Global Editions

پاکستان میں سمارٹ شہروں کی تشکیل

دنیا میں"سمارٹ شہر" کا تصور جدید شہری ترقی کے حوالے سے نسبتاً نیااور سب سے بہترین ہے۔ دنیا کے مختلف شہروں کی طرف سے ہر ممکن طریقے سے اپنے شہریوں کو سہولیات فراہم کرنے کیلئے اس تصور کو اپنایا جا رہا ہے۔ سادہ الفاظ میں سمارٹ شہرانفارمیشن کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) اور انٹر نیٹ آف تھنگز (IOT)کا مجموعہ ہے۔ یہ ممکنہ بہترین طریقےسے وسائل کو استعمال کرنے کا نظام ہے جس میں انفارمیشن کمیونیکیشن ٹیکنالوجی پر مبنی بنیادی ڈھانچے کے ذریعے خودکار طریقے سے ردعمل حاصل ہوتا ہے۔ شہریوں کو معیاری زندگی فراہم کرنے کے علاوہ اس کا مقصد مختلف شہری نظام اور سہولیات کی فراہمی کے ماڈل کے اثرات کا اندازہ لگانا اور اس کے فیڈ بیک کی بنیاد پر سہولتوں میں بہتری پیدا کرنا ہے۔ یہ سارا کام بگ ڈیٹا کی تنظیم و ترتیب کے بغیر خود سے کرنا ممکن نہیں لہٰذا اس میں ٹیکنالوجی کے استعمال پر بے انتہا انحصار کیا جاتا ہے۔

بکیسی(Bakici)، المیرال (Almirall)اور وارہم (Wareham)کے مطابق سمارٹ سٹی وہ شہر ہوتے ہیں جن میں معیار زندگی بلندکرنےاور پائیدار ترقی کی سہولیات فراہم کرنے کے مقصد کے تحت معلومات اور مواصلاتی ٹیکنالوجی استعمال کی جائے۔ شہر وں کو بجا طور پر اقتصادی ترقی کا انجن قرار دیا گیا ہے ، ان کی اہمیت کو صنعتی انقلاب کے بعد محسوس کیا گیا۔ اگرچہ بہت سے شہروں میں اقتصادی ترقی بھی ہوئی لیکن شہریوں کے معیار زندگی کو نظر انداز کردیا گیا۔ لیکن ایک سمارٹ سٹی میں اسکو ترقی نہیں کہا جاتا۔ سمارٹ سٹی میں ایک شہر کا بنیادی ڈھانچہ اور نظام اس طرح تشکیل دینا چاہئے کہ مضبوط تکنیکی معاونت کے ساتھ شہری مسائل کیلئے جامع حل پیش کرے۔ ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ ساتھ تیسری دنیا کے ممالک بھی تیزی سے ٹیکنالوجیز کو اختیار کرکے سمارٹ شہروں کے منصوبے شروع کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر بھارت 100 نئے سمارٹ شہربنانے کا ارادہ رکھتاہے ، بھارت موجودہ شہروں کے بنیادی ڈھانچے کے اندر رہتے ہوئے ان کے ارد گرد جدید سیٹلائٹ ٹاؤن تعمیر کرے گا۔ سمارٹ شہروں کی تعمیر کیلئے بھارت کو اگلے20سالو ں میں 1.2کھرب ڈالر کی ضرورت ہے اس سے روزگار کے مواقع 10سے 15فیصد بڑھنے کا امکان ہے۔

مقامی سطح پر سمارٹ شہروں کی تعمیر

سمارٹ شہروں کا نظریہ شہروں کی ترقی کے نقطہ نظر کے تحت فروغ پایا تاکہ مختلف آئی سی ٹی اور آئی او ٹی کو ملا کر مسائل کا حل نکالا جائے اور شہریوں کو سہولیات فراہم کی جاسکیں۔ اربن یونٹ پنجاب کےچیف ایگزیکٹیو آفیسر ڈاکٹر جاوید ناصر کہتے ہیں کہ سمارٹ سٹی میں شہری سہولیات کا تصور مقامی محکموں کا معلوماتی نظام، سکولز، نقل وحمل، ہسپتال، پانی کی فراہمی کا نیٹ ورک، کوڑا کرکٹ کو ٹھکانے لگانے کا نظام، قانون نافذ کرنے والے اداروں تک محدود نہیں بلکہ ایک سمارٹ شہر کے بنانے کا مقصد سہولیات کی کارکردگی کو بہتر بنانا، مقامی باشندوں کی ضروریات کو پورا کرنا اور شہری انفارمیٹکس اینڈ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے شہریوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانا ہے۔ اربن یونٹ "سماجی طور پر مر بوط اور اقتصادی پائیدار کمیونٹیز بنانے کے لئے شہری بستیوں کی نئی تشریح" ہے۔

جاوید ناصر کا کہنا ہے کہ آئی سی ٹی کے ذریعے شہر ی انتظامیہ کے حکام کو براہ راست کمیونٹی اور شہر کے بنیادی ڈھانچے کے ساتھ اشتراک عمل کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔ اس میں دیکھا جاتا ہے کہ شہر میں کیا سرگرمیاں ہورہی ہیں، کس طرح شہر آگے بڑھ رہا ہے اور معیار زندگی کوکس طرح بہتر کیا جارہا ہے۔ اگرچہ سینسر نگرانی کے نظام کے ساتھ منسلک ہوتے ہیں ۔ اس میں ڈیٹا مختلف ٹیکنالوجی آلات سے لے کر اس کا تجزیہ کرکے انہیں استعمال میں لایا جاتا ہے۔ معلومات اور سہولیات کی فراہمی کا علم ہی نااہلی سے نپٹنے کی چابیاں ہیں۔

پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (پی آئی ٹی بی) میں ای گورننس کے ڈائریکٹر جنرل ساجد لطیف کہتے ہیں کہ سمارٹ شہر، شہری علاقے کا انتہائی ترقی یافتہ حصہ ہوتا ہے جس میں بنیادی ڈھانچہ ، پائیدار رئیل اسٹیٹ، مواصلات اور مارکیٹ کی نتیجہ خیزی ہوتی ہے۔ اس شہر میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے بنیادی ڈھانچےکے ذریعے رہائشیوں کیلئے ضروری سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ وہ کہتے ہیںکہ سمارٹ سٹیز کا تصور خودکار سینسر، نیٹ ورکس اور ڈیٹا سینٹرز تک محدود نہیں بلکہ ایک تکنیکی پلیٹ فارمہے ۔ ان کا خیال ہے کہ ایک سمارٹ شہر میں اقتصادی ترقی اور سرگرمیاں پائیدار ہوتی ہیںاور ان میں مارکیٹ کی طلب اور رسد کے باعث اضافہ ہوتا رہتا ہےاور شہریوں، کاروباری اداروں، حکومت اور ماحول سمیت سب کو فائدہ ہوتا ہے۔ سمارٹ سٹی کی ٹیکنالوجی میں جن شعبوں میں ترقی دی جاتی ہے ان میں سرکاری سہولیات، نقل و حمل اور ٹریفک کے انتظام، توانائی، صحت کی دیکھ بھال، پانی کی فراہمی ، حفظان صحت سے متعلق سرگرمیاں،زراعت اور فضلہ ٹھکانے لگانے والے شعبےشامل ہیں۔

دنیا کے بہترین سمارٹ سٹیز

سمارٹ سٹیز کے تصور کی تفصیلی وضاحت کے بعدبہتر ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ سمارٹ شہر ہونے کا ٹائٹل جیتنے والے شہروں کی مثالوں کودیکھ لیا جائے۔ ہر سال سمارٹ سٹیز کی درجہ بندی ان کے ڈیٹاکی فراہمی ، نقل و حمل کے انتظام، توانائی کی کارکردگی، سمارٹ پارکنگ ، روشنی کی سہولیات، موثر توانائی کی کھپت کی روشنی میں کی جاتی ہے۔ سمارٹ سٹی کے تصور کو مزید واضح کرنے کیلئے ان کا تجزیہ کرنا ضروری ہے جس سے ان شہروں کی افادیت اجاگر ہوگی۔ اگرچہ سمارٹ شہر کی تعمیر ابتدائی اندازے کے مطابق بہت مہنگی پڑتی ہے لیکن دیکھا جائے تو جو سہولیات سمارٹ سٹیز میں فراہم کی جاتی ہیں وہ یہاں پر اٹھنے والے اخراجات کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں۔

برطانیہ میں قائم مارکیٹ ریسرچ کی فرم جونیپر ریسرچ (Juniper Research)نے2016ء کیلئے 17مئی کو دنیا کے پانچ بہترین سمارٹ سٹیز کی فہرست شائع کی۔ اس ریسرچ کے نتائج جونیپر کے سینئر تجزیہ کار سٹیفن سورل (Stephen Sorrel)کی سربراہی میں ٹیم نے دستیاب ڈیٹا کے تجزیئے کے بعد مرتب کئے۔ انہوںنے سمارٹ سٹیز کی درج ذیل درجہ بندی کی ہے۔

1۔ سنگا پور

اس سال سنگاپور کو دنیا میں سب سے زیادہ سمارٹ شہر ہونے کا درجہ دیا گیا ہے۔ جونیپر ریسرچ کے محققین شہروںکے مختلف عناصر کی درجہ بندی کرتے ہیں جن میں سمارٹ گرڈ ٹیکنالوجیز کو اختیار کرنا، بہترین لائیٹنگ کا انتظام، ٹریفک کو منظم بنانے کیلئے انفارمیشن ٹیکنالوجی مثلاً وائی فائی، سمارٹ فونز کا استعمال شامل ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے، سمارٹ شہر میں اگر لوگ غیر مجاز علاقوں میں تمباکو نوشی کرتے ہیں یا لوگ اگر اونچی عمارتوں سے گندگی نیچے پھینک رہے ہیں تو ان کا بھی پتہ چلایا جا سکتا ہے۔ سنگاپور میں سمارٹ فونز اور براڈ بینڈ کی سہولت موجود ہے۔ ایک مقامی کمپنی سنگ ٹیل 10 جی بی پی ایس فائبر براڈبینڈ سروس فراہم کرتی ہے کہ جس سے شہری 90 سیکنڈ میں ایک دو گھنٹے کی ایچ ڈی فلم ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔

2۔ بارسلونا

بارسلونا نے ٹریفک کو منظم کرنے کیلئے مانیٹرز اور سینسر کو وسیع پیمانے پر استعمال کیا ہے۔ اس سے قبل بارسلونا کو دنیا کے سمارٹ سٹی ہونے کے حوالے سے درجہ بندی میں پہلا نمبر دیا گیا تھا۔ لیکن اس بار یہ لسٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ شہر میں ہوا کے معیار اور ٹریفک کے شور کی نگرانی کیلئے سمارٹ پارکنگ ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ سمارٹ سٹریٹ، اور سینسرز نصب ہیں۔ یہ عوامی جگہوں پر مفت وائی فائی کا جال پھیلا رہا ہے۔ سمارٹ گرڈ ، سمارٹ میٹروں کی تنصیب اور کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے منصوبوں کی وجہ سے اسے زیادہ گریڈ دیئے گئے ہیں۔ جونیپر ریسرچ کے سینئر تجزیہ کار سورل کہتے ہیں کہ شہر میں ایل ای ڈی روشنیاں استعمال کی گئی ہیں۔ بارسلونا نے خشک سالی کا مسئلہ حل کرنے کیلئے ٹیکنالوجی کو بہترین انداز میں استعمال کیا ہے جسے دنیا بھر میں سراہا گیا ہے۔ چند سال قبل شہر کا پانی ضائع ہو جاتا تھا، اب سینسرز کے ذریعے آبپاشی کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ بارش کی پیش گوئی کرنے، اس کے پانی کو محفوظ بنانے اور اسے آبپاشی کیلئے استعمال کرنے کیلئے سینسرز کو زمین پر نصب کیا گیا ہے۔

3 ۔ لندن

لندن کو ہمیشہ براڈبینڈ کی دستیابی کی وجہ سے اعلیٰ مقام دیا گیا ہے۔ اب شہر کے منصوبہ سازوں کو آبادی کی گنجان پن سے نپٹنے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نفاذ کیلئے منصوبہ بنانا ہے۔ شہر کی انتظامیہ نے گنجان پن سے نپٹنے اور پارکنگ آسان بنانے کیلئے پہلے ہی سے ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کر دیاہے۔ بہت سے دوسرے شہروں میں بھی لندن کی پیروی کی جارہی ہےاور اپنی سمارٹ پارکنگ کیلئے اسے ماڈل کے طور پر سامنے رکھا ہے۔اس سال یہ دنیا کے نقشے پر تیسرا سب سے بڑا سمارٹ شہر قرار دیا گیا ہے۔لندن نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ شہر کو سمارٹ سٹی بنانے کیلئے ڈیٹا کو عام کردے گا۔ اس سے عام شہریوں کی ڈیٹا تک رسائی ممکن ہو گی اور وہ مختلف مقاصد کیلئے اس ڈیٹا کو استعمال کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔ مثال کے طور پر لندن نے ایک اوپن ڈیٹا کی ایپلی کیشن بنائی ہے جس میں کسی شخص کے محل وقوع کا پتہ چل سکتا ہے اور معلوم کیا جاسکتا ہے کہ وہ کہاں جانا چاہتا یا چاہتی ہے۔

4۔ سان فراسسکو

سان فرانسسکو ٹیکنالوجی مرکز ہونے کی وجہ سے تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ اس سال سمارٹ سٹی کی حیثیت سے اس کی چوتھی پوزیشن ہے۔ اسے مربوط شہر ہونے کی وجہ سے شہریوں کو سینسرز کی مدد سے پارکنگ کی جگہیں تلاش کرنے میں مدد ملتی ہیں۔شہر میں انرجی اینڈ انوائرنمنٹل ڈیزائن کی سرٹیفائیڈ عمارتیں تعمیرکی گئی ہیں۔ اس شہر کی ایک مثبت بات اور ہے کہ یہاں پر ادائیگیوں کا نظام بہت اچھا ہے۔ لوگ اپنی رقوم کی آن لائن ادائیگیاں کرسکتے ہیں۔ شہر میں سمارٹ پارکنگ کی بہترین سہولیات دستیاب ہیں۔ شہر میں ایس ایف پارکنگ کا نظام 2011ء میں متعارف کروایا گیا تھا جس میں پارکنگ کیلئے سینسرز سے مدد لی جاتی ہے۔ شہرکی انتظامیہ ڈائنامک پارکنگ سسٹم کیلئے ڈیٹا کا استعمال کرتی ہے جس میں پارکنگ کی خالی یا بھری ہوئیجگہ کی نشاندہی کی جاتی ہے۔

5 ۔ اوسلو

اوسلو کو اس سال کی درجہ بندی کے مطابق دنیا میں پانچواں سب سے سمارٹ شہر قرار دیا گیا ہے۔ اس شہر میں پارکنگ کی نگرانی میں مدد کیلئے سینسر نصب ہیں۔ شہر میں بیمار اور بوڑھے مریضوں کی دیکھ بھال کو بہتر بنانے میں مدد دینے کیلئے بھی سینسر نیٹ ورک نصب ہے۔ شہر میں سمارٹ سٹریٹ لائٹنگ کا انتظام بھی کیا گیا ہے جس سے شہر میں بجلی کی کھپت میں دو تہائی کمی آگئی ہے۔

ٹیکنالوجیز کا نفاذ

ایک سمارٹ شہر کا تصور اس کی ترقی کی سطح، تبدیلی پر آمادگی ، اصلاحات، وسائل اور شہر کے رہائشیوں کی خواہشات پر منحصر ہے۔ ساجد لطیف کہتے ہیں کہ ایک شہر اسی وقت سمارٹ ہو سکتا ہے جب ٹیکنالوجی کے تمام عناصر اس میں موجود ہوں اور یہ کام کارپوریٹ سیکٹر ہی کے تعاون سے ممکن ہے۔ سمارٹ سٹی کیلئے نہایت ترقی یافتہ ٹیکنالوجی کی ضروت پڑتی ہے۔ سمارٹ سٹی کی تعمیر کیلئے تمام تکنیکی وسائل باہر سے منگوانے کی بجائے بہتر ہے کہ انہیں شہر ہی میں فروغ دیا جائے۔ ساجد لطیف کہتے ہیں کہ سمارٹ سٹی کیلئے درج ذیل بنیادی عناصر ہونے چاہئیں۔
1۔ پانی کی فراہمی کی سہولت
2 ۔ یقینی بجلی کی فراہمی کی سہولت
3۔ صحت و صفائی، کوڑا کرکٹ ٹھکانے لگانے کا نظام
4۔ موثر شہری نقل و حرکت اور پبلک ٹرانسپورٹ
5۔ سستی رہائش، خاص طور پر غریبوں کے لئے
6۔ مضبوط آئی ٹی مربوط اور ڈیجیٹل نظام
7۔ ای گورننس اور شہری شرکت میں اچھا اسلوب حکمرانی
8۔ پائیدار ماحول
9۔ شہریوں، بزرگوں خاص طور پر خواتین، بچوں کی سلامتی اور حفاظت
10۔ صحت اور تعلیم

ان مقاصد کے حصول کے لئےسمارٹ سٹی کو سازگار ماحول، تکنیکی ترقی، براڈبینڈ کنیکٹیویٹی، ایک معاون معاشی نظام، ہائی ٹیک آلات، عوام کے ساتھ اہم ڈیٹا کا اشتراک کرنے کیلئے ایک سیاسی عزم کی ضرورت ہے۔ عالمی سطح پر سافٹ وئیر کی سہولیات فراہم کرنے والے ادارے ایسچر (Escher)کا کہنا ہے کہ سمارٹ سٹیز کیلئے پانچ لوازمات ضروری ہیں۔ ان میں براڈبینڈ نیٹ ورکس کا فروغ، سمارٹ آلات اور ایجنٹس، شہری علاقوں میں سمارٹ مقامات قائم کرنا، ویب پر مبنی ایپلی کیشنز اور ای سروسز کی فراہمی اور آخر میں سرکاری ڈیٹا کو عوام کیلئے کھولنا شامل ہے۔

پاکستان میں سمارٹ سٹی کا تصور

فی الوقت پاکستان میں سمارٹ سٹی کا تصور بالکل نیا ہے۔ جبکہ یہاں پر یہ بھی معلوم نہیں کہ اصل میں سمارٹ سٹی کا مطلب کیا ہے؟ مزید برآںیہاں پر ماحول کا معاون نظام، لیڈر شپ، ادارہ جاتی تنظیم اور رائے عامہ کو مکمل طور پر متحرک نہیں کیا جاتا۔ پاکستان میں 2030ء تک شہری آبادی کی موجودہ شرح 45فیصد سے بڑھ کر 60فیصد ہوجائے گی۔ فی الوقت پاکستان میں دس لاکھ سے زیادہ کی آبادی والے 9شہر ہیں جبکہ ایک لاکھ سے 10لاکھ کی آبادی والے 75شہر ہیں۔ پاکستان کے شہر قومی آمدنی کا 78فیصد حصہ ڈال رہے ہیں۔ لہذاشہری نظام اور ٹیکنالوجیز کو بہتر کرنے کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے تاکہ شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کی جاسکیں۔

ادارہ ماحولیات وترقی میں "پائیدار شہروں "کے منصوبے کے سربراہ ارشد رفیق کہتے ہیں کہ ترقی پذیر ممالک کو آسانی سے دستیاب سب سے زیادہ ذہین ٹیکنالوجیز میں سیٹلائٹ کی بنیاد پر موبائل ٹیکنالوجی اور جیوگرافک انفارمیشن سسٹمز (GIS) ہیں۔ وہ کہتے ہیں پاکستان میں سب سے بڑی موبائل فون سروس موجودہ ہے۔ اس کی طاقت کو ملک میں سمارٹ شہروں کے تصور کو فروغ دینے کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ شہروں کے درمیان بہتر رابطے اور سمارٹ ٹیکنالوجی متعارف کرانے کیلئے سسکو (Cisco)اور گوگل کی طرح ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں سے ہاتھ ملایا گیا ہے تاہم انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ پاکستان میں ٹیکنالوجی میں تبدیلی سے بے روزگاری ، لوگوں کی آمدن کے تفاوت میں اضافہ ، سماجی تبدیلی آسکتی ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے ہمیں معاشی نظام میں ملازمتیں فراہم کرنے کی ضرورت ہے اس کیلئے مینوفیکچرنگ اور زراعت پر خصوصی توجہ دینا ہو گی۔انہی تحفظات کے پیش نظر ہمارے ہمسایہ ملک بھارت نے اپنے سمارٹ شہروں کے پروگرام کو معاشی ترقی اور سماجی شمولیت سے ہم آہنگ کرتے ہوئے اسے ٹیکنالوجی کے استعمال سے مشروط کیا ہے۔

سمارٹ شہروں میں بنیادی ڈھانچے کی تشکیل میں حکومت کا کردار

پاکستان ویژن 2025ء کے تحت وفاقی حکومت کا ویژن چیمپئنز پروگرام سمارٹ گورننس کی سمت میں ایک قدم ہے جہاں پر قائدانہ صلاحیتوں کے حامل افراد کو کمیونٹی کی بنیاد پر ضلعی، صوبائی اور وفاقی سطح سے منتخب کیا جائے گا جنہیں پیشہ ور افراد کے ایک نیٹ ورک میں شامل کیا جائے گا ، جوموجودہ شہر کے انتظام کے ماڈل کو بہتر بنانے میں معاونت کریں گے۔ سرکاری شعبے میں شہری معیار زندگی کو بہتر بنانے کا منصوبہ یوران (URAN)کہلاتا ہے جو تکمیل کے مراحل میں ہے۔ اس کے علاوہ ویژن-2025ء پاکستان میں سمارٹ شہروں کے تصور کو اس طرح اپنایا گیا ہے کہ شہرمیں بڑھتی ہوئی آبادی کی پیچیدگی اور علم کی طلب کو پورا کیا جائے، عوامی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے ، شہروں میں ٹریفک کے پیٹرن کو سمجھا جائے ، آلودگی ، جرائم کو کم کرنے ، پارکنگ کیلئے خالی جگہیں اور پانی اور بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ ہمارے شہروں کو سمارٹ سٹی بنانے کیلئے فوری طور پر وسیع مقدار میں ڈیٹا سے لیس کیا جانا چاہیے۔ پاکستان ویژن 2025ء کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ پاکستان کے شہر ڈیجیٹلی آپس میں اک دوسرے سے منسلک ہیں، وائر لیس نیٹ ورک سینسرز نصب ہیں اور ملک کے ہر کونے میں الیکٹرانک رابطہ موجود ہے تاکہ آزادانہ معلومات کا بہاؤ ممکن ہو سکے۔

پاکستان میں سمارٹ شہروں کی تشکیل کی راہ میں حائل چیلنجز

ڈاکٹر جاوید ناصر ملک کہتے ہیں کہ ملک میں سمارٹ شہروں کی ترقی کی راہ میں کچھ چیلنج اور رکاوٹیں حائل ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سمارٹ شہروں کی طرف منتقلی کیلئے بھاری بجٹ کی ضرورت ہے اس کے علاوہ مہنگی ٹیکنالوجی استعمال کرنا پڑے گی۔ اگرچہ موجودہ بنیادی ڈھانچے جیسے ٹرانسپورٹ، صحت اور تعلیم میں بہتری آئی ہے لیکن اب بھی شہر کو مربوط نظام سے منسلک کرنا باقی ہے۔ وہ کہتے ہیں سمارٹ شہر کے منصوبوں کو آگے بڑھانےاور انتظامی ڈھانچے کی تشکیل کیلئے اہم ادارے کا فقدان ہے ۔ سمارٹ شہر کی راہ میں حائل دیگر عناصر میں سمارٹ سٹی کے منصوبوں کیلئے عمومی آگاہی ،پاکستان کی سماجی و سیاسی تناظر میں سمارٹ شہروں کےصحیح ماڈل پر اتفاق رائے کی کمی ، معاشرتی سطح پر عوامی قبولیت، معیار زندگی، پائیداری، وسائل کی فراہمی کا ماحول، دیگر شہری منصوبوں کے ساتھ اشتراک عمل کی کمی، صوبائی اور مقامی سطح کے منصوبوں سے ہم آہنگ روڈ میپ پر عمل کے فقدان اور اسمارٹ سٹیز پروگرام کے پیمانے، فنڈز کی فراہمی کی حکمت عملی، پروگرام ڈیزائن، ادارہ جاتی انتظامات اور ٹیکنالوجی کی بنیاد پر اصلاحات سمارٹ شہر کی تبدیلی کیلئے صلاحیت کی کمی شامل ہیں۔

مختلف صوبوں میں سمارٹ شہروں کے اقدامات

صوبہ سندھ نے 2015ء میں امریکہ،چین اور عرب امارات کے ساتھ کراچی کو سمارٹ سٹی بنانے کیلئے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے۔ یہ ممالک کراچی میں شمسی توانائی سے چلنے والی سٹریٹ لائیٹس، کلوز سرکٹس کیمرے اور فری وائی فائی کی سہولت فراہم کریں گے۔ خیبر پختونخواہ کی حکومت بھی محفوظ اور سمارٹ سٹی منصوبے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ منصوبے کو پشاور کی وادی اور پانچ اضلاع پر مشتمل وسطی پٹی بشمول پشاور، نوشہرہ، مردان، چارسدہ، صوابی سمیت دہشت گردی سے متاثر علاقوں تک توسیع دی جائے گی۔ خیبر پختونخوا میں آئی سی ٹی پر مشتمل دیگرمنصوبوں میں سٹیزن پورٹل، وزیر اعلیٰ شکایت سیل، آن لائین ایف آئی آر رجسٹریشن، سرکاری یونیورسٹیوں میں آن لائن داخلہ فارم اور آن لائن ڈرائیونگ لائسنس شامل ہیں۔ صحت کے شعبے میں خودمختار نگرانی کا یونٹ قائم کیا گیا ہے جو صحت کی سہولتوں کی فراہمی اور سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات کو بہتر بنانے کاذمہ دار ہو گا۔

صوبہ پنجاب میں آئی سی ٹی کی بنیاد پر شاید سب سے زیادہ منصوبے شروع کئے گئے ہیں پنجاب میں پی آئی ٹی بی کی شکل میں مضبوط ادارہ قائم ہے جسے وفاقی ایجنسیوں کا تعاون بھی حاصل ہے۔ پنجاب میں اگرچہ مجموعی طور پر سمارٹ سٹی کا منصوبہ شروع نہیں کیا گیا لیکن شہر کی سہولیات کے مختلف پہلوؤں میں بہتری آئی ہے اور آئی سی ٹی کا پلیٹ فارم استعمال کرکے سہولیات کو بہتر بنایا گیا ہے۔ پنجاب سیف سٹی اتھارٹی اس سمت میں ایک بڑا قدم ہے جس کے تحت ترقی اور آئی سی ٹی کے بہت سے پروگرام متعارف کروائے گئے ہیں۔ آئی ٹی کی بنیاد پر جیوگرافک انفارمیشن سسٹم (جی آئی ایس )کی سہولیات اور زمینوں کے ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن کی سہولت فراہم کی جارہی ہیں۔ پنجاب میں جامع اور مستند ڈیٹا بیس موجود ہے جس سے بہت سی شہری سہولیات کی فراہمی میں مدد لی جاسکتی ہے۔ بعض دیگر اقدامات وغیرہ اسکولوں کے سمارٹ مانیٹرنگ، خودکار کاؤنٹر ، ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ، انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن میں آن لائن داخلہ سسٹم، کرائم میپنگ، ڈومی سائل مینجمنٹ سسٹم اور ڈرائیونگ لائسنس سسٹم شامل ہیں۔

سمارٹ منصوبے کی مثال پی آئی ٹی بی کے زیر اہتمام ڈینگی ایکٹی ویٹی ٹریکنگ سسٹم ہے جس سے حالیہ سالوں میں بیماریوں کے پھیلاؤ کا پتہ چلانے کا نظام مضبوط ہوا۔ اسی طرح خیبر پختونخواہ میں سٹیزن پورٹل سے حکومتی سہولیات کو یقینی بنایا گیا ہے جسے مختلف حلقوں کی طرف سے سراہا گیا ہے۔ اگرچہ صوبے ویب سائیٹس پر اپنی کامیابیوں کی کہانیاں بیان کرتے رہتے ہیں لیکن ایک ان کی کارکردگی کے بارے میں آزادانہ سروے بھی کرایا جانا چاہئے جس میں حکومت کی کارکردگی، شفافیت اور شہریوں کو فراہم کی جانے والی سہولتوں کا پتہ چل سکے۔

ساجد لطیف کے مطابق دنیا بھر کے شہر جدید بنیادی ڈھانچے، نقل و حمل، ٹریفک کا نظام، شہری ترقی اور جدید طریقوں سے شہری سہولیات کی فراہمی سمیت زندگی کے مختلف شعبوں میں ترقی کے ساتھ زیادہ سے زیادہ سمارٹ بننے کیلئے تیار ہیں۔ تاہم وہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں ایک جدید شہر کا تصور ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، اگرچہ پاکستان کےپاس خطے میں آئی ٹی کا بہترین ڈھانچہ ہے، اس کے ساتھ ماحول اور جدید نظام کے اشتراک سے شہر کو جدید تر بنایا جاسکتا ہے۔ اس وقت بڑے شہروں کی ضروریات کی نشاندہی کی جا رہی ہیں اورسمارٹ شہر کے ایک تصورکے تحت مختلف محکموں میں بہت سے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔

پنجاب میں پی آئی ٹی بی،شہر کے اہم علاقوں میں وائی فائی کی سہولت فراہم کررہا ہے جن میں12 پارکس، 17 مارکیٹیں، میٹرو بس سٹیشن اور 20 کالج اور یونیورسٹیاں، ریلوے اسٹیشن اور ہوائی اڈے بھی شامل ہیں۔ میٹرو بس سسٹم کے لئےجدید ای ٹکٹنگ بھی عوام کو ٹیکنالوجی کی مدد سے سہولت کی فراہمی اہم قدم ہے۔لاہور اور دیگر شہروں میں پنجاب پولیس انٹیگریٹڈ کمانڈ کنٹرول اینڈ کمیونیکیشن سنٹر کا قیام ایک بہت بڑا قدم ہے۔ جس کے تحت شہریوں کو جدید ٹولز اور ٹیکنالوجی کی مدد سے تحفظ اور سلامتی فراہم کرنا ہے۔

لاہور کو بھی میٹرو بس سروس اور اورنج لائن ٹرین کی طرح جدید سفری سہولیات سے لیس کیا جا رہا ہے۔ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے تعاون سےتمام ڈویژنل ہیڈ کواٹرز میں شہری سہولت مراکز کے طور پر سٹیٹ آف دی آرٹ ای خدمت مرکز قائم کئے گئے ہیں۔ پی آئی ٹی بی نے پنجاب میں پولیس کے تمام نظام کو خود کار کردیا ہے۔ پی آئی ٹی بی نے جرائم کی نشاندہی، تحقیقات اور تفتیش کیلئے جدید آلات اور ٹیکنالوجی کی فراہمی کو بھی ممکن بنایا ہے۔

تحریر: شہزادہ عرفان احمد (Shahzada Irfan Ahmed)

Read in English

Authors
Top