Global Editions

ایشیا میں ای ویسٹ کا مسئلہ قابو سے باہر ہوتا جا رہا ہے

ایشیا کو اس وقت الیکٹرانک اشیاء کے فضلے کا سامنا ہے۔ لیکن یہ مسئلہ بےکار ہوگئے گیجٹس کا نہیں بلکہ ان کی زندگی ختم ہونے کے بعد انہیں مناسب طریقے سے ضائع کرنے کی صلاحیت کا ہے۔ اقوام متحدہ کی یونیورسٹی کی نئی تحقیق کے مطابق 2014ء میں ایشیاء میں 16ملین میٹرک ٹن ای فضلہ پیدا ہوا۔ یعنی ایک شخص 3.7کلو گرام ای فضلہ پیدا کرتا ہے جو دو لیپ ٹاپ یا 30آئی فون کے برابر ہے۔ اس میں زیادہ تر ای فضلہ چین کا ہوتا ہے۔ چین میں 2015میں 6.7 ملین میٹرک ٹن ای فضلہ پیدا ہوا جو 2005ء سے 107فیصد زیادہ ہے۔ رپورٹ میں اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ ایشیائی ممالک میں تیزی سے صنعتیں قائم ہو رہی ہیں اور ان کے شہریوں کی آمدنی اور معیار زندگی میں اضافہ ہورہا ہے۔ اسی لئے الیکٹریکل اور الیکٹرانک سامان کے ضائع ہونے کی شرح بھی بڑھ رہی ہے۔ اگر آپ کو یہ اعداد و شمار کے مایوس کن لگتے ہیں تو امریکہ پر نظر ڈال لیں۔ امریکا میں، اوسطاً ایک شخص ہر سال 12.2کلوگرام جبکہ یورپ میں 15.6کلوگرام الیکٹرانکس اشیاء ضائع کرتا ہے۔ یعنی ثانی الذکر کی الیکٹرانک اشیا کا فضلہ 121آئی فون کے برابر ہے۔ اس میں فرق کیا ہے؟ فرق یہ ہے کہ ای فضلہ کو ضائع کرنے کا درست طریقہ کار اپنایا جائے۔ ترقی یافتہ دنیا میں دھاتوں سے بنی ہوئی اشیاء کے زہریلے اجزاء کو الگ کرکے احتیاط سے ضائع کیا جاتا ہے اور باقی کارآمد حصے کو ری سائیکل کردیا جاتا ہے۔ اس کام کیلئے بے کار ای اشیاء کو جمع کرکے ان میں کارآمد حصوں کو الگ کردیا جاتا اور ری سائیکل کرکے دوبارہ فروخت کے قابل بنایا جاتا ہے اور جو حصے بالکل بیکار ہوتے ہیں انہیں کیمیکل ڈال کر جلا دیا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بعض جاپان، تائیوان اور جنوبی کوریا جیسے ایشیائی ممالک امریکہ اور برطانیہ کی طرح الیکٹرانک اشیاء کو پراسیس کرتے ہیں لیکن چین سمیت بہت سے ممالک ابھی بھی اس کام کیلئے جدوجہد کررہے ہیں۔ ان ممالک کی گلیوں میں لوگ اکثر اپنے کمپیوٹر کو ہتھوڑے مار کر توڑ پھوڑ دیتے ہیں یا سمارٹ فون کو جلا دیتے ہیں جو خطرناک ہے۔ اس سے ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے اور لوگوں کی صحت پر اثر پڑتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ای فضلہ کے بارے میں عوامی سطح پر آگاہی پیدا کرنا، مناسب سہولیات کی فراہمی اور سخت قواعد و ضوابط صورتحال تبدیل ہو سکتی ہے۔ بلکہ اس فہرست میں آپ گیجٹس کو شامل کریں تو انہیں ری سائیکل کرنا آسان ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان تبدیلیوں کو تیزی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ان تبدیلیوں کو اختیار کرنے اور الیکٹرانک اشیاء کو ری سائیکل کرنے کے بعد ہم توقع کرسکتے ہیں کہ سالانہ ای فضلہ میں کمی آئی گی۔

تحریر: جیمی کونڈلف (Jammie Condliffe)

Read in English

Authors
Top