Global Editions

کیا برقی ہوائی جہاز آخرکار کامیاب ہونے لگیں گے؟

نئی اسٹارٹ اپ کپ کمپنیاں ہوائی جہازوں کو بجلی فراہم کر کے اخراج اور شور میں کمی لانا چاہ رہی ہیں، لیکن بہتر بیٹریاں ان کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔

سیٹ بیلٹ باندھ لیں، کھانے کی میز کو اندر کردیں ۔ اور بیٹریوں کا چارج چیک کریں۔ کیا پتہ ایک دہائی کے اندر اندر پیسنجر برقی ہوائی جہاز تیار کرنے کا وعدہ کرنے والی دو جرات مند نئی اسٹارٹ اپ کمپنیوں کی قبل از پرواز چیک لسٹ اسی طرح کی ہو۔

آج زونم ائیرو (Zunum Aero) نے، جسے بوئینگ اور جیٹ بلو دونوں ہی کی معاونت حاصل ہے، ایسے برقی جہازوں کا دستہ بنانے کے منصوبہ جات کا  اعلان کیا ہے جو 10 سے 50 افراد کو 700 میل تک کے فاصلے طے کروانے میں کامیاب ہوگا۔ زونم ایک ہوائی بس سروس کی طرح زیادہ موثر علاقائی سفر کی فراہمی کے لئے امریکہ میں قلیل الاستعمال ہوائی اڈے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ وہ 2020 کی دہائی کی ابتداء تک پروازیں شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

زونم کے ساتھ وائی کومبینیٹر (Y Combinator) سے تازہ تازہ نکلنے والے رائٹ الیکٹرک (Wright Electric) بھی کھڑے ہیں، جنہوں نے پچھلے مہینے برقی جہاز بنانے کے منصوبوں کے متعلق تفصیلات فراہم کی تھیں۔ رائٹ کا ہوائی جہاز زیادہ بڑا ہوگا، اور 150 افراد کو 300 میل تک کے سفر طے کرنے کی صلاحیت رکھے گا، یعنی کہ وہ لندن سے پیرس تک کا فاصلہ طے کر پائے گا۔ وہ امید کرتے ہیں کہ ان کا جہاز اگلے 10 سال تک اڑنے کے قابل ہوگا۔

انہیں بڑے اور زیادہ تسلیم شدہ کھلاڑیوں کی طرف سے کافی سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ماضی میں بوئینگ نے ایندھن کے سیل پر چلنے  والے ہلکے ہوائی جہازوں پر تجربے کئے ہیں، اور ائیربس حال ہی میں ای فین نامی مکمل طور پر بیٹری سے چلنے والے دو سیٹ پر مشتمل ہوائی جہاز کی جانچ پڑتال کررہے ہیں۔

ان کے مقاصد قابل تعریف ہیں۔ ہوائی جہاز رانی کی صنعت میں گرین ہاؤس گیس کے اخراجات پوری جرمنی کے اخراجات جتنے ہیں، لہذا اگر صرف علاقائی پروازوں کے ہی اخراج کم ہوجائیں تو اس سے زمین کافی حد تک صاف ہوجائے گی۔ اور برقی ہوائی جہازوں کا شور عام جہازوں کے مقابلے میں بھی کم ہے، لہذا وہ نسبتہ زیادہ خاموش علاقائی ہوائی اڈے جنہیں زونم نشانہ بنا رہا ہے، ان میں زیادہ خلل اندازی نہیں ہونی چاہئیے۔

زونم اور رائٹ دونوں ہی اپنے اپنے کاروباری تجاویز کی کامیابی کے لئے بیٹری کی ٹیکنالوجی کی بہتری پر داؤ لگا رہے ہیں۔ جیسا کہ ہم نے ماضی میں بتایا تھا، دو یا چار سیٹ پر مشتمل برقی ہوائی جہاز اڑانے کی ٹیکنالوجی میں ترقی ہوئی ہے، اور یہ خیال اب اتنا بعید ازفہم نہیں رہا جتنا پہلے ہوتا تھا۔ لیکن 50 یا اس سے زائد افراد کو لے کر جانا اس سے بھی بڑا چیلنج ہے، جس کے لئے زیادہ بڑے جہاز اور زیادہ قوت درکار ہوں گے۔ شمسی پینلوں نے ہلکے پھلکے جہاز کو دنیا پھر کا چکر کاٹنے میں مدد ضرور کی ہے، لیکن یہ بڑے جہازوں کے لئے قابل عمل نہیں ہیں۔

حقیقی معنوں میں اس کا یہ مطلب ہے کہ مکمل طور پر برقی تجارتی ہوائی جہاز رانی کی کامیابی کے لئے بہتر بیٹریوں کی ضرورت ہو گی۔ لیکن تجارتی بیٹری کی ٹیکنالوجی میں اب تک اتنی تیزی سے ترقی نہیں ہوئی ہے، اور اب تک واضح نہیں ہوا ہے کہ اگلی ٹیکنالوجی کب تک سامنے آنے والی ہے۔ اگر بیٹریوں میں کسی قسم کی اہم دریافت نہ ہو تو زونم اور رائٹ کے لئے اپنے اپنے کاروباروں کو کھڑا کرنے کے لئے ہائبریڈ ٹیکنالوجیاں استعمال کرنا ضروری ہوجائے گا، جس کی وجہ سے یہ کمپنیاں جن فوائد کا وعدہ کررہی ہے، ان میں سے کچھ فوائد تو ممکن ہو سکیں گے، لیکن تمام فوائد ممکن نہیں ہوپائیں گے۔

تحریر: جیمی کونڈلیف (Jamie Condliffe)

Read in English

Authors
Top