Global Editions

ایپل نے خودکار گاڑی کی تیاری کا اعتراف کر لیا

معروف ادارے ایپل نے پہلی مرتبہ اس امر کا باضابطہ اعتراف کر لیا ہے کہ وہ بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑی کی ٹیکنالوجی تیار کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ کمپنی کی جانب سے بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑی کی تیاری کے ضمن میں اپنی خواہشات کو بہت خفیہ رکھا تھا تاہم اب ان کی جانب نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی اتھارٹی کو ایک خط تحریر کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ کئی شعبوں، بالخصوص ٹرانسپورٹ میں خودکار نظاموں کے امکانات کے بارے میں پرجوش ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ خودکار گاڑیوں کے خاطرخواہ سماجی فوائد ہیں جن سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ کمپنی آٹومیشن اور مشین لرننگ کے ضمن میں بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ ایپل کی جانب سے یہ خط حکومت کی جانب سے حال ہی میں بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیوں کی تیاری کے حوالے سے تجویز کی جانیوالی گائیڈ لائنز کے ردعمل میں تحریر کیا گیا ہے۔ ایپل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی جانب سے تجویز کئے جانیوالے اقدامات کے حق میں نظر آتی ہے تاہم اس نے چند تحفظات کا بھی اظہار کیا ہے کہ خط میں ایپل نے انضباطی ادارے سے کہا ہے کہ وہ خود چلنے والی گاڑیوں پر زیادہ قدغنیں نہ لگائے اور پہلے سے قائم شدہ صعنت کاروں اور نئے آنے والوں کے ساتھ ایک جیسا سلوک کیا جائے۔ ایپل نے اتھارٹی کے نام تحریر کئے جانیوالے خط میں اس امر کا اظہار نہیں کیا کہ وہ خود بھی بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑی تیار کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے، تاہم یہ ضرور ہے کہ حالیہ رپورٹس کے مطابق کمپنی بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیوں کے ضمن میں سافٹ وئیر اور ٹیکنالوجی کی تیاری میں دلچسپی رکھتی ہے۔ ایپل حال ہی میں آٹو موبائل ٹیم سے محروم ہوئی ہے اور اب وہ خودکار گاڑیوں کے لئے نظام تیار کرنے پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔ یہ تو بالکل واضح ہے کہ ایپل اس میدان میں تنہا نہیں ہے۔ اوبر مشین لرننگ کے حوالے سے ایک لیب کےآغازکا باضابطہ اعلان کر رکھا ہے اور اس میں بھی ان کی توجہ کا مرکز خودکار گاڑیوں کے لئے سافٹ وئیر کی تیاری ہی ہو گا۔ اسی طرح کئی اور کپمنیاں جن میں آکسفورڈ یونیورسٹی کی کمپنی Oxbotica بھی ایسے ہی سافٹ وئیر کی تیاری پر کام کر رہی ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ ایپل نے سینے میں دفن راز کو افشا کر دیا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس میدان میں کیا کارہائے نمایاں سرانجام دیتے ہیں۔

تحریر: جیمی کونڈیلفی (Jamie Condliffe)

Read in English

Authors
Top