Global Editions

اب گاڑیاں ٹریفک سگنلز سے رابطہ رکھیں گی

معروف کارساز ادارے اوڈی Audi نے اپنی گاڑیوں کے نئے ماڈل میں متعارف کرائی جانیوالی ٹیکنالوجی کو پھیلانے کا اعلان کیا ہے۔ اوڈی کی جانب سے چند نئے ماڈلز میں متعارف کرائی جانیوالی ٹیکنالوجی کے تحت گاڑیاں ٹریفک سگنلز سے کمیونیکیٹ کر سکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ ایک ایسا صاف ستھرا کرتب ہے جسے صارفین پسند کریں گے۔ کوئی بھی ٹریفک سگنلز پر منٹوں رکنا پسند نہیں کرتا خاص طور پر اس وقت جب وہ سڑک عبور کرنے کی پوزیشن میں ہو اور ٹریفک سگنل سرخ ہو جائے۔ اس تکنیک کے تحت گاڑی ازخود ڈرائیور کو آگاہ کرے گی کہ وہ جس ٹریفک سگنل کے قریب پہنچ رہا ہے وہ کتنی دیر میں سرخ سے سبز لائٹ میں تبدیل ہو گا اس کے ساتھ ہی وہ ڈرائیور کو یہ بھی بنائے گی کہ اب گاڑی کی رفتار کم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ٹریفک سگنل پر گاڑی کو روکا جا سکے۔ یہ ایک کھیل جیسا لگتا ہے لیکن اس کی مدد سے ٹریفک حادثات میں انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے اور اگر اس ٹیکنالوجی کو عوامی پزیرائی حاصل ہوئی اور دیگر کارساز اداروں نے اس ٹیکنالوجی سے استفادہ حاصل کیا تو یہ ممکن ہے کہ ٹریفک حادثات کی شرح میں نمایاں کمی ممکن ہو سکے۔ دیکھا جائے تو یہ کتنا عجیب لگتا ہےکہ انسان سڑک کی ایک لین پر سفر کر رہا ہے اور ٹریفک سگنل کی سرخ بتی جل جاتی ہے پھر آپ اپنی گاڑی میں بیٹھے رہ جاتے ہیں پھر تین اطراف سے وقفے وقفے سے رکی گاڑیاں کچھ دیر کے لئے سبز لائٹ سے فائدہ اٹھاتی ہیں اور اپنی منزل کی جانب روانہ ہوتی ہے اور پھر آپکی باری آتی ہے۔ اس دوران گاڑیوں کے انجن چلتے رہتے ہیں، فیول جلتا رہتا ہے، گاڑیاں کاربن خارج کرتی رہتی ہیں۔ اسی حوالے سے سال رواں کے آغاز میں ایم آئی ٹی اور ETH زیوریخ کے تحقیق کاروں کی ایک ٹیم نے ٹریفک سگنلز کے بجائے Slot بیسڈ سسٹم متعارف کرانے کی تجویز پیش کی تھی۔ یہ بالکل اسی طرح کی تکنیک ہے جس کے تحت ائیرپورٹس اور فضائوں میں ہوائی جہازوں کی ٹریفک کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔ اس طریقہ کار کے تحت چونکہ اب خودکار گاڑیوں کا زمانہ آنیوالا ہے گاڑیوں میں موجود کمپیوٹر کسی بھی انٹر سیکشن پر پہنچنے سے پہلے انٹرسیکشن پر موجود کمپیوٹر سے رابطہ کرینگی اور انہیں بتائیں گی کہ انہیں دائیں مڑنا ہے یا بائیں۔ کمپیوٹر گاڑیوں کا شیڈول دیکھتے ہوئے ان کے لئے ایک ٹائم مقرر کر دیگا کہ وہ فلاں منٹ سے فلاں منٹ تک اس انٹرسیکشن سے گزر سکتے ہیں اور انٹرسیکشن تک آنے کے لئے اب انہیں کس رفتار سے سفر کرنا چاہیے تاکہ وہ مقررہ وقت پر وہاں سے گزر سکیں۔ تحقیق کاروں کے مطابق اس تکنیک کو بروئے کار لانے سے نہ صرف شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی برقرار رہے گی بلکہ حادثات کی شرح میں بھی کمی آئیگی۔ تحقیق کاروں کے مطابق اس تکنیک کے استعمال سے دورویہ شاہراہ پر بھی سفر کی استعدادکار میں دوگنا اضافہ ہو گا۔ واضح رہے کہ اس طرح کا ایک آئیڈیا 2009 ءمیں بھی یونیورسٹی آٖف ٹیکساس کے تحقیق کاروں کی ایک ٹیم نے پیش کیا تھا اور اس نظام کو ریزرویشن سسٹم کا نام دیا گیا تھا۔ دیکھا جائے تو یہ دونوں تکنیکس کافی حد تک دلچسپ اور قابل عمل معلوم ہوتی ہیں لیکن ان پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو اوڈی بھی تقریباً ایسے ہی ماڈل کی تیاری پر آگے بڑھ رہا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ Q7 SUV اور A4 ماڈلز میں اس تکنیک کے فیچرز کو شامل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

تحریر: مشعل رئیلائے (Michael Reilly)

Read in English

Authors
Top