Global Editions

ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے کہ ہم آنے والی نسلوں کے لیے کیا چھوڑ کر جارہے ہيں

موجودہ بحرانوں کے پیش نظر یہ بات واضح ہے کہ ہم اپنے آنے والی نسلوں کے بارے میں نہيں سوچ رہے۔ ایک فلسفہ دان اس صورتحال کو تبدیل کرنے کی کوشش کررہے ہيں۔

برطانیہ کے شہر آکسفورڈ میں covid-19 کے لاک ڈاؤن نافذ ہونے کے بعد فلسفہ دان رومن کرزنارک (Roman Krznaric) کا محلہ بدل کر رہ گیا۔ جلد ہی 100 سے زیادہ افراد پر مشتمل واٹس ایپ گروپ بن گیا، جس میں لوگ بچوں کو گھر پر پڑھانے کے لیے مشوروں سے لے کر کھانے پکانے کی ترکیبوں تک سب کچھ شیئر کرنے لگے۔ اسی واٹس ایپ گروپ کی مدد سے کرونا وائرس سے سب سے زيادہ متاثرہ افراد کو امداد بھی بھجوائی گئی۔ جب کرزنارک نے اپنے 11 سالہ جڑواں بچوں کو خطاطی سکھانے کی خواہش ظاہر کی تو کسی نے ان کے بچوں کے لیے برش بھجوا دئیے۔

کرزنارک کئی سالوں سے ہمدردی، یعنی خود کو دوسروں کی جگہ پر رکھ کر ان کے احساسات اور ضروریات سمجھنے کی صلاحیت، کا مطالعہ کررہے ہيں اور انہوں نے جلد ہی بھانپ لیا کہ اس مشکل گھڑی میں ان کے پڑوسی بھی اسی جذبے کا مظاہرہ کررہے ہيں۔ لیکن جیسے جیسے یورپ میں covid-19 زور پکڑتا گيا، ان کے ذہن میں ایک اور سوال ابھرنے لگا: کیا ہمارے دلوں میں ان لوگوں کے لیے بھی ہمدردی کا جذبہ پیدا ہوسکتا ہے جن سے ہماری کبھی بھی ملاقات نہيں ہوگی؟

کرزنارک کہتے ہيں کہ ”میں کئی سالوں سے ہمدردی کے متعلق کتابیں لکھ رہا ہوں اور لیکچرز دے رہا ہوں، لیکن میں نے ماضی میں کبھی اس سوال پر غور نہيں کیا کہ ہم آنے والی نسلوں کی ضروریات کس طرح پوری کرسکتے ہیں۔“

انہوں نے اپنی کتاب The Good Ancestor: How to Think Long Term in a Short‑Term World میں اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ کرزنارک اس کتاب میں اس بات پر زور دیتے ہيں کہ ہم صرف اپنے آج کے بارے میں سوچ رہے ہيں۔ اپنی خواہشات پوری کرنے کے چکر میں ہمیں یہ احساس نہيں ہوتا کہ ماحولیاتی تبدیلی اور وسائل کے بے جا استعمال سے ہمارے بعد آنے والی نسلیں کس طرح متاثر ہوں گی۔

آنے والی نسلوں کے لیے ہمدردی کے لیے ایک طویل المیعاد سوچ کی ضرورت ہوگی۔ ہم دو صدیوں بعد پیدا ہونے والے لوگوں کو کھانے پینے کا سامان نہيں بھجوا سکتے اور نہ ہی ہمدردی کے دو بول سکتے ہيں۔ تو پھر ہم ان کے لیے کیا کرسکتے ہيں؟ کرزنارک کہتے ہيں کہ کسی ضرورت مند کی مدد کرنا کافی نہيں ہے۔ ہمیں ”اچھے پڑوسی“ نہيں ”اچھے آبا و اجداد“ بن کر دکھانا ہوگا۔

یہ کتاب اس وبا سے پہلے لکھی گئی تھی اور کرزنارک کو اس میں کرونا وائرس کے متعلق صرف ایک تعارفی باب لکھنے کا ہی وقت مل سکا۔ وہ اس باب میں لکھتے ہيں کہ اس سال کی مالی مشکلات اور صحت کے شعبے سے وابستہ پریشانیوں کے پیش نظر، ہمیں آگے کی سوچ کر کیا ملے گا؟ کرزنارک کے مطابق، امریکہ جیسے ممالک کو، جنہوں نے کرونا وائرس کی وبا کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہيں کی، تائیوان یا جنوبی کوریا جیسے ممالک کے طویل المیعاد منصوبہ جات سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔

ہم بیسویں صدی کے جانے مانے وائرالوجسٹ جونس سالک (Jonas Salk) سے بھی بہت اہم سبق سیکھ سکتے ہيں، جنہوں نے سب سے پہلے ”اچھے آبا و اجداد“ ہونے کے متعلق سوال اٹھایا تھا۔ سالک نے 1995ء میں دنیا کا سب سے پہلا موثر پولیو ویکسین ایجاد کیا تھا، اور آنے والی نسلوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے اسے پیٹنٹ کرنے سے انکار کر کے خود کو اربوں ڈالر سے محروم رکھا۔ اگر وہ آج زندہ ہوتے تو انہيں covid-19 کے ویکسین کی دوڑ دیکھ کر بہت افسوس ہوتا۔ سالک کی 1967ء میں دیے جانے والے ایک خطاب میں انہوں نے کہا تھا کہ “ہمیں اپنی اگلی نسلوں کو بتانا ہوگا کہ ہم بہت بڑی تبدیلیوں اور بڑے بحرانوں سے کس طرح نکلنے میں کامیاب ہوئے۔”

کرزنارک نے اس سوچ کو ”فوری ضرورت کے تضاد“ کا نام دیا ہے۔ وہ کہتے ہيں کہ ”ماحولیاتی بحران اس قدر شدت اختیار کر چکا ہے کہ ہمیں موجودہ دور میں رہتے ہوئے طویل المیعاد سوچ سے کام لینا ہوگا۔“ 2020ء میں کھڑے ہو کر یہ بتانا ممکن نہيں ہے کہ ہم ماحولیاتی تبدیلی، کرونا وائرس کی وبا، اور آمریت جیسے مسائل کا مقابلہ کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوں گے۔ کرزنارک اعتراف کرتے ہيں کہ دونوں نتائج سامنے آسکتے ہيں۔ مثال کے طور پر، ممکن ہے کہ آمرانہ حکومتوں نے اس وبا کے دوران خود کو جو اختیارات دیے ہيں، وہ ان میں مزید اضافہ کردیں، جبکہ دوسری طرف ایمسٹرڈام جیسے شہر اپنی معیشتوں کو مزيد پائیدار بنانے کی کوششیں شروع کردیں۔ کرزنارک کہتے ہيں کہ ”کرونا وائرس کے باعث ہم نے جو مشکلات دیکھی ہيں اور جو نقصان اٹھایا ہے، اس سے وقت کے متعلق ہمارے تاثرات میں تبدیلی آئی ہے۔ ہمیں اب اپنی صورتحال پر نظر دوڑانے کا ایک موقع ملا ہے۔“

تحریر: ڈیئگو آرگوئیڈاس آرٹیز (Diego Arguedas Ortiz)

تصویر: کیٹ راورتھ (Kate Raworth)

Read in English

Authors

*

Top