Global Editions

ایسٹروبائیولوجی - پاکستان کے لیے ایک جامع منصوبہ

پاکستان میں ایسٹروبائیولوجی کا فروغ سائنس، ٹیکنالوجی اور مختلف کمیونٹیز کے درمیان مکالمے کا سبب بنے گا۔

زمین پر زندگی کی ابتدا کس طرح ہوئی؟ اس سیارے میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ اس میں زندگی کو برقرار رکھا جاسکتا ہے؟ زمین پر کن حالات میں زندگی شروع ہوئی؟ کیا کائنات میں کہیں اور زندگی پائی جاتی ہے؟ زمین پر زندگی کا مستقبل کیا ہے؟ شاید ہی کوئی اور موضوع ہوگا جو اس حد تک انسانوں کی دلچسپی کا مرکز رہا ہو۔

سائنس نے کچھ حد تک ان سوالوں کے جوابات فراہم کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن اب تک مزید گہرے جوابات حاصل نہيں ہو پائے ہیں، اور عوام الناس میں سائنس کی تمام وضاحتوں کے متعلق شک و شبہات پائے جاتے ہیں۔

ایسٹروبائیولوجی تاریخ کے آغاز کے متعلق انسانی تجسس کو پورا کرنے کی ایک کوشش ہے۔ یہ سائنس کی ایک ایسی شاخ ہے جس میں کائنات میں زندگی کے آغاز، تقسیم، تلاش اور مستقبل کے علاوہ، سیاروں کے نظاموں کے آغاز اور ارتقاء کا مطالعہ بھی کیا جاتا ہے۔ اس شعبے میں دوسرے سیاروں پر زندگی کے اہم عناصر کی تلاش پر زور دیا جاتا ہے، جن میں پانی، توانائی کے ذرائع اور مستحکم ماحول کی موجودگی شامل ہیں۔

مشمولات کے لحاظ سے متعدد شعبہ جات پر مشتمل اور عملدرآمدگی کے لحاظ سے مختلف شعبہ جات پر محیط ہونے کی وجہ سے ایسٹروبائیولوجی کو تمام اہم سائنسوں کا امتزاج تصور کیا جاسکتا ہے۔ خلائی دریافت کے اس موجودہ دور میں تمام خلائی مہموں کو سیاروں کی جانب بھیجنے کا بنیادی مقصد ان کی تخلیق کی تاریخ، ماحولیاتی حالات اور ساخت کے متعلق معلومات حاصل کرکے ان کا زمین سے موازنہ کرنا ہے، جو ہماری موجودہ معلومات کے مطابق زندگی برقرار رکھنے والا واحد سیارہ ہے۔ اب تک نظام شمسی کی تخلیق اور زمین پر زندگی کی ابتداء کے تمام راز جاننے کے لیے نظام شمسی کے کئی مقامات کو دریافت کیا جاچکا ہے۔

خلاء کے تمام راز افشاء کرنے کے لیے ترقی یافتہ ممالک نظام شمسی کے مختلف مقامات تک خلائی مہمیں لانچ کرچکے ہيں، جن میں سے کیسینی ہوئی گینز (Cassini-Huygens) کا نام سرفہرست ہے۔ اس مہم کا شمار انسانی تاریخ کی کامیاب ترین مہموں میں ہوتا ہے۔ 1997ء میں لانچ ہونے والی اس خلائی مہم نے 2004ء میں سیارہ زحل کے سب سے بڑے چاند، ٹائٹن (Titan)، پر ایک حصہ، یعنی ہوئی گینز پروب، بھی چھوڑا تھا۔ یہ پہلی مصنوعی چیز تھی جو بیرونی نظام شمسی کے کسی سیارے تک پہنچنے میں کامیاب رہی۔ اس کے بعد سے اس خلائی جہاز کا دوسرا حصہ، یعنی کیسینی نامی گردش کرنے والا حصہ، زحل کے نظام کا انکشاف کرتا رہا۔

تاہم 13 سال تک اتنے بڑے سیارے کے گرد گھومنے کے بعد کیسینی کا ایندھن ختم ہونا شروع ہوگیا، اور 2017ء میں اس مہم کو منقطع کردیا گیا۔ اس کے بعد اس خلائی جہاز کو زحل کے سرد چاند، انسلادوس (Enceladus) اور ٹائٹن کے تحفظ کے لیے، جن پر زندگی کے لیے مناسب حالات کا امکان موجود تھا، ان کے اوپری کرہ ہوا میں چھوڑ دیا گیا۔

اس سفر کے دوران، کیسینی نے زحل اور اس کے حلقوں کے متعلق کئی راز معلوم کرڈالے، جن میں سے ٹائٹن اور انسلادوس کے متعلق دو انکشافات ایسٹروبائیولوجی کے نقطہ نظر سے بہت اہم تھے۔ کیسینی ہوئی جینز کو ٹائٹن پر مائع میتھین سے پر تالابوں کی موجودگی اور ارضیاتی پراسیسز کے ثبوت ملے ہیں۔ اس کے علاوہ اس چاند پر آرگینک مالیکیولز کا ایک پیچیدہ کیمیائی نظام بھی ملا ہے، جہاں پری بائیوٹک کیمیا کے عملیات واقع ہوسکتے ہيں۔

تاہم، انسلادوس کے قطب جنوبی میں پانی کے بخارات اور برف کے زرات کی موجودگی کیسینی کا سب سے شاندار انکشاف تھا۔ یہ بات بھی سامنے آئی کہ یہ چاند ارضیاتی طور پر فعال ہے اور اس کی برفانی تہہ کے نیچے ایک زیرسطحی مائع سمندر بھی موجود ہے۔ بعد میں کیسینی کے خلائی جہاز سے حاصل کردہ ڈیٹا کے ذریعے معلوم ہوا کہ زمین کے لاسٹ سٹی ہائیڈروتھرمل وینٹ (Lost City Hydrothermal Field)کے نظام کی طرح، جس میں زندگی کی مختلف اقسام کا انکشاف ہوا تھا، انسلادوس کے پتھریلے مرکز میں ہیڈروتھرمل سرگرمی بھی جاری ہے۔ ان تمام معلومات کی بنیاد پر یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ انسلادوس کا شمار نظام شمسی کے ان مقامات میں ہوسکتا ہے جہاں زندگی کا امکان موجود ہے۔ کیسینی کے بعد، سائنسدانوں نے ٹائٹن اور انسلادوس پر زندگی کو برقرار رکھنے کے امکانات کے متعلق تحقیق کرنے کے لیے کئی خلائی مہموں کی تجاویز پیش کی ہیں، جن میں انسلادوس لائف فائنڈر (Enceladus Life Finder - ELF)، جرنی ٹو انسلادوس اینڈ ٹائٹن (Journey to Enceladus and Titan - JET)، ٹائٹن اینڈ انسلادوس مشن (Titan and Enceladus Mission - TandEM) اور ڈریگن فلائی (Dragonfly) شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، انسلادوس سے حاصل کردہ نتائج مستقبل میں لانچ کی جانے والی مہم، جس کا نام یوروپا کلپر (Europa Clipper) ہے، کے لیے بھی بہت فائدہ مند ثابت ہوں گے۔ یہ مہم مشتری کے چاند یوروپا کی جانب روانہ ہوگی، جس کی سطح کے نیچے سابقہ خلائی مہموں کے انکشافات کے مطابق ایک مائع سمندر موجود ہے۔

پاکستان میں ان خلائی مہموں اور ان کے پیچھے موجود سائنس کو نظرانداز کرنا ایک بہت بڑی غلطی ہوگی۔ خلائی مہموں کی مدد سے سائنس میں جو ترقی ہوئی ہے، تعلیمی اداروں کو اسے اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔

نیشنل ایروناٹکس اینڈ سپیس ایڈمینسٹریشن (National Aeronautics and Space Administration - NASA) نے ناسا ایسٹروبائیولوجی انسٹی ٹیوٹ (NASA Astrobiology Institute - NAI) کی بنیاد رکھی ہے، جس کے بعد دوسرے ترقی یافتہ ممالک نے بھی ایسٹروبائیولوجی کو متعدد شعبہ جات پر مشتمل سائنس تصور کرکے ناسا کے نقش قدم پر چلنا شروع کردیا ہے۔

خلائی ایجنسیوں سے وابستہ سائنسدان بھی ایسٹروبائیولوجی کی تحقیق کے لیے حکمت عملیاں تیار کررہے ہیں اور خلا پیمائی کی مہمیں تخلیق کررہے ہیں۔ خلاء کے دور دراز کونوں کی خلائی دھول سے لے کر ہمارے اپنے سیارے زمین کے سمندروں کی گہرائیوں تک، سائنسدان معاشرے کے چند بنیادی سوالات کے جوابات تلاش کرنے کی کوشش کررہے ہیں، یعنی انسانوں کی ابتداء کس طرح ہوئی، اور کیا زمین کے علاوہ دوسرے سیاروں پر بھی زندگی موجود ہے؟
ایسٹروبائیولوجی کا تصور نیا نہیں ہے۔

سائنس کے ایک شعبے کے طور پر تسلیم کیے جانے سے پہلے بھی ایسٹروبائیولوجی معاشرے کے کئی حصوں میں فلسفائی مباحثوں کا مرکز رہ چکی ہے۔ انسان کے ارتقاء کی ابتداء کے وقت سے ہی ایسٹروبائیولوجکل سوالات کو سماجی سائنسوں کے طور پر فلسفے، تاریخ اور دینیات کے تحت اٹھایا جاچکا ہے۔ سائنس کے اس جدید دور میں ایسٹروبائیولوجی کا مقصد لوگوں کو سائنسی اور معاشرتی ایجنڈے کے مطابق ایک ہی زمرے میں جمع کرنا ہے۔ بلکہ ممکن ہے کہ متعدد شعبہ جات پر مشتمل ہونے کی وجہ سے آگے چل کر ایسٹروبائیولوجی مختلف سائنسز کے انضمام کی وجہ بھی بننے میں کامیاب ثابت ہو۔

ایسٹروبائیولوجی کی آمد سے پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کو بہت فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ یہ کہنا غلط نہيں ہوگا کہ پاکستانی معاشرے میں قابل قدر ثقافتی، روایتی، مذہبی اور تعلیمی امتیاز پایا جاتا ہے اور وسیع پیمانے پر ثقافتی اور مذہبی تضاد موجود ہے۔ روایت پسند طبقے ہر نئے طریقے کو مسترد کردیتے ہیں، جبکہ کچھ طبقے بغیر کسی سوچ پچار کے مغربی سوچ اور طرز زندگی نہ صرف اپناتے ہيں بلکہ اسے فروغ بھی دیتے ہیں۔ زمین پر زندگی کی ارتقاء کے متعلق مختلف آراء پائی جاتی ہيں اور لوگ ان سوالات کے جوابات تلاش کرنا چاہتے ہیں۔ اس ملک کے سماجی اور سیاسی حالات کے مدنظر، ایسٹروبائیولوجی کی مدد سے مکالمے پر مشتمل ماحول کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے، اور معاشرے کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین کے درمیان اتفاق رائے قائم کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان میں ایسٹروبائیولوجی کا فروغ سائنس، ٹیکنالوجی اور ملک کی مختلف کمیونٹیز کے درمیان مکالمے کی بنیاد رکھنے میں معاون ثابت ہوگا۔

کائنات کے دوسرے کونوں میں زندگی کی تلاش کی کوششوں میں عوام الناس کی دلچسپی پاکستان کی آئیندہ نسلوں کو آگاہی فراہم کرنے کا بہت اچھا موقع ہے۔ لہٰذا عوامی آؤٹ ریچ کے ذریعے پاکستان میں ایسٹروبائیولوجی کے فروغ پر زور دینے کی اشد ضرورت ہے۔ اس سے نہ صرف سائنس اور ٹیکنالوجی میں دلچسپی میں اضافہ ہوگا بلکہ مکالموں پر مشتمل ماحول کی تخلیق کی وجہ سے ہمارے معاشرے کو بھی بہت فائدہ ہوگا۔ اس کے علاوہ، سائنس اور فنون کے شعبوں میں جدت پسند انہ اور مبصرانہ سوچ کو بھی تقویت ملے گی۔

اس ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسٹروبائیولوجی میں پاکستان کی بین الاقوامی سطح پر نمائندگی کے لیے ایسٹروبائیولوجی نیٹورک آف پاکستان (Astrobiology Network of Pakistan - ABNP) کی بنیاد رکھی گئی، جس میں پاکستان کے علاوہ یورپ اور امریکہ سے تعلق رکھنے والے ماہرین شامل ہیں۔ پاکستان کو سائنس کے اس شعبے سے متعارف کروانے کے لیے آؤٹ ریچ کی سرگرمیوں کا انعقاد، جدید سائنسی معلومات کی فراہمی، تعلیمی فورمز میں شرکت اور ہر سطح پر لیکچرز کا انتظام کروانا بہت اچھی ابتداء ثابت ہوگا۔ اس کے علاوہ، اے بی این پی کے ذریعے نوجوان نسل کو ایسٹروبائیولوجی کے مختلف تصورات کے متعلق معلومات اور خیالات کے اظہار کرنے کا بھی موقع ملے گا۔ اے بی این پی معاشرے کے مختلف طبقوں اور ان کے روایتی عقائد کے درمیان تعلقات کی نشاندہی کے لیے تقریبات اور سرویز منعقد کرنے کے علاوہ، قومی اور بین الاقوامی رضاکارانہ سائنسی سوسائٹیوں کے ساتھ کام کرتے ہیں اور ایسٹروبائیولوجی کے میدان میں پاکستانی طلباء کو رہنمائی اور پیشہ ورانہ مشاورات فراہم کرتے ہیں۔

ایسٹروبائیولوجی تحقیق کا پختہ شعبہ ہے جس میں سائنسی منظرنامے کے متعدد شعبہ جات شامل ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے حکومتی اور نجی تعلیمی شعبوں کو نصاب میں ایسٹروبائیولوجی کو شامل کرنے پر غور کرنا چاہیے۔ خصوصی طور پر، اے بی این پی اپنے عوامی آؤٹ ریچ کے پروگراموں کی صلاحیوں میں اضافے کے لیے قومی سطح پر تعاون اور انفراسٹرکچر حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس سلسلے میں پاکستان میں ایسٹروبائیولوجی کے فروغ کے لیے سپیس اور اپر ایٹموسفیر ریسرچ کمیشن (Space and Upper Atmosphere Research Commission - SUPARCO) اور نمایاں یونیورسٹیوں کا کردار بہت اہم ہے۔ اس حوالے سے اے بی این پی ایسٹروبائیولوجی کے میدان میں ابتدائی اقدام کے طور پر مشترکہ پراجیکٹس تیار کرنے کے لیے رضاکارانہ بنیاد پر مشاورت فراہم کرسکتے ہیں۔

ڈاکٹر نزیر خواجہ ایک ارضیاتی سائنسدان ہيں جو جرمنی کے شہر برلن کی فری یونیورسٹی کے علاوہ ناسا کے کیسینی اور مستقبل کے ایسٹروبائیولوجی کی مہم یوروپا کلپر سے وابستہ رہ چکے ہیں۔ وہ فائیتھان سیارچے کی جانب بڑھنے والے جاپان کے مستقبل کی خلائی مہم ڈیسٹنی پلس کے بھی ممبر ہیں۔ انہیں حال ہی میں ناسا سے کیسینی گروپ کا انعام بھی موصول ہوا ہے اور ان کی تحقیق سائنس کی دنیا کے معروف جریدے نیچر اور سائنس میں بھی شائع ہوچکی ہے۔ وہ پاکستان کے ایسٹروبائیولوجی نیٹ ورک کے بانی بھی ہيں۔

فیبین کلینر زمینی سائنسدان اور جرمنی کے شہر برلن کی فری یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے طالب علم ہیں۔ وہ پاکستان کے ایسٹروبائیولوجی نیٹ ورک کے شریک بانی ہیں، اور ان کی تحقیق کیسینی کی خلائی مہم اور یوروپا کلپر جیسے مستقبل کی ایسٹروبائیولوجی کی خلائی مہموں کے متعلق ہے۔ اس کے علاوہ، وہ ایسٹروبائیولوجی سے تعلق رکھنے والے نامیاتی مواد پر بھی تجرباتی تحقیق کررہے ہيں۔ انہیں 2017ء میں یورپی سپیس ایجنسی نے ای اس لیب کے 51 ویں سمپوزیم ‘‘Extreme Habitable Worlds’’ میں نوجوان ریسرچر کے انعام سے بھی نوازا تھا۔

تحریر: ڈاکٹر نزیر خواجہ، فیبین کلینر (Dr. Nozair Khawaja, Fabian Klenner)

Read in English

Authors
Top