Global Editions

انسانی جینز میں ترمیم سے بیماریوں کا علاج

امریکہ کی سٹاک مارکیٹ گزشتہ دسمبر سے ہی بحران کا شکار تھی۔ اس لئے دیگر صنعتوں کی طرح بائیو ٹیکنالوجی کی صنعت کو مالی مشکلات درپیش تھیں۔ ان بدترین حالات میں کسی بھی صنعت کیلئے سرمایہ کاری تلاش کرنا بہت مشکل کام تھا۔ کیٹرین بوسلی (Catrine Bosely)کی کمپنی ایڈیٹاس (Editas)کو بھی انہیں حالات میں سرمایہ کار تلاش کرنے تھے۔ تاہم اس کیلئے یہ خوش آئند بات تھی کہ ان مشکل حالات میں بھی سرمایہ کاروں کا ایک گروہ نیویارک ہوٹل میں موجود تھا۔گزشتہ سال سٹاک مارکیٹ نیسڈیک میں ٹیکنالوجی کی کمپنیوں کیلئے سرمایہ کاری کے حوالے سے بدترین ثابت ہوا تھا لیکن اب بوسلی نے سرمایہ کاروں کو اس بات پر قائل کرنا تھا کہ ایڈیٹاس سٹاک مارکیٹ کے رحجان کو بدلنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ بوسلی کی کمپنی ایڈیٹاس سی آر آئی ایس پی آر کاس نائن (CRISPR/Cas9)ٹیکنالوجی کے استعمال سے جینز میں ترمیم میں مہارت رکھتی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے ڈی این اے میں ترمیم کی جاتی ہے۔ سائنسدانوں میں یہ ٹیکنالوجی گزشتہ چار سالوں میں مقبول ہوئی ہے۔ ایڈیٹاس کمپنی بھی سی آر آئی ایس پی آر ٹیکنالوجی کی شریک بانیوں میں سے ایک ہے۔ اب ایڈیٹاس کا مقصد یہ ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو ایسے ٹول میں بدل دیا جائے جو ایسی جینیاتی بیماریوں کے علاج میں معاون ہو جن کا پہلے کبھی علاج نہیں ہوا۔ ایڈیٹاس آنکھوں کی بیماری، کینسر، خون میں کمی کا باعث بننے والے بیمار سیل، اعصابی بیماری کا سبب بننے والے جینز اور دیگر بیماریوں پر تحقیق کررہی ہے۔

سائنسی حلقوں سے باہر سی آر آئی ایس پی آر ٹیکنالوجی کو ابھی تک سمجھا ہی نہیں گیا۔ بوسلی نے جون 2014ء میں ایڈیٹاس میں ملازمت شروع کی۔اس وقت سے اب تک بوسلی کا وقت زیادہ تر شریک اور ممکنہ سرمایہ کاروں کے ساتھ گزرتا ہے۔ نیویارک ہوٹل میں موجود سرمایہ کاروں کو ایڈیٹاس کمپنی کے بارے میں کچھ تحفظات تھے ۔ تحفظات اور سرمایہ کاروں کے ذہن میں اٹھنے والے سوالوں کو دور کرنا بوسلی کا کام تھا۔ جنوری میں سرمایہ کاروں کے ساتھ میٹنگ کا نتیجہ یہ نکلا کہ فروری میں ایڈیٹاس کو 109ملین ڈالر کی پیشکشیں ہوئیں۔ کمپنی کی اس وقت کوئی آمدن نہیں ہے اور نہ ہی مستقبل قریب میں نظر آتی ہے۔ کمپنی کے پاس 200ملین ڈالر کا سرمایہ ہے جو اس کی دو سال کی ریسرچ کیلئے کافی ہے لیکن کمپنی کو اس دوران ایسی پراڈکٹ متعارف کروانی ہے جو پہلے کبھی مارکیٹ میں نہ آئی ہو۔ ابھی تک کمپنی نے انسانوں پر اپنے طریقہ علاج کا ٹیسٹ نہیں کیا یہ ٹیسٹ وہ اگلے سال کرے گی۔ اگر کمپنی اپنے ٹیسٹ میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ بات واضح نہیں کہ وہ اسے مارکیٹ میں کب لائیں گے۔ ایڈیٹاس اس مقصد کیلئے کام شروع کرچکی ہے بوسلی اور اس کی ٹیم کے سائنسدان چاہتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کو ادویات سے بدل دیا جائے۔

ڈئیر فیلڈ مینجمنٹ کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر جِم فلین (Jim Flynn)کہتے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی ایک حیرت انگیز ٹول ہے۔ انہوں نے ہیلتھ کئیر میں 5ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کررکھی ہے۔ ان کے ایڈیٹاس میں بھی شئیرز ہیں۔ ان کاکہنا ہے کہ یہاں کچھ لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ جب ہم دس سال بعد پیچھے مڑ کر دیکھیں گے تو کہیں گے کہ ہم نے ایک اہم سنگ میل عبور کرلیا ہے۔ ایڈیٹاس کے بانی جارج چرچ (George Church)اور فینگ ژانگ (Feng Zhang)نے سب سے پہلے تھے جنہوں نے ثابت کیا کہ سی آر آئی ایس پی آر کو انسانی سیلوں میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے جین ایڈیٹنگ پر اپنا آرٹیکل سائنس میگزین میں شائع کروایا۔ سائنس میگزین میں آرٹیکل شائع ہونے کے ایک ماہ بعد انہوں نے ایڈیٹاس کمپنی قائم کی۔ ایڈیٹاس واحد کمپنی نہیں ہے جس نے جین ایڈیٹنگ پر کام شروع کیا ہے۔ ایڈیٹاس کی مدمقابل انٹیلیا تھراپیوٹکس کمپنی (Intellia Therapeutics)کمپنی ہے جس کے ساتھ ایڈیٹاس کا پیٹنٹ کا تنازعہ بھی چل رہا ہے۔ یہ کمپنی ایڈیٹاس کے تین ماہ بعد قائم ہوئی۔ اسی طرح معروف میڈیسن کمپنی بائیر (Bayer)نے ایک اور کمپنی سی آر آئی ایس پی آر تھراپیوٹکس میں 335ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔

بوسلی کا کہنا ہے کہ ایڈیٹاس اگلے سال انسانی سیلوں میں تجرباتی طور پر ٹیکنالوجی کا ٹیسٹ کرے گی۔ تجربے میں خاص قسم کے اندھے پن کا شکار لوگوں کی آنکھوں میں کاس نائن (Cas 9)اینزائم کا حامل وائرس داخل کیا جائے گا۔ یہ کاس نائن اینزائم خرابی والے سیل کو کاٹ دے گا اور دیگر سیلوں میں قدرتی ڈی این اے ردعمل کو بحال کردے گا جو متاثرہ سیل کے افعال کو درست کرے گا۔ جین ایڈیٹنگ ٹیکنالوجی کا آغاز آنکھوں سے اس لئے کیا گیا کیونکہ اس کی جینیاتی بنیاد کوپہلے کی طرح اچھے انداز میں سمجھ لیا۔ تاہم ابھی تک ٹیکنالوجی کے چیلنجز برقرار ہیں۔ ایڈیٹاس کو موثر علاج متعارف کروانا ہو گا۔ اسے یقینی بنانا ہو گا کہ اینزائیم متاثرہ حصے تک ہی پہنچے اور ڈی این اے کو درست انداز میں ترمیم کرےاور اس دوران کوئی خطرناک مضر صحت اثرات نہ ہوں۔ کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ سی آر آئی ایس پی آر ٹیکنالوجی کو انسانی جنین میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ بوسلی کا کہنا ہے کہ جینز تبدیلی کی ٹیکنالوجی کی بہترین وکالت وہ مریض کرسکتے ہیں جن پر یہ ٹیکنالوجی استعمال کی گئی اور ان کی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوئے۔ ان کیلئے موثر جین ایڈیٹنگ بہت بڑا طبی کارنامہ ہو گا۔ اب بوسلی کو ثابت کرنا ہے کہ ایڈیٹاس یہ کارنامہ سرانجام دے سکتی ہے۔

تحریر: نانیٹے بائرنز (Nanette Byrnes)

Read in English

Authors
Top