Global Editions

غذا کے اجزا میں توازن اور درست طریقے سے پکانا ہی صحت کی ضمانت ہے

غذا کے اجزا میں توازن اور درست طریقے سے پکانا ہی صحت کی ضمانت ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ پاکستانی کھانے اپنے اجزا کے حوالے سے غذائیت کے حامل ہوتے ہیں لیکن ہماری کھانے پکانے کی تکنیک پرانی ہے۔ اچھے کھانے کے شوق میں ہمارا پورا دن مصروف گزرتا ہے۔ ہم اشتہا انگیز آلو قیمہ، آلو گوشت، حلیم اور مختلف سبزیوں کے ساتھ گوشت ملا کر کھانوں کا ذائقہ بناتے ہیں جن کے ساتھ گرم گرم نان ہوں تو ان کا مزا دوبالا ہو جاتا ہے۔

پاکستانی کھانے میںاصل اجزاء گوشت، سبزیاں، دالیں اور دہی سمیت دیگر اہم اجزاء تمام غذائیت سے بھرپور ہوتے ہیں۔ ان میں استعمال ہونے والے مصالحے خون نہیں جمنے دیتے، خون میں حدت پیدا نہیں کرنے دیتے، جلد ہضم ہونے والے اور پیٹ میں گیس نہیں ہونے دیتے۔ اس میں ایسے ضروری معدنیات شامل ہیں جو انسانی جسم کی نشوونما کیلئے ضروری ہیں اس کے علاوہ یہ مختلف بیماریوں کے علاج مثلاً گلے کی خراش، برونکائٹس، زکام، انفلوئنزا، ہلکے بخار، اور بد ہضمی کے علاج میں بھی استعمال ہوتے ہیں۔

لاہور ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین اور ایک سیریل ریستورانز کے مالک کامران شیخ اس خطے میں پکائے جانے والے کھانے صحت کے فوائد کے لحاظ سے متوازن ہیں لیکن مسئلہ ان کو پکانے کے طریقے سے پیدا ہوتا ہے۔ ہمارے کھانے اس طرح پکائے جاتے ہیں کہ زیادہ دیر تک محفوظ رہیں۔ ماضی میں ریفریجریٹرز نہ ہونے کی وجہ سے کھانوں میں ڈال کر انہیں زیادہ پکایا جاتا تھا تاکہ یہ خراب نہ ہوں۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ آپ کھانے کو جتنا زیادہ پکائیں گے اتنا ہی اس کی غذائیت کم ہو گی۔ ہماری مقبول ڈش حلیم تو پکائی ہی اس طرح جاتی ہے کہ اسے صرف ایک گھنٹے یا ایک دن تک نہیں بلکہ کئی دنوں تک کھایا جاسکے۔ کامران شیخ کہتے ہیں کہ غذا کے معاملے میںہماری توجہ صحت پر نہیں ہوتی۔ ہم زیادہ تر گوشت خور لوگ ہیں اور بہت کم چیزیں ہم ان کے قدرتی شکل میں کھاتے ہیں۔ ہمیں صحت مند خوراک کیلئے پاکستان کے سارے ہی کھانوں کے بارے میں نئے سرے سے سوچنا ہو گا۔ ماہر غذا ڈاکٹر فرزین ملک کا کہنا ہے کہ ہمیں خوراک کے غذائی مواد کو کھانا پکانے کے عمل کے دوران محفوظ بنانے کی ضرورت ہے۔ پاکستانی اور بھارتی کھانے واقعی بہت صحت مند ہوتے ہیں لیکن اس کا انحصار آپ کے کھانا پکانے پر ہے۔ سبزیاں پکانے سے پہلے انہیں برائون ہونے تک فرائی کریں پھر پکائیں ورنہ ان کا ذائقہ جاتا رہےگا۔ دوسری چیز جو ذہن میں رکھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ ایک ہی بار میں مصالحے نہ ڈالیں۔کھانا پکانے کے دوران مصالحے ڈالنے کا ایک مخصوص وقت ہوتا ہے۔ ہمارے روائتی ڈیزرٹس میں چینی کی بہت زیادہ مقدار استعمال ہوتی ہے بہتر غذائیت کیلئے شکر استعمال کریں۔ ڈاکٹر فرزین ملک کہتی ہیں کہ یہ بات بہت اہم ہے کہ ہم متوازن غذا استعمال کریں جس میں کم اور حل پذیر چکنائی ہو۔ ہمیں اپنی خوراک میں آئیل کی ایک مخصوص مقدار چاہئے ہوتی ہے لیکن ہم اپنی غذا میں اس کی بہت زیادہ مقدار استعمال کرتے ہیں ۔ لاہور میں ایک ریسٹورانٹ کے مالک محمد ایوب کا کہنا ہے کہ ہمارے ہاں دیسی گھی اور مکھن میں پکے کھانوں کی بہت مانگ ہے۔ آپ کو ہمارے کھانوں میں کوئی ایک ڈش نہیں ملے گی جس میں مکھن کا استعمال نہ ہو۔ ماہرین غذا کہتے ہیں کہ اگر کوئی وقت ایسا آبھی جائے تو کھانوں میں پھر بھی ناقص اجزاء کا مسئلہ رہے گا۔ صرف دودھ ہی کی مثال لے لیں پاکستان میں جس طرح کا ناقص دودھ فروخت ہو رہا ہے اس جیسا دنیا میں کہیں فروخت نہیں ہوتا۔ اگر آپ کسی گائے کا دودھ لیں گے جو آپ سمجھتے ہوں کہ خالص ہے تو اس کو بھی سٹیرائیڈز کے ٹیکے لگے ہوئے ہوں گے۔ اسی طرح پاکستان میں پینے کا بھی شفاف نہیں ملتا حد یہ ہے کہ اسے انسان استعمال کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے طلباء کی صحیح نشونما نہیں ہوپاتی، پاکستان میں عمر کی شرح کم ہوتی جارہی ہے اور بیماریاں پھیلتی جارہی ہیں۔

تحریر: ماہ رخ سرور (Mahrukh Sarwar)

Read in English

Authors
Top