Global Editions

ایپل کو آئی فون اپ گریڈ کرنے کے بجائے نیا فون لانچ کرنے کی ضرورت ہے

2007ء میں آئی فون کو بہت زبردست سمجھا جاتا تھا، لیکن اب دنیا بہت بدل گئی ہے۔

2007ء میں میرے پاس ایک بھاری بھرکم فون تھا، جس کی ڈسپلے کو سلائيڈ کرنے سے ایک کی بورڈ نظر آتا تھا۔ یہ فون دیکھنے میں زیادہ خوبصورت نہیں تھا، لیکن یہ ٹیکسٹنگ اور فون کالز کے لیے کافی تھا، اور میں اس کے علاوہ اسے کسی اور کام کے لیے استعمال نہیں کرتی تھی۔

اس کے بعد آئی فون لانچ ہوگیا، اور جیسے سب کچھ ہی بدل گیا۔ ہمارے ہینڈسیٹس اب محض فون نہیں رہے، سمارٹ فونز بن گئے۔ مارکیٹ میں بلیک بیری اور پالم ٹریو کے علاوہ ایسے کئی ہینڈسیٹس موجود تھے جن میں فلپ فون سے کہیں زیادہ فیچرز دستیاب تھے، لیکن انھیں استعمال کرنا آسان نہیں تھا، اور ان کے ساتھ زیادہ کچھ نہیں کیا جاسکتا تھا۔ ان میں سے کسی میں آئی فون کی طرح کے ڈسپلے، ٹچ سکرین، اور اس کی خوبصورتی نہیں تھی۔ آئی فون (اور 2008ء میں لانچ ہونے والے ایپ سٹور) نے سمارٹ فونز کی دنیا میں تہلکہ مچا دیا تھا۔

اس بات کو دس سال گزر گئے ہیں، اور موبائل فون کی دنیا میں بہت تبدیلی آچکی ہے۔ اب زیادہ تر لوگوں کے پاس کالے یا سلور رنگ کے سمارٹ فونز نظر آتے ہیں، جنھیں چھوٹے سے چھوٹے کام کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ زیادہ تر فونز میں (ٹیک مارکیٹ کی ریسرچ کمپنی آئی ڈی سی کے مطابق، 85 فیصد فونز میں) گوگل کا اینڈرائيڈ آپریٹنگ سسٹم لگا ہوا ہے، جبکہ باقی فونز میں ایپل کا آئی او اس استعمال ہوتا ہے۔

اینڈرائيڈ کے زیادہ مقبول ہونے کے باوجود آئی فون کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ آئی فون اس وقت بھی سب کی توجہ کا مرکز بن جاتا ہے جب کسی آئی فون میں ایسا فیچر متعارف کیا جاتا ہے جو حریفوں کے فونز میں پہلے سے موجود ہوتا ہے۔ اس توجہ کی وجہ سے موجودہ ٹیکنالوجیز کی مقبولیت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

چند روز قبل، ایپل نے آئی فون کے تین نئے ماڈلز کا اعلان کیا تھا۔ ان میں سے سب سے زیادہ مہنگا فون آئی فون ایکس (iPhone X) ہے، جس کی قیمت 999 امریکی ڈالر ہے۔ اس فون میں چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی شامل ہوگی، جس کا نام فیس آئی ڈی (Face ID) ہے۔ ایپل کے مارکیٹنگ کے سینیئر نائب صدر فل شلر (Phil Schiller) کے مطابق فیس آئی ڈی میں فون کے اگلے حصے میں ایک چھوٹا سا ڈاٹ پراجیکٹر متعدد سنسرز اور کیمروں کی مدد سے آپ کے چہرے کا ماڈل تیار کرتا ہے، جس کے بعد ڈیپ لرننگ استعمال کرتے ہوئے ہینڈسیٹ میں ذخیرہ کردہ آپ کی تصویر سے اس ماڈل کا موازنہ کیا جاتا ہے۔ اسے نہ صرف فون ان لاک کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، بلکہ ایپل پے اور آئی فون ایپس میں ادائيگی کے تصدیق کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

سام سنگ کے گیلیکسی S8 جیسے کئی دوسرے سمارٹ فونز میں بھی بائیومیٹرک تصدیق کی سہولت ہے، لیکن اکثر اس کے نتائج غلط ثابت ہوتے ہيں۔ شیلر نے یقین دلانے کی بہت کوشش کی تھی کہ فیس آئی ڈی کی کارکردگی ایپل کے ٹچ آئی ڈی کے انگلیوں کے نشان کو ان لاک کرنے کے سافٹ ویئر سے بہت بہتر ہے لیکن پھر بھی مجھے یقین نہیں آرہا تھا۔ (انھوں نے بتایا تھا کہ یہ ٹیکنالوجی تصویروں اور ماسکس اور حقیقی انسانوں کے درمیان فرق سمجھتی ہے، اور ان لاک کرنے کے لیے آپ کو اس کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ تاہم سافٹ ویئر انجنیئرنگ کے سینیئر نائب صدر کریگ فیڈریگی (Craig Federighi) کی پہلی کوشش ناکام رہی)۔

اگر یہ فیچر ایپل کے فونز میں کامیاب ثابت ہوجائے تو ممکن ہے کہ یہ آگے چل کر دوسرے فونز میں بھی نظر آنے لگے گا۔

اس کے علاوہ چند اینڈرائیڈ فونز میں وائرلیس چارجنگ کی بھی سہولت موجود ہے۔ ایپل نے بتایا کہ اس کے نئے آئی فونز میں قی (Qi) نامی وائرلیس چارجنگ سٹینڈرڈ کی معاونت شامل ہوگی، جو اکثر آئی کیا (Ikea) اور ہوائی اڈوں میں نظر آتی ہے۔

پچھلے چند سالوں میں وائرلیس چارجنگ کی مقبولیت میں اضافہ تو ہوا ہے، لیکن ابھی بھی اسے ایک نایاب فیچر سمجھا جاتا ہے۔ قی سٹینڈرڈ کے متعلق ایپل کے اعلان کے بعد توقع کی جاتی ہے کہ اگلے چند سالوں میں یہ زیادہ عام ہوجائے گا اور آنے والے سالوں میں یہ فیچر اینڈرائيڈ سمارٹ فونز میں بھی نظر آنے لگے گا۔

اگلے دس سالوں میں ایپل اور آئی فونز کس مقام پر کھڑے ہوں گے؟ آنے والے سالوں میں اسی طرح کی مزید چیزیں دیکھنے کو ملیں گی۔ آئی فونز کے پراسیسرز اور سینسرز بہتر ہوں گے اور ہوسکتا ہے کہ ان کے ایموجی حقیقت کے زیادہ قریب ہوں۔

تاہم اگر ایپل کو اسی طرح اپنے صارفین کا دل جیتنا ہے جس طرح دس سال پہلے جیتا تھا، انھیں ایک نیا آئی فون لانچ کرنا ہوگا۔ ایپل نے نئے مارکیٹس کے لیے ایپل واچ اور ہوم پوڈ سپیکر لانچ کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن دونوں نے اس طرح کا تہلکہ نہیں مچایا تھا جس طرح سب سے پہلے آئی فون نے مچایا تھا۔ ایپل کو اسی طرح کی ناقابل یقین چیز دوبارہ متعارف کرنے کی ضرورت ہے۔

تحریر: ریچل میٹز (Rachel Metz)

Read in English

Authors

*

Top