Global Editions

انسانی دماغ سے متاثر اپراکسی میٹ کمپیوٹنگ میں تحقیق

ویئرایبل اور انٹرنیٹ آف تھنگز (Internet of Things – IoT) کے آلات کے استعمال میں حالیہ اضافے کا مطلب ہے کہ طویل بیٹری لائف کے لیے پاور کو بھی زیادہ موثر طور پر استعمال کرنے کی ضرورت پیش آئے گی۔ دماغ کی معلومات کو پراسیس کرنے کے عمل سے متاثر ہو کر، سائنسدان اور الیکٹریکل ایسے انجینئرز متبادل کمپیوٹنگ کے نمونے تخلیق کررہے ہیں جن کی مدد سے ریاضی کے کیلکولیشنز کے لیے ضروری توانائی میں کمی کی کوشش کی جاسکتی ہے۔

چلیں تھوڑی دیر کے لیے فرض کریں کہ آپ کو 100  کو 10  پر تقسیم کرنے کے لیے کہا جائے۔ آپ کا دماغ آپ کو بتاتا ہے کہ یہ بہت آسان ہے اور آپ کو جلد ہی اس کا جواب دے دیتا ہے۔ تاہم اگر آپ کو 72  کو سات پر تقسیم کرنے کے لیے کہا جائے، تو آپ کے دماغ کو کچھ مشکل کا سامنا ہوگا۔ آپ ”10 کے قریب“ تو کہہ دیں گے، لیکن درست جواب (10.285) نکالنے کے لیے آپ کے دماغ کو زيادہ محنت کرنی پڑے گی۔ دماغ پر زیادہ زور پڑے گا اور کمپیوٹنگ کی زیادہ صلاحیت استعمال ہوگی۔ یہ انسانی دماغ کی ایک حیرت انگیز صلاحیت ہے کہ وہ زیادہ مشکل سوالات کو حل کرنے کے لیے زیادہ محنت کرتا ہے، اور کم درستی پر مشتمل جوابات کے لیے کم محنت کرتا ہے۔ اور یہی ”اپراکسی میٹ کمپیوٹنگ“ کا بنیادی اصول ہے، یعنی آپ کی مخصوص ضرورت کے لحاظ سے قابل قبول نتائج حاصل کرنے کے لیے کم سے کم کمپیوٹنگ کی صلاحیت استعمال کی جائے۔

اس طرح ایپراکسی میٹ کمپیوٹنگ درست کمپیوٹنگ کی پابندیوں کو ختم کرکے چپ پر چلنے والے سسٹمز کے رقبے، پاور اور کارکردگی میں کئی گنا بہتری کے نئے مواقع پیش کرتی ہے، لیکن اس قسم کے نتائج کو ممکن بنانے کے لیے ان کے معیار میں کافی حد تک کمی لانا ضروری ہوگی۔  انٹیل، آئی بی ایم اور مائیکروسافٹ جیسے اداروں کے محققین کی جانب سے حالیہ تحقیقات سے یہ معلوم ہوا ہے کہ وافر مقدار میں وسائل استعمال کرنے والی ایسے کئی ایپلی کیشنز موجود ہیں جن میں اپراکسی میشن کی غلطیوں کی گنجائش موجود ہے، اور جن کے فنکشنز یا کمپیوٹیشنز کے نتائج کے معیار صارفین کے لیے قابل قبول ہیں۔

محققین جمع کرنے کے آلات جیسے بنیادی ریاضی کے یونٹس تخلیق کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جو مکمل طور پر درست جمع کرنے کے آلات کے مقابلے میں آدھی توانائی کا استعمال کرتے ہيں۔ یہاں اصل چیلنج اپراکسی میشن اور نتائج کے معیار کے درمیان صحیح توازن کی تلاش ہے۔

اس حوالے سے پاکستان کے محققین امید کرتے ہیں کہ ان کی کوششوں کے نتیجے میں ایسے آلات، تجزیے اور اوپن سورس لائبریریاں تخلیق کی جاسکیں گے جن کی مدد سے ایپلی کیشن انجینئرز کو اپنی مخصوص ایپلی کیشن کے لیے اپراکسی میٹ کمپیوٹنگ کے استعمال اور اطلاق کا جائزہ لینے میں مدد ملے گی۔ یہ وینا یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی، کے آئی ٹی جرمنی، ٹی یو ڈریسڈن جرمنی، انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی پاکستان اور نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پاکستان کی ایک مشترکہ کوشش ہے۔ اس گروپ نے امریکہ کے شہر آسٹن میں منعقد ہونے والی 53 ویں ڈیزائن آٹو میشن کانفرنس (ڈی اے سی) میں ”Cross-Layer Approximate Computing: From Logic to Architectures“ نامی ایک سیشن کے دوران اپنے نتائج پیش کیے۔ ڈی اے سی کمپیوٹر ایڈڈ ڈیزائن کے حوالے سے دنیا کی سب سے بڑی کانفرنس ہے۔

اس پیپر میں ملٹی بٹ اپراکسی میٹ جمع کرنے اور ضرب کرنے کے آلات استعمال کرتے ہوئے متغیر اپراکسی میشن موڈز سے آراستہ ایکسیلیٹر تیار کرنے کے لیے طریقہ کار فراہم کرنے والی مشترکہ کوشش کو متعارف کیا گیا ہے۔ نیز، اس میں ہارڈویئر ایکسیلیٹرز کے لیے اپراکسی میٹ کمپیوٹنگ ساخت کو ممکن بنانے کی بنیاد بھی فراہم کی گئی ہے۔

IEEE Transactions on Computer نامی جرنل میں شائع ہونے والے ایک اور مضمون میں، جس کا عنوان ”Probabilistic Error Modeling for Approximate Adders“ میں اپراکسی میٹ جمع کی وجہ سے پیدا ہونے والی غلطیوں کا تخمینہ لگانے کے لیے ایک مشترکہ طریقہ کار پیش کیا گیا تھا۔ اس میں بتایا گيا کہ تجویز کردہ تجزیہ استعمال کرتے ہوئے امیج پراسیسنگ اور کمپیوٹر وژن سے تعلق رکھنے والے متعدد ایپلی کیشنز کےلیے مختلف اپراکسی میٹ جمع کرنے والے آلات کی نسبتی کارکردگی کی درست طور پر پیشگوئی کی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ، حال ہی میں اسی جریدے میں  اپراکسی میٹ ضرب کرنے کے آلات میں غلطیوں کی تجزیے کے متعلق ”Probabilistic Error Analysis of Approximate Recursive Multipliers“ نامی ایک اور مضمون بھی شائع ہوچکا ہے۔ یہ دونوں مضمون مشترکہ طور پر لینیئر فنکشنز پر مشتمل الگارتھمز کے کلاس کے لیے غلطیوں کے وسیع تجزیے کی بنیاد رکھتے ہيں۔

اپراکسی میٹ کمپیوٹنگ کے شعبے میں تحقیق ابھی تک ابتدائی مراحل میں ہی ہے اور اسے حقیقت کی شکل دینے کے لیے ریسرچ کمیونٹی کی طرف سے ابھی بھی بہت باہمی اور اوپن سورس تعاون درکار ہے۔ اگر ایسا ہوجائے تو اس سے خصوصی طور پر سگنل پراسیسنگ اور ملٹی میڈیا ایپلی کیشنز میں توانائی میں کافی حد تک بچت ممکن ہوگی۔ ان ایپلی کیشنز کا ویئرایبل آلات، آئی او ی اور سمارٹ فونز میں استعمال دیکھتے ہوئے، یہ ریسرچ سے بیٹری پر چلنے والے ان آلات کی بیٹری لائف میں اضافے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔

ڈاکٹر ریحان حافظ نے مانچیسٹر یونیورسٹی سے ری کنگفگرایبل سگنل پروسیسنگ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے۔  وہ وژن پراسیسنگ لیب کے ڈائریکٹر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی پاکستان میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔

تحریر: ڈاکٹر ریحان حفیظ

مترجم: محمد احسان

Read in English

Authors

*

Top