Global Editions

گوگل اور ایپل اینڈرائيڈ آلات اور آئی فونز کے ذریعے کرونا وائرس کی ٹریکنگ کریں گے

ایپل اور گوگل آئی فون اور اینڈرائيڈ کے آلات کے لیے مشترکہ طور پر ایک ایسا سافٹ ویئر تیار کررہے ہیں جس کی مدد سے کرونا وائرس کی ٹریکنگ ممکن ہوگی۔ جب کسی شخص کا کرونا وائرس کے شکار افراد کے ساتھ رابطہ ہوگا تو اسے اس سافٹ ویئر کے ذریعے مطلع کردیا جائے گا۔ یہ نیا پراجیکٹ مئی میں متعارف کیا جائے گا۔

طبی ماہرین یہ بات اچھی طرح جانتے ہيں کہ کسی بھی وبا کو روکنے کے لیے اس کے پھیلاؤ کی ٹریکنگ نہایت اہم ہے۔ جنوبی کوریا جیسے ممالک میں اسی قسم کی ٹریکنگ کرونا وائرس کے کیسز میں کمی لانے میں کامیاب ثابت ہوچکی ہے۔ ایپل اور گوگل کے درمیان یہ پارٹنرشپ کسی بھی امریکی کمپنی کی کرونا وائرس کے پھیلاؤ پر نظر رکھنے کی سب سے اہم کوششوں میں سے ایک ہے۔ اور اہم بات یہ ہے کہ یہ وائٹ ہاؤس کے تجویز کردہ ٹریکنگ کے سسٹم سے بہت مختلف ہے، جس میں صارفین کی پرائیوسی کا خیال نہيں رکھا گیا ہے۔

ایپل اور گوگل جس سسٹم پر کام کررہے ہيں، اس میں صارفین اپنا ڈیٹا رضاکارانہ طور پر درج کریں گے۔ اس میں بلوٹوتھ ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھایا جائے گا جسے عام طور پر ایک دوسرے کے قریب رکھے آلات کے درمیان مواصلت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ جب کسی شخص میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوجائے تو وہ اس ایپ میں اپنا ڈیٹا درج کرے گا جس کے بعد اس کی معلومات کو پوشیدہ رکھتے ہوئے پچھلے 14 روز میں اس کے قریب آنے والے تمام افراد کو مطلع کردیا جائے گا۔

شروع میں اس سافٹ ویئر میں ایک ایپلیکیشن پروگرامنگ انٹرفیس (application programming interface – API) کا استعمال کیا جائے گا جس کی مدد سے ایپل اور اینڈرائيڈ فونز (جن میں مختلف آپریٹنگ سسٹمز کا استعمال کیا جاتا ہے) ایک دوسرے کے ساتھ ڈیٹا شیئر کرسکیں گے۔ صارفین کو الگ سے ایسی ایپس ڈاؤن لوڈ کرنی ہوں گے جن میں اس اے پی آئی کو شامل کیا گيا ہے۔ یہ ڈیٹا ہیلتھ کیئر حکام کو دستیاب ہوگا لیکن اس میں کسی بھی قسم کی معلومات شامل نہيں ہوں گی جس سے کسی کی شناخت ممکن ہوسکے۔ آگے چل کر ایپل اور گوگل دونوں ہی اس سافٹ ویئر کو اینڈرائيڈ اور آئی او ایس آپریٹنگ سسٹمز میں شامل کریں گی تاکہ علیحدہ سے ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کی ضرورت نہ رہے۔

تاہم اس ایپ کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اسے استعمال کریں۔ سنگاپور میں کرونا وائرس کی ٹریکنگ کے لیے ٹریس ٹوگیدر (TraceTogether) نامی ایپ متعارف کی گئی تھی لیکن اسے صرف 12 فیصد افراد نے استعمال کیا تھا۔ ہیلتھ کیئر کے حکام کو بھی ایسی ایپس متعارف کرنی ہوں گی جن میں اس اے پی آئی کا استعمال کیا گيا ہو۔ اس کے علاوہ، یہ ایپ صرف اسی وقت موثر ثابت ہوسکتی ہے اگر وسیع پیمانے پر کرونا وائرس کی معتبر اور فوری ٹیسٹنگ دستیاب ہو۔

ایپل اور گوگل نے اس سافٹ ویئر میں استعمال ہونے والے بلوٹوتھ، کرپٹوگرافی اور فریم ورک کے متعلق تکنیکی دستاویزات جاری کیے ہيں۔

تحریر: پیٹرک ہاول او نیل (Patrick Howell O’Neill)

Read in English

Authors

*

Top