Global Editions

بل گیٹس نے اپنے صاف توانائی کے فنڈ میں ایک جیوتھرمل سٹارٹ اپ کمپنی شامل کرلی ہے

ایک ارب ڈالر مالیت رکھنے والی کمپنی بریک تھرو انرجی وینچر (Breakthrough Energy Ventures) فنڈ جیوتھرمل، گرڈ کے ذخیرے، حیاتیاتی ایندھن اور دیگر توانائی میں سرمایہ کاری کررہی ہے۔

بل گیٹس کی ایک ارب ڈالر کی مالیت کے صاف توانائی کے فنڈ نے پہلی دفعہ کسی چیز میں سرمایہ کاری کی ہے، بریک تھرو انرجی وینچرز آج اعلان کرنے والے ہیں کہ وہ ماحولیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات کا مقابلہ کرنے والی ٹیکنالوجی پر کام کرنے والی متعدد سٹارٹ اپ کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرنے والے ہیں۔

ان کمپنیوں میں کیلیفورنیا کے شہر برکلی میں واقع سٹارٹ اپ کمپنی شامل تھی جو زمین کی پوشیدہ گرمائش کو صاف توانائی میں تبدیل کرنے کے مقصد سے جیوتھرمل صنعت میں فریکنگ کی تکنیکوں کا استعمال کررہی ہے۔

اگر فیروو انرجی کی ٹیکنالوجیز کامیاب ہوجائيں، تو ان کی مدد سے موجودہ جیوتھرمل سائٹس کی بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہوسکتا ہے، یا نئے شعبہ جات کا زمین کی پرت میں موجود گرمائش کا فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ جیوتھرمل پیداوار میں اضافے سے زيادہ صاف توانائی کے سسٹمز میں اضافہ ہوسکتا ہے کیونکہ اس سے ہوا اور شمسی فارمز کے برعکس ہمیشہ دستیاب بجلی یا مانگ کے مطابق بجلی کی پیداوار میں اضافہ ممکن ہے۔

بریک تھرو کی ابتدائی فہرست میں گرڈ سٹوریج کی سٹارٹ اپ کمپنی فارم انرجی، سولڈ سٹیٹ بیٹری کی کمپنی کوانٹم سکیپ، ایم آئی ٹی کی فیوژن کی کمپنی کامن ویلتھ فیوژن سسٹمز، حیاتیاتی ایندھن کی کمپنی ڈی ایم سی بائیوٹیکنالوجیز، نائٹروجن پر مشتمل کھاد کا متبادل بنانے والی کمپنی پوٹ بائیو، کنکریٹ میں کاربن ڈائی آکسائيڈ ذخیرہ کرنے والی کمپنی کاربن کیور، زیرسطح پمپ شدہ آبی ذخیرہ بنانے والی کمپنی کوئيڈنیٹ، اور ہوا سے پانی حاصل کرنے والی ٹیکنالوجی بنانے والی کمپنی زیرو ماس واٹر شامل ہیں۔

اب تک سرمایہ کاری کی رقم کے متعلق تفصیلات فراہم نہيں کی گئی ہیں۔

فروو کے سی ای او ٹم لیٹیمر (Tim Latimer) جو پہلے بی ایچ پی بلٹن کے شیل کے عملیات میں ڈرلنگ کے انجنیئر کے طور پر کام کرتے تھے، کہتے ہیں کہ ان کی سٹارٹ اپ کمپنی اس فنڈنگ سے اپنے بہتر جیوتھرمل کے سسٹمز کی ٹیسٹنگ اور بہتری کے لیے کام کرے گی۔ اس کمپنی کے شریک بانی جیک ناربیک (Jack Norbeck) دنیا کی سب سے بڑی جیوتھرمل فیلڈ، شمالی کیلیفورنیا میں واقع دی گیزرز (The Geysers) میں ریزروائر انجنیئر رہ چکے ہيں۔

جیوتھرمل توانائی زیرزمین موجود پانی کے ذخائر کو گرم کرنے والی زمین کی پرت کے نیچے قدرتی طور پر پیدا ہونے والی گرمی سے فائدہ اٹھاتی ہے۔ یہ پانی مسام دار پتھروں اور دراڑوں کے ذریعے مائع اور گیس کی شکل میں زمین کی سطح کی جانب بڑھتا ہے، اور جیوتھرمل پلانٹس اس طرح پیدا ہونے والی بھاپ کو استعمال کرتے ہوئے ٹربائن چلاتے ہیں اور بجلی پیدا کرتے ہيں۔

تاہم جیوتھرمل توانائی صرف اسی صورت میں کامیاب ہوسکتی ہے اگر اسے زیرزمین گرمائش، مائع اور مناسب حد تک مسام دار پتھر دستیاب ہوں۔ کئی مقامات پر گرمائش اور مائع تو موجود ہیں، لیکن مسام دار پتھر نہيں۔

سائنسدان کئی دہائیوں سے زمین کی جذب کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنے کے لیے موجود دراڑوں کو مزید چوڑا کرنے کے لیے ایک مصنوعی کنویں میں پانی ڈال کر برتر جیوتھرمل تکنیکوں کی تحقیق کررہے ہیں۔ تاہم ان کے نتائج مکمل طور پر کامیاب نہيں رہے ہیں۔

ماضی میں ایم آئی ٹی کی ایک تحقیق کے مطابق اس شعبے میں تحقیق و ترقی میں وفاقی سطح پر سرمایہ کاری سے 50 سال کے اندر امریکہ میں صاف توانائی کی پیداوار کی صلاحیت میں 100 گیگا واٹس کا اضافہ ممکن ہے، جو ہوور ڈیم کی گنجائش سے 50 گنا زیادہ ہے۔

فروو کے بانی، جو اس وقت لارینس برکلی کے نیشنل لیباریٹری کے سائیکلوٹرون روڈ (Cyclotron Road) پروگرام میں فیلوز ہیں، کو یقین ہے کہ وہ ایک کنویں میں متعدد علاقہ جات علیحدہ کرکے اور ان میں پانی کے بہاؤ کو بہتر بنا کرے اعلی جیوتھرمل سسٹمز کی کارکردگی میں بہتری لاسکتے ہيں۔

کچھ تکنیکی تفصیلات رازدار ہیں، لیکن لیٹیمر کے مطابق ان کی کمپنی بڑھنے والی قدرتی گیس کی صنعت کی بہتری کی وجہ سے افقی ڈرلنگ تکنیکوں کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ اٹھارہی ہے۔ وہ زیرزمین ساختوں اور ڈائنیمکس کی واضح طور پر سمجھ بوجھ پیدا کرنے کے لیے زیرزمین کنوؤں سے گزرنے والے فائبرآپٹک درجہ حرارت کے پیمائشی آلات کے علاوہ سینسرز اور سیمولیشن سافٹ ویئر کا بھی استعمال کررہی ہے۔

تاہم اعلیٰ جیوتھرمل سسٹمز کے کچھ خطرات بھی ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ عمل پینے کے پانی کی آلودگی اور زلزلوں میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے، اسی طرح جس طرح فریکنگ اور پانی کے فضلے کے انجیکشن کی وجہ سے ہوا۔

ایک دہائی قبل جیوپاور بیسل کے جیوتھرمل پراجیکٹ کو مسلسل زلزلوں کے نتیجے میں اپنا پراجیکٹ ترک کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ، جیوتھرمل کمپنی الٹاراک نے بھی تکنیکی مسائل اور ممکنہ خطرات کے متعلق عوامی خدشات کے باعث 2009ء میں دی گیزرز میں ایک آزمائشی پراجیکٹ ترک کردیا۔

لیٹیمر کہتے ہيں “کسی بھی پراجیکٹ کی طرح اس پراجیکٹ کے بھی خطرات ہیں جن کے لیے ہمیں منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم ہمیں زیرزمین نیٹورکس کے بارے میں ماضی کے مقابلے میں زیادہ معلوم ہے، جس کی وجہ سے ہمارے لیے محفوظ اور موثر سسٹمز بنانا ممکن ہوگیا ہے۔”

تحریر: جیمز ٹیمپل

Read in English

Authors

*

Top