Global Editions

ایپل اور گوگل کی کرونا وائرس کی ٹریکنگ ٹیکنالوجی 23 ممالک میں متعارف ہوچکی ہے

ان دونوں کمپنیوں نے کئی امریکی ریاستوں کو کرونا وائرس کا سسٹم استعمال کرنے کی بھی اجازت دے دی ہے۔

ایپل اور گوگل اپنی کرونا وائرس کی وبا کی ٹریکنگ میں معاونت فراہم کرنے والی ”ایکسپوژر کی اطلاعات“ کی ٹیکنالوجی متعارف کررہے ہیں۔ اب دنیا بھر کی حکومتیں ان دونوں کمپنیوں سے منظوری حاصل کرنے کے بعد اپنی ٹریکنگ کی ایپس میں اس ٹیکنالوجی کا استعمال کرسکتی ہيں۔

انفیکشن کے شکار افراد کے قریب آنے والوں کی ٹریکنگ کو کانٹیکٹ ٹریسنگ (contact tracing) کہا جاتا ہے اور ماضی میں یہ تکنیک ایبولا سے لے کر ایچ آئی وی تک کئی وباؤں کا مقابلہ کرنے میں بہت کامیاب ثابت ہوچکی ہے۔ پچھلے چند ماہ میں کئی ممالک کرونا وائرس پر قابو پانے کے لیے موبائل فون ایپس سمیت کئی مختلف اقسام کی ٹیکنالوجیز استعمال کرنے کی کوشش کررہے ہيں۔

دو درجن سے زائد ممالک نے کانٹیکٹ ٹریسنگ کی ایپس متعارف کی ہیں، لیکن ایپل اور گوگل کی مشترکہ ٹیکنالوجی سے ٹریسنگ کی رفتار میں بہت تیزی سے اضافہ ہوگا۔ ان کی پارٹنرشپ کی بدولت دنیا بھر کے تمام سمارٹ فونز ایک دوسرے کی نشاندہی کرکے کرونا وائرس کے ایکسپوژر کے متعلق معلومات شیئر کرسکیں گے۔ اپنی ٹیکنالوجی بنانے والے ممالک کو تکنیکی اور شہریوں کے حقوق کے حوالے سے کئی مسائل کا سامنا رہا ہے، جنہیں گوگل اور ایپل کی ٹیکنالوجی سے حل کیا جاسکے گا۔

پیمانے کا مسئلہ

گوگل اور ایپل نے بتایا ہے کہ پانچ براعظموں سے تعلق رکھنے والے 23 ممالک کے علاوہ کئی امریکی ریاستوں کو ان کے اے پی آئی (API) تک رسائی حاصل ہوچکی ہے۔ تاہم ان ممالک میں اے پی آئی پر رضامند نہ ہونے کی وجہ سے فرانس اور اپنی ایپس میں ایپل اور گوگل کے سسٹم کے استعمال کے متعلق شک و شبہات رکھنے کے باعث برطانیہ شامل نہيں ہیں۔

اس ٹیکنالوجی سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ عالمی بحران کے دوران سلیکون ویلی میں قائم کردہ کمپنیاں کتنی طاقتور ہیں۔ یورپی، ایشیائی، اور شمالی امریکی ممالک نے لوکیشن ٹریکنگ اور مرکزی سسٹمز کے لیے ایپل اور گوگل پر بہت زور ڈالنے کی کوشش کی، لیکن ان دونوں کمپنیوں نے کسی کی ایک نہ سنی اور آخرکار ان حکومتوں کو گھٹنے ٹیکنے پڑے۔ اس مشترکہ ٹریکنگ سسٹم کی اولین ترجیح پرائیوسی کا تحفظ ہے۔ اس میں ہر مرحلے پر صارفین سے اجازت حاصل کی جاتی ہے، اور لوکیشن ٹریکنگ کے بجائے بلوٹوتھ ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھایا گیا ہے، تاکہ اسے باآسانی پرانے ماڈل کے فونز میں بھی استعمال کیا جاسکے۔

ایپل اور گوگل کے نمائندگان نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ ”ہمارا سسٹم ایک ایپ نہیں ہے۔ بلکہ ہم نے صرف ایک اے پی آئی بنائی ہے جسے پبلک ہیلتھ ایجنسیاں اپنی ایپس میں استعمال کر سکتی ہیں۔ ہماری ٹیکنالوجی ان ایپس کو زیادہ بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوگی۔ ہمارا سسٹم آلات کے لوکیشن کی معلومات نہ تو حاصل کرتا ہے اور نہ ہی اس کا استعمال کرتا ہے۔ ہر صارف خود فیصلہ کرے گا کہ وہ کونسی اطلاعات موصول کرنا چاہتا ہے اور وہ covid-19 کا شکار ہونے کی صورت میں حکام کو بھی اپنی مرضی ہی سے مطلع کرے گا۔ یہ سسٹم اسی صورت میں کامیاب ہوگا اگر لوگ اسے استعمال کریں گے اور اس کے لیے ان کی پرائیوسی کی یقین دہانی نہایت ضروری ہے۔“

دونوں کمپنیاں کہتی ہیں کہ جیسے جیسے مختلف ممالک میں وبا ختم ہوتی جائے گی، ان کی ٹریکنگ ٹیکنالوجی تک رسائی بھی ختم کر دی جائے گی۔

یہ ٹیکنالوجی وبا پر قابو پانے اور معیشت کی بحالی میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ تاہم وبائی امراض کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے خاتمے کے لیے ایپس پر  سو فیصد انحصار کرنا بے وقوفی ہوگی۔ کامیاب کانٹریکٹ ٹریسنگ کے لیے انسانوں کی بھی خدمات حاصل کرنے کی ضرورت ہوگی۔ ماہرین کے مطابق امریکہ میں ایک لاکھ سے زائد ٹریسرز درکار ہوں گے۔

تحریر: پیٹرک ہاول او نیل (Patrick Howell O’Neill)

Read in English

Authors

*

Top