Global Editions

ہم سب کو اچھی امیدیں کیوں رکھنی چاہیے؟ بل گیٹز کے ساتھ ایک انٹرویو

ہم نے بل گیٹس کے ساتھ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، چین، اور پر امیدی کے متعلق بات کی۔

آج کل لوگ ٹیکنالوجی کے نقصانات کے بارے میں بہت پریشان ہیں۔ آپ کس طرح پرامید رہتے ہيں؟

لوگوں کی زندگیوں کی مثبت تبدیلیوں کو دیکھیں۔ پانچ سال سے کم بچوں کی اموات میں کمی آئی ہے، عورتوں کے ساتھ بہتر سلوک کیا جارہا ہے۔ دنیا بھر میں عدم مساوات میں کمی ہورہی ہے۔ ‏غریب ممالک امیر ممالک کے مقابلے میں زيادہ تیزی سے ترقی کررہے ہیں۔ دنیا میں زيادہ تر لوگ اب اوسط آمدنی رکھنے والے ممالک میں رہتے ہیں۔ پچاس سال پہلے اوسط آمدنی رکھنے والے ممالک کی تعداد بہت کم تھی۔ اس کے بعد سائنس کی مدد سے پہلے سے بھی زيادہ مسائل کا حل نکالا جارہا ہے۔ امراض قلب اور کینسر کے علاج میں بہت ترقی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ ڈیپریشن اور ذيابیطس جیسے امراض حتی کہ موٹاپے کے علاج کے لیے مائیکروبائیوم اور استعمال ہونے والے سگنلنگ میکانزمز کی سمجھ بوجھ میں اضافہ ہوا ہے۔

میں اسی وجہ سے اچھی امید رکھتا ہوں، اور مجھے بہت افسوس ہے کہ دوسرے لوگ زیادہ پرامید نہيں ہیں۔

ہوسکتا ہے کہ آپ کی پرامیدی میں آپ کی اپنی کامیابی کا ہاتھ ہو؟

اس بات کو نظرانداز نہيں کیا جاسکتا۔ میں شروع سے ہی بہت خوش قسمت رہا ہوں۔ لیکن میرے ذاتی تجربے کو ایک طرف رکھتے ہوئے، میرا خیال ہے کہ موجودہ زمانے میں رہنے والے لوگوں کی صورتحال ماضی میں رہنے والوں سے بہتر ہے، اور آج سے 20 سال بعد پیدا ہونے والے لوگوں کے حالات ہمارے حالات سے بہتر ہوں گے۔

آپ کی ٹیکنالوجیز کی فہرست میں لیب میں تخلیق کردہ گوشت شامل ہے، جو ابھی بھی آزمائشی مراحل میں ہے اور بہت مہنگا ہے۔ آپ نے اس ٹیکنالوجی کا انتخاب کیوں کیا؟

اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ میں لوگوں کو بتانا چاہتا تھا کہ صرف صاف توانائی سے ہی ماحولیاتی تبدیلی کا حل ممکن نہیں ہے۔ تقریباً ایک چوتھائی اخراجات کی وجہ بجلی کی تخلیق ہے، لیکن لوگوں کی توجہ گرین ہاؤس گیسز پر مرکوز تھی۔ میرے خیال سے اس مسئلے کا حل سیمینٹ یا سٹیل یا دوسرے مواد کے بجائے دوسری چیزوں میں ہے۔

اس کے علاوہ آپ نے ایک نئے قسم کے غسل خانے کا بھی انتخاب کیا ہے، جسے آپ نے صحت و صفائی کے حوالے سے پچھلے 200 سالوں کی بہترین ایجاد قرار دیا ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟

نالے، صاف پانی، پراسیسنگ پلانٹ، یہ آسائشیں صرف امیر ممالک میں ہی نظر آئيں گی۔ کم آمدنی کے ممالک کے لیے نالوں کا نظام بنانے کے اخراجات برداشت کرنا بہت مشکل ہے۔ یہ غسل خانہ ہر قسم کے انسانی فضلے کو جمع کرنے کے بعد انہيں علیحدہ کرتا ہے۔ ٹھوس فضلے کو جلایا جاسکتا ہے اور مائل فضلے کو فلٹر کیا جاسکتا ہے۔ اس سے معیار زندگی میں بہت بہتری آئے گی، صفائی میں اضافہ ہوگا اور امراض کی شرح میں کمی ہوگی۔ اب تک گیٹس فاؤنڈیشن نے اس ٹیکنالوجی کو آگے بڑھانے کے لیے 20 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے، لیکن یہ اب تک کچھ خاص آگے نہيں بڑھی ہے۔

آپ کی تین منتخب کردہ ٹیکنالوجیز کا تعلق گرین ہاؤس گیس کے اخراجات میں کمی سے ہے۔ آپ بریک تھرو وینچرز نامی ایک ارب ڈالر کی مالیت کے سرمایہ کاری کے فنڈ کی سربراہی بھی کررہے ہیں۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کے حل کے لیے ٹیکنالوجی کے شعبے میں بہت حل موجود ہیں۔ کیا واقعی ایک نئے حل کی ضرورت ہے؟ سب سے بڑا مسئلہ سیاسی سطح پر نہيں ہے؟

نہیں، مسئلہ اس وقت ہوتا ہے جب بھارت جیسے ملک سے کہا جاتا ہے کہ ہر کسی کے گھر میں بجلی ہونی چاہیے۔ وہ زيادہ کوئلے کے پاور پلانٹس لگائيں گے، کیونکہ ان کے لیے بجلی پیدا کرنے کا سستہ ترین طریقہ یہی ہے۔ فرانس میں ڈیزل کی قیمت میں پانچ فیصد اضافہ کردیا گيا۔ یہ بھی قابل قبول نہيں ہے۔

سیاست اس وقت ہوتی جب آپ فیصلہ کرتے ہیں کہ آپ نے ریسرچ میں کتنی سرمایہ کاری کرنی ہے یا جدت پسند کمپنیوں کو کس طرح فائدہ پہنچانا ہے۔ لیکن میں بڑے وثوق کے ساتھ کہتا ہوں کہ اگر ٹیکنالوجی کو موجودہ سطح پر منجمد کردیا جائے، تو مستقبل کے درجہ حرارت میں چار ڈگری سنٹی گریڈ کا اضافہ ضرور ہوگا۔

اس کے علاوہ آپ نے جوہری فیوژن کا بھی انتخاب کیا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے بارے میں ہمیشہ بات ہی کی جاتی رہی ہے، لیکن یہ اب تک سامنے نہيں آسکی ہے۔ آپ اس کے بارے میں پرامید کیوں ہیں؟

بریک تھرو نے کامن ویلتھ فیوژن سسٹمز نامی کمپنی میں سرمایہ کاری کی ہے، اور ان کی ٹیکنالوجی کے ذریعے حجم میں قابل قدر کمی ممکن ہے، جس سے لاگت بھی بہت کم ہوجائے گی۔ اس وقت دس سے زيادہ کمپنیاں مختلف طریقوں سے فیوژن پر کام کررہی ہیں۔ ان میں سے زيادہ تر پراجیکٹس کامیاب نہيں ہوں گے، لیکن ان تمام پراجیکٹس سے پوری دنیا کو فائدہ ضرور ہوگا۔ اس لیے میرے خیال میں فیوژن کی حمایت کرنا بہت ضروری ہے۔

چین ٹیکنالوجی کے میدان میں پوری دنیا سے آگے نکل رہا ہے۔ آپ کے خیال میں اس کا کیا مستقبل ہے؟

ان کی جدت پسندی میں اضافے سے پوری دنیا کو بہت فائدہ ہوگا۔

دوسرے اوسط آمدنی رکھنے والے ممالک کی طرح وہ بھی بڑے پراجیکٹس کرنا چاہتے ہیں۔ 1950ء اور 1960ء کی دہائیوں میں امریکہ میں 1970ء اور 1980ء کی دہائیوں میں جاپان میں اور 1980ء اور 1990ء کی دہائیوں میں کوریا میں بھی اسی قسم کا انقلاب آیا تھا۔ ان کی ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں میں بہت اضافہ ہوا تھا، جس کے بعد انہوں نے بہت بلند نظر قسم کی چیزيں بنانا شروع کردی تھیں۔

چین کی برتری سے امریکہ کو احساس ہوگا کہ انہيں بھی رفتار پکڑنی ہوگی۔ 1970ء اور 1980ء کی دہائی میں جب ہم نے دیکھا کہ جاپان ہم سے آگے نکل رہا ہے، ہم نے بھی تحقیق میں اضافہ کردیا۔ جاپان سائنس کے شعبے میں ہم سے کبھی بھی آگے نہيں نکلنے والا تھا، لیکن یہ خوف ہمارے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوا۔

رپورٹنگ: گڈین لش فیلڈ (Gideon Lichfield)

Read in English

Authors
Top