Global Editions

جانور مصنوعی بچہ دانی میں زندہ رہنے کا ریکارڈ قائم کرچکے ہیں

جنینی بکری کے بچے فلوئیڈ سے بھرے ہوئے ایک تھیلے میں کئی ہفتوں تک زندہ رہے۔ تین سال میں قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کے لئے ٹیسٹ شروع ہوسکتے ہیں۔

فلاڈیلفیا کے ڈاکٹر جنینی بکری کے بچوں کو بچہ دانی کی طرح کی ایک پلاسٹک کی تھیلی میں کئی ہفتوں تک زندہ رکھنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کی دیکھ بھال کے نظریے سے یہ ٹیکنالوجی کا ایک بہت بڑا کارنامہ ہے، لیکن جنینی بچوں کو بچہ دانی سے کتنا عرصہ پہلے نکالا جاسکتا ہے، اس کے بارے میں کئی سوال بھی اٹھتے ہیں۔

اس آلے میں، جسے انکیوبیٹر کی ایک بہتر شکل بنا کر پیش کیا جارہا ہے، ایمنیوٹک فلوئیڈ سے بھرے ہوئے ایک جراثیم سے پاک پلاسٹک کے تھیلے میں جنینی جانوروں کو زندہ رکھا گیا۔

چلڈرنز ہاسپیٹل آف فلاڈیلفیا (Children’s Hospital of Philadelphia) کے ڈاکٹروں نے جنینی بکری کے بچوں کو ان شفاف تھیلوں میں رکھ کر ان کے امبلیکل کورڈ کو خون میں آکسیجن متعارف کرنے والی ایک مشین سے جوڑدیا۔ ان بکری کے بچوں کے دل خون کو پمپ کررہے تھے۔

ان آلات میں آٹھ بکری کے بچے چار ہفتوں تک زندہ رہے۔یہ جانور زمانہ حمل کے اسی مرحلے میں تھے جس میں 22 یا 23 ہفتے کے جنینی انسانی بچے ہوتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہے جب انسانی بچے کو بچہ دانی سے نکال کر زندہ رکھنے کی توقع کی جاسکتی ہے۔ زمانہ حمل 40 ہفتے ہوتا ہے۔

حسب معمول حرکت کرنے والے، اور آنکھیں کھولنے والے یہ جانور اس وقت "پیدا" ہوئے جب ریسرچروں نے انہیں تھیلے سے نکالا۔

چلڈرنز ہاسٹل آف فلاڈیلفیا کی ریسرچ فیلو ایملی پارٹریج (Emily Partridge)، جنہوں نے نیچر کمیونیکشن (Nature Communications) میں بھی اس آلے کے متعلق معلومات فراہم کی تھی، کہتی ہیں کہ ان کی نشونما حسب معمول تھی اور ان کے پھیپڑوں کی کارکردگی وہی تھی جو ایک شیرخوار بچے کی ہوتی ہے۔

اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا مصنوعی بچہ دانی سے جنینی بچوں کے باہر زندہ رہنے کے امکانات میں اضافہ ممکن ہے۔ امریکہ کی 43 ریاستوں میں جنینی بچے کے اس مرحلے سے گزر جانے کے بعد ابورشن غیرقانونی ہوجاتا ہے۔

فلاڈیلفیا کے ہسپتال کے چلڈرنز انسٹی ٹیوٹ فار سرجیکل سائنس (Children’s Institute for Surgical Science) کے ڈائریکٹر ایلن فلیک (Alan Flake) رپورٹر کے ساتھ ایک کانفرنس کال میں کہتے ہیں کہ یہ مشین پورے نو مہینوں تک بچے کو انکیوبیٹ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ہے۔

فلیک کے مطابق اس وقت ایسی کوئی ٹیکنالوجی موجود نہیں ہے جو ماں کے پیٹ سے حاصل ہونے والی ابتدائی نشونما کا متبادل ثابت ہوسکے۔ وہ کہتے ہیں کہ "نشونما کی ایسی کچھ ضروریات ہیں جن کا متبادل تخلیق کرنا ممکن نہیں ہے، اور اگر ہم ایسا کر بھی لیں تو نشونما میں خلل اندازی ہوگی۔ ہمیں معذور یا بیمار بچے پیدا کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ہم اسی چیز کی روک تھام کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔"

فلیک کہتے ہیں کہ اگر ڈاکٹر آلے کے ذریعے بچوں کو 22 ہفتوں سے پہلے پیدا کرنے کی کوشش کریں گے تو یہ کافی پریشانی کی بات ہوگی۔

امریکہ میں قریب دس فیصد بچے وقت سے کم از کم تین ہفتے پہلے پیدا ہوتے ہیں۔ ان میں سے تقریبا 30،000 بچے خطرناک حد تک یعنی کہ 26 ہفتوں سے پہلے پیدا ہوتے ہیں۔ اتنی جلدی پیدا ہونے والے بچوں کو پھیپھڑوں کی بیماریوں کے ساتھ ساتھ جسمانی نشونما میں تاخیر کا بھی خطرہ ہے۔

اس وقت قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کو ایک انکیوبیٹر میں رکھا جاتا ہے جو انہیں جراثیم سے حفاظت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ گرم بھی رکھتا ہے۔ پارٹریج کا کہنا ہے کہ بچوں کو عورت کی بچہ دانی کی طرح کام کرنے والے اس آلے میں رکھنے سے انہیں مکمل نشو نما فراہم کی جاسکتی ہے، جس سے موت یا طویل المیعاد مسائل کا خطرہ کم کیا جاسکتا ہے۔

ریسرچر کئی سالوں سے مصنوعی بچہ دانی پر، جسے انہوں نے "ایکٹوجینیسیس" ("ectogenesis") کا نام دیا ہوا ہے، پر کام کررہے ہیں۔ 1996 میں جاپان کی جنٹینڈو یونیورسٹی (Juntendo University) سے وابستہ یوشینورو کوابارا (Yoshinori Kuwabara) نے امنیوٹک فلوئیڈ سے ملتے جلتے سیال سے بھرے ہوئے پلاسٹک کے چیمبر میں جنینی بکری کے بچوں کو کامیاب طریقے سے نشونما فراہم کی۔ لیکن ماضی میں خون کی روانی کے لئے میکانیکل پمپ کے استعمال کی وجہ سے جانوروں کو کافی نقصان پہنچ رہا تھا۔

فلیک کہتے ہیں کہ ان کی ٹیم امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمینیسٹریشن (U.S. Food and Drug Administration) کے ساتھ رابطہ کررہی ہے اور انہیں امید ہے کہ تین سے پانچ سالوں میں اس آلے کی نیونیٹل وارڈ میں جانچ پڑتال شروع ہوجائے گی۔

اس کے بنانے والے فلوئیڈ سے بھرے ہوئے پلاسٹک کے خانے کو ایک عام انکیوبیٹر کی شکل دینا چاہتے ہیں تاکہ والدین کو اسے دیکھ کر گھبراہٹ نہ ہو۔ فلیک کہتے ہیں "میں نہیں چاہتا ہوں کہ بچے دیوار پر تھیلوں میں لٹکتے ہوئے نظرآئیں۔ اس سسٹم سے والدین بالکل بھی پریشان نہیں ہوں گے۔"

تحریر: ایملی ملن (Emily Mullin)

Read in English

Authors
Top