Global Editions

اس رفتار سے توانائی کے نظام کو تبدیل کرنے میں تقریباً 400 سال لگیں گے

ہمیں جس رفتار سے صاف توانائی کے منصوبے تیار کرنے چاہئیے، ہم اس تیزی سے کام کیوں نہيں کررہے ہيں؟ اس تحریر میں ہم ان وجوہات پر بات کرتے ہيں۔

پندرہ سال پہلے، کارنیگی انسٹی ٹیوشن کے سینیئر سائنسدان کین کیلڈیرا (Ken Caldeira) نے حساب لگایا کہ تباہ کن موسمیاتی تبدیلی سے بچنے کے لیے 2000ء اور 2050ء کے درمیان روزانہ ایک جوہری پلانٹ جتنی صاف توانائی کی صلاحیت کی ضرورت پیش آئے گی۔ انہوں نے حال ہی میں ہماری اب تک کی پیش رفت کا اندازہ لگانے کے لیے دوبارہ حساب کتاب کیا۔

نتائج زيادہ خوش آئین نہيں ہیں۔ کیلڈیرا اور ان کے رفقاء کار نے 2003ء میں سائنس میں شائع ہونے والے ایک پیپر میں بتایا تھا کہ درجہ حرارت میں دو سے زيادہ ڈگری سنٹی گریڈ کے اضافے کی روک تھام کے لیے روزانہ 1100 میگاواٹ کاربن سے پاک توانائی پیدا کرنے کی ضرورت ہے، لیکن ہم صرف 151 میگاواٹس پیدا کررہے ہیں۔ یہ صرف 125،000 گھروں کو بجلی فراہم کرنے کے لیے کافی ہے۔

اگر یہی رفتار برقرار رہی تو توانائی کے نظام میں قابل قدر تبدیلی لانے میں اگلے تین دہائی نہيں بلکہ اگلی چار صدیاں لگ جائيں گی۔ اس دوران درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ ہوگا، پہاڑوں پر موجود برف پگھلنے لگی گی، شہر ڈوب جائيں گے اور دنیا بھر میں گرمی کی لہریں تباہی پھیلائيں گی۔

کالڈیرا اس بات پر زور دیتے ہيں کہ دوسرے عوامل کی وجہ سے اس میعاد میں قابل قدر کمی نظر آنے کا امکان ہے (خصوصی طور پر گرمائش سے بجلی کی پیداوار، جس کا توانائی کے عالمی استعمال میں نصب سے زیادہ حصہ ہے، مانگ میں قابل قدر تبدیلی کی وجہ بنے گی)۔ لیکن ان کے مطابق یہ بات واضح ہے کہ توانائی کے نظام میں انقلاب لانے کی رفتار بہت سست روی کا شکار ہے۔ ایسا نہيں ہے کہ ہم ماحولیاتی تبدیلی کے حل کے لیے صاف توانائی پیدا نہيں کرپارہے ہيں۔ مسئلہ یہ ہے کہ کئی دہائیوں سے دی جانے والی تنبیہات، پالیسی پر مباحثوں اور صاف توانائی کی مہموں کے باوجود بھی دنیا نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے صرف چند ایک ہی اقدام کیے ہيں۔ آخرکار اس تاخیر کی کیا وجہ ہے؟

اقوام متحدہ کا ماحولیاتی ادارہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ درجہ حرارت میں دو ڈگری سنٹی گریڈ کے اضافے سے بچنے کے لیے ہميں گرین ہاؤس گیس کے اخراجات میں 70 فیصد تک کمی کرنی ہوگی۔ لیکن کاربن کی آلودگی اسی طرح برقرار ہے، اور پچھلے سال اس میں دو فیصد اضافہ بھی سامنے آیا ہے۔

اقتصادی، سیاسی اور تکنیکی چیلنجز کے علاوہ، بنیادی مسئلہ وسیع پیمانے کا بھی ہے۔ وسیع پیمانے پر انفراسٹرکچر قائم کرنے کی ضرورت ہے، جس کے لیے بہت زیادہ افرادی قوت، رقم اور دیگر وسائل کی ضرورت پیش آئے گی۔

پہلی بات یہ ہے کہ اگلی چند دہائیوں میں جیسے ترقی پذیر ممالک کی ترقی میں اضافہ ہوگا، توانائی کے عالمی استعمال کی 30 فیصد تک بڑھنے کی توقع ہے۔ (بین الاقوامی توانائی کی ایجنسی کے مطابق، صرف چین کو ہی 2040ء تک امریکہ کے پورے توانائی کے شعبے جتنی توانائی پیدا کرنی ہوگی)۔ ترقی برقرار رکھتے ہوئے اخراج میں کمی کرنے کے لیے پوری دنیا کو 2050ء تک صاف توانائی کی صلاحیت میں 10 سے 30 ٹیراواٹس کا اضافہ کرنا ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں 30،000 جوہری توانائی کے پلانٹس کی تعمیر، یا 250 واٹ کے 120 ارب شمسی پینل کی تنصیب کرنے ہوگی۔

توانائی کی صنعت نے موجودہ نظام میں کئی کھربوں ڈالر لگا دیے ہيں، اور انہيں اس رفتار اور اس پیمانے پر کام کرنے میں کوئی فائدہ نظر نہيں آتا۔

یونیورسٹی آف کیلی فورنیا، اروین، کے ڈیپارٹمنٹ آف ارتھ سسٹم سائنس کے ایسوسی ایٹ پروفیسر سٹیون ڈیوس (Steven Davis) کہتے ہیں "ایک گیگاواٹ کوئلے پر ایک ارب ڈالر خرچ کرنے کے بعد آپ کو 10 سال بعد ترک کردینے کی خبر سن کر خوشی تو نہيں ہوگی۔"

یہ مشکل اور ناممکن کے درمیان کہیں ہے کہ یہ کس طرح تبدیل ہوجائے گی۔ یہ مسئلہ تب تک حل نہیں ہو گا جب تک حکومت کی کافی مضبوط پالیسیاں اس حوالے سے سامنےنہیں آتی ہیں یا بڑی ٹیکنالوجی کی کامیابیاں معیشت کے اس مسئلے کو حل کرتی ہیں۔

بہت بڑی چھلانگ

فروری میں، میں ہارورڈ یونیورسٹی سنٹر برائے ماحولیات میں ڈینیل شریگ (Daniel Schrag) کے دفتر میں بیٹھا۔ ان کی بڑی پیلے رنگ کی مکی نامی چنوک میرے پیر کے آگے پڑی تھی۔

شریگ کا شمار صدر براک اوباما کے نمایاں ترین ماحولیاتی تبدیلی کے مشیروں میں ہوا کرتا تھا۔ ایک جغرفیائی ماہر کی حیثیت سے انہوں نے قدیم ماضی میں آب و ہوا کی تبدیلی اور گرمائش کے ادوار کا مطالعہ کیا ہے اور وہ چیزوں میں قابل قدر تبدیلی کے متعلق خصوصی سمجھ بوجھ بھی رکھتے ہيں۔

وہ میرے پاس آکر بیٹھ گئے اور اپنے لیپ ٹاپ پر اپنی خود کی تحریر کردہ رپورٹ کھولی، جس میں ماحولیاتی تبدیلی کے خطرات کا تخمینہ پیش کیا گيا تھا۔ اس رپورٹ میں توانائی کے نظام کو تبدیل کرنے کے لیے ضروری تکنیکی اقدام، جیسے کہ کاربان کیپچر کے بہتر طریقہ کار، بائيوفیول اور ذخیرہ جات، پر روشنی ڈالی گئی تھی۔

اس مطالعے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکہ میں توانائی کی تخلیق کی صلاحیت میں ہر سال تقریبا 10 گیگا واٹس کا اضافہ ہوتا ہے۔ اس میں قدرتی گیس کے علاوہ شمسی اور ہوائی توانائی سب ہی شامل ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بھی موجودہ توانائی کی گرڈ کی تعمیرنو میں ایک صدی سے زیادہ عرصہ لگے گا، اور اگلی چند دہائیوں میں اس سے بھی بڑا ا گرڈ درکار ہوگا۔

وہ پوچھتے ہيں "کیا اس رفتار میں 20 گنا اضافہ کرنا ممکن ہے؟ ہے تو سہی، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ لوگ یہ بات سمجھتے ہيں کہ سٹیل، شیشے اور سیمنٹ کے لحاظ سے اس کا کیا مطلب ہے؟"

ماحولیاتی تبدیلی کے مشاہدہ کرنے والوں اور مبصرین نے ماضی میں مین ہیٹن پراجیکٹ اور چاند پر پہنچنے کی مہم جیسی مثالوں کے ذریعے اس کام کے پیمانے کی وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن شریگ کے مطابق جو مثال صحیح بیٹھتی ہے وہ دوسری عالمی جنگ کی ہے، جب امریکہ میں سٹیل، کوئلے اور ریلوے کی صنعتوں کو قومیایا گيا تھا، اور حکومت نے گاڑی بنانے والی کمپنیوں کو گاڑیاں بنانے سے روک کر زبردستی ہوائی جہاز، ٹینک اور جیپیں بنوائيں۔

اچھی خبر یہ ہے کہ اگر آپ کسی بھی معیشت کا رخ کسی کام کی طرف موڑتے ہيں تو بہت بڑے بڑے کام بہت تیزی سے ہوسکت ہيں۔ لیکن آپ امن کے زمانے میں جنگی ذہنیت کس طرح قائم کرسکتے ہيں، خاص طور پر جب آپ کا دشمن آپ کے سامنے نہ ہو اور بہت آہستہ سے آگے بڑھ رہا ہو؟

شریگ کہتے ہيں "آج ہم جس جگہ کھڑے ہیں، ہمیں وہاں سے بہت بڑی چھلانگ لگانی ہوگی۔"

تاخیر

مسئلہ اس وجہ سے بھی زیادہ پیچیدہ ہوجاتا ہے کیونکہ ماحولیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات کئی دہائیوں کے بعد ہی نظر آئيں گے۔ نظریاتی طور پر مسئلے کی پرواہ کرنے والے افراد بھی اسے زیادہ اہم نہيں سمجھتے ہیں۔ لہذا وہ اس مسئل کے حل کے لیے پیسے خرچ کرنے یا اپنے طرززندگی کو تبدیلی کرنے کے لیے تیار نہيں ہیں۔ ایم آئی ٹی اور ہارورڈ کے چند سرویز کے مطابق، بچھلے چند سالوں میں امریکہ کے باشندے گلوبل وارمنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی بجلی کی بل میں صرف 5 ڈالر ماہانہ اضافے پر رضامند تھے، جبکہ 15 سال پہلے وہ 10 ڈالر اضافے کے لیے راضی تھے۔

ممکن ہے کہ جنگلوں میں آگ، طوفان، خشک سالی، جانوروں کے معدوم ہونے اور سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح کر دنیا اس مسئلے کے حل کے لیے مجبور ہوجائے گی، اور ایک دن اس ذہنیت میں تبدیلی نظر آئے گی۔

لیکن اس وقت تک بہت دیر ہوچکی ہوگی۔ کاربن ڈائی آکسائيڈ کے اثرات فوری طور پر سامنے نہيں آتے ہيں۔ فضا میں گرمی کے مکمل اثرات نظر آنے میں تقریباً 10 سال لگتے ہیں اور اس کے بعد بھی وہ ہزاروں سال تک ماحول میں ہی رہتی ہے۔ خطرناک زون میں داخلے ہونے کے بعد، کاربن ڈائی آکسائيڈ کے اخراجات میں کمی سے اثرات کم نہيں ہوتے ہیں۔ یہ صرف ان کو بدتر ہونے سے روک سکتے ہیں۔ ہماری وجہ سے جو بھی ماحولیاتی تبدیلی واقع ہوگی، اس کے اثرات کئی ہزاروں سال تک قائم رہيں گے، جب تک کہ ہم وسیع پیمانے پر کرہ زمین سے گرین ہاؤس گیسز کو کم کرنے کے لیے ٹیکنالوجیاں نہ تیار کرلیں (یا جیوانجنیئرنگ کے ساتھ قسمت آزمائی نہ کريں)۔

اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا ہم توانائی کے نظام کو ٹھیک کرنے کے لیے پیسے خرچ کرنا چاہتے ہیں، یا آگے چل کر قدرتی آفات کے اخراجات برداشت کرنا چاہتے ہيں۔ مختلف اندازوں کے مطابق، اخراج میں کمی کی وجہ سے عالمی معیشت میں سالانہ بنیاد پر چند فیصد کمی تو ہوگی، لیکن اگر گلوبل وارمنگ اسی طرح جاری رہی تو اس صدی کے اختتام تک عالمی جی ڈی پی میں کم از کم 20 فیصد کمی تو ہوگی۔

رقم کی صورتحال

اس میں کوئی شک نہيں ہے کہ توانائی کے نظام کی ترقی کی رفتار میں اضافے میں حکومت کی طرف سے مضبوط پالیسیوں کے نفاذ کا بہت اہم کردار ہوگا۔ کئی ماہرین اقتصادیات کا خیال ہے کہ براہ راست ٹیکس یا کیپ اور ٹریڈ پروگرام کی شکل میں کاربن کے اخراج کی قیمت کے تعین سے سب سے زیادہ فائدہ ہوگا۔جیسے حیاتیاتی ایندھن سے توانائی پیدا کرنے کے اخراجات میں اضافہ ہوتا جائے گا، اس سے موجودہ پلانٹس کی جگہ صاف توانائی کے منصوبوں کی تنصیب میں زیادہ فائدہ نظر آنے لگے گا۔

یونیورسٹی آف کیلی فورنیا، برکلی، میں توانائی کے ماہر اقتصادیات سیورن بورن سٹائن (Severin Borenstein) کہتے ہیں "اگر ہم گرین ہاؤس گیسز کے معاملے میں پیش رفت دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں کاربن کے واضح یا پوشیدہ اخراجات برداشت کرنے ہوں گے۔"

لیکن اس کی بڑی قیمت ہوگی ،15 ڈالر فی ٹن سے کہیں زیادہ جو کہ گزشتہ سال کے آخر میں کیلیفورنیا میں کیپ اورٹریڈ پروگرام میں الائونس کے لئے متعین کی گئی تھی۔

بورن سٹائن کا کہنا ہے کہ اگر کاربن کی فیس 40 ڈالر فی ٹن ہوجائے تو "مارکیٹ سے کوئلہ بالکل ختم ہوجائے گا، اور شمسی اور ہوائی توانائی میں بہت فائدہ نظر آنے لگے گا"، خاص طور پر اس صورت میں جب پلانٹس کی عمر بھر کے اوسط اخراجات نکالے جائيں۔

دوسروں کو لگتا ہے کہ قیمت اس سے بھی زیادہ ہونی چاہئیے۔ لیکن اس بات کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے کہ امریکہ، بلکہ کئی دوسرے ممالک میں، اس قسم کے ٹیکس کو کس طرح منظوری حاصل ہوسکے گی۔

دوسرا طریقہ یہ ہے کہ یوٹلٹی اور دیگر کمپنیوں پر ایسے کیپس لگائے جائيں جن کی وجہ سے وہ گرین ہاؤس کے اخراج کو کسی مخصوص سطح تک محدود رکھنے پر مجبور ہوجائيں، اور وقت کے ساتھ ساتھ اس سطح میں کمی لائی جائے۔ اس طریقہ کار کو کاربن کی قیمت متعین کرنے کے مقابلے میں اقتصادی طور پر زیادہ موثر نہيں سمجھا جاتا ہے، لیکن یہ طریقہ کار سیاسی طور پر زیادہ قابل قبول ثابت ہوگا۔ ہارورڈ یونیورسٹی میں حکومت کے پروفیسر سٹیفن انسولابیر (Stephen Ansolabehere)کے مطابق امریکی ووٹر ٹیکس کو شدید ناپسند کرتے ہيں، لیکن ہوائی آلودگی کے قواعد کو قابل قبول سمجھتے ہيں۔

بنیادی تکنیکی پابندیوں سے صاف توانائی اپنانے کے اخراجات اور پیچیدگی میں بھی اضافہ ہوگا۔ سب سے زیادہ تیزی سے بڑھنے والے کاربن سے پاک ذرائع، یعنی شمسی اور ہوائی فارمز، اس وقت بجلی پیدا نہیں کرپاتے ہیں جب دھوپ نہیں نکلی ہوتی یا ہوا نہیں چل رہی ہوتی۔ لہذا، جیسے ان ذرائع کا گرڈ کی بجلی میں تناسب بڑھے گا، طویل رینج کی ٹرانسمیشن لائن کی بھی بھی ضرورت پڑے گی جو ریاستوں کے درمیان چوٹیوں کو یا توانائی کے مہنگے ذخائر کو متوازن رکھ سکيں گے۔

 کہنا ہے کہ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہمیں یا تو ہوائی اور شمسی توانائی کے ساتھ جوہری ری ایکٹرز، کاربن کیپچر کے ساتھ قدرتی ایندھن فراہم کرنے والے پلانٹس اور دیگر کم اخراج فراہم کرنے والے ذرائع استعمال کرنے ہوں گے، یا ترسیل، ذخیرے اور قابل تجدید پیداوار کے نظام کی تخلیق کے لیے وافر مقدار میں رقم خرچ کرنی ہوگی۔ ان تمام صورتحالوں میں ہمیں قابل قدر تکنیکی پیش رفت کی ضرورت ہوگی تاکہ اخراجات میں کمی لائی جاسکے۔

ان اقسام کے بڑے تکنیکنی کارناموں کے لیے عام طور پر حکومت کی طرف سے قابل قدر اور مستحکم معاونت کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن کاربن کے ٹیکسز یا اخراج پر کیپس کی طرح، موجودہ سیاسی ماحول کو دیکھتے ہوئے، وفاقی تحقیق اور ترقی کی فنڈنگ میں زیادہ اضافہ متوقع نہيں ہے۔

تاہم، یونیورسٹی آف کیلی فورنیا، اروین، کے ڈیوس کہتے ہیں کہ اس میں "عالمی توانائی کے نظام کے مشکل ترین حصوں" کو تو خاطر میں ہی نہيں لايا گیا ہے۔ اس میں ایویشن، سیمنٹ اور سٹیل کی صنعتیں شامل ہیں جن میں تخلیق کاری کے عمل کے دوران ہی کاربن ڈائی آکسائيڈ پیدا ہوتا ہے۔ ان کے مطابق ان شعبہ جات کو صاف کرنے کے لیے، ہمیں کاربن کیپچر اور ذخیرے کے آلات کے علاوہ زیادہ کم قیمت بائیوفیولز یا توانائی کے ذخیرے کی ضرورت پڑے گی۔

ان قسم کی بڑی تکنیکی کامیابیوںکوحکومت کی مستحکم حمایت کی ضرورت ہوتی ہیں۔ لیکن کاربن ٹیکس یا اخراج کیپ کی طرح، موجودہ سیاسی حالات میں وفاقی تحقیق اور ترقیاتی فنڈ میں بہت زیادہ اضافہ ممکن نہیں ہے۔

کوشش کرنا چھوڑ دیں؟

تو کیا اس کا یہ مطلب ہوا کہ ہم کوشش کرنا چھوڑ دیں؟

یہاں کوئی جادو کی چھڑی یا واضح راستہ نہیں ہے۔ ہم جو کچھ کرسکتے ہیں وہ یہ ہےکہ ہم اپنے طور پر بہترین کام کی کوشش کریں۔

ماحولیاتی اور صاف توانائی میں دلچسپی رکھنے والے گروپس کو ماحولیاتی تبدیلی کو اعلی ترجیح دینے کی ضرورت ہے، اور اس کے لیے انہیں ماحولیاتی تبدیلی کو صاف ہوا، تحفظ اور ملازمت جیسے عملی مسائل سے وابستہ کرنا ہوگا جو شہریوں اور سیاستدانوں کے لیے باعث پریشانی ہیں۔

سرمایہ کاروں یا خدمت خلق کرنے والوں کو توانائی کی ان ٹیکنالوجیز پر رقم خرچ کرنا ہوگی جو اس وقت ابتدائی مراحل میں ہیں۔ سائنسدانوں اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کو سب سے زیادہ ضروری آلات پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔ اور قانون سازوں کو توانائی کی کمپنیوں کو تبدیلیوں پر مجبور کرنے کے لیے پالیسیوں کے ذریعے انہیں مراعات دینے ہوں گے۔

تاہم تلخ حقیقت یہ ہے کہ اس صدی کے نصف حصے تک دنیا اپنا مقصد حاصل کرنے سے قاصر ہی رہے گی۔ شریگ کہتے ہیں کہ درجہ حرارت کے اضافوں کو 2 ڈگری سے کم رکھنا بھی اب تک ایک خواب ہی ہے، اور اس صدی کے اندر اگر گرمی میں اضافہ چار ڈگری تک بھی محدود ہوجائے تو وہ بھی بہت بڑی بات ہوگی۔

اس کا مطلب ہے کہ ہم اموات، پریشانی اور ماحولیاتی تباہی کی شکل میں بہت بھاری قیمت ادا کرنے والے ہيں۔

تاہم اگر درجہ حرارت دو ڈگری سنٹی گریڈ سے زیادہ بڑھ جائے تو بات ختم نہيں ہوگی۔  اس کا مطلب صرف یہ ہوگا کہ ہمارے لئے آنے والے خطرات کو کم کرنے، نقصان کم کرنے اور جلد از جلد ایک پائیدار نظام اپنانے کے لیے ہر ممکنہ کوشش کرنا اور بھی ضروری ہوجائے گی۔

شریگ کہتے ہيں "اگر تباہی 2050ء میں نہيں آئی، تو 2060ء، 2070ء یا 2080ء تک تو آہی جائے گی۔"

تحریر: جیمزٹیمپل( James Temple)

Read in English

Authors
Top