Global Editions

ایپل اپنی ایپلی کیشن آئی میپ کیلئے ڈرونز کی مدد لیگا۔۔۔

معروف کمپنی ایپل اب اپنی ایک ایپلی کیشن کےلئے ڈرونز کی مدد لے گی۔ اس مقصد کے لئے ایپل نے امریکی محکمہ شہری ہوا بازی سے سال 2015 ء میں خصوصی اجازت نامہ حاصل کر لیا تھا اور اب کمپنی ان ڈرونز کو سٹریٹ سائنز، شاہراہوں میں ہونے والی تبدیلیوں اور زیر تعمیر علاقوں کی نشاندہی اور مانیٹرنگ کے لئے استعمال میں لائے گی۔ ’’بلوم برگ‘‘ کی رپورٹ کے مطابق اس طرح حاصل ہونے والے ڈیٹا کو ایپل اپنی میپس Maps ایپلی کیشن میں استعمال کرے گی۔ ایپل نے سال 2012 ء میں ایپل میپس نامی ایپلی کیشن متعارف کرائی تھی مگر اس میں خامیوں کی وجہ سے اس ایپلی کیشن کا بہت مذاق اڑایا گیا اور اس پر سخت تنقید کی گئی۔ ان خامیوں کی وجہ سے یہ ایپ قابل اعتماد نہیں رہی بلکہ کئی واقعات میں یہ ایپ خاصی خطرناک بھی ثابت ہوئی۔ بعدازاں ایپل نے اس ایپ میں پائی جانیوالی خامیوں کو دور کرنے کی کوششیں کیں اور اس کو اپ ڈیٹ بھی کیا مگر عوامی تاثر دور کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ ایپلی کیشن کسی بھی طرح گوگل میپس کے ساتھ مقابلے پر نہ آ سکی۔ تاہم اب ایپل کی جانب سے اٹھائے جانیوالے اقدام سے ایپل کو نہ صرف قابل اعتماد ڈیٹا میسر آ سکے گا بلکہ وہ گردونواح کا ہائی ریزولوشن تھری ڈی سکین بھی کرنے کے حامل ہو سکیں گے۔ اس مقصد کے لئے ڈرونز کا استعمال خاصا اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیوں کے حوالے سے بھی یہ ایپ خاصی موثر ثابت ہو سکتی ہے جس کو نقشے کے ذریعے گاڑی کی پوزیشن کے بارے میں جاننے میں مدد مل سکتی ہے۔ واضح رہے کہ ایپل کے بارے میں یہ اطلاعات بھی گردش میں ہیں کہ کمپنی خود بھی بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیاں تیار کرنا چاہتی ہے اور اس کے لئے خفیہ طور پر کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس کےساتھ ساتھ یہ اطلاعات بھی حال ہی میں موصول ہوئی ہیں کہ ایپل بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیوں کے لئے سافٹ وئیر تیار کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے جس میں نقشے بھی شامل ہوں گے۔ اب اگر ایپل بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیوں کے لئے نقشے حاصل کرنا چاہتا ہے تو یہ عمل نہایت سست ہو گا، بلوم برگ کے مطابق ایپل کی جانب سے بنائی جانیوالی نئی کمپنی کو امریکی محکمہ شہری ہوابازی سے منظوری لینا ہو گی بلکہ اسے محکمہ شہری ہوابازی کے جانب سے ڈرونز کے استعمال کے لئے بنائے جانیوالے قواعد وضوابط کی پابندی بھی کرنا ہو گی۔ اس حوالے سے یہ پابندی کہ ڈرونز کو آپریٹر کی نگاہوں سے اوجھل نہیں ہونا چاہیے ڈیٹا کے جلد از جلد حصول میں رکاوٹ ثابت ہو گی۔ اسی طرح تھری ڈی نقشے تیار کرنا بھی ایک وقت طلب معاملہ ہے اور ایک شہر کو پوری طرح کور کرنے میں عمر بیت جائے گی۔

تحریر: جیمی کونڈیلفی (Jamie Condliffe)

Read in English

Authors

*

Top