Global Editions

جو بائيڈن ماحولیاتی تبدیلی کے لیے اربوں ڈالر کی رقم مختص کرنے والے ہیں

صدر جو بائيڈن ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کر رہے ہیں۔ کریڈٹ : گیٹی امیجیز (Getty Images)
امریکی صدر کے تازہ ترین ایگزیکٹو آرڈرز کے مطابق ایجنسیوں کے لیے صاف توانائی اور بجلی خریدنا اور اپنے تمام منصوبہ جات میں ماحولیاتی اثرات کو ترجیح دینا ضروری ہوگیا ہے۔

نومنتخب امریکی صدر جو بائيڈن نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد شروع کردیا ہے۔

انہوں نے 27 جنوری کو جن ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کیے تھے، ان کی وجہ سے امریکی توانائی کی پالیسیوں میں بہت اہم تبدیلیاں آنے والی ہیں۔ ان نئے آرڈرز کے تحت وفاقی ایجنسیوں کے لیے امریکہ میں بنی کاربن کے اخراجات سے پاک گاڑیاں اور کاربن سے پاک بجلی کا استعمال ضروری ہوگیا ہے؛ عوامی زمینوں پر تمام نئی تیل اور گیس کے پائپ لائنز پر کام معطل کروا دیا گیا ہے؛ اور حیاتیاتی ایندھن کے لیے وقف حکومتی مالی امداد بند کردی گئی ہے۔

ماحولیاتی تبدیلی کو قومی دفاع کی منصوبہ بندی کا بھی اہم عنصر قرار دے دیا گیا ہے۔ اب وفاقی ایجنسیوں کو بین الاقوامی تصادم کی منصوبہ بندی کے دوران گرمی اور سردی کی لہروں، جنگلات کی آگ، سیلاب، اور قحط جیسی آفات کے اثرات پر بھی غور کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ، پیرس کے ماحولیاتی معاہدے کے تعمیل کے لیے امریکہ میں کاربن کے اخراجات کی کمی کے حوالے سے مزید جارحانہ اہداف مقرر کیے جائيں گے۔

ان ہدایات کو دیکھ کر یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جو بائيڈن ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے بہت سنجیدہ ہیں۔ انہوں نے اقتدار سنبھالتے ہی پیرس معاہدے میں دوبارہ شمولیت اختیار کرنے کا  پراسیس شروع کردیا تھا، اور میتیھن کے اخراجات اور گاڑیوں میں پیٹرول کے استعمال کے حوالے سے نئے قواعد کی بھی بنیاد رکھی تھی۔

اس سے مارکیٹ کو کس طرح فائدہ ہوگا؟

ان ایگزیکٹو آرڈرز کی بدولت ہوائی، شمسی، اور جیوتھرمل توانائی جیسے قابل تجدید ذرائع کے علاوہ برقی اور ہائيڈروجن سے چلنے والی گاڑیوں کی مارکیٹ کو بھی بہت فائدہ ہوگا۔ واشنگٹن ڈی سی میں واقع تھنک ٹینک تھرڈ وے (Third Way) میں ماحولیاتی اور توانائی کے پروگرام کی سربراہی کرنے والے جوش فریڈ (Josh Freed) کے مطابق ان صنعتوں کو اربوں ڈالر کی مالی امداد تو حاصل ہوگی ہی، لیکن ساتھ ہی ایسا فریم ورک بھی قائم ہوگا جس کی بدولت نئے پراجیکٹس اور فیکٹریوں کی بھی فنڈنگ ممکن ہوگی۔

برقی یا ہائيڈروجن پر چلنے والی گاڑیوں کے متعلق بائيڈن کے آرڈر کی مثال لیتے ہيں۔ اس وقت امریکی حکومت 650،000 کے قریب گاڑیاں، ٹرکس اور بسیں استعمال کر رہی ہے، اور اگر ان سب کو تبدیل کیا جائے تو برقی اور ہائيڈروجن پر چلنے والی والی گاڑیوں کی مارکیٹ میں 40 فیصد اضافہ ہوگا۔ پچھلے سال امریکہ میں صرف 16 لاکھ برقی گاڑیاں فروخت ہوئی تھیں۔ مزید برآں، انسائيڈ ای ویز (InsideEVs) کے مطابق 2012ء سے اب تک صرف 10،000 ہائيڈروجن پر چلنے والی گاڑیاں فروخت ہوئی تھیں۔

تاہم ایجنسیاں اس وقت تک نئی گاڑیاں نہيں خریدیں گی جب تک ان کی موجودہ گاڑیاں بے کار نہ ہوجائيں۔ اسی لیے، ہم توقع کر سکتے ہيں کہ یہ تبدیلی فوراً نہيں ہوگی۔

بائيڈن کے ایگزیکٹو آرڈر کے مطابق وفاقی حکومت بجلی کی صنعت کو 2035ء تک کاربن کے استعمال سے پاک بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ انہوں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ”اگر ہم کاربن کی آلودگی کے بغیر بجلی بنانے میں کامیاب ہوجائيں گے تو اس سے اکیسویں صدی میں ملازمتوں میں اضافہ ہوگا اور ماحول کے ساتھ ہماری معیشت میں بھی بہتری آئے گی۔“

اب تک یہ بات واضح نہیں ہوئی ہے کہ ان آرڈرز کو عملدرآمد کس طرح کیا جائے گا اور اگلے چند سالوں میں کیا ہونے والا ہے۔ ہم یہ بھی نہیں جان سکے ہیں کہ ایجنسیاں ہوائی، شمسی اور جوہری ذرائع سے کتنے فیصد بجلی حاصل کرنے والے ہیں۔ نہ ہی ہمیں یہ معلوم ہوا ہے کہ موجودہ مقامی گرڈز پر محدود اختیار کے مدنظر، حکومتی ایجنسیاں اپنے اہداف کس طرح حاصل کرسکیں گی۔

واشنگٹن ڈی سی میں واقع سینٹر فار کلائیمیٹ اینڈ سیکورٹی (Center for Climate and Security) کی ڈپٹی ڈائریکٹر ایرن سکورسکی (Erin Sikorsky) اس بات سے بہت خوش ہیں کہ جو بائيڈن نے قومی دفاع کو نظرانداز نہيں کیا۔

ان کے مطابق، جب تک امریکہ ماحولیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کا تفصیلی جائزہ نہیں لیتا، اس کے لیے خشک سالی جیسی آفات کے باعث پیدا ہونے والے تصادم کا تخمینہ کرنا، بیرون ملک تعینات افواج کو ناقابل پیشگوئی موسم کے لیے ضروری سامان مہیا کرنا، اور بدلتے ہوئے حالات کے پیش نظر خارجہ پالیسی تشکیل دینا ممکن نہيں ہوگا۔ مثال کے طور پر، قحط سالی کے باعث جرائم اور دہشت گردی میں اضافہ ممکن ہے اور درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے روس جیسے ممالک کا پلڑا بھاری ہوسکتا ہے۔

ماحولیاتی انصاف میں اضافہ

ان نئے ایگزیکٹو آرڈرز میں متعدد اضافی اعلانات اور ہدایات شامل تھے۔ ان کے چند اہم نقاط درج ذيل ہيں:

1)- بائيڈن ماحولیاتی تبدیلی سے وابستہ بین الاقوامی تعلقات کو بحال کرنے کے لیے ارتھ ڈے (Earth Day)، یعنی 22 اپریل، کو ایک کانفرنس منعقد کریں گے، جس میں متعدد ممالک کے سربراہان کو مدعو کیا جائے گا۔

2)-انہوں نے ایجنسیوں کو پسماندہ کمیونٹیز پر ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے اور ان کمیونٹیز کو متعلقہ وفاقی سرمایہ کاری میں سے ”40 فیصد فوائد“ دینے کی ہدایات جاری کیں ہیں۔

3)- صدر نے سیکریٹری برائے زراعت کو بھی ایسے اقدامات کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں جن کے ذریعے کاربن کے اخراجات میں کمی اور مٹی میں ذخیرہ کردہ کاربن کی تعداد میں اضافہ ممکن ہو سکتے ہيں۔ اس کے علاوہ، انہوں نے ایک سیولین کلائمیٹ کور انیشیٹیو (Civilian Climate Corps Initiative) کی تشکیل کا بھی مطالبہ کیا، جس کے تحت امریکی شہریوں کو درخت اگانے اور عوامی زمین اور پانی کے ذرائع بحال کرنے کی ترغیب دی جائے گی۔

4)-ایک نئے میمورانڈم کے ذریعے وفاقی پالیسی سازی میں سائنس کی اہمیت میں اضافہ کیا گيا ہے، اور وفاقی ایجنسیوں کو ”بہترین دستیاب سائنس اور ڈيٹا کی بنیاد پر حقائق پر مبنی فیصلے کرنے“ کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

5)- بائيڈن نے متعدد ماحولیاتی اور سائنس کے مشاورتی گروپس بھی قائم کیے ہيں۔

ان ایگزیکٹو آرڈرز کی راہ میں کس قسم کی رکاوٹیں آسکتی ہيں؟

اس وقت جو بائيڈن اپنے ماحولیاتی تبدیلی سے وابستہ اہداف حاصل کرنے کے لیے نئے قانون پاس کروانے کے بجائے ایگزیکٹو آرڈرز پاس کرنا بہتر سمجھ رہے ہيں۔

تاہم انہيں اس سلسلے میں کئی مشکلات کا سامنے ہوسکتا ہے۔ ایگزیکٹو آرڈرز وفاقی ایجنسیوں کو جاری کردہ احکامات کی حیثیت رکھتے ہیں، لیکن ان کے ذریعے موجودہ قوانین تبدیل کرنا یا صدر کو نئے اختیارات دینا ممکن نہيں ہے۔ عام طور پر صدر کو کانگریس کی اجازت کے بغیر رقم خرچ کرنے کی بھی اجازت نہيں ہوتی، اور جو بائيڈن صاف توانائی اور گاڑیوں کے سلسلے میں سے ایسا ہی کچھ کرنے کی کوشش کررہے ہيں۔

ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ ماضی میں ایگزیکٹو آرڈرز اکثر تنازعے کا شکار رہے ہيں اور ان کے خلاف بعض دفعہ عدالتی کارروائی بھی شروع کی گئی ہے۔  اس کے علاوہ، انہی نئے قوانین یا ایگزیکٹو آرڈرز پاس کروا کر معطل یا منسوخ بھی کیا جاسکتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے صدر اوباما کے متعدد ایگزیکٹو آرڈرز کو منسوخ کیا تھا، اور اب صدر بائيڈن صدر ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈرز کے ساتھ بھی یہی کر رہے ہيں۔

پیرس کے معاہدے کی شرائط کے مطابق اخراجات کے مکمل طور پر خاتمے کے لیے ایگزیکٹو آرڈرز کافی نہيں ہوں گے۔ اس کے لیے قوانین درکار ہوں گے۔ بائيڈن کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ یہ سب کچھ کر پائيں گے۔

تحریر: جیمز ٹیمل (James Temple)

Read in English

Authors

*

Top