Global Editions

فارنزک سائنس جرائم کی نشاندہی میں مددگار

لاہور میں 2015ء میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایک مشتبہ دہشتگرد سے ٹوٹا پھوٹا اورمکمل جلا ہوا لیپ ٹاپ ملا ، جس کی شکل و صورت ہی بگڑ چکی تھی۔ ایجنسی کو لیپ ٹاپ سے کوئی سراغ ملنے کی امید نہیں تھی لیکن پھر بھی اس نے لیپ ٹاپ کو فارنزک ماہرین کے حوالے کردیا۔ ماہرین نے بھی اسے محض روٹین کا کام نہیں سمجھا بلکہ اسے ایک چیلنج کے طور پر لیا ،جس کے بعد لیپ ٹاپ کی ذریعے دہشتگردی کے نیٹ ورک کا انکشاف ہوا۔ جدید دور میں فارنزک سائنس کسی مشتبہ شخص کے خلاف کیس تیار کرنے کا سب سے اہم جزو ہے۔ فارنزک سائنس دراصل جرائم کی تفتیش اور ثبوت حاصل کرنے کے لیےٹیکنالوجی کے استعمال، سائنسی طریقوں اور دیگر مراحل سے گزرنے کا نام ہے۔ جرائم کی تفتیش خصوصاً ناقابل حل جرائم کا عقدہ حل کرنے کے لیےفارنزک سائنس میں اس طرح کی ٹیکنالوجی کے استعمال میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اندھے جرائم کی تحقیقات کے لیےتفتیش کار مجرموں کے چھوڑے ہوئے غیرروائتی مگر اہم ثبوت حاصل کرتے ہیں۔ مارچ 2016ء میں گلشن اقبال لاہور میں دہشتگردی کے واقعے کو کون بھول سکتا ہے جس میں 70سے زیادہ قیمتی جانیں چلی گئی تھیں۔ اگرچہ اس سانحے میں دہشتگردوں نے آپس میں رابطے کے لیےکوئی موبائل فون استعمال نہیں کیا لیکن فارنزک ماہرین نے خودکش حملہ آوروں کے ڈی این اے سیمپل حاصل کرکے ان کا تجزیہ کیا جس کی بنیاد پر انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ان ڈی این اے نمونوں سے دہشتگرد ی کرنے والے گروہ کی نشاندہی کی تاہم یہ گروہ تاحال گرفتار نہیں ہو سکا۔

پاکستان میں فارنزک سائنس کی مختصر تاریخ

ہمارے خطے میں پہلی فارنزک لیب قیام پاکستان سے پہلے 1906ء میں برڈ وڈ روڈ لاہور پر کریمنل انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ کے فوٹو گرافی سیکشن میں قائم کی گئی۔ یہ فارنزک لیب 1947ء کے بعد سے بطور تربیتی مرکز کام کررہی تھی۔ اس کے ساتھ ہتھیاروں، کپڑوں، مٹی، جعلی سکوں اور کرنسی، خفیہ سیاہیوں، تحریر اور ٹائپ شدہ مٹیریل کے فارنزک تجزیے کا کام کیا جاتا تھا۔ قریباً اسی دور میں کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں بھی مزید تین فارنزک لیبارٹریاں قائم کی گئیں۔ ماضی میں گواہوں سے پوچھ گچھ اور ملزمان کے اعترافات کو ہی ترجیح دی جاتی رہی ہے جب کہ فارنزک بنیادوں پر تفتیشی طریقہ کار کو ایک طرف رکھ دیا گیا تھا لیکن 2001ء سے جب پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہوا تو یہ رُجحان بدل گیااور وفاقی حکومت نے بالآ خر پاکستان بھر میں فارنزک لیبارٹریاں قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلے میں پاکستان کے چاروں صوبوں میں فارنزک لیبارٹریز قائم کرنے کا دس سالہ جامع منصوبہ بنایا گیا۔ اس منصوبے اور پولیس ریفارمز 2002ءکے تحت 2001ء سے 2011ء تک جرائم کی تفتیشی سہولیات کی فراہمی کے لیےفارنزک لیبز قائم کی جانا تھیں تاکہ جدید سائنسی آ لات اور سازوسامان کے ذریعے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جرائم کی تحقیق میں مدد مل سکے۔ وفاقی سطح پر نیشنل فارنزک سائنس ایجنسی (این ایف ایس اے)کے نام سے خودمختار ادارہ قائم کیا گیا۔ جسے پاکستان بھر میں فارنزک لیبارٹریز کے قیام کے لیے ماسٹر پلان بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ نیشنل فارنزک سائنس ایجنسی (این ایف ایس اے)کے حکام کو پاکستانی میں تربیتی مرکز قائم کرکے اعلیٰ تربیت یافتہ تکنیکی عملہ اور فارنزک ماہرین کی دستیابی کے لیے فارنزک سائنس کی مضبوط بنیادیں استوار کرنے کی بھی ذمہ داری سونپی گئی۔

نیشنل فارنزک سائنس ایجنسی

نیشنل فارنزک سائنس ایجنسی (این ایف ایس اے) کے قیام کے لیےایگزیکٹو کمیٹی آ ف دی نیشنل اکنامک کونسل (ایکنیک) نے 2002ء میں منصوبے کی منظوری دی اس مقصد کے لیے1292.45ملین روپے بھی مختص کیے گئے۔ پہلے مرحلے پر نیشنل فارنزک سائنس ایجنسی (این ایف ایس اے) نے فارنزک لیبارٹری قائم کی جس نے 2006ء میں کام شروع کردیا لیکن نیشنل فارنزک سائنس ایجنسی (این ایف ایس اے) میں تربیتی مرکز اور تدریسی ادارہ ابھی قائم ہونا تھا۔ نیشنل فارنزک سائنس ایجنسی (این ایف ایس اے) کے ترجمان رضوان خان نے بتایا کہ ایجنسی 2 لاکھ مجرموں کے انگلیوں کے نشانات اور ڈی این اے پر مشتمل ڈیٹا بیس بھی قائم کرچکی ہے۔ ایجنسی اب تک 2659 میں سے 2540کیسز حل کرچکی ہے۔ ایجنسی کی کامیابی کی شرح 96فیصد ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایجنسی بہت سے کیسز میں مدد فراہم کرچکی ہے جس میں سے چند نام ایف 8ضلعی عدالت اسلام آباد کا سانحہ، کراچی گارمنٹس فیکٹری فائر، لال مسجد واقعہ، سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کا قتل کیس، کارساز کا سانحہ اور میریٹ ہوٹل اسلام آباد کے واقعات شامل ہیں۔ نیشنل فارنزک ایجنسی میں جدید آلات کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں جن میں جینز کی تجزیاتی مشین (جنیٹک اینالائزر)، سینٹری فیوج مشین، پی سی آر مشین، بائیوسیفٹی کیبنٹ، آرٹی پی سی آر، ڈی این اے سیکشن کے لیےورٹیکل فریزرز اور ورک سٹیشن شامل ہیں۔ ایجنسی جائے وقوعہ پر تفتیش کے لیےمکمل آلات پر مشتمل کِٹ، فرسٹ ایڈ، ڈیجیٹل کیمرے، برشز، ایپلی کیٹرز، انگلیوں کے نشانات کے لیےپولی لائیٹ، ریگولا 1010اور 1019، وی ایس سی 6000ایچ ایس ، ای ایس ڈی اے ٹو، سٹیریو مائیکروسکوپ لائیکا اور کمپیریشن مائیکروسکوپ وغیرہ سے لیس ہوتی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ہمارے دو سائنس دانوں نے چین اور برطانیہ سے ڈی این اے کی تربیت حاصل کی جب کہ 20کو آسٹریلیا میں ڈی این اے، فنگرپرنٹس، اسلحہ، آلات پر نشانات کی پہچان، دستاویزات کا تجزیہ، بیلسٹکس، دھماکہ خیز مواد کا تجزیہ اور جائے وقوعہ پر تفتیش کے لیےتربیت دی گئی جب کہ ایک سائنسدان کو فرانس میں منشیات کے تجزئیے کی تربیت دی گئی ہے۔ پراجیکٹ ڈائریکٹر نیشنل فارنزک سائنس ایجنسی ڈاکٹر سید کلیم امام کہتے ہیں کہ این ایف ایس اےمحض ایک فارنزک لیب نہیں بلکہ یہاں پر بلوچستان، سندھ، خیبر پختونخواہ کے درجنوں افسران کو بھی تربیت دی گئی ہے۔

پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی

اٹھارویں ترمیم میں صوبوں کو اختیارات سونپنے کے بعد پنجاب حکومت نے سب سے پہلے فارنزک لیبارٹری کے قیام کے لیےاقدامات اٹھائے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے فارنزک لیبارٹری کے قیام کے لیےماہرین کی ٹیم اکٹھی کرکے قائدانہ کردار ادا کیا۔ پی ایف ایس اے کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد اشرف طاہر نے بتایا کہ ترقی یافتہ ممالک میں جدید بنیادوں پر اتنی بڑی لیبارٹری قائم کرنے کے لیےسات سے آٹھ سال کا عرصہ لگتا ہے جب کہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی ذاتی نگرانی اور دلچسپی کے سبب یہ بہت بڑا کام صرف تین سال کی ریکارڈ مدت میںپایہ تکمیل کو پہنچا۔ یہ سٹیٹ آ ف دی آرٹ لیبارٹری 53کنال کےرقبے پر پھیلی ہوئی ہے۔

پی ایس ایف اے کا موازنہ امریکی ایجنسی ایف بی آئی کی فارنزک لیب سے کیا جاسکتا ہے۔ اس میں بہترین ٹیکنالوجی استعمال کی جارہی ہے جس میں ٹرپل کواڈروپول ماس سپیکٹرومیٹر، گیس کرومیٹوگرافی ودھ ماسسپیکٹرومیٹری، لیکوئیڈ کرومیٹوگرافی ود ماس سپیکٹرومیٹری، گیس کروماٹوگرافی ود آ ئیونائزیشن ڈیٹیکٹر، گیس کروماٹوگراف ود این پی ڈی اور اینزائم امیونوسوربینٹ شامل ہیں۔ نارکوٹکس اور ٹریس کیمسٹری لیب میں پی ایس ایف اے ، ایف ٹی آئی آر سپیکٹرومیٹری، الٹراوائیلٹ ویزیبل سپییکٹروفوٹومیٹری، گیس کروماٹوگراف ود ماسسپییکٹروفوٹومیٹری اور گیس کروماٹوگراف ود فلیم آئیونائزیشن ڈیٹیکٹر شامل ہیں۔ صوبائی فارنزک ایجنسی محض ایک لیب نہیں بلکہ اختراعی اور حساس منصوبہ بھی ہے۔ اس میں 14مختلف جدید آلات سے لیس فارنزک لیبارٹریز ہیں جن میں ڈی این اے سیرولوجی، جائے وقوعہ کی تفتیش، موت واقع ہونے کی تفتیش، اسلحہ، آلات پر شناختی نشان، کیمسٹری ٹریس، دستاویزات کا جائزہ، سمعی بصری، سائبر کرائم تفتیش، اور کمپیوٹر فارنزک لیبارٹریز شامل ہیں۔ اس وقت پی ایف ایس اے میں 323سائنسدان کام کررہے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تعاون اور مدد فراہم کررہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ایجنسی 2012ء میں قائم ہوئی لیکن اس وقت یہ دنیا کی دوسری بڑی فارنزک ایجنسی بن چکی ہے۔ ایجنسی اس وقت تک دو لاکھ 48ہزار کیسز حل کرچکی ہے جن میں دہشتگردی، اغواء برائے تاوان، بڑی ڈکیتیاں اور قتل شامل ہیں۔ ڈاکٹر اشرف طاہر کہتے ہیں کہ پی ایف ایس اے نہ صرف مقامی سطح پر کیسز حل کرچکی ہے بلکہ اس نےمختلف غیر ملکی لیبارٹریز سے بھی اپنے تجربات شیئر کیے ہیں۔ اس سلسلے میں انھوں نے خاص طور پر امریکہ کی دو لیبارٹریز میں ریفری کا کردار ادا کرنے کا ذکر کیا ،انہوں نے بتایا کہ امریکہ کے چیف پراسیکیوٹر رِک بیل نے کلیو لینڈ اور اوہائیو پولیس شوٹنگ کیس میں پی ایف ایس اے کو ریفری بنایا۔ پی ایف ایس اے کی طرف سے دیے گئے نکات کو امریکی عدالت میں پیش کیا گیا جس کی بنیاد پر امریکی عدالت نے کیس کا فیصلہ سنایا۔ وہ کہتے ہیں کہ پی ایف ایس اے برطانیہ، مصر، سعودی عرب اور ناروے کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو خدمات بھی فراہم کررہی ہے۔ انہوں نے جلے ہوئے لیپ ٹاپ سے ڈیٹا حاصل کرنے کے کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ  انٹیلی جینس ایجنسیاں کمپیوٹر سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کی مدد سے نہ صرف مجرموں کو گرفت میں لیتی ہیں بلکہ بڑی دہشتگردی کی سرگرمیوں کا بھی انکشاف کرتی ہیں۔ خوش قسمتی سے لیپ ٹاپ کی ہارڈ ڈرائیو پوری طرح سے نہیں جلی تھی۔ ہم نے ہارڈ ڈرائیوکے اندرونی کور سے ڈیٹا حاصل کرلیا۔ ہم نے ہارڈ ڈسک کو رائیٹ بلاکر سے لگایا اور اس میں ختم کی گئی اور دیگر فائلوں کو بھی حاصل کرلیا۔ اس سے جو ڈیٹا حاصل ہوا اس نے قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو حیران کردیا۔ ڈیٹا سے پتہ چلا کہ پاکستان میں دہشتگرد تنظیمیں کس طرح کام کررہی ہیں؟ بعد ازاں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فارنزک شواہد کی مدد سے پاکستان میں دو دہشتگرد گروہوں کی نشاندہی کی اور ان کے ارکان کو گرفتار کرلیا۔ انھوں نے ایک اور کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب حکام نے 2015ء میں لاہور کے دو چرچوں پر حملے اور آ گ لگانے کے سانحہ پر دو متاثرین کی شناخت کے لیےپی ایف ایس اے سے فارنزک ٹیسٹ کے لیےرابطہ کیا تو یہ ایک بڑا چیلنج تھا کیوں کہ آ گ میں جلنے کے باعث متاثرین کے ڈی این اے سیمپل حاصل کرنا بڑا مشکل کام تھا۔ میں نے جائے وقوعہ کا خود جا کر معائنہ کیا ۔ وہاں سے مجھے متاثرین کی جلد کا ایک چھوٹا سا ٹکرا ملا ، ہم نے اس پر کام کیا اور چند روز میں متاثرین کو شناخت کرلیا۔ آج پی ایف ایس اے اپنی علاقائی صلاحیت میں اضافہ کرچکی ہے لہٰذا ایجنسی کا عملہ خود جاکر موقع پر فارنزک شواہد اکٹھے کرنے کا اہل ہے۔ ایجنسی کے لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، راولپنڈی، ساہیوال، ملتان، بہاولپور،سرگودھا اور ڈیرہ غازی خان میں ضلعی سطح پر دفاتر موجود ہیں۔

خیبر پختونخواہ کی فارنزک سائنس لیبارٹری

اگرچہ خیبر پختونخواہ صوبہ دہشتگردی سے بہت بری طرح متاثر ہوا لیکن یہاں پر کوئی فارنزک سائنس کا خودمختار ادارہ موجود نہیں ہے۔ تاہم حال ہی میں خیبر پختونخواہ پولیس نےیو این ڈی پی اور آسٹریلین فیڈرل پولیس کے تعاون سے پشاور میں انسٹیٹیوٹ آف فارنزک سائنس قائم کیا ہے تاکہ فارنزک کے بارے میں آ گاہی اور جرائم کی تفتیش میں مدد مل سکے۔ادارے میں فارنزک سائنس لیبارٹری قائم کی ، جو چھ خصوصی یونٹس پر مشتمل ہے جن میں کیمیکل، نارکوٹکس تجزیہ، انگلیوں کے نشانات، اسلحہ، ٹول مارک، دستاویزات کی شناخت، فارنزک فوٹوگرافی اور ڈیجیٹل فارنزک شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یہ ادارہ پاکستان کسٹمز، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ، اینٹی نارکوٹکس فورس، قومی احتساب بیورو، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ، فرنٹیئر کور، فاٹا ایڈمنسٹریشن، مالاکنڈ لیویز اور گلگت بلتستان کو خدمات فراہم کرتا ہے۔ڈائریکٹر فارنزک سائنس لیب رب نواز خان نے بتایا کہ لیبارٹری میں 54افراد کام کرتے ہیں جن میں سے 24سائنسدان ہیں۔ اب تک لیب نےمختلف نوعیت کے 40,000کیسز پر کام کیا ہے۔ لیب کے پاس ابتدائی نوعیت کے آلات ہیں جو اسے آسٹریلین فیڈرل پولیس اور انٹرنیشنل ڈونر ایجنسی نے عطیہ کیےتھے۔ اگرچہ ہمارے پاس فارنزک سائنس لیب کا چھوٹا سا یونٹ ہے اس کے باوجود ہم نے نیشنل ڈیٹا بیس کو 500,000مجرموں کا ڈیٹا فراہم کیا ہے۔ اس لیب کو اپ گریڈ کرنے اور خودمختار ادارہ بنانے پر کام ہو رہا ہے۔

فارنزک سائنس لیب سندھ

ایڈیشنل انسپکٹر جنرل سندھ پولیس فارنزک ڈویژن ڈاکٹر سید عباس رضوی نے بتایا کہ ہمارا فارنزک سائنس ڈیپارٹمنٹ آڈیو ویڈیو تجزیہ، ڈیجیٹل فارنزکس، کیمیکل سیمپل مانیٹرنگ، کرائم سین انویسٹی گیشن، ہتھیاروں اور بیلسٹک کا تجزیہ، فارنزک فوٹوگرافی، خودمختار انگلیوں کے نشانات کی شناخت کانظام اور لیٹنٹ فنگرپرنٹس کے شعبوں پر مشتمل ہے۔ کراچی میں 1958ء میں پہلی فارنزک لیبارٹری قائم ہوئی۔ اس کے بعد کریمنلسٹکس ڈویژن 1983ء قائم کیا گیا اور قیام پاکستان سے پہلے کے فنگر پرنٹس ڈیپارٹمنٹ کو فارنزک سائنس لیبارٹری میں شامل کیا گیا۔ اس ڈویژن کو 2009ء میں فارنزک ڈویژن کا نام دیا گیا۔ سندھ پولیس کے فارنزک ونگ نے 2009ء کے بعد سے 50,000کیسز پر کام کیا۔ ہمیں زیادہ تر ٹارگٹ کلنگ کے کیسز دیے گئے۔

فارنزک سائنس لیب بلوچستان

ڈپٹی انسپکٹر جنرل کرائمز آ ف بلوچستان پولیس اور فارنزک ونگ کے انچارج شکیل درانی نے بتایا کہ ہمارے پاس صرف دو مستندکیمیائی تجزیہ کار ہیں لیکن لیب میں دستیاب آلات غیر معیاری ہیں۔ بلوچستان کی فارنزک لیب میں صرف چارشعبے ہیں جن میں کیمیکل سیکشن، ہتھیار اور ٹول مارک، دستاویزات کی شناخت اور انگلیوں کے نشانات کی شناخت کے شعبے شامل ہیں۔ بلوچستان پولیس ڈیپارٹمنٹ میں فارنزک لیب 85-1984ء میں قائم ہوئی تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تکنیکی سپورٹ اور ماہرانہ رائے دی جاسکے۔

نیشنل فارنزک سائنس ایجنسی کے قیام کے لیےایگزیکٹو کمیٹی آف دی نیشنل اکنامک کونسل نے 2002ء میں منصوبے کی منظوری دی اس مقصد کے لیے1292.45ملین روپے بھی مختص کیے گئے۔

تحریر: شفیق شریف (Shafiq Sharif)

Read in English

Authors
  • Nadeem

    Nice and knowledgeable write-up. This is technology era and is touching its peak where every thing except humane is being replaced by the automated technology. Whether it is need for surveillance or War to energy and economy, from medicine to crimes investigation, technology is playing vital role every where and I would dare say that it has put accuracy in the every department.
    Although Pakistan is far behind in use of true sense of technology but still it is good news that we have some good labs alongwith wish to improve. In current era where Pakistan is surrounded by terrorism elements internal or external, we should seriously opt for establishing the state of the art labs for forensic investigation alongwith extensive training of human resource to use that technology in true sense.

Top