کرنے کے اخراجات میں قابل قدر کمی ہوگی۔

زیادہ تر لوگ صرف کم قیمتوں ہی کی وجہ سے الیکٹرک گاڑیاں خریدنے پر آمادہ ہوں گے۔ تاہم، حکومت کو چارجنگ کا انفراسٹرکچر تیار کرنے اور آلودگی پیدا کرنے والے گاڑیوں پر پابندی بھی عائد کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ ان اقدام کے بغیر، ممکن ہے کہ BNEF کی پیشگوئی پوری نہ ہوسکے۔

تحریر: جیمی کونڈلیف (Jamie Condliffe)

Read in English

Authors
Top