Global Editions

سمارٹ سٹی کے طور پر ابھرتا ہوا افریقی شہر لاگوس

نائیجیریاکا شہر لاگوس افریقہ کا بہت بڑا شہر ہے جسے اگر سمارٹ سٹی بننا ہے تو اسے اپنی مستقل طور پر پھیلتی ہوئی بے ہنگم آبادی سے مطابقت پیدا کرنا ہو گی۔ اس کے چیلنجز بہت بڑے ہیں جن سے نپٹنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ان میں سے ایک چیلنج اس کی آبادی اور معیار زندگی کو بلند کرنا ہے۔ اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق لاگوس کی اس وقت آبادی 12.5ملین ہے ، ایک اور اندازے کے مطابق یہ 22ملین تک بڑھ چکی ہے جبکہ 2030ء تک یہ آبادی دوگنا ہو جائے گی۔ جسے سامنے رکھتے ہوئے عام لوگوں کے ذہن میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا ایسا شہر جہاں لوگ غربت، خستہ حالی اور تاریک گلیوں میں رہتے ہیں مزید 12ملین زندگیوں کا بوجھ اٹھا سکتا ہے؟ لاگوس کے گورنر باباٹنڈے راجی فاشولا (Babatunde Raji Fashola)کہتے ہیں کہ شہر کے مسائل سے نپٹنے کیلئے انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے۔ مستقبل میں لاگوس شہر کے مسائل کا حل اور اس کی ترقی کا راز ٹیکنالوجی میں ہے۔

لاگوس سمارٹ سٹی کیلئے اپنی راہ متعین کرچکا ہے۔ یہاں پر بین الاقوامی کمپنیاں اپنے کاروبار کو پھیلانے کیلئے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کررہی ہیں۔ ان کے نزدیک ٹیکنالوجی اور ڈیٹا ہی سے لاگوس کی ترقی ممکن ہے۔ لاگوس میں اس مقصد کو حاصل کرنے کیلئے مختلف بین الاقوامی کمپنیاں اپنے دفاتر قائم کررہی ہیں۔ آئی بی ایم افریقن ریسرچ لیبارٹری کے چیف سائنٹسٹ یوئی سٹورٹ (Uyi Stuart)لاگوس کو افریقہ کا معاشی اور آبادی کا پاور ہاؤس قرار دیتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ آئی ٹی کی مدد کے بغیر اس کی بے ہنگم آبادی کا کامیابی سے انتظام ممکن نہیں ہے، جس میں موبائل، کلاؤڈ ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا، بزنس تجزیئے شامل ہیں۔ آئی بی ایم نے لاگوس میں نیا اختراعی مرکز قائم کیا ہے جو اس کے افریقہ میں بڑی سرمایہ کاری کا ایک حصہ ہے۔

آئی بی ایم جن مسائل پر توجہ دے رہا ہے ان میں وہاں خراب ٹریفک کا نظام بھی ہے۔ گزشتہ سال آئی بی ایم کی چھ رکنی ٹیم نے حکومتی ایجنسیز کے ساتھ مل کر ایک ماہ تک شہر کی ٹریفک کےنظام جائزہ لیا۔ لاگوس میں ٹریفک جام بڑے مسائل میں سے ایک ہے۔ مثلاً یہاں کے جزیرہ وکٹوریہ میں مختلف ممالک کے سفارتخانے، بہترین ہوٹلز، بڑے کاروباری اداروں کے دفاتر موجود ہیں۔ وہاں پر رات کے وقت ائیرپورٹ کا سفر صرف 45 منٹ کا ہے لیکن اگر صبح 11 بجے کی فلائیٹ پکڑنی ہے تو آپ کو صبح 6 بجے نکلنا پڑے گا کیونکہ ٹریفک کے شدید رش کے باعث آپ کو گھنٹوں لگ سکتے ہیں ۔ آئی بی ایم لاگوس کی ٹریفک کا مسئلہ حل کرنے کیلئے شہر کی ہزاروں آبی گزرگاہوں کو استعمال کرنا چاہتا ہے جن سے پہلے ہی روزانہ ایک لاکھ 70ہزار افراد سفر کرتے ہیں۔ آئی بی ایم کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کلاؤڈ کمپیوٹنگ، تجزیہ اور موبائل ڈیٹا کی مدد سے ٹریفک نظام کو منظم کیا جائے تو مسافروں کی تعداد بڑھائی جاسکتی ہے ۔ کلاؤڈ میں محفوظ ڈیٹا ٹیکنالوجی کے ذریعے آبی گزرگاہوں کی ٹریفک کی پیش گوئی کرکے ٹریفک کو منظم کیا جاسکتا ہے۔ مسافروں کو سیل فون پر آبی گزرگاہوں پر سفر کیلئے "بہترین وقت اور سفر میں کتنا وقت لگے گا" کے بارے میں معلومات فراہم کی جاسکتی ہیں۔

یہ منصوبہ آئی بی ایم سمارٹ سٹی چیلنج کا حصہ ہے جسے تین سال میں مکمل کرنا ہے اور اس پر 50ملین ڈالر لاگت آئے گی۔آئی بی ایم نے عام لوگوں کو سفری سہولت کی معلومات فراہم کرنے کیلئے نجی شعبے میں مقامی کمپنی ورچول سٹریٹ (Virtual Street)کے ساتھ اشتراک کیا ہے۔ نائیجیریا کی یہ نئی کمپنی لوگوں کو لوکیشن کی بنیاد پر سہولتیں فراہم کرتی ہے۔ کمپنی ورچول سٹریٹ جغرافیائی معلوماتی نظام، ٹریفک کیمروں اور سبسکرایئبر کے فون کا ڈیٹا حاصل کرکےٹریفک کی صورتحال کے بارے میں آگاہ کرتی ہے جس کے بدلے میں وہ اپنے سبسکرایئبر کے موبائل فون پر مقامی کاروباری اشتہارات چلاتی ہے۔ آئی بی ایم کے سٹورٹ کہتے ہیں کہ لاگوس میں خاصا ڈیٹا ، سیل فون، سوشل میڈیا، ٹریفک کیمروں، گلوبل پوزیشننگ سسٹم، بینکوں اور ریٹیل سٹورز سے حاصل کیا جاسکتا ہے جو کہ ٹیرا بائٹ میں ڈیٹا بنا رہے ہیں۔ اس ڈیٹا سے شہر میں ہونے والی سرگرمیوں کی معلومات حاصل کرکے مسائل کو حل کرنے میں مدد لی جاسکتی ہے۔ حقیقی چیلنج یہ ہے کہ ان تمام معلومات کو کس طرح استعمال کیا جائے۔

ایکو اٹلانٹک (Eko Atlantic)منصوبہ شہر کی تعمیرنو کے بارے میں ہے( ایکو اٹلانٹک، شہر کو جدید ترین بنانے کا منصوبہ کہلاتا ہے)۔یہ بحر اوقیانوس میں نئے ابھرنے والے جزیرے پر بہترین منصوبہ بندی سے نئی تعمیرات کرنے کیلئے شروع کیا گیا ہے۔ اپنی تکمیل کے بعد اس میں 2,50,000 شہریوں کے رہنے کی گنجائش ہو گی اور روزانہ ایک لاکھ مسافر آبی گزرگاہ سے سفر کریں گے۔ اس کے علاوہ جزیرے تک سمندر کے اندر سڑک بنائی جارہی ہے۔ اسے گریٹ وال آف لاگوس بھی کہا جاتا ہےجو 2018ء میں مکمل ہو گی۔ منیجنگ ڈائریکٹر آف ساؤتھ انرجکس نائیجیریا لمیٹڈ (South Energyx Nigeria Limited) ڈیوڈ فریم (David Frame)کا کہنا ہے کہ تمام بنیادی ڈھانچہ 2020ء تک مکمل ہو گا۔ کمپنی ایکو انٹلانٹکس کی ڈویلپر اور سٹی پلانر بھی ہے۔ لاگوس میں نت نئی کمپنیاں قائم ہو رہی ہیں جو شہر کی ترقی میں معاون ثابت ہوں گی۔یہاں پر سی سی ہب (CcHUB)کے نام سے اختراعی مرکز قائم کیا گیا ہے جہاں تکنیکی ماہرین، سوشل انٹرپیرینیورز اور سرمایہ کار اکٹھے ہو کرنائیجیریا کے سماجی مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں اور ان کا موازنہ افریقہ اور یورپی ممالک سے کیا جاتا ہے۔

شہر کو بنیادی چیلنجز کا تاحال سامنا ہے۔ جن میں بجلی کی مستقل فراہمی بھی شامل ہے۔ اگر وہاں ادائیگی کرنے والے گاہک ہیں تو لاتعداد اٹھائی گیرے بھی ہیں ، چوری چکاری اور توڑپھوڑ روز کا معمول ہے۔ اس کے علاوہ اگرچہ لاگوس میں موبائل فون کے استعمال کنندہ بہت زیادہ ہیں لیکن سمارٹ فون کی خریداری کم ہے۔سب سحارا اور ساؤتھ افریقہ کی انٹیل کمپنی کے ڈائریکٹر ہتندرا نائیک (Hitendra Naik)کہتے ہیں کہ مقامی سطح پر اٹھائے جانیوالے اقدامات کے تحت نمایاں پیش رفت ہوئی جس کے ذریعے مختلف اداروں کو نئی آپٹک فائبر لائنز بچھانے میں بہت مدد ملی اور اس کے بدلے میں مقامی سکولوں کو نہایت کم نرخوں پر انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ طویل قطاروں میں لگنے کی بجائے لوگوں کو گاڑیوں کے لائسنس کیلئے الیکٹرانک درخواست دینے اور بنکوں میں رقم جمع کرانے کی سہولت بھی دی گئی ہے۔

تحریر: مونٹی منفورڈ (Monty Munford)

Read in English

Authors
Top