Global Editions

زیکا وائرس ۔۔۔۔ دوا کے انسانوں پر کلینکل تجربات کا آغاز

عالمی ادارہ صحت کی جانب سے اب زیکا وائرس کی درجہ بندی، نہایت خطرناک وبائی مرض کے طور پر نہیں کی جاتی۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کی شدت میں کمی آ گئی ہے۔ تاہم اب عالمی ادارہ صحت اس خطرناک وائرس کے تدارک کے لئے طویل المیعاد اقدامات پر غور کر رہا ہےتاکہ اس وائرس کے خلاف مسلسل جنگ لڑی جا سکے کیونکہ یہ مہم جلد ختم ہونے والی نہیں ہے اور اس کے لئے تسلسل کے ساتھ اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے عالمی ادارہ صحت کے شعبہ پبلک ہیلتھ ایمرجنسی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پیٹ سالاما (Pete Salama) کا کہنا ہے کہ ہم اس وائرس کے خطرناک ہونے کی اہمیت کو کم نہیں کر رہے بلکہ اس کے تدارک کے لئے طویل المدت پروگرام پر کام کا آغاز کر رہے ہیں۔ زیکا وائرس موجود ہے اور اس کے خلاف عالمی ادارہ صحت بھی کمر بستہ ہے۔ زیکا وائرس سے متاثرہ فرد میں بہت ہی معمولی علامات ظاہر ہوتی ہیں تاہم اگر اس وائرس سے کوئی حاملہ خاتون متاثر ہوتی ہے تو وہ جس بچے کو جنم دیتی ہے اس کا سر اور دماغ پیدائشی طور پر معمول سے چھوٹا ہوتا ہے۔ اس حوالے سے ایک اچھی خبر یہ بھی ہے کہ فلوریڈا میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ مچھروں کو فضا میں چھوڑنے کے لئے تجربے کی اجازت مل گئی ہے۔ اس تجربے کے دوران جینیاتی طور پر تبدیل شدہ مچھر جنہیں ایک برطانوی کمپنی Oxitec نے تیار کیا ہے فضا میں چھوڑے جائیں گے۔ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ مچھر Aedes aegypti کی قسم سے تعلق رکھتے ہیں اور مچھروں کی یہی قسم ڈینگی اور زیکا کے پھیلاؤ کا سبب بنتی ہے۔ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ یہ مچھر نر ہیں اور یہ مچھر مادہ مچھروں میں زیکا اور ڈینگی پھیلانے کے اثرات کو روکنے والی جین منتقل کرنے کے بعد بلوغت تک پہنچنے سے پہلے ہی مر جائیں گے۔ امریکی محکمہ خوراک و ادویات نے اس تجربے کی پہلے ہی اجازت دے رکھی ہے تاہم رواں مہینے کے آغاز میں ایک عوامی ریفرنڈم کے بعد اس معاملے پر منقسم عوامی رائے سامنے آئی تھی۔ تاہم فلوریڈا کی مقامی انتظامیہ نے اس تجربے کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا اور اب یہ تجربہ جلد متوقع ہے۔ دوسری جانب نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق زیکا وائرس سے بچاؤ کے لئے ویکسین کی تیاری کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ اس وقت بارہ کمپنیاں زیکا وائرس کے خلاف ویکسئین تیار کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور اس حوالے سے سب سے نمایاں تحقیق نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ میں ہو رہی ہے۔ اس حوالے سے تحقیق کار بہت پرامید ہیں کہ وہ جلد ہی ایک ایسی ویکسئین تیار کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے جو اس مرض سے بچاؤ کا سبب بن سکے۔ اس حوالے سے NIH کے ڈائریکٹر انتھونی ایس فوشی (Anthony S. Fauci) کا کہنا ہے کہ اس دوا کے انسانوں پر کلینکل تجربات کا آغاز ہو چکا ہے۔ زیکا وائرس پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں تاہم یہ کوئی نہیں جانتا کہ یہ کوششیں کب تک کامیاب ہونگی اور عالمی ادارہ صحت اب یہ کہہ رہا ہے کہ اس میں کچھ وقت لگے گا۔

تحریر: جیمی کونڈیلفی (Jamie Condliffe)

Read in English

Authors

*

Top