Global Editions

بگ ڈیٹا سے معاشرے میں پیداہونے والی تبدیلیاں

بگ ڈیٹا اور ذاتی ڈیٹا میں بنیادی فرق یہ ہے کہ بگ ڈیٹا کمپنیوں، اداروںکی اجتماعی معلومات پر مشتمل ہوتا ہے جبکہ ذاتی ڈیٹا کسی ایک شخص کی سرگرمیوں کے بارے میں ہوتا ہے۔ یہ ذہن میں رہے کہ لوگوں کے بہت بڑے اجتماع میں ہر فرد کا ڈیٹا مل کر بگ ڈیٹا بنتا ہے اور ذاتی ڈیٹا بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا بگ ڈیٹا۔ جب ہم ذاتی ڈیٹا کی معاشی اہمیت کا اندازہ لگاتے ہیں تو سب سے پہلے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آپ اپنے پروفیشنل کیرئیر کے عروج میں اپنا ذاتی ڈیٹا فروخت کرنا چاہیں گے؟ آپ نے خواہ ایسا نہ کیا ہو لیکن آندریس وینڈ (Andreas Weigend)ایسا کرچکے ہیں۔ وینڈ ایمازون ڈاٹ کام (Amazon.com)کے سابق چیف سائنٹسٹ اور اب وہ سٹینفورڈ یونیورسٹی سوشل ڈیٹا لیب میں کام کرتے ہیں۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ ایک صبح میں شنگھائی سے پرواز پکڑنا چاہ رہا تھا کہ میرے فون کی ایپلی کیشن نے بتایا کہ میری فلائٹ میں تاخیر ہے۔

اس ایپلی کیشن میں ذاتی جی -میل اکاؤنٹ کی معلومات، کیلنڈرکے ساتھ نقشے اور فلائیٹ شیڈول موجود ہوتا ہے۔ ایپلی کیشن نے سفری منصوبے کا جائزہ لیا اور خبردار کیا کہ مجھے ائیرپورٹ جانے میں جلدی نہیں کرنی چاہئے۔ جب وینڈ ائیرپورٹ پہنچے تو بہت سے لوگ گھنٹوں سے فلائیٹ کا انتظار کررہے تھے۔ اس سے وینڈ کے وقت کی خاصی بچت ہوئی اور وہ پریشانی سے بھی بچ گئے۔ وینڈ کہتے ہیں کہ یہ اس لئے ہوا کہ ایپلی کیشن نے ان کے ڈیٹا کا جائزہ لے انہیں خبردار کر دیاتھا۔ان کا کہنا ہے کہ پچھلی صدی میں لوگ اپنی جسمانی توانائیاں صرف کرکے اپنی کارکردگی دکھاتے تھے جبکہ موجودہ صدی میں لوگوں کا جائزہ ان کے شیئرکئے گئے ڈیٹا سے کیا جاتا ہے۔

ڈیٹا شیئر کرنے کی ایک مثال گوگل ناؤ (Google Now)ہے۔ ہم بگ ڈیٹا کی وجہ سے معاشرے میں پیداہونے والی تبدیلیوں کو دیکھ رہے ہیں کہ بگ ڈیٹا سے لاکھوں لوگوں کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ اب ڈیٹا سائنس اس بات کا اندازہ لگارہی ہے کہ بگ ڈیٹا سے افراد کی انفرادی سطح پر کیسے مدد کی جاسکتی ہے۔ جس طرح مجھے وقت پر آگاہی حاصل ہو گئی کہ فلائیٹ میں تاخیر ہے اسی طرح اعدادوشمار کے ماڈل بتاتے ہیں کہ آپ کو کس وقت کیا کرنا چاہئے۔

جیسے گوگل ناؤ کا پیشگی خبردار کرنے والا نظام ایک مثال ہے۔ہم بگ ڈیٹا کی مدد سے جو انسانوں کی زندگیوں میں اشتہارات اور دیگر آن لائن سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ جن کے ذریعے کروڑوں لوگوں کی سرگرمیوں کا ایک ہی وقت میں جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ اب ڈیٹا سائنس ایسے راستے تلاش کررہی ہے کہ کس طرح انفرادی سطح پر لوگوں کی مدد کی جائے۔ صرف ایک چھوٹی سی ایپلی کیشن کو ہی دیکھ لیں جو آپ کو بروقت یونائیٹڈ ایئرویز کی فلائیٹ کے وقت سے آگاہ کردیتی ہے۔ ایک ایپلی کیشن یہ بھی ہےجو مطلع کرتی ہے کہ آپ کو زکام ہے لہٰذا ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔ اس رحجان کے مدنظر ذاتی ڈیٹا کی مقدار بڑھتی جارہی ہے۔ ہر دو سال میں ڈیجیٹل ڈیٹا دو گنا ہو رہا ہے۔

بین الاقوامی ڈیٹا کارپوریشن کے مطابق یہ زیادہ تر صارفین کا ڈیٹا ہے جو کوئی مووی ڈاؤن لوڈ کرتے ہیں، آئی پی کالز کرتے ہیں، ای میلز بھیجتے ہیں، سیل فون کے ذریعے لوکیشن دیکھتے ہیں۔ یونیورسٹی کالج لندن میں شماریات کے ماہر پیٹرک وولف (Patrick Woolf)کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ بھی بے حد و حساب ڈیٹا ہے جو لوگوں کو فراہم کیا جاسکتا ہے۔ شماریاتی علم کہتا ہے کہ طاقت لوگوں کی گروہ بندی میں حاصل ہوتی ہے پھر سونے پر سہاگہ اس ڈیٹا کو انفرادی سطح پر تجزیہ کرنا ہے۔ سلیکون ویلی میں موجود ڈیٹا کی کانٹ چھانٹ کرنے والی کمپنیاں گوگل، فیس بک اور لنکڈان کیلئے بگ ڈیٹا اور ذاتی ڈیٹا کا ادغام وقتی فائدہ دے جاتاہے۔ اس سے ایسے ٹولز پیدا ہوتے ہیں جو مشتہرین استعمال کرسکتے ہیں، اسی سے مصنوعات کو فروغ ملتا ہے۔ اب فیس بک پر نہ صرف آپ دوست تلاش کرتے ہیں بلکہ وہ دوست تجویز بھی کرتی ہے، گوگل ناؤ کو آپ جتنا ڈیٹا فراہم کرتے ہیں وہ اس سے زیادہ آپ کو واپس لوٹاتا ہے۔ٹیکنالوجی نے ذاتی ڈیٹا کو ساری دنیا کے سامنے افشا کردیا ہے۔ وینڈ کہتے ہیں کہ سمارٹ فونز، کیمروں اور جی پی ایس کی بڑے پیمانے پر فروخت کی وجہ سے لوگ بڑی تعداد میں اپنا ذاتی ڈیٹا یا تو منتقل کرتے ہیں یا حاصل کرتے ہیں۔ یہ تو ابھی آغاز ہے۔ نئی ٹیکنالوجی کے دلدادہ خاصے لوگ اپنی ذاتی زندگیوں میں بھی سینسرز، پیڈومیٹرز اور گلوکوز مانیٹرز استعمال کرنا پسند کرتے ہیں۔ نئی ٹیکنالوجیز کے ایک دلدادہ سٹیفن وُلفرام (Stephen Wolfram)بھی ہیں ، وہ وُلفرام الفا سرچ انجن کے خالق ہیں۔ انہوں نے ایک عرصہ خود کو رضاکارانہ طور پر نگرانی (tracking)کے منصوبے سے منسلک کئے رکھا۔ جس میں ان کی ای میلز، کی سٹروکس، حتیٰ کہ ان کی جسمانی نقل و حرکت بھی دیکھی جاتی ہے۔ وُلفرام پیش گوئی کرنے والی ایپلی کیشنز میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑی تعداد میں ڈیٹا کا انحصار ذاتی روئیے پر ہوتا ہے جسے وہ ذاتی جائزہ بھی کہتے ہیں۔ وولفرام کہتے ہیں کہ جس طرح ان کا سرچ انجن پوری دنیا کے حقائق اکٹھے کرکے انہیں ترتیب دیتا ہے۔ اسی طرح آپ جب ذاتی ڈیٹا کا تجزیہ کررہے ہوتے ہیں تو دراصل آپ ذاتی زندگی کے حقائق بھی جمع کررہے ہوتے ہیں۔

وُلفرام کہتے ہیں کہ کچھ مفید ترین ڈیٹا ابھی تک استعمال نہیں ہو رہا یا کم از کم قابل رسائی نہیں ہے۔ اس کیلئے جو مسئلہ درپیش ہے وہ ٹیکنیکل ہے۔ تاہم زیادہ تر ڈیٹا نجی کمپنیوں مثلاً فیس بک، ایپل، فٹ بٹ پر ہے۔ اب چونکہ ذاتی ڈیٹا کی اہمیت بڑھ رہی ہے اس لئے اسے محفوظ کرنے یا اوپن کرنے کی لڑائی میں بھی شدت آتی جارہی ہے۔ کیلیفورنیا کے قانون سازوں نے "جاننے کا حق" کا بل متعارف کروایا ہے۔ جس کے تحت کمپنی سے کسی بھی شخص کی ذاتی معلومات طلب کی جاسکیں گی۔ انہیں رازداری سے یوزر کا آئی پی ایڈریس دینا ہوگا۔ یہ بل ایک سماجی تحریک کا حصہ ہے جو لوگوں کے رازداری کے حق کو تسلیم کرتی ہے تاہم اس کے ساتھ ہی ڈیٹا فراہم کرنے والوں اور ڈیٹا حاصل کرنے والوں کے درمیان ایک معاشی لین دین کا معاملہ بھی ہے۔ لوگوں کو بگ ڈیٹا کا براہ راست فائدہ پہنچ رہا ہے۔

تحریر:انٹونیوریگالڈو (Antonio Regaldo)

Read in English

Authors
Top