Global Editions

مصنوعی ذہانت کے لیے ضوابط تیار کرنے کی ضرورت ہے

ٹیسلا اور سپیس ایکس (SpaceX) کے سی ای او ایلون مسک (Elon Musk) نے ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو کے ایک مضمون کے جواب میں کہا ہے کہ ان کی کمپنیوں کی تخلیق کردہ مصنوعی ذہانت سمیت تمام اقسام کی مصنوعی ذہانت کے لیے ضوابط تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو کے اس مضمون میں بتایا گیا تھا کہ اوپن اے آئی (OpenAI) محفوظ اور منصفانہ مصنوعی ذہانت پر کام کرنے کے بجائے نفع کمانے پر زیادہ توجہ دے رہی تھی (ایلون مسک اوپن اے آئی کے شریک بانی ہیں، لیکن اب وہ اس کمپنی کے ساتھ کام نہيں کرتے)۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ مصنوعی ذہانت کے ضوابط کس سطح پر تیار کیے جانے چاہیے، تو انہوں نے کہا کہ ”میرے خیال سے یہ ضوابط حکومتی اور بین الاقوامی، مثال کے طور پر اقوام متحدہ کی طرف سے، دونوں سطحوں پر عائد کیے جانے چاہیے۔“

اس سلسلے میں کیا کام کیا جارہا ہے؟ یورپی اتحاد نے ”زیادہ خطرہ رکھنے والے“ مصنوعی ذہانت کے سسٹمز کے لیے منصوبہ پیش کیا ہے اور 2020ء میں نئے قوانین سامنے آنے کا امکان ہے۔ پچھلے سال 42 ممالک نے مصنوعی ذہانت کے لیے ضوابط تیار کرنے کے سلسلے میں ایک معاہدے پر بھی دستخط کیے تھے۔ تاہم امریکہ اور چین ضوابط اور تحفظ کو بظاہر نظرانداز کرتے ہوئے جدت پسندی اور اس شعبے میں اپنی بالادستی قائم کرنے پر زیادہ زور دے رہے ہیں۔

یہ کس حد تک پریشان کن مسئلہ ہے؟ مسک نے ماضی میں متعدد بار مصنوعی ذہانت کے منفی نتائج کے متعلق اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ شعبہ ”ہمارے وجود کے لیے سب سے بڑا خطرہ“ ہونے کے علاوہ ”جوہری اسلحہ سے بھی زيادہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔“ 2018ء میں انہوں نے ری کوڈ (Recode) کو ایک انٹرویو کے دوران بتایا کہ ان کے خیال میں حکومت کو مصنوعی ذہانت کے متعلق ضوابط تیار کرنے اور اس کے محفوظ استعمال کو یقینی بنانے سے پہلے ایک سے دو سال لگا کر”مصنوعی ذہانت کے متعلق تفصیلات حاصل کرنی چاہیے“۔

تحریر: شارلٹ جی (Charlotte Jee)

تصویر: ایسوسی ایٹڈ پریس

Read in English

Authors

*

Top