Global Editions

فِن ٹیک کی حقیقت۔۔۔

کچھ عرصہ قبل جیسے ہی یہ خبر منظر عام پر آئی کہ ایک پاکستانی کمپنی نے اپنے ایک منصوبے کے لئے لاکھوں ڈالر مالیت کی غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کی ہے تو اس وقت سے ہی وہ نئی کمپنی جس کا نام Finja ہے،اُس نے مقبولیت حاصل کر لی۔ تاہم اس خبر کے منظر عام پر آنے کے بعد کمپنی کے مالکان نے جتنے بھی انٹرویوز دئیے یا اس کمپنی کے بارے میں جتنے بھی مضامین شائع ہوئے اس سے یہ حقیقت آشکار نہیں ہو سکی کہ حقیقت میں یہ کمپنی کیا کرنے جا رہی ہے یعنی واضح نہیں ہو سکا کہ کمپنی کس میدان میں اور کس طرح اپنی خدمات سرانجام دے گی۔

ابھی بھی کمپنی کے بانیوں میں سے ایک کاشف شاہد اس معاملے پر اظہار خیال کرنے میں آمادہ نظر نہیں آتے۔ ان کا یہ ماننا ہے کہ Finja کے بارے میں جاننے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ عوام الناس پہلے فن ٹیک FinTech کو سمجھیں، کیونکہ فن ٹیک کو سمجھے بغیر فنجا کے اغراض و مقاصد پر روشنی نہیں ڈالی جا سکتی تاہم ان کے بیان سے یہ تو واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ فنجا حقیقت میں ایک FinTech ہے۔

فن ٹیک درحقیقت فنانشل ٹیکنالوجی کا مخفف ہے ۔ اس لحاظ سے فنانشل ٹیکنالوجی ایسی ٹیکنالوجی کا نام ہے جس کا مقصد کاروباری یا معاشی معاملات اور اس میدان میں دی جانیوالی خدمات کو زیادہ موثر انداز میں فراہم کیا جائے۔ یہ ٹیکنالوجی پہلے سے موجود پلیٹ فارمز جن میں سمارٹ فونز اور دیگر ڈیوائسز شامل ہیں اُن کو زیراستعمال لاتی ہے۔ فن ٹیک کے لئے اینڈرائیڈ یا ٓآئی فون کے پلیٹ فارم استعمال کئے جا سکتے ہیں۔ یہ وہ پہلا سراغ ہے جس کی مدد سے اس امر کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ فنجا حقیقت میں کیسی خدمات سرانجام دینے والی ہے۔ اس حوالے سے کاشف شاہد کا کہنا تھا کہ سمارٹ فونز یا دیگر ڈیوائسز کے لئے تیار کئے جانیوالے پلیٹ فارمز ایجادات کے لئے تیار نہیں کئے گئے بلکہ یہ پلیٹ فارمز سمارٹ فونز اور دیگر ڈیوائسز میں موجود مختلف ایپلی کیشنز کو چلانے کے لئے تیار کئے گئے ہیں۔ اس بات کو اس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ مختلف کمرشل بنک اپنے کھاتوں کے لئے مختلف پلیٹ فارمز تیار کرتے ہیں تاہم یہ پلیٹ فارمز کسی شخص کی جان بچانے یا کوئی کو نئی ایجاد کے لئے استعمال نہیں ہو سکتے اور نہ ہی یہ پلیٹ فارم بنک کے ہزارورں غیرمطمئن کھاتہ داروں کو بنک کی خدمات سے مطمئن کر سکتے ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے فن ٹیک کی خدمات کا آغاز ہوتا ہے اور یہ ہی جدت کا آغاز ہے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ پاکستان جیسے تیسری دنیا کے ممالک میں جہاں آبادی کی بہت بڑی شرح فنانشل سروسز کے دائرے سے ہی باہر ہے فن ٹیک کے لئے موزوں ہے تاہم اس حوالے سے مواقع بہت محدود ہیں۔ اس حوالے سے کاشف شاہد کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں قائم فن ٹیک کمپنیاں اب تیزی سے ابھرتی اس مارکیٹ پر نظریں گاڑے ہوئے ہیں یعنی وہ فنانشل سروسز کا دائرہ ان لوگوں تک بڑھانا چاہتے ہیں جو ابھی تک فنانشل سروسز کے دائرے میں نہیں آئے اور یہی وہ وقت ہے جب مقامی نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو آگے بڑھنا چاہیے اور اس میدان میں موجود خلاء کو پر کرنا چاہیے اور اس کام کے لئے آئندہ تین چار برس نہایت اہم ہیں۔

فن ٹیک کے بارے میں اب تک دستیاب معلومات یا بنیادی خدوخال سے آپ کو آگاہ کیا جا چکا ہے تاہم ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ فنجا حقیقت میں فن ٹیک کی مدد سے کیا کرنے جا رہی ہے؟

مختصر طور پر کاشف شاہد کا یہ کہنا تھا کہ فنجا سمارٹ فونز کے ذریعے فنانشل سروسز کو ڈیجیٹلائز کرنے جا رہی ہے۔ بینکاری کا روایتی طریقہ کار ڈیجیٹل اور اینالوگ سسٹم کا مرکب ہے اور اسی وجہ سے اس سسٹم کی چند حدود ہیں اور اگر آپ حقیقی ڈیجیٹلائزایشن کے فوائد سے استفادہ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو اس کا دائرہ کار بڑھانا ہو گا تاکہ اس کے ثمرات حقیقی طور پر گراس روٹ لیول تک پہنچیں اور یہ سمارٹ فونز کے ذریعے ہی ممکن ہے کیونکہ آج کے دور میں اکثریت سمارٹ فونز کو استعمال کرتی ہے۔

اس حوالے سے سال 2016 ءمیں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کی جانب سے جاری کئے جانیوالے اعدادوشمار میں بھی اس امر کی تصدیق ہوتی ہے کہ پاکستان میں سمارٹ فون استعمال کرنے والوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے اور اضافے کا یہ تسلسل جاری ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی مجموعی آبادی میں سے 128 ملین افراد سیل فون استعمال کرتے ہیں اور ان میں سے 25 ملین افراد تھری اور فور جی سروسز سے استفادہ حاصل کرتے ہیں یا اس کے استعمال کنندہ ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ صرف دسمبر سے جنوری تک تھری اور فور جی سروسز استعمال کرنے والوں کی شرح میں 6.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہواکہ پاکستانی شہریوں میں ڈیٹا سروسز کے استعمال کا رحجان بڑھ رہا ہے۔ اب سمارٹ فونز کے استعمال کنندگان کے اجتماعی رویے کو سمارٹ فونز کے ذریعے فنانس کی خدمات حاصل کرنے پر آمادہ کرنا ہو گا۔

فنجا سے متعلق لوگ انہی خطوط پر سوچ رہے ہیں۔ اب یہ لوگ خواندہ شخص کی نئی تعریف تیار کر رہے ہیں ان کے مطابق صرف وہ شخص خواندہ نہیں جو اپنا نام لکھ سکے یا دس تک گنتی گن سکے بلکہ خواندہ شخص وہ بھی ہے جو کسی ڈیوائس کو آپریٹ کر سکے اور آن لائن کام کر سکے۔ تاہم ایسے تمام منصوبوں میں خطرات کے امکانات بھی موجود ہوتے ہیں اور ریاست کے ادارے ایسے خطرات سے نمٹنے کا کام کرتے ہیں۔ اس حوالے سے الفلاح برانچ لیس بینکنگ سے شعبے کے سربراہ عمار نوید کا کہنا ہے کہ کسی نہ کسی حد تک فنجا کو اپنے منصوبوں میں پائے جانیوالے رسک فیکٹرز سے نمٹنا ہوگا اور وہ ایسا کر سکتے ہیں کیونکہ وہ ایک بہت ہی اچھی ساکھ کے حامل مائیکرو فنانس بنک سے منسلک ہیں تاہم دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کی اپر مڈل کلاس کس طرح ایسی سروسز پر ردعمل ظاہر کرتی ہے۔

Qasif-Shahid

فنجا کے پاس ایسے رسک فیکٹرز سے نمٹنے کےلئے بھی پلان موجود ہے۔ ان کی جانب سے تیار کی جانیوالی ایپلی کیشن کے دو ماڈل ہیں ایک ماڈل اپر کلاس کے لئے اور دوسرا باقی تمام طبقات کے لئے۔ اور اس مرحلے میں ایپلی کیشن میں وجدانی قوت کا ہونا ضروری ہے تاکہ ملک کے دیہی علاقوں میں بسنے والی اکثریت اس کو قبول کر لے۔ اس حوالے سے کاشف شاہد کا کہنا تھا کہ دیہی آبادی میں بسنے والوں کو فنجا کا والٹ استعمال کرنے پر آمادہ کرنا نہایت مشکل ہے کیونکہ اگر ہم اس سے کہیں گے کہ وہ اس ایپلی کیشن کو استعمال کرے تو وہ اس سے گریز کریگا تاہم اگر اس کےعلاقے کا چودھری یا اس کا زمیندار اس سے ان سروسز کو استعمال کرنے کی ہدایت کرے تو ممکن ہے کہ وہ ان سروسز کے استعمال پر آمادہ ہو جائے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فنجا کیسی سروسز فراہم کرنے جا رہی ہے؟ کیا وہ نامکمل ضروریات کی تکمیل کرنے جا رہی ہے یا وہ ایک فرد یا ادارے سے دوسرے فرد یا ادارے تک رابطے کے لئے سیٹرھی بننے جا رہی ہے؟

اس حوالے سے عمار نوید کا کہنا تھا کہ جاری عمل میں تبدیلی لانے کی کوشش ویسے ہی بہت چیلنجنگ ہوتی ہے۔ آپ ایزی پیسہ کی مثال لیجئے اب ایجنٹ اور صارف کے درمیان ذاتی رشتہ ترویج پا چکا ہے اور جب اس اچھوتے خیال کو لانچ کیا گیا تھا تو اس کو فوری عوامی قبولیت حاصل نہیں ہوئی تھی کہ آپ کسی دوسرے شہر سے پیسے بھجوائیں اور اپنے سیل فون میں وصول ہونے والا کوڈ نمبر دکھا کر ایجنٹ سے پیسے وصول کر لیں۔ اور اب چونکہ صارف اور ایجنٹ کے درمیان دوستی کا ذاتی تعلق بھی پیدا ہو چکا ہے تو ممکن ہے ایجنٹ یا صارف پیسے بھیجنے یا وصول کرتے وقت ایک دوسرے کی تواضع مشروبات سے بھی کرتے ہوں۔ اسی طرح فنجا بھی ایک مکمل ڈیجیٹل ماحول کی تشکیل چاہتی ہے اور اس حوالے سے وہ صارفین کو تیار کرنا چاہتی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فنجا کی جانب سے فنانشل ڈیجیٹل لٹریسی کو صارفین کے اجتماعی رویوں کی مناسبت سے کس طرح سمارٹ فونز کے ذریعے بروئے کار لائے گی۔ عمار نوید کا ماننا ہے کہ فنجا کی اس کاوش کو بنظر غائر دیکھنا ہو گا۔

اس حوالے سے فنجا سے وابستہ افراد ایسے سوالات کا سیدھا جواب دینے کے بجائے توجہ سماجی رابطے کی مختلف ایپلی کیشنز جن میں واٹس ایپ، فیس بک یا سکائپ کی جانب توجہ مبٓذول کراتے ہیں تاکہ جائزہ لیا جا سکے کہ یہ ادارے صارفین کو کیسی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ اور استعمال کنندہ کو اس پر کوئی پیسہ ٓخرچ نہیں کرنا پڑتا اسی طرح خیال ظاہر کیا جا سکتا ہے کہ فنجا اور اس کے استعمال کنندگان کے درمیان بھی ایسا ہی تعلق قائم کرنے کی کوشش کی جائیگی۔

فنجا سمارٹ فونز کے ذریعے فنانشل خدمات فراہم کریگی تاہم پاکستانی عوام کے عمومی رحجانات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ امکان ظاہر کیا جا سکتا ہے کہ صارفین کی اکثریت زیادہ تر بینکنگ کے روایتی انداز کو ہی برقرار رکھنا پسند کریگی۔ انسانی رویوں میں موجود پرانی عادات چند لمحوں میں تبدیل نہیں ہوتیں اس کے لئے وقت درکار ہوتا ہے، مستقل تبدیلی اچانک نہیں آ جاتی اور فنجا سے وابستہ افراد اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں۔ اس حوالے کاشف کا کہنا تھا کہ ہم اپنی جدوجہد کے لئے تیار ہیں۔

تحریر: عاصم ظفر خان (Aasim Zafar Khan)

Read in English

Authors

*

Top