Global Editions

”مجھے کہا گیا تھا کہ پاکستان میں خلائی سائنس کا کوئی مستقبل نہيں ہے۔ اسی لیے میں نے اس کا مستقبل خود بنانے کا فیصلہ کیا“: یمنہ مجید

ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو پاکستان کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران سپیس جینریشن کی مشاورتی کونسل کی پاکستانی رابطہ کار تعلیمی نظام کی خامیاں، خلائی تحقیق کے متعلق غلط تاثرات، اور فلکیات کے مستقبل کے متعلق اپنی رائے کا اظہار کرتی ہیں۔

مئی کے آخری ہفتے میں سپیس ایکس (SpaceX) اور نیشنل ایئروناٹکس اینڈ سپیس ایڈمینسٹریشن (National Aeronautics and Space Administration) نے دو خلابازوں کے ساتھ تاریخ کا پہلا کمرشل راکٹ خلاء میں بھیجا۔ دنیا کے ہر کونے میں لوگ بڑی دلچسپی سے اس خبر پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ پاکستان میں بھی خلائی سائنس کے بارے میں تبصرہ شروع ہوگیا اور لوگ پاکستانی خلابازوں کے ساتھ پاکستانی راکٹس کے خلائی سفر کا خواب دیکھنے لگے۔

تاہم یمنہ مجید نے یہ خواب کئی سال پہلے دیکھا تھا اور وہ آج نہ صرف اپنے خواب کو حقیقت کی شکل دے رہی ہيں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی راہ ہموار کررہی ہيں۔

یمنہ کو بچپن سے ہی خلاباز بننے اور چاند پر قدم رکھنے کا بہت شوق تھا، لیکن انہیں ہر موڑ پر مایوسی کا ہی سامنا ہوا۔ پاکستان کے تعلیمی نظام میں خلائی سائنس کو زيادہ اہمیت نہيں دی جاتی، اور یمنہ کے ساتھیوں کے ساتھ ساتھ ان کے سائنس کے اساتذہ نے بھی ان کی حوصلہ شکنی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا۔

ایک مایوس کن ابتداء

یمنہ جب ایک سرکاری سکول کی نویں جماعت میں پڑھ رہی تھیں، اس وقت انہيں اپنے سکول کے ذہین ترین بچوں پر مشتمل ایک جماعت کے لیے منتخب کیا گيا۔ پہلے روز ان کے استاد نے بچوں سے ایک ایک کر کے پوچھا کہ وہ بڑے ہو کر کیا بننا چاہتے تھے۔ توقعات کے عین مطابق ہر کسی نے یہی کہا کہ وہ ڈاکٹر یا انجنیئر بنیں گے۔

جب یمنہ کی باری آئی، تو انہوں نے بڑے فخر سے اپنے استاد کو بتایا کہ وہ خلاباز بننا چاہتی تھیں۔ پہلے تو کچھ دیر کے لیے پورے کمرے میں خاموشی چھاگئی۔ اس کے بعد ان کے استاد نے کھل کر قہقہہ لگایا، اور پھر پوری کلاس زور زور سے یمنہ پر ہنسنے لگی۔

یمنہ بتاتی ہيں کہ اس وقت کسی کو ”خلاباز “ کا مطلب بھی معلوم نہیں تھا، لیکن جب ان کی کلاس کو اس کا مطلب سمجھ آیا تو ان کے لیے صورتحال اور بھی مشکل ہوگئی۔

یمنہ کے استاد نے کلاس کو بتایا کہ خلاباز کیا ہوتا ہے، لیکن بعد میں انہوں نے خود ہی اس بات پر زور دیا کہ خلاء صرف ایک ”من گھڑت کہانی “ ہے اور خلابازوں کا درحقیقت کوئی وجود نہيں ہوتا۔ وہ کہتی ہیں کہ ”میرے استاد نے کہا کہ اللہ نے جو سب کچھ بنایا ہے وہ زمین پر ہی ہے اور زمین کے کرہ ہوا کے باہر کچھ بھی نہيں ہے۔ یہاں تک کہ چاند پر بھی قدم رکھنے کی بات جھوٹ ہے۔ “

مشکلوں کے بعد کامیابی

اس واقعے کے بعد سکول میں یمنہ کا مذاق اڑانا جیسے معمول کی بات ہوگئی۔ کچھ مہینوں بعد انہوں نے ایک دوسرے کلاس روم میں اپنا تبادلہ کروالیا۔ یمنہ کے ایک ساتھی نے انہيں بعد میں بتایا کہ لوگ یہ سمجھنے لگے کہ انہوں نے ”ذہنی امراض “ کی وجہ سے اپنا تبادلہ کروایا تھا۔

یمنہ کہتی ہیں کہ ”سوچ مختلف ہونے کا مطلب یہ نہيں ہوتا کہ آپ غلط ہیں یا پاگل ہيں۔ مجھے اب احساس ہوتا ہے کہ میری سب سے بڑی غلطی دوسروں کی طرح بننے کی خواہش تھی۔ “

آج یمنہ ناسا کے ساتھ کام کرنے والے غیرمنافع بخش بین الاقوامی خلائی ادارے سپیس جنریشن کے مشاورتی کونسل (Space Generation Advisory Council) کی پاکستانی رابطہ کار ہیں۔ اس کے علاوہ، انہوں نے خلابازی کا شوق رکھنے والے بچوں کو رہنمائی فراہم کرنے کے لیے ایکسپلوریشن (Exploration) نامی ایک تعلیمی ادارہ بھی قائم کیا ہے۔

ایک رابطہ کار کی حیثیت سے یمنہ سپیس جنریشن کے مشاورتی کونسل، یورپین سپیس ایجنسی (European Space Agency) اور جاپان ایئروسپیس ایکسپلوریشن ایجنسی (Japan Aerospace Exploration Agency) سمیت متعدد خلائی تحقیق پر کام کرنے والے اداروں کے ساتھ روابط بھی قائم کرتی ہیں۔

اس کے علاوہ، یمنہ نکول سٹاٹ (Nicole Stott) نامی ایک خلاباز کے قائم کردہ ادارے سپیس فار آرٹ فاؤنڈیشن (Space for Art Foundation) کے ساتھ بھی کام کرتی ہيں، جنہوں نے پاکستانی بچوں کی بنائی گئی تصویریں خلاء میں بھیجنے کے سلسلے میں انہیں معاونت فراہم کی۔

غلط تاثرات کا مقابلہ

یمنہ بتاتی ہیں کہ انہيں بچپن میں یہی بتایا جاتا تھا کہ پاکستان میں خلائی سائنس کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ اسی لیے جب پیشہ ورانہ تعلیم شروع کرنے کا وقت آیا تو ان کے لیے اپنے سب سے بڑے خواب کو عملی جامہ پہنانا ناممکن ثابت ہوا۔ اسی لیے انہوں نے اپنے دوسرے شوق کا انتخاب کرتے ہوئے علامہ اقبال میڈیکل کالج میں لیب ٹیکنالوجی کی تعلیم شروع کردی۔

تاہم خلائی سائنس کا یہ شوق ختم نہيں ہوا تھا۔ پاکستان میں ایسے کئی بچے ہيں جو ایک دن خلاء میں جانا چاہتے ہيں، لیکن وہ مواقع میسر نہ ہونے کی وجہ سے ایسا کرنے سے قاصر ہیں۔ یمنہ کو احساس ہونے لگا کہ اگر وہ ان بچوں کے لیے کچھ نہ کرپائيں تو ان کا یہ خواب ہمیشہ کے لیے ادھورا ہی رہ جائے گا۔ انہوں نے ٹھان لیا کہ وہ پاکستان میں اس شعبے کا مستقبل بنا کر ہی دم لیں گی۔

2016ء میں 18 سال کی عمر میں یمنہ نے خلائی سائنس کے متعلق آگاہی کی مہم شروع کی۔ انہوں نے اس سلسلے میں مختلف سکولوں اور تعلیمی اداروں میں جا کر انتظامیہ سے فلکیت اور خلائی سائنس کے متعلق سیشنز منعقد کرنے کی اجازت حاصل کرنے کی کوشش کی۔

ان سیشنز کا عنوان ”خلائی سائنس کے متعلق غلط تاثرات کا مقابلہ “ تھا اور ان کا مقصد طلباء کو نظام شمسی کے متعلق معلومات فراہم کرنا تھا۔

ایکسپلوریشن کی بنیاد

یمنہ کو ان سیشنز کے دوران کئی مشکلات کا سامنا رہا۔ وہ بتاتی ہيں کہ ” سب سے پہلے تو سکولز اس بات پر اعتراض کرتے تھے کہ میں طلباء کو نصاب سے ہٹ کر کچھ چیز سکھانے کی کوشش کررہی تھی۔ “ تاہم نصاب میں نظام شمسی کے متعلق جو تھوڑی بہت معلومات تھیں، ان میں بھی کئی غلطیاں تھیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر یمنہ نے ”ایکسپلوریشن “ (Exploration) نامی ادارے کی بنیاد رکھی، جو آج بھی قائم اور فعال ہے۔

یمنہ کے مطابق ایکسپلوریشن ان کے بچپن کے غصے کو مثبت شکل کی ایک کوشش ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ جب بھی کسی سکول میں سیشن منعقد کرنے کی بات کرتیں، تو سکولز اکثر ان کی تعلیم پر سوال اٹھاتے تھے۔ ان کے مطابق ”وہ کہتے تھے کہ آپ نے تو میڈیکل کی تعلیم حاصل کی ہے۔ آپ بچوں کو گمراہ کیوں کررہی ہيں؟ “

دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ والدین بھی اس شعبے میں زيادہ دلچسپی نہيں لے رہے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ خلائی سائنس ”صرف امیروں کے چونچلے ہيں “۔ وہ اس غلط فہمی میں بھی مبتلا تھے کہ خلائی دوربین جیسے مہنگے آلات کے بغیر فلکیات کا مطالعہ ناممکن ہے۔ تاہم یمنہ کے مطابق یہ دونوں تاثرات بالکل غلط ہیں۔

آہستہ آہستہ یمنہ کی کوششوں نے رنگ لانا شروع کیا۔ کئی بین الاقوامی تنظیموں نے ان کی کوششوں کو سراہا اور ناسا کے خلاباز سکاٹ کیلی (Scott Kelly) نے انہيں اپنے آٹوگراف کے ساتھ ایک دوربین تحفے کے طور پر بھی دی۔

حکومت کی عدم توجہ 

پاکستان کی قومی خلائی ایجنسی، سپیس اینڈ اپر ایٹموسفیر ریسرچ کمیشن (Space and Upper Atmosphere Research Commission)، جسے سپارکو (SUPARCO) بھی کہا جاتا ہے، کئی سالوں سے پاکستان میں خلائی ٹیکنالوجی اور ترقی کو فروغ دینے کی کوشش کررہی تھی۔ تاہم یمنہ شروع میں ان سے رابطہ کرنے میں ناکام رہيں۔

انہوں نے اپنا شوق پورا کرنے کے لیے انٹرنیٹ پر دوسرے اداروں کی تلاش کرنا شروع کردی۔ ان کوششوں کے نتیجے میں ان کا لاہور ایسٹرونومیکل سوسائٹی (Lahore Astronomical Society) جیسی کمیونٹیز اور خلائی سائنسز میں دلچسپی رکھنے والے افراد کے ساتھ رابطہ قائم ہوا اور آن لائن معلومات اور خلائی دوربین جیسے آلات تک رسائی حاصل ہوئی۔

‎ایک زمانہ تھا جب سپارکو خلائی ریسرچ میں بہت آگے تھا اور راکٹس لانچ کرنے پر کام کررہا تھا۔ اس ادارے کو ایشیاء کی نمایاں ترین خلائی ایجنسی مانا جاتا تھا، لیکن اب اس کی حیثیت وہ نہيں رہی جو پہلے تھی۔

اس عدم توجہ کے باعث 2011ء کے بعد سے پاکستان کوئی سیٹلائٹ لانچ کرنے میں کامیاب نہيں رہا۔  Paksat-1R نامی اس سیٹلائٹ کی رقم پاکستان نے نہيں بلکہ چین نے فراہم کی۔ آج اگر پاکستانی جھنڈا خلاء میں لہرا رہا ہے تو اس کا سہرا چینی خلابازوں کو جاتا ہے۔

ہوسکتا ہے کہ آگے چل کر یہ صورتحال بہتر ہو اور خلاء میں پاکستانی راکٹس لانچ ہونا شروع ہوں، لیکن جب تک پاکستان میں خلائی سائنسدانوں کو مناسب آگاہی اور تعلیم نہيں فراہم کی جائے گی، اور اس شعبے کی ترقی کے لیے اقدام نہيں کیے جائيں گے، اس صورتحال میں کسی قسم کی تبدیلی نہيں آئے گی۔

تعلیم کا فقدان

پاکستان میں خلابازی کے خواب دیکھنے والے طلباء کو کس طرح مواقع فراہم کیے جاسکتے ہيں؟ یمنہ کا خیال ہے کہ اس میں بہت وقت لگے گا۔

ان کے مطابق سب سے پہلے تو خلائی سائنس کے متعلق درست معلومات فراہم کرنے اور لوگوں کے غلط تاثرات کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد یونیورسٹیوں اور سکولز میں خلائی سائنس کا مضمون شامل کرنا ہوگا۔

اس وقت پاکستانی سکولوں اور یونیورسٹیوں میں فلکیات کا مضمون پڑھنے کا کوئی طریقہ نہيں ہے۔ گنی چنی یونیورسٹیوں میں صرف پی ایچ ڈی کے طلباء کو ایسٹروفزکس پڑھنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ یمنہ کا خیال ہے کہ جب تک فلکیات کے متعلق آگاہی نہيں فراہم کی جاتی، تعلیمی اداروں کے نصابوں میں خلائی سائنس کے مضمون کی شمولیت کی توقع نہیں کی جاسکتی۔

وہ کہتی ہیں ”نیل آرم سٹرانگ (Neil Armstrong) کی طرح ہمیں صرف ایک چھوٹا سا قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ “


عروج خالد لاہور میں رہائش پذیر فری لانس رپورٹر ہیں۔

تحریر: عروج خالد

تصاویر: یمنہ مجید

ترجمہ: صوفیہ ضمیر

Read in English

Authors

*

Top