Global Editions

شترمرغ کی شکل کا یہ روبوٹ چلتا نہیں، دوڑتا ہے

روبوٹس ابھی تک چلنا ہی سیکھ رہے ہیں۔ لیکن ایک روبوٹ ایسا ہے جو دونوں ٹانگوں سے دوڑ لگاتا ہے۔

دیکھنے میں تو یہ صرف گاڑیوں کے پیچھے بھاگنے والا ایک چھوٹا سا میکانیکی شترمرغ لگتا ہے، لیکن یہ دراصل روبوٹکس کے شعبے کا کارنامہ ہے۔

فلوریڈا کے شہر پینساکولا میں انسٹی ٹیوٹ فار ہیومن اینڈ مشین کوگنیشن (Institute for Human and Machine Cognition) نے ایک چھوٹا دو ٹانگوں پر چلنے والا روبوٹ تخلیق کیا ہے۔ اس کا مقصد میکانیکی ڈیزائن کے ذریعے ٹانگوں سے حرکت کا مطالعہ ہے۔ ایک ویڈيو میں روبوٹ کی مختلف طریقوں سے ٹیسٹنگ دکھائی گئی ہے، جس میں ٹریڈمل پر بھاگنا اور انجنیئر کی مدد سے گاڑی کے ساتھ دوڑنا شامل ہیں۔

ٹانگوں والے دوسرے روبوٹس کے برعکس اس میں توازن برقرار رکھنے کے لیے سنسرز اور کمپیوٹر نصب نہیں ہیں۔ اس کے بجائے اس کی ڈائنامک استحکام کی وجہ اس کا میکانیکی ڈيزائن ہے۔ روبوٹ بنانے والی ٹیم کے ہیڈ IMHC کے سینیئر ریسرچ کے سائنس دان جیری پریٹ (Jerry Pratt) کہتے ہیں کہ روبوٹ کی ڈيزائن ہی میں اس کی تمام ذہانت ہے۔ IHMC میں پریٹ کا گروپ مختلف روبوٹس پر کام کررہا ہے۔

اس ڈيزائن کو مستقبل میں لانچ ہونے والے روبوٹس میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ پریٹ مزید کہتے ہیں"ہم سمجھتے ہیں کہ اس روبوٹ سے حاصل ہونے والے اسباق کو زیادہ قابل عمل دوڑنے والے روبوٹس میں استعمال کرکے انھيں زیادہ موثر اور قدرتی بنایا جاسکتا ہے۔ دوڑنے کی صلاحیت ان تمام ایپلی کیشنز میں استعمال کی جاسکتی ہے جنھیں جلدی نبٹانا ہے، لیکن جہاں پہیوں کا استعمال ممکن نہیں ہے۔"

اس سے پہلے پریٹ ڈارپا کے روبوٹکس چیلنج (DARPA Robotics Challenge) میں حصہ لینے والی ایک ٹیم کی سربراہی کررہے تھے، جس میں روبوٹس جوہری حادثے کی سیمولیشن میں مختلف کام انجام دینے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے۔ اس چیلنج میں چند شاندار قسم کی ٹیکنالوجیز سامنے آئيں لیکن کئی حادثات اور غلطیوں کے بعد روبوٹس کی اصل زندگی سے نبٹنے میں درپیش مشکلات بھی دیکھنے کو ملیں۔ اس چیلنج میں حصہ لینے والے کئی روبوٹس نے دو ٹانگوں کا استعمال کیا، لیکن بعض روبوٹس ریت یا ناہموار زمین پر چلنے سے قاصر رہے۔

Planar Elliptical Runner میں ٹانگوں کو چلانے کے لیے ایک موٹر نصب ہے، اور اس میں شکل اور ٹانگوں کی بیضوی حرکت کی وجہ سے استحکام ممکن ہے۔ اس روبوٹ کے دوڑنے کی رفتار 10 میل فی گھنٹہ ہے، اور ریسرچرز کہتے ہیں کہ اگر یہ انسان کی سائز کا ہوتا تو اس کی رفتار 20 سے 30 میل فی گھنٹہ ہوتی۔

ٹانگیں استعمال کرنے والے روبوٹس کی تجارتی ایپلی کیشنز میں دلچسپی کم ہے، لیکن اس میں اضافہ ہورہا ہے۔

الفابیٹ (Alphabet) کی نمایاں روبوٹ بنانے والی کمپنی بوسٹن ڈائنامکس (Boston Dynamics) نے گوداموں میں ڈبے اٹھانے اور ان کی ڈیلیوری کرنے والے دو اور چار پاؤں کے روبوٹس کا مظاہرہ کیا ہے۔ میکانیکی انجنیئرنگ کے پروفیسر جونیتھن ہرسٹ (Jonathan Hurst) کی یونیورسٹی آف آریگن (University of Oregon) سے شروع ہونے والی کمپنی نے شترمرغ کی طرح کا سسٹم تیار کیا ہے، جس کا نام کیسی (Cassie) ہے۔ یونیورسٹی آف مشیگن (University of Michigan) کی پروفیسر جیسی گرزل (Jessie Grizzle) کی زیرصدارت ریسرچرز کی ایک ٹیم ایسے برتر الگارتھمز تیار کررہی ہے جن کے ذریعے زیادہ موثر اور خوبصورت ڈائنامک نقل و حمل ممکن ہے۔ خود کو ڈائنامک طریقے سے متوازن رکھنے والی مشینیں مشکل قسم کی زمین پر بھی چل سکتی ہیں، لیکن وہ پیچیدہ بھی ہیں اور مہنگی بھی، اور ان میں توانائی کا کافی استعمال بھی ہوتا ہے۔

پریٹ کہتے ہیں "ٹانگوں سے آراستہ روبوٹس خاص طور پر ایسی جگہوں میں فائدہ مند ثابت ہوں گے جہاں انسانوں کی ضرورت تو ہے، لیکن انسانوں کو بھیجنا خطرناک، مشکل یا مہنگا ثابت ہوسکتا ہے۔ ان میں جوہری توانائی کے پلانٹس اور سیاروں کی تحقیق شامل ہیں۔ یہ بہت چھوٹی لیکن مخصوص قسم کی مارکیٹس ہیں۔"

تحریر: ول نائٹ (Will Knight)

Read in English

Authors
Top