Global Editions

امریکی صدر جو بائيڈن کرونا وائرس اور ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے سب سے پہلے کیا کرنے والے ہيں؟

صدر جو بائيڈن وائٹ ہاؤس میں اپنے پہلے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر رہے ہیں۔ کریڈٹ : اے پی
بائيڈن انتظامیہ پیرس کے معاہدے میں دوبارہ شمولیات اختیار کرنے اور ماسک پہننا ضروری قرار دینے والی ہے۔ اس کے علاوہ، اقتدار سنبھالتے ہی بائيڈن نے کئی دیگر اہم فیصلے بھی کیے ہیں۔

ہم اس تحریر میں آپ کو بتائيں گے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے اب تک کونسے اہم فیصلے کیے ہیں۔

”100 روزہ ماسک چیلنج“

بائيڈن کے پہلے ایگزيکٹو آرڈر کو دیکھتے ہوئے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کو وہ سابق صدر ٹرمپ کے برعکس کرونا وائرس کی روک تھام کے حوالے سے سنجیدہ ہیں۔ اس نئے آرڈر کے تحت تمام امریکی وفاقی دفاتر میں ماسکس پہننا ضروری قرار دے دیا جائے گا۔ انہوں نے گورنرز اور منتخب افسران کو اپنے اپنے دفاتر میں ماسکس ضروری قرار دینے کا بھی مشورہ دیا ہے۔  بائيڈن امریکی عوام کو اگلے 100 روز تک روزانہ ماسکس پہننے کے لیے آمادہ کرنے کی بھی کوشش کريں گے۔

تحریر: ایبی اولہائزر (Abby Ohlheiser)


پیرس معاہدے میں دوبارہ شمولیت

بائيڈن نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے ٹھوس اقدام کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ اقتدار سنبھالتے ہی انہوں نے امریکہ کی پیرس معاہدے میں دوبارہ شمولیت اختیار کرنے کا پراسیس شروع کردیا۔

اس معاہدے پر دستخط کرنے والے ممالک نے 2016ء میں کاربن کے اخراجات میں کمی کرنے کا تہیہ کیا تھا۔ تاہم اگلے ہی سال سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کی شمولیت ختم کرنے کا اعلان کیا۔ پیرس معاہدے میں دوبارہ شمولیت اختیار کرنے کا پراسیس مکمل ہونے میں چند ہفتے لگيں گے۔ اس سے نئی پالیسیاں تو عمل میں نہيں آئيں گی، لیکن امریکہ کے لیے اگلے سال منعقد ہونے والی اقوام متحدہ کی ماحولیاتی کانفرنس میں اخراجات کے اہداف پیش کرنا ضروری ہوجائے گا۔ امید کی جارہی ہے کہ امریکہ کی عہدبستگی کو دیکھنے کے بعد دوسرے ممالک بھی ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے سنجیدگی کا مظاہرہ کریں گے۔ تاہم صدر ٹرمپ کی چار سالہ حکومت کے باعث امریکہ کی خارجہ پالیسی اور اس کے دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے دوسرے ممالک کے لیے مثال قائم کرنے کے لیے امریکہ کو نہ صرف ان تعلقات کو بہتر بنانا ہوگا بلکہ یہ بھی ثابت کرنا ہوگا کہ وہ ماحولیاتی تبدیلی کے معاملے میں سنجیدہ ہے۔

تحریر: جیمز ٹیمپل (James Temple)


امریکہ کی اندرون ملکی ماحولیاتی پالیسیوں میں تبدیلی

بائيڈن کے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت وفاقی ایجنسیوں کے لیے سابق صدر ٹرمپ کی توانائی اور ماحولیاتی تبدیلی سے وابستہ پالیسیوں کی نظرثانی کرنا ضروری ہوگیا ہے۔ ان ایجنسیوں کو ان پالیسوں کی حسب ضرورت ترمیم کرنے کا بھی اختیار دیا گيا ہے۔

اس آرڈر کے تحت 2010ء میں شروع ہونے والے کی سٹون ایکس ایل پائپ لائن (Keystone XL Pipeline) کے تعمیری پرمٹ کو بھی منسوخ کردیا گيا۔ کینیڈا سے شروع ہونے والی یہ پائپ لائن امریکی ریاست الینوائے تک تیل پہنچانے کے لیے بنائی گئی تھی، اور اسے شروع سے ہی ماحولیاتی آلودگی کے متعلق خدشات کے باعث تنقید کا نشانہ بنایا جارہا تھا۔ 2015ء میں امریکی صدر بارک اوباما نے اس پراجیکٹ کو معطل کرنے کا حکم دیا تھا، لیکن 2017ء میں صدر ٹرمپ نے اس پائپ لائن کی تکمیل کی اجازت دے دی۔

صدر بائیڈن نے ایجنسیوں کو تیل اور گیس کی صنعت کے اخراجات کے متعلق مزید سخت قواعد تیار کرنے، گاڑیوں کے نئے معیارات قائم کرنے، اور الیکٹرانک اپلائنسز سے وابستہ قواعد مزيد سخت کرنے کے احکامات جاری کیے ہيں۔

اس آرڈر کے تحت صدر ٹرمپ کے تیل اور گیس کے ایکسپلوریشن پراجیکٹس کو اجازت دینے کے فیصلے کی بھی نظرثانی کی جائے گی اور جاری پراجیکٹس کو معطل کرکے ان کا ازسرنو تخمینہ کیا جائے گا۔

27 جنوری کو نئی انتظامیہ ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے مزید جارحانہ اقدام بھی اٹھانے والی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق قومی اور اندرون ملکی پالیسیوں کی بنیاد ماحولیاتی تبدیلی پر کھڑی ہوگی۔

ان تمام فیصلوں کی بدولت ریاستوں، کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کے لیے قواعد کے متعلق عدم یقینی ختم ہوگی اور صاف توانائی کی صنعت فروغ پائے گی۔ تاہم پیرس کے معاہدے کے اہداف (یا 2035ء تک کاربن سے پاک بجلی اور 2050ء تک اخراجات میں اضافے کے خاتمے کے متعلق بائيڈن کے اپنے اہداف) کے حصول کے لیے مزید سخت قوانین متعارف کرنے کی ضرورت ہوگی۔ سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی اکثریت کم ہونے کے باعث یہ سب کرنا بہت مشکل ہوگا۔

کرونا وائرس کے خلاف وفاق کی جنگ

صدر بائيڈن نے حال ہی میں 1.9 کھرب ڈالر کے کرونا وائرس ریلیف پیکیج کا اعلان کیا تھا۔ اب ایک نئے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت کرونا وائرس کا بہتر طور پر مقابلہ کرنے کے لیے وفاقی حکومت کے عملے میں کچھ تبدیلیاں متعارف کی جائيں گی۔ اپنے دور میں صدر اوباما نے ایبولا کی وبا کے مقابلے کے لیے ڈائریکٹوریٹ فار گلوبل ہیلتھ سیکورٹی اینڈ بائیوڈيفینس (Directorate for Global Health Security and Biodefense) قائم کیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے اس ٹیم میں شامل افراد کا دوسرے محکموں میں تبادلہ کروا دیا۔ صدر بائيڈن نے کچھ عرصہ پہلے یہ تاثر دینے کی کوشش کی تھی کہ اس محکمے کو مکمل طور پر ختم کردیا گیا تھا، لیکن حقیقت کچھ اور ہی نکلی۔ اب صدر بائيڈن اس محکمے میں نئی جان پھونکنے کی کوشش کریں گے۔

ان کے ایگزیکٹو آرڈر کے مطابق، اس محکمے کی باگ دوڑ نیشنل ایکنامک کاؤنسل (National Economic Council) کے سابق ڈائریکٹر جیف زينٹس (Jeff Zients) کے ہاتھ میں ہوگی، جو صدر بائیڈن کو جوابدہ ہوں گے۔ زينٹس کو ویکسینز اور طبی ساز و سامان بنانے اور تقسیم کرنے کی ذمہ داری سوپنی گئی ہے۔

تحریر: ایبی اولہائزر (Abby Ohlheiser)


عالمی ادارہ صحت میں دوبارہ شمولیت

 کرونا وائرس کی وبا کے عالمی پیمانے پر پھیلنے کے باوجود، صدر ٹرمپ نے امریکہ کو عالمی ادارہ صحت سے نکالنے کا پراسیس شروع کردیا تھا۔ بائيڈن کے آرڈر کے مطابق، صدر ٹرمپ کے اس فیصلے کو معطل کردیا گيا، اور ڈاکٹر اینتھونی فاؤچی (Anthony Fauci) کو امریکی وفد کی سربراہی سونپ دی گئی۔

تحریر: ایبی اولہائزر (Abby Ohlheiser)


امیگریشن کے قوانین میں تبدیلیاں

صدر ٹرمپ کی امیگریشن سے وابستہ پالیسیاں کافی متنازعہ رہی ہیں۔ صدر بائيڈن ایگزیکٹو آرڈرز اور نئے قوانین کے ذریعے ان پالیسیوں کو معطل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ صدر بائيڈن نے صدر ٹرمپ کی مسلمانوں پر عائد کردہ پابندیوں، اور امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر کو منسوخ کردیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر میں ان تمام افراد کی مردم شماریوں میں شمولیت پر پابندی عائد کی تھی، جو امریکی شہریت نہيں رکھتے۔ صدر بائيڈن نے اس آرڈر کو بھی معطل کردیا ہے۔ نیز، وہ امریکی شہریت کی راہ مزید ہموار کرنے کی کوشش کریں گے، جس سے 1.1 کروڑ افراد کو شہریت مل سکے گی۔

تحریر: آئلین گوؤ (Eileen Guo)


صدر ٹرمپ کے نئے قواعد و ضوابط کی معطلیاں

صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤ‎س چھوڑنے سے پہلے مختلف ضوابط تبدیل کرنے کے لیے متعدد آرڈرز پاس کیے تھے، جن کے تحت کلاؤڈ کمپیوٹنگ کمپنیوں کے لیے قوانین مزید سخت کیے گئے، اور سرکاری ملازمین کو اپنا عہدہ چھوڑنے کے بعد لابی انگ کے ذریعے پیسے کمانے کی اجازت دی گئی۔ صدر بائيڈن نے ان تمام آرڈرز کو عارضی طور پر معطل کردیا ہے۔

تحریر: بابی جانسن (Bobbie Johnson)


اپنے گھر کا کرایہ دینے سے قاصر افراد کو گھر سے نکالنے پر پابندیوں میں توسیع

کرونا وائرس کی وبا کے باعث کئی لوگ اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہيں۔ ایسے افراد کے لیے اپنے گھروں کے کرایے دینا مشکل ہوگيا، جس کے باعث ان کا بے گھر ہونے کا خطرہ تھا۔ ہم نے دسمبر میں بتایا تھا کہ عدالت میں اس مسئلے سے وابستہ کئی کیسز لائے گئے، لیکن کرونا وائرس کے باعث ان کی سنوائی ویڈيوکانفرنس اور فون کال کے ذریعے ہورہی تھی۔ ٹیکنالوجی تک رسائی نہ ہونے کے سبب متعدد کرایہ دار اپنے کیسز کی سنوائی میں حصہ نہیں لے سکے، اور وہ بے گھر ہوگئے۔ اس کے جواب میں حکومت نے مالک مکانوں پر کرایہ دینے سے قاصر کرایہ داروں کو گھر سے نکالنے پر پابندی عائد کردی، جو 31 جنوری کو منسوخ ہونے والی تھی۔ صدر بائيڈن کے نئے ایگزیکٹو آرڈر کے مطابق اس پابندی میں مارچ تک توسیع کردی گئی ہے، لیکن کرایہ داروں کے لیے یہ ثابت کرنا ضروری ہوگیا ہے کہ وہ کرایہ دینے کی سکت نہيں رکھتے۔

تحریر: آئلین گوؤ (Eileen Guo)

Read in English

Authors

*

Top