Global Editions

پنجاب کی فضا میں سانس لینا دشوار

ہر سال سموگ کی آمد کے بعد شور اٹھنے کے نتیجے میں ایک پالیسی تو بن گئی، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیٹا کی عدم دستیابی صوبہ پنجاب میں ہوا کے معیار کو محفوظ رکھنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہورہی ہے۔

2016ء کی سردیوں میں پہلی دفعہ سموگ نے پورے لاہور کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ یہ ہر سال کی دھند کی طرح ہی تھی، اور کئی لوگ یہی سمجھتے رہے کہ اس سال دھند جلدی آگئی۔لیکن کچھ ہی عرصے بعد جب لاہور کے رہائشیوں کو سانس لینے میں دشواری، آنکھوں میں خارش، اور دائمی کھانسی ہونے لگی، تو میڈیا پر “سموگ” کا لفظ سامنے آیا۔

سموگ کا لفظ سب سے پہلے لندن شہر میں دھوئيں اور دھند کے امتزاج کو بیان کرنے کے لیے ایجاد کیا گیا تھا، اور اب اس لفظ کو بہت زيادہ آلودگی کی صورت میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اکتوبر کے مہینے سے موسم میں تبدیلی آنا شروع ہوجاتی ہے، اور کم درجہ حرارت اور ہوا نہ چلنے کی وجہ سے آلودگی پھیلانے والے مواد وہیں رہتے ہيں جہاں سے انہيں خارج کیا جاتا ہے، اور یہ صورتحال سموگ کی وجہ بنتی ہے۔

Photo Credit: Pakistan Air Quality Initiative

2016ء میں اس دوران لاہور ہائی کورٹ کےاس وقت کے چیف جسٹس منصور علی شاہ نے اس مسئلے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے پنجاب کے محکمہ برائے تحفظ ماحولیات (Environmental Protection Department – EPD) سے وضاحت طلب کرلی۔ اس کے بعد انہوں نے محکمہ ماحولیات کو ہوا کے معیار میں بہتری لانے کے لیے پالیسی تشکیل کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ 2016ء کے سموگ کے بعد محکمہ ماحولیات نے سموگ کے لیے ایک پالیسی بھی تشکیل دینا شروع کی۔ جب 2017ء میں سموگ دوبارہ آیا تو محکمہ ماحولیات کو دوبارہ طلب کیا گيا، اور انہوں نے پنجاب حکومت کی جانب سے منظورشدہ پالیسی کی رپورٹ پیش کی۔ لیکن عدالت مطمئن نہيں ہوئی، اوراس نے صوبائی حکومت کو ہنگامی اقدامات کے لیے منصوبہ تیار کرنے کی ہدایات جاری کردیں۔ اس منصوبے کی تیاری اسی روز مکمل ہوگئی، اور اسے 2017ء کا سموگ ہیلتھ ایمرجنسی ایکشن پلان (Smog Health Emergency Action Plan) کا نام دے کر عملدرآمد کردیا گیا۔

2018ء کی ابتداء میں جسٹس شاہ نے ایک سموگ کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا، جو اس مسئلے کے حل کے لیے تمام متغیرات پر غور کرکے ایک ٹھوس تجویز پیش کرسکے۔ جب سپریم کورٹ آف پاکستان نے 2018ء میں ہوا کے معیار کا ازخود نوٹس لیا تو انہوں نے اس کمیشن کو وہی رپورٹ فائل کرنے کی ہدایات دیں جس پر وہ کام کررہے تھے۔ اس رپورٹ میں 17 تجاویز موجود تھیں، اور یہ وہی رپورٹ ہے جسے حکومت سموگ کا مقابلہ کرنے کے لیے استعمال کررہی ہے۔

تاہم یہ رپورٹ ایک طرح سے محض خواہشات کی فہرست ہے، اور اس میں موجود کئی تجاویز میں ہوا کے عمومی معیار کی بہتری کے لیے طویل المیعاد اقدام پیش کیے گئے ہیں۔ 2018ء میں سردی کا موسم شروع ہوتے ہی حکومت نے دسمبر تک اینٹوں کے بھٹیوں، فصلوں کی باقیات کو جلانے اور صنعتی دھوئيں کے اخراج پر پابندی عائد کردی۔ لیکن اس علاقے میں ہوائی آلودگی پورے سال برقرار رہتی ہے، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کے لیے پابندیوں کے علاوہ بھی ٹھوس اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہیں خدشہ ہے کہ اس سال سموگ ختم ہوتے ہی حکومتی ارادے بھی ٹھنڈے پڑ جائيں گے، اور اگلے سال مزید پابندیوں سے ہی کام چلایا جائے گا۔

دس سب سے زیادہ آبادی والے ممالک اور یورپی اتحاد میں آبادی کے مطابقPM2.5کا سالانہ اوسط ارتکاز، 2010-2016ء

پنجاب کےمحکمہ ماحولیات کے ترجمان نسیم الرحمان کا کہنا ہے “پنجاب میں سموگ کے پیچھے چار سے پانچ عناصر ہیں، جن میں صنعتیں، اینٹوں کی بھٹیاں، پودوں کو جلانا، تعمیراتی سرگرمیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی دھول اور ٹریفک سرفہرست ہیں۔ ان وجوہات میں لوڈ شیڈنگ بھی شامل ہے، جس کی وجہ سے کئی جنریٹرز چلائے جاتے ہیں۔ ہم ان تمام چیزوں پر کام کررہے ہیں۔” سٹیٹ آف گلوبل ائیر( State of Global Air 2018) کی رپورٹ کے مطابق، چین کی ہوائیآلودگی، جسے ایک زمانے میں دنیا کی بدترین آلودگی سمجھا جاتا تھا، اب نہ صرف مستحکم ہوچکی ہے، بلکہ اس میں کمی بھی آنا شروع ہوگئی ہے۔ دوسری طرف 2010ء کے بعد سے پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں ہوائی آلودگی میں سب سے زيادہ اضافہ ہوا ہے۔ اس رپورٹ میں باہر کی ہوا کی آلودگی کی پیمائش کے لیے PM2.5 اور ٹروپوسفیرک اوزون (tropospheric ozone) کا استعمال کیا گیا ہے، اور اس میں بتایا گیا ہے کہ ہوائی آلودگی کئی گیسز سے مل کر بنتی ہے، لیکن حکومتیں آلودگی کی پیمائش کے لیے صرف چند ہی گیسز کا انتخاب کرتی ہیں۔ ان میں سے PM2.5 نامی گیس کی سب سے زيادہ پیمائش کی جاتی ہے، جسے آلودگی کی زیادتی کی وجہ سے پیش آنے والی مختلف بیماریوں کا سب سے متواتر پیش گو سمجھا جاتا ہے۔ یہ گیس ڈھائی مائیکرومیٹرز یا اس سے کم ایئروڈائنیمک نصف قطر رکھنے والے باریک ذرات پر مشتمل ہے، اور اس کی پیمائش مائیکروگرام فی مکعب میٹرز (µg/m³) میں کی جاتی ہے۔

PM2.5 کے طویل المیعاد ایکسپوژر کے ثبوت کی بنیاد پر عالمی ادارہ صحت نے ہوا کے معیار کو اوسطاً µg/m³ 10 پر مقرر کیا ہے۔ ان علاقہ جات میں جہاں ہوائی آلودگی بہت زيادہ ہے، جن میں پاکستان کا بھی شمار ہوتا ہے، عالمی ادارہ صحت نے µg/m³ 35، µg/m³ 25، اور 15µg/m³ کے ‏عبوری اہداف تجویز کیے ہیں۔ پاکستان کی آبادی کے لحاظ سے موجودہ سالانہ اوسط مقدار µg/m³ 76 ہے، جو محفوظ معیار کی حد سے کہیں زيادہ ہے۔

پنجاب میں ہوا کا معیار صحت کے لیے مضر ہونے کے علاوہ بعض دفعہ خطرناک بھی ثابت ہوتا ہے۔ لیکن یہ موضوع صرف اکتوبر کے مہینے میں اسی وقت زور پکڑتا ہے جب سموگ شروع ہوتی ہے یا قریب ہوتی ہے۔ اس علاقے میں سموگ اب کوئی نئی بات نہيں رہی، اور اس سال صوبائی حکومت نے اسے کنٹرول کرنے کے لیے اقدام کرنے کا دعویٰ کیا ہے، اور ابتدائی طور پر اکتوبر سے لے کر دسمبر کے اختتام تک فصلوں کی باقیات جلانے اور اینٹوں کی بھٹیاں چلانے پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا، لیکن بعد میں اس میں ہر ہفتے توسیع کی جاتی رہی۔

پاکستان کسان اتحاد کے سیکریٹری جنرل میاں عمیر مسعود کہتے ہیں “ہم بے بس ہیں۔ حکومت کہتی ہے کہ وہ ایف آئی آر درج کروائے گی، کسانوں کو تحویل میں لے گی، اور جرمانے عائد کرے گی۔” انہوں نے مزید بتایا کہ اگر فصلوں کی باقیات کو نہيں جلایا جائے گا تو زمین اگلی فصل کے لیے تیار نہيں ہوگی، جس کی وجہ سے اگلی پیداوار بہت کم ہوگی۔ فصلوں کی با قیات کو جلانے کا کام زيادہ تر چاول کی فصل کے لیے کیا جاتا ہے، جس میں فصل کو صرف اوپر سے کاٹا جاتا ہے۔اس کے بعد کسان جڑوں اور بھوسے سمیت بچ جانی والے باقیات کو آگ لگادیتے ہيں۔

بھارت میں فصلوں کو آگ لگانے کے زیادہ واقعات پیش آتے ہیں. تاہم لاہور کے جنوبی اور شمالی علاقہ جات میں بھی ان واقعات کی تعداد بہت زیادہ ہے.

سموگ پالیسی کی ایک تجویز یہ تھی کہ کسانوں کو ماحول دوست طریقے سے فصلوں کی باقیات صاف کرنے کے متعلق تربیت فراہم کی جائے گی۔ لیکن پابندی عائد کرنے سے پہلے اس قسم کی کوئی تربیت نہيں فراہم کی گئی۔ مسعود نے بتایا “پاکستان کے کسان ان پڑھ ہيں، اور ابھی بھی اپنے آبا و اجداد کی ہی روایتوں پر چل رہے ہیں۔ انہیں حکومت نے کسی بھی قسم کی تربیت، تعلیم یا امداد فراہم نہيں کی تو وہ کیا کریں؟”

پاکستان میں اینٹوں کی بھٹیوں کی ایسوسی ایشن کے صدر محمد شعیب خان نیازی بھی خاصے پریشان ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بھٹیوں کے مالکان نے خود ہی سموگ کے اوقات کے دوران بھٹیاں بند کرنے کی پیشکش کی تھی، لیکن تین ماہ تک پابندی عائد کرنے میں انہیں بہت نقصان ہوگا۔ بھٹیوں کو 20 اکتوبر سے دسمبر کے اختتام تک بند رکھنے کی ہدایات جاری کی گئيں تھیں، لیکن پابندی نافذ ہونے کے اگلے ہی روز حکومت نے اسے 27 اکتوبر تک ملتوی کردیا۔ نیازی کہتے ہيں “اس بدانتظامی نے ہمارا بہت کام خراب کردیا ہے۔ اب ہم بھٹیاں بھی نہيں چلاسکتے کیونکہ یہ مشینیں نہيں ہیں جنہيں اپنی مرضی سے آن یا آف کیا جاسکے۔”

محکمہ ماحولیات کی ہدایات کے مطابق جدید اور زيادہ صاف زگ زیگ ٹیکنالوجی نہ اپنانے والی بھٹیوں کو دسمبر کے بعد بھی آپریشن بحال کرنے کی اجازت نہيں دی جائے گی۔ لیکن نیازی کا کہنا ہے کہ حکومت بھی اس کے اخراجات نہيں برداشت کرسکتی ہے۔ انہوں کے بتایا کہ وہ یہ نئی ٹیکنالوجی اپنانے کے لیے تیار بھی ہيں اور کوششیں بھی کررہے ہیں، لیکن حکومت کی مالی اور تکنیکی امداد کے بغیر یہ بہت مشکل ثابت ہورہا ہے۔ وہ کہتے ہیں “زگ زيگ ٹیکنالوجی اپنانے والے مالکان خود ہی کتابیں پڑھ کراورویڈیوز دیکھ دیکھ کر کام کرنے کی کوششیں کرتے ہيں، جس سے غلطیاں ہوتی ہيں، اور ان غلطیوں کی وجہ سے بہت نقصان ہوتا ہے۔ ہمیں معلوم نہيں ہے کہ ہمیں آگے کیا کرنا چاہیے۔”

ان کے خیال میں حکومت کے پاس آخری وقت پر پابندیاں لگانے اور ہٹانے کے علاوہ سموگ سےنمٹنے کا واضح منصوبہ ہونا چاہیے، اور بھٹی کے مالکان کو آگاہی فراہم کرنی چاہیے۔

وہ کہتے ہيں”بھٹی کے مالکان جدید ٹیکنالوجی اپنانے کو تیار ہیں، لیکن ہمیں مالی اور تکنیکی امداد تو ملنی چاہیے۔” جب ان سے اینٹوں کی بھٹیوں کے مالکان کے لیے مختص کردہ 2.5 کروڑ روپے کے فنڈ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے زور سے قہقہہ لگایا۔ “یہ بات صرف اخباروں ہی میں ہوگی۔ ہمیں تو کسی نے نہ اس کے بارے میں بتایا اور نہ ہی ایک روپیہ ملا ہے۔”

ڈاکٹر سحر اسد نے پابندی عائد ہونے کے باوجود موٹروے پر پانچ مقامات پر فصلوں کی باقیات کو جلتا ہوا دیکھا۔ وہ کہتی ہیں کہ ریسرچ کے مطابق یہ پابندیاں موثر ثابت نہيں ہوسکتی ہیں۔ ڈاکٹر اسد لاہور یونیورسٹی آف مینیجمنٹ سائنسز میں اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر فائز ہيں اور ان کا کہنا ہے کہ حکومت غلط قسم کی پالیسیاں اپنا رہی ہے۔ انہوں نے حال ہی میں 2013ء سے 2017ء کے درمیان نومبر کے مہینے کے لیے حاصل کردہ ویرس (viirs)سیٹلائٹ کے ڈیٹا کی مدد سے فصلوں کوآگ کے پیٹرنز میں صوبائی سطح کی تبدیلیوں کو سمجھنے کے ایک ریسرچ پراجیکٹ شروع کیا ہے۔ یہ پراجیکٹ اس وقت اختتام پذیر نہيں ہوا ہے، لیکن ڈاکٹر اسد کو اس دوران یہ بات ضرور معلوم ہوئی ہے کہ پنجاب کے کئی ضلعوں میں 2013ء سےفصلوں کی باقیات کوآگ لگانے کے واقعات کی تعداد میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے، اور حکومت کو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے واضح پالیسیاں تشکیل دینی ہوں گی۔

ڈاکٹر اسد کہتی ہیں”پہلے کسان فصلوں کی باقیات کوضائع کرنے کے لیے مزدور رکھتے تھے، لیکن جب سے ان کی اجرت میں اضافہ ہوا ہے، کسانوں کے پاس ان باقیات کو جلانے کے علاوہ کوئی چارہ نہيں بچا ہے۔ جب تک حکومت اپنی مراعات کواپنی پالیسیوں کے مطابق نہيں بنائے گی، یا ان لوگوں کو تربیت نہيں فراہم کرے گی، پابندیوں سے کوئی فائدہ نہيں ہوگا۔” وہ مزید بتاتی ہيں کہ تحقیق کے مطابق اگر واضح طور پر موافق مراعات کے بغیر پابندیاں عائد کرنے کی کوشش کی جائے، تو بھٹی کے مالکان کے لیے پولیس یا ماحولیاتی نگران کو قیمت ادا کرنے کی گنجائش پیدا ہوجائے گی، جس کے اخراجات نئی ٹیکنالوجی کو اپنانے کے اخراجات سے کہیں کم ہوں گے۔

روایتی اور ز‏گ زیگ اینٹوں کی بھٹیوں کے اخراجات کے درمیان فرق کا مطالعہ کرنے والے ماحولیاتی ماہر اقتصادیات ڈاکٹر سانول نسیم کا کہنا ہے کہ سرویز کے مطابق پاکستان میں زگ زیگ ٹیکنالوجی کے لیے کسی بھی قسم کی تکنیکی معاونت دستیاب نہيں ہے۔ وہ کہتے ہیں”نیپال سے ماہرین آ کر چھوٹی موٹی کانفرنسز منعقد کرتے ہیں، لیکن یہ کافی نہيں ہے۔ صرف اسی صوبے میں ہی 10,000 سے زیادہ اینٹوں کی بھٹیاں ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کو وسیع پیمانے پر اپنانے میں اچھی تکنیکی معاونت تک رسائی کا بہت اہم ہاتھ ہے، اور حکومت کو اس پہلو پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔”

2016ء کے اوسط PM2. 5کے ارتکاز کا عالمی ادارہ صحت کے رہنما اصول کے ساتھ موازنہ.

تاہم، ڈاکٹر نسیم کے مطابق، پالیسیوں کی موثر تشکیل کے لیے حکومت کو ہوائی آلودگی کی پیمائش کے لیے پیمائش کے بہتر سسٹمز کی ضرورت ہے، جو اس کے پاس موجود نہيں ہیں۔ 2017ء میں تشکیل دی جانے والی سموگ پالیسی اور مئی 2018ء میں لاہور ہائی کورٹ میں فائل کی جانے والی رپورٹ دونوں ہی کے مطابق ڈیٹا کی کمی کا مسئلہ موثر اور درست پالیسی کی تشکیل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹوں میں سے ایک ہے۔ 2018ء کی رپورٹ کے مطابق، “باہر کی ہوا میں آلودہ کرنے والے مواد کے تناسب کے متعلق تاریخی ڈیٹا بہت بکھرا ہوا ہے، اور صرف لاہور کے دو علاقے، ٹاؤن شپ اور جوہر ٹاؤن، ہی کے لیے دستیاب ہے۔ وفاقی محکمہ ماحولیات نے یہ دونوں سٹیشنز 2007ء میں جاپان انٹرنیشنل کواوپریشن ایجنسی کی معاونت سے نصب کیے تھے، لیکن ان سے صرف وقفے وقفے سے ہی ڈیٹا حاصل کیا جاتا ہے۔ دستیاب ڈیٹا نہ صرف بہت پرانا ہے، بلکہ اس کا دائرہ کار اتنا چھوٹا ہے کہ اس سے پورے صوبے کے متعلق کسی بھی قسم کا تجزیہ ممکن نہيں ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں ہوائی آلودگی کے کنٹرول کے لیے ترجیحات کو واضح کرنے کی ضرورت ہے، جو اتنے کم ڈیٹا کی بنیاد پر کرنا ناممکن ہے۔”

اس مسئلے کی نشاندہی اور سموگ پالیسی میں اس کی شمولیت اور ہائی کورٹ کی رپورٹ میں اس کی ترمیم کے ایک سال بعد بھی محکمہ ماحولیات کے پاس صرف چھ ہوائی معیار کے مانیٹرز ہيں ، اور پچھلے سال بھی اتنے ہی تھے۔ رحمان کہتے ہیں”پچھلے سال یہ تمام سٹیشنز لاہور ہی میں لگائے گئے تھے، لیکن اب اس سال ایک گوجرانوالہ میں اور ایک ملتان میں بھی لگایا جائے گا، اور ایک فیصل آباد بھی بھجوایا جائے گا۔ ملتان والا سٹیشن بھیجنا باقی ہے، لیکن دوسرے تمام سٹیشنز بھجوائے جاچکے ہیں۔” اس رپورٹ کے مطابق پنجاب بھر میں باہر کی ہوا کے معیار کی مانٹیرنگ کے لیے 30 سسٹمز اور پانچ موبائل مانیٹرز کی ضرورت ہے، جنہيں لاہور، شیخوپورہ، فیصل آباد، راول پنڈی، ملتان، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، بہاول پور، ڈی جی خان، اور سرگودھا میں لگایا جائے گا۔ حکومت نے نئے مانیٹرز نہيں خریدے ہیں، لیکن رحمان بتاتے ہيں کہ محکمہ ماحولیات نے مزید ڈیٹا کے حصول کے لیے چھ سند یافتہ لیباریٹریوں کی خدمات حاصل کرلی ہیں۔

ہوا کے معیار کے متعلق ڈیٹا اب تک عوامی سطح پر دستیاب نہيں ہے، اور اس کے لیے انٹرنیٹ کے مسائل سے لے کر مشینوں کی خرابی تک کئی وجوہات بتائی جاتی ہیں۔ امریکہ میں رہائش پذیر ہوائی آلودگی سے نمٹنے کی سائنس دان پلوی پینٹ (Pallavi Pant) کہتی ہيں “ہوا کے معیار کے حوالے سے ڈیٹا کی دستیابی بہت اہم مسئلہ بنتا جارہا ہے۔ ہوا کے معیار اور متعلقہ پیمانوں کے ڈيٹا کی عوامی دستیابی سے ڈیٹا استعمال کرنے والی پالیسیاں اور مداخلتوں کا تجزیہ ممکن ہوگا، اور ہوائی آلودگی کے رجحانوں اور صحت پر اس کے اثرات کے متعلق وسیع پیمانے پر مطالعوں کی فروغ کے لیے اقدام کیے جاسکيں گے۔”
پینٹ کے مطابق جنوبی ایشیاء کے مختلف شہروں میں درکار سٹیشنز کی تعداد کے متعلق سوال تو اٹھایا جارہا ہے، لیکن اس تعداد کے تعین کے لیے کوئی مخصوص فارمولا موجود نہيں ہے۔ وہ کہتی ہیں “ڈیٹا محض راستہ ہے، منزل نہيں۔ اس سے صرف ہماری فیصلہ کرنے کی صلاحیت میں بہتری ہوگی اور آگاہی میں اضافہ ہوگا۔” وہ کہتی ہيں کہ مقصد نیٹ ورک کے پیمانے کو زیادہ وسیع کرنا اور اطراف کی ہوا کے معیار کے نمونے کا حصول ہونا چاہیے۔

چین میں آلودگی نہ صرف مستحکم ہوچکی ہے، بلکہ کم بھی ہوئی ہے، اور ماہرین کے مطابق یہ تبدیلی صرف ڈیٹا کے حصول ہی کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے۔ ماحولیاتی وکیل اور کارکن رافع عالم کے مطابق چینی حکومت کا سب سے اہم کام “ذریعے کا تعین” یعنی ہوائی معیاروں کے میٹرز کی مناسب تعداد کی مدد سے ہوا میں آلودگی پھیلانے والے مواد کی پیمائش کے بعد ڈیٹا کا تجزیہ کرکے آلودگی کے ذریعے کا تعین ہے۔ عالم کہتے ہيں “اس سے آپ معلوم کرسکتے ہیں کہ ہوا کی کتنی آلودگی،گاڑیوں، ڈيزل کے اخراج، فصلیں جلانے، یا تعمیراتی دھول کی وجہ سے ہے۔ چینیوں نے جب یہ کام کیا تو انہيں معلوم ہوا کہ تقریباً دو تہائی آلودگی کوئلے کی وجہ سے تھی، اور نقل و حمل کی سرگرمیوں نے بھی بہت اہم کردار کیا تھا۔” عالم وضاحت کرتے ہيں کہ جب تک آلودگی کی وجہ معلوم نہيں ہوگی، ان ذرائع کے لیے مخصوص پالیسیاں تشکیل دینا ناممکن ہوگا۔ کوئلے کی نقل و حمل کے مقابلے میں مختلف پالیسیاں درکار ہوں گی۔
ڈاکٹر نسیم کہتے ہيں “معلومات کی عدم موجودگی کا مطلب ہے کہ نتائج بھی بہترین معیار کے نہيں ہوں گے۔ پاکستان میں عوام کے پاس سال بھر ہوا کے معیار کی جانچ کے لیے ڈیٹا دستیاب نہيں ہے، لہٰذا حکومت صرف سردی کے موسم میں ہی، جب ہوا کا معیار واضح طور پرخراب ہوجاتا ہے، اقدام کرنے کے بارے میں سوچتی ہے۔”

پاک ایئر کوالٹی انیشیٹو (Pak Air Quality Initiative) کے مطابق 2017ء میں لاہور میں صرف دو ہی دن ایسے تھے جب ہوا کا معیار اچھا رہا۔ غیرتندرست، تندرست اور خطرناک معیار کی تعداد بالترتیب 101 روز، 29 روز اور 36 روز تھی۔ پاکستان میں ہوائی آلودگی ہر سال 135,000 اموات کا سبب بنتی ہے، اور اس سے عمر میں 60 ماہ کی کمی واقع ہوتی ہے۔ ابتدائی طور پر وفاق کو ہوائی معیار کے سٹیشنز کی تعداد میں اضافہ کرنے اور سال بھر درست ڈیٹا کو عوامی سطح پر دستیاب کرنے پر کام کرنا چاہیے۔ اس سے نہ صرف لوگوں کے لیے حفاظتی اقدام کرنا ممکن ہوگا، بلکہ حکومت کو یہ بھی احساس ہوگا کہ آلودگی صرف اکتوبر اور نومبر میں ہی نہيں بلکہ پورے سال ہی کا مسئلہ ہے، اور اس کے لیے طویل المیعاد اقدامات کرنے اور ان پر موثر طور پر عملدرآمد کرنے کی ضرورت ہے۔

تحریر: نشمیاسکھیرا (Nushmiya Sukhera)

Read in English

Authors

*

Top