Global Editions

ایک زیادہ بامقصد اور ذہین مستقبل کو ممکن بنانے کے لیے انسانیت کو یکجا کرنا پڑے گا

TEDXDU

ماضی میں ہم نے اپنے آپس کے تعلق مزيد گہرے کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کا سہارا لینے کی کوشش کی، لیکن ہمیں اس مقصد میں کچھ خاص کامیابی نہيں ہوئی۔ اسی لیے انسانوں پر مرکوز ڈیزائن کی مدد سے معنی خیز تعلقات کے قیام نو میں مستقبل کی کمیونٹیز کا بہت بڑا ہاتھ ہوسکتا ہے۔

بوما گلوبل (Boma Global) کی سی ای او لارا سٹائن (Lara Stein) نے ماضی میں ٹیڈ ایکس (TEDx) کانفرنسز کے عالمی نیٹورک کی سربراہی، وومینز مارچ گلوبل (Women’s March Global)، اور سنگولیرٹی یونیورسٹی (Singularity University) کی عالمی سطح پر توسیع میں کلیدی کردار ادا کرکے کمیونٹیز کی تخلیق میں بہت تجربہ حاصل کیا ہے۔ ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو پاکستان کی مینیجنگ ایڈيٹر اریج مہدی نے مستقبل کی کمیونٹیز کے متعلق لارا کی رائے جاننے کے لیے ان کے ساتھ گفتگو کی۔

آپ کے خیال میں ”مستقبل کی کمیونٹی“ کیسی ہوگی؟

میرا خیال ہے کہ مستقبل کی کمیونٹی ایک غیرمرکزی لچک دار ابھرتی ہوئی کمیونٹی ہوگی جو ایک جیسی اقدار رکھنے والے اور ٹیکنالوجی کا احترام کرنے والے افراد پر مشتمل ہوگی، جنہیں یہ بات اچھے سے معلوم ہوگی کہ ماضی کے مسائل حل کرنے کے لیے جن طریقوں کا استعمال کیا جاتا رہا ہے، وہ شاید آگے چل کر کارآمد ثابت نہيں ہوں گے۔ وہ مقامی سطح پر ایک دوسرے کے درمیان فرق کا احترام کریں گے اور مشکل موضوعات کے متعلق گفتگو سننے اور اسے آگے بڑھانے کے لیے لچک دار طریقوں سے مل بیٹھنے کے لیے تیار ہوں گے۔

لوگوں کو آپس کے تعلقات مزید گہرے کرنے ہوں گے۔ ہم سب ہی آخرکار انسان ہيں، اور دوسروں کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ہم زوم پر کتنا بھی وقت گزار لیں، ہمیں کبھی نہ کبھی تنہائی کا احساس ضرور ہوتا ہے۔ تو ہم ایک معنی خیز انداز میں ایک دوسرے کے ساتھ کس طرح گھل مل سکتے ہيں؟

 ہم نے پچھلے 20 سالوں میں ایک دوسرے سے تعلقات قائم کرنے کے لیے ٹیکنالوجی پر انحصار کیا ہے، لیکن ہمیں اس سے وہ سب کچھ نہيں ملا جس کی ہمیں ضرورت تھی۔ اس کی سب سے اچھی مثال خودکشی، ڈپریشن، اور منشیات کے استعمال کے اضافے میں نظر آتی ہے۔ اس کی وجہ یہ نہيں ہے کہ ہمیں فیس بک، سنیپ چیٹ، واٹس ایپ وغیرہ کے ذریعے تعلقات قائم کرنا اچھا لگتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم ابھی تک یہی سمجھنے کی کوشش کررہے ہيں کہ ایک ایسے وقت میں جب ٹیکنالوجی ہماری زندگی پر اس قدر چھائی ہوئی ہے، انسان ہونے کا مطلب کیا ہے؟ اسی لیے میرا خیال ہے کہ جب ہم مستقبل کی کمیونٹیاں ڈیزائن کریں گے تو انسانیت اور انسانوں پر مرکوز ڈیزائن کو واپس لانے کی اشد ضرورت ہوگی۔

ایک ذہین اور پائیدار مستقبل کو کس طرح ڈیزائن کیا جاسکتا ہے؟

ہمارے روایتی نظام، چاہے انہیں حکومت نے عملدرآمد کیا ہو یا کارپوریشنز نے، ایک تو بہت فرسودہ ہیں، اور دوسری بات یہ ہے کہ انہيں اس طرح سے تیار کیا گيا ہے کہ اوپر کی سطح پر کام کرنے والے افراد احکامات جاری کرتے ہيں اور نیچے کی سطح پر موجود لوگ ان پر عمل کرتے ہيں۔ اس قسم کے نظام ماضی میں تو بہت کامیاب ثابت ہوئے، لیکن یہ ہمارے پائیدار اور منصفانہ مستقبل کے لیے موزوں نہيں رہے۔

ہمیں نئے نظام اور تخلیق، فیصلہ سازی اور اقدام کرنے کے نئے طریقے ڈھونڈنے اور تشکیل دینے کی ضرورت ہے      ، اور بوما نیٹورک بھی اسی طرح کی ایک کوشش ہے۔ اس وقت بوما آٹھ ممالک میں قائم کیا چاجکا ہے، اور امید ہے کہ اس سال کے اختتام تک ہم 14 ممالک میں کام کررہے ہوں گے۔ ہمارے یہ تمام پارٹنرز ایسی تقریبات کا اہتمام کررہے ہیں جن کے ذریعے دنیا کے بڑے بڑے چیلنجز پر کام ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ، ہماری اوپن سورس کمیونٹی پوری دنیا میں پھیلی ہوئے ہے، اور ان ممالک میں جہاں حد سے زیادہ تفریق نظر آرہی ہے، وہاں مباحثوں کے اہتمام کے حوالے سے بوما کے اصول عملدرآمد کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ اسی لیے ہمیں اپنے مخصوص مسائل کو آگے بڑھانے کے لیے احترام کی بنیاد پر مباحثوں اور مکالموں کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرنے کے لیے مل جل کر کام کرنا چاہیے۔

بوما کے اہداف کیا ہيں؟

ہمارا ہدف مشکل مکالموں کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرنے کے علاوہ اقدام کرنا بھی ہے، اور یہ سب ٹیکنالوجی کی تیزی سے تبدیل ہونے والی شکل میں نظر آرہا ہے۔ ہم ان مشکل مکالموں سے ایک قدم آگے چلنا چاہتے ہيں۔ ہم یہ سمجھنا چاہتے ہيں کہ مستقبل کے ٹیکنالوجی یونی کارنز، مستقبل کے مارک زکربرگ، کو ان مشکل عالمی اور مقامی اختلافی مباحثوں میں حصہ لینے اور ان سے آگے رہنے کے لیے ضروری آگاہی کس طرح فراہم کی جاسکتی ہے۔ اس تیزی ے بدلتی دنیا میں اس سب کا کیا مطلب ہے؟ ہم ٹیکنالوجی کے ممکنہ نتائج کے متعلق مباحثوں کے لیے پلیٹ فارم تو فراہم کرنا چاہتے ہيں، لیکن ساتھ ہی ہم ان سٹارٹ اپس کی بھی نشاندہی کرنا چاہتے ہيں جو ایک زیادہ پائیدار مستقبل پر کام کررہے ہيں تاکہ ہم انہیں ایک ذمہ دار ادارے  کی شکل میں ڈھال سکیں۔

ٹیڈ ایکس بوما کے متعلق فیصلے کرنے اور نئے  مواقع پیدا کرنے کے سلسلے میں آپ کے لیے کس حد تک معاون ثابت ہوا؟

عالمی ٹیڈ ایکس تحریک کی وجہ سے میرا مقامی صلاحیتوں اور مقامی انوویشن پر یقین پختہ ہوگیا اور مجھے یہ بات سمجھ آئی کہ موقع ملنے پر دنیا کی ہر کمیونٹی اپنے مسائل دوسروں سے بہتر سمجھ سکتی ہے اور انہيں بہتر طور پر حل کرسکتی ہے۔ میں نے کئی بار دیکھا ہے کہ صرف اوپر سے احکامات جاری کرنے سے اکثر و بیشتر مسائل حل نہيں ہوتے، بلکہ الٹا پیسہ ہی برباد ہوتا ہے۔ ہم ایسی کسی تحریک کی نشاندہی کس طرح کرسکتے ہیں جو مقامی انوویشن کو اس طرح معاونت فراہم کرے کہ اس سے مقامی مسائل حل ہوسکیں؟

ترقی یافتہ ممالک کو ایسی کئی سہولیت تک رسائی حاصل ہے جن سے دنیا کے بیشتر ممالک محروم ہیں۔ اس فرق کو دور کرنے کے لیے پروگرامز کس طرح تیار کیے جاسکتے ہیں؟

بوما میں ہم تمام کمیونٹیز کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں، لیکن ہم اس بات سے اچھی طرح واقف ہيں کہ اس وقت ایسی کمیونٹیز موجود ہيں جن کے پاس وہ ٹیکنالوجی یا وہ سہولیات نہيں ہیں جو مغربی ممالک کو میسر ہیں۔ لیکن ساتھ ہی ہم اس بات کا بھی اعتراف کرتے ہيں کہ ٹیکنالوجی لوگوں کے درمیان تعلقات قائم کرنے کا بہت طاقتور طریقہ ہے اور اگر سہولیات سے محروم افراد کے درمیات تعلق قائم کرنا ممکن ہوجائے تو دنیا بدلی جاسکتی ہے۔ لیکن اس وقت ان کی ثقافت، ان کی شناخت، ان کے ملک کا احترام کرنے اور اس سب میں مثبت تبدیلی لینے کے لیے ابھی بہت کام پڑا ہے۔ ہم بوما کمیونٹی کے ذریعے ان کمیونٹیوں کو معاونت فراہم کرنے کی کوشش کرہے ہیں جنہيں عام طور پر ہمارے جیسے نیٹورک تک رسائی حاصل نہيں ہوتی، تاکہ نہ صرف ان کے لیے اس قسم کے تعلقات قائم کرنا ممکن ہو، بلکہ ہم بھی انہيں معاونت فراہم کرسکیں، ان کے مسائل حل کرسکیں، اور ان کے آئيڈیاز کو فروغ دے سکیں۔

لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں سرمایے کی کمی اور مجموعی طور پر انسانی ضروریات پوری نہ ہونے کی وجہ سے بوما جیسا پروگرام متعارف کرنا بہت مشکل ہے۔ اس قسم کی چیز کو ایک ایسی جگہ پر شروع کرنا جہاں اس کی سب سے زيادہ ضرورت ہو، اکثر سب سے زيادہ مشکل مرحلہ ثابت ہوتا ہے۔ ٹیڈ ایکس قائم کرنے اور چلانے کے بعد، سنگیولیرٹی یونیورسٹی کے ساتھ کام کرنے کے بعد، اور وومینز مارچ چلانے کے بعد، مجھے یہ بات معلوم ہوگئی ہے کہ ان ممالک میں جہاں اس قسم کے پروگرامز اور معاونت کی سب سے زيادہ ضرورت ہے، وہیں ان کے لیے رقم کا انتظام کرنا اور ان کی بنیاد رکھنا سب سے زيادہ مشکل ہوتا ہے۔

ہمارے روایتی نظام، چاہے انہیں حکومت نے عملدرآمد کیا ہو یا کارپوریشنز نے، ایک تو بہت فرسودہ ہیں، اور دوسری بات یہ ہے کہ انہيں اس طرح سے تیار کیا گيا ہے کہ اوپر کی سطح پر کام کرنے والے افراد احکامات جاری کرتے ہيں اور نیچے کی سطح پر موجود لوگ ان پر عمل کرتے ہيں۔ اس قسم کے نظام ماضی میں تو بہت کامیاب ثابت ہوئے، لیکن یہ ہمارے پائیدار اور منصفانہ مستقبل کے لیے موزوں نہيں رہے۔

کیا ٹیکنالوجی بہتر کمیونٹیز کی مصنوبہ بندی کرنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے؟

میرے خیال سے ٹیکنالوجی بہتر کمیونٹیز کی تخلیق میں کلیدی کردار ادا کرسکتی ہے۔ لیکن میری نظر میں اس وقت لوگوں کی معنی خیز مکالموں کے لیے آپس میں مل بیٹھنے اور ایک دوسری کے رائے سننے کی خواہش حاوی ہورہی ہے، جس کے بعد یہ سوال کھڑا ہوتا ہے کہ ان مکالموں کو عملی جامہ کس طرح پہنایا جائے۔ ٹیکنالوجی اس کوشش میں ایک اہم کردار تو ادا کرسکتی ہے، لیکن اسے اس کا سب سے اہم حصہ نہيں سمجھا جاسکتا۔

میرا خیال ہے کہ ٹیکنالوجی سے زيادہ ہمیں لوگوں کو اس طرح آپس میں ملانے پر اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے کہ انہیں محسوس ہو کہ وہ ایک دوسرے کی بات سن سکتے ہيں اور اپنے مسئلے حل کرسکتے ہيں۔ کیا اس میں ٹیکنالوجی کا عنصر شامل ہوگا؟ بالکل، لیکن اس وقت مجھے خود نہيں معلوم کہ اس کی شکل کیا ہوگی۔ اس وقت ٹیکنالوجی اہم نہيں ہے، بلکہ یہ اہم ہے کہ ایک بامقصد، ذہین مستقبل کی بنیاد رکھنے کے لیے لوگوں کو بامعنی طریقوں سے کس طرح یکجا کیا جاسکتا ہے۔

Read in English

Authors

*

Top